آئیڈیا کمیونی کیشنز کے سالانہ بین الاقوامی مشاعرے میں نامور شعرا و ادبا کی شرکت

نئی دہلی:جشنِ چراغاں کا حصہ بننا میرے لیے قابل فخر ہے اور اس مشکل وقت میں مشاعروں اور دیگر ثقافتی پروگراموں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اردو زبان کی شیرینی اور آن لائن مشاعرہ تو دراصل وبا سے پیدا شدہ نفسیاتی زہر کا تریاق سا محسوس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر اشونی کمار نے بحیثیت مہمانِ خصوصی آئیڈیا کمیونی کیشنز ، تسمیہ ایجوکیشنل و سوشل ویلفیر سوسائٹی اور دی پین فاونڈیشن کے زیر اہتمام سالانہ مشاعرہ جشن چراغاں کے آن لائن مشاعروں کے تیسرے حصے میں بین الاقوامی مشاعرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مہمان اعزازی شکیل احمد صبرحدی نے اپنے خطاب میں دی پین فاونڈیشن کی کاوشوں کا بطورخاص تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فاونڈیشن جس طرح خاموشی سے ضرورت مند اور بیمار قلمکاروں اورآرٹسٹ حضرات کی مدد کررہی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے معروف سماجی شخصیت اور آئیڈیاکمیونی کیشنز کے وائس چیرمین ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ جشن چراغاں محبت اور باہمی اتحاد بڑھانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے جو وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ ہم سب اس عظیم ملک کا حصہ ہیں اور اس کی خدمت اور اس کی تعمیر وترقی کے لیے کوشش ہماری ترجیح اوّل ہے۔ آئیڈیاکمیونی کیشنز کے ڈائریکٹر جناب آصف اعظمی نے تعارفی کلمات پیش کیے جب کہ نظامت کے فرائض صہیب فاروقی نے انجام دیے۔ ڈیڑھ سو سے زائدمشاعرہ کے سامعین میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ممبر جیوتکا کالرا، ہندوستان کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹر پرتاپ سوم ونشی،زیڈ کے فیضان، پروفیسر حبیب اللہ خان فاروق انجینئر، اعظم عباس شکیل، بسنت مہتہ جیسی اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر مینا خان کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے عہدہ سے سرفراز ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی گئی۔