ادھر بھی دیکھ!تیری رہگزر میں ہم بھی ہیں-یاور رحمن

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔

"بیشک اﷲ عدل کا، احسان کا، اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتاہے، تاکہ تم نصیحت قبول کرو!”ـ

سورۂ نحل کی یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی جامع آیات میں شمار کی جاتی ہے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اسے خطبۂ جمعہ میں شامل فرمایا تھا۔ اس آیت میں تین باتوں کے کرنے اور تین باتوں سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پہلے حصے میں عدل و احسان کرنے اور رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں بے حیائی کے کاموں اور منکرات سے اجتناب اور ظلم و بغاوت سے بچنے کا آرڈر دیا گیا ہے۔
ظاہر ہے ان چھ باتوں کا آپسی تعلق انتہائی گہرا ہے۔ جس کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پہلے تین احکامات کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ‎ نے سب سے پہلے عدل کا حکم دیا ہے، تفصیل آپ مفسرین قرآن سے خود معلوم فرما لیں، یہاں بس اتنا سمجھ لیں کہ عدل کا مطلب ہے جس کا جتنا حق ہے اتنا اسے دے دیا جائے! ہمارے یہاں اردو میں ‘انصاف’ کا لفظ مستعمل ہے،جو عدل کا مفہوم ادا نہیں کرتا بلکہ الٹا اس کے مفہوم کو داغدار کرتا ہے۔ انصاف نصف نصف کا مفہوم دیتا ہے۔ یہ وہی انصاف ہے جس کے تحت ہمارا سماج مظلوم کے مکمل حق کا آدھا حصہ بڑی بےشرمی سے ظالم کو دیکر اپنی گردن اکڑا لیتا ہے۔ یہ عدل کو روح پر ایک کاری ضرب ہے۔ بہر حال قرآن عدل کا حکم دیکر کہتا ہے کہ جسکا جو حق ہے، اسے مکمل دے دیا جائے۔ مگر صرف عدل سے معاشرتی زندگی ایک بے جان و بے روح مشین تو بن سکتی ہے، انس و محبت سے مزین ایک خوبصورت انسانی سماج نہیں بن سکتا۔
لہذا قرآن نے عدل کے ساتھ احسان کا لاحقہ بھی لگا دیا۔ قرآن کی یہ اصطلاح احسان بھی عدل کی طرح بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے، یہاں بس یوں سمجھ لیجئے کہ احسان کا ایک اہم مفہوم اپنے حق سے کم پر راضی ہوجانا اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دے دینا بھی ہے۔ اب عدل کے ساتھ احسان کو جوڑ کے دیکھئے، تصور واضح ہو گیا نا؟
اب عدل اور احسان کے ساتھ ہی قرآن نے رشتےداروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیکر یہ بتا دیا کہ تمہارے عدل اور احسان کے سفر کا آغاز وہیں سے ہوگا جہاں سے تمہاری ذات کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اور جہاں سے تمہاری زندگی کے تمام مسائل جنم لیتے ہیں۔
اب اس نکتے پر غور کیجئے کہ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی ہر نیکی، ہر تعاون اور تمام داد و دہش کا کام اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرے تو کیا کوئی بھوک مرے گا؟ کوئی پریشان ہوگا؟ کوئی قرضوں کے بوجھ تلے دبے گا ؟اور کیا شکایتیں جنم لیں گی ؟ اور کیا زمینوں اور جائیدادوں کے لئے خاندانی جھگڑے ہوں گے ؟ اور کیا کوئی صاحب نصاب کسی مفتی سے یہ سوال کرے گا کہ وہ اپنی بہن اور بھائی کو زکاتہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟
کیا ہم اپنی معاشی جد جہد میں اپنے رشتےداروں، اپنے سماج، اپنی قوم اور دوسرے مفلوک الحال کمزوروں کو ذہن میں رکھتے ہیں ؟ شاید کبھی نہیں! ہم سوچتے ہیں کہ ہم پر صرف اور صرف اپنے خاندان یعنی بیوی اور بچوں کی ذمہ داری ہے ۔ اسی لئے ہمارے خوشحال ہو جانے سے اکثر ہمارے اپنے سگے بھائی بہنوں کی زندگیوں پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ ہمارے اور ان کے بیچ دیوار اور بھی اونچی ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہاں کبھی کبھی کسی مجبوری کے تحت ‘ٹوکن منی’ دے کر اپنے آپ کو ‘دیاوان’ سمجھ لیتے ہیں۔ذرا دیکھئے ، ہمارے آئیڈیل، ہمارے سردار اور ہمارے آقا حضرت محمد صل اللہ‎ علیہ وسلم ایک حدیثِ قدسی میں کیا فرماتے ہیں:
"أَبْغُوني في الضعفاء، فإنما تنصرون وترزقون بضعفائكم”.
تم مجھے اپنے کمزوروں کے ذریعے تلاش کرو (یعنی ان کی مددکرو) تمھاری مددکمزوروں کی وجہ سے ہی کی جاتی ہے اورانہی کی وجہ سے تمھیں رزق دیاجاتاہےـ
آپ جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کے بے پناہ شور میں انسانی آبادی کا چیختا سناٹا بے شمار معاشی مسائل پیدا کر گیا ہے۔ لاک داؤن نے پیٹ کی ضرورتوں کو لاک کرکے بہت سے لوگوں کو بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ لوگ حسب توفیق و استطاعت کمزوروں اور پریشان حالوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کی ٹرین کو دوسرے اور تیسرے درجے کے مسافر دھکے دیکر آگے بڑھانے کی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سفر جاری رہے۔ امیر نواز سرکاریں جو کچھ کر رہی ہیں وہ خوب دکھائی بھی دے رہا ہے اور اچھی طرح سمجھ میں بھی آرہا ہے۔
ایسے میں ہمیں ایک دوسرے کی مدد قرآن کی اس جامع آیت کی روشنی میں کرنا چاہیے تاکہ ہر ضرورتمند کی ضرورت شاندار طریقے سے پوری ہو سکے ! انگریزی کا مقولہ ہے، Charity begins at home، یہ وہی معروف اور فطری تصور ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہی ہے کہ نیکی کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے۔ گھر کو تاریکی میں چھوڑ کر شہر میں چراغاں کرنا کوئی دانشمندی نہیں بلکہ اول درجے کی حماقت ہے۔
حالانکہ ہو یہی رہا ہے ۔ ہم میں سے بہت سے لوگ جانے ان جانے میں ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہماری نیک نیتی اور جذبات کی تمام تر پاکیزگی کے باوجود ہما ری نگاہوں سے وہی لوگ اوجھل رہ جاتے ہیں جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں اور جو اصلاً ہماری ذمہ داری کے دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی حالت زار کہہ رہی ہوتی ہے کہ ضرورتوں کے پہاڑ نے انہیں دبا رکھا ہے۔ ان کے چولہے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور ان کے پیٹ بھوک سے پچکے ہوتے ہیں لیکن ان کی عزت نفس ہر تشنہ لبی کو امرت کی طرح پی کر اپنا وقار سمبھالے رہتی ہے۔ان کی بے زبانی گویا زبان حال سے کہ رہی ہوتی ہے کہ:
مانگنے والے کو ساقی کچھ نہ کچھ مل جائے گا
لاج اس کی رکھ، جو تیری بزم میں خاموش ہے
لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن سے اپنا رشتہ مضبوط کرتے ہوئے اپنے معاشرتی فرائض کو بھی اللہ‎ کی رضا کے عین مطابق سمجھا جاۓ اور ہر ایسی نیکی سے پہلے پلٹ کر اپنے ہی گھر اور خاندان کی طرف دیکھ لیا جائے کہ کہیں ہم نیکی کے نام پر صرف چھلانگیں تو نہیں مار رہے ہیں ؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)