ابن صفی: مقبول عام اور ادبِ عالیہ کا جھگڑا ـ مالک اشتر

بات ہو رہی ہے ابن صفی کے قلمی سفر پر ادریس شاہجہانپوری کی کتاب ‘فنگر پرنٹس’ کی۔ جہاں تک میرا ذکر ہے تو میں نے ابن صفی کا نام بابا (والد صاحب) سے بہت سنا تھا۔ بڑے بھائیوں کو ڈائجسٹوں کا چسکا تھا اس لئے شبستاں، ہما، سسپینس اور دیگر بہت سے ڈائجسٹ ہم نے بھی خوب پڑھے۔ تقریبا ہر ڈائجسٹ کے اخیر میں ابن صفی کا کوئی نہ کوئی (پورا یا قسط وار) ناول ضرور ہوا کرتا تھا۔ محی الدین نواب، ایم اے راحت، ایم الیاس، مرزا امجد بیگ، ملک صفدر حیات، نواز خان، کاشف زبیر، علی سفیان آفاقی اور نہ جانے کون کون سے لوگ تھے جن کی لمبی لمبی کہانیاں میں پڑھ جاتا تھا البتہ ابن صفی کا ناول پورا پڑھنے کی ہمت کبھی نہیں ہوئی۔ ایک تو وہ ناول اس قدر طویل ہوتے تھے کہ میرا تحمل جواب دے دیتا تھا دوسرے ان کے کچھ کرداروں خاص طور پر عمران کے انتہائی احمقانہ پے در پے ڈائیلاگ مجھے اِریٹیٹ کر دیتے تھے۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو ابن صفی کو پھر سے پڑھنے کی کوشش کی۔ اب ان کے قلم کا جادو مجھ پر اثر کرنے لگا تھا۔میں نے ان کو پڑھا اور ان کی قلمی عظمت پر فورا ایمان لے آیا۔
ابن صفی بلاشبہ ہمارے بڑے لکھنے والوں میں ہیں۔ انہوں نے سیکڑوں ناول لکھے لیکن ایسا نہیں ہوا کہ ان کی تحریروں کا جادو ذرا بھی کم ہوا ہو۔ شکیل عادل زادہ نے آصف فرخی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابن صفی کا ناول 14 ہزار کی تعداد میں چھپتا اور ایک دو دن میں ختم ہو جاتا تھا۔ کئی شہروں میں اخباروں میں اطلاع آیا کرتی تھی کہ ابن صفی کا نیا ناول کس تاریخ کو کہاں دستیاب ہوگا؟۔
مجھے ابن صفی کا یہ ہنر حیرت زدہ کرتا ہے کہ ان کے دونوں کلیدی کردار (عمران اور فریدی) تین دہائیوں تک چلے تحریری سفر میں ہر ناول کی مختلف فضا میں اپنی مخصوص شخصیت کے ساتھ قائم رہے۔ کسی ناول میں ان دونوں کے خصائص میں ایسا کوئی تغیر نہیں ہونے دیا گیا جو اس ناول کے عمران یا فریدی کو دوسرے ناولوں کے عمران یا فریدی سے مختلف کر دے۔ کسی ایک طویل داستان میں کردار یا کرداروں کے خصائص کو maintain کرنا بھی بڑی بات ہے، خصوصا وہ داستانیں جو بالاقساط برسوں تک لکھی گئیں لیکن ابن صفی کا کام اس سے زیادہ چیلنجنگ ہے، یہاں ہر ناول کی سراسر مختلف دنیا میں کردار کو اس کی تمام تر characteristic کے ساتھ کھڑا کرنا ہے۔ وہ بھی ایسے کہ یہاں کا عمران یا فریدی باقی عمران یا فریدی سے نہ تو کم عمران یا فریدی ہو نہ ہی زیادہ عمران یا فریدی ہو۔
مقبول عام ادب اور ادبِ عالیہ کی تقسیم پر قربان جائیے کہ جس کے صدقے میں ابن صفی جیسا لکھنے والا مخصوص عینک سے دیکھا گیا۔ ہر چند کہ کچھ بڑے لوگوں نے اس مسلک سے اختلاف بھی کیا اور بہت شدید اختلاف کیا۔ ہمارے عہد کے معتبر فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید کا زمرد مغل کو دیا گیا ایک انٹرویو ادریس شاہجہانپوری نے اپنی کتاب ‘فنگر پرنٹس’ میں شامل کیا ہے۔ اس میں خالد جاوید نے ابن صفی کے بارے میں اپنا موقف بنا کسی لاگ لپیٹ کے رکھا۔ انہوں نے کہا:
"جب آپ ابن صفی کو بار بار پڑھتے ہیں تو آپ اپنا وہ زمانہ، 1960 سے لے کر، وہ جو 30 سے 40 سال کا زمانہ ہے اس کی پوری اجتماعی صورتحال اور برصغیر کے پورے اردو معاشرے کی جتنی اچھی تصویر کشی آپ کو ابن صفی کے یہاں ملے گی اتنی اچھی تصویر کشی اور کہیں نہیں ملے گی۔ اس کو بار بار پڑھیں اور محض تفریح کے لئے نہیں پڑھیں۔۔۔ تو ہر بار وہ آپ کو نئے طریقے سے متاثر کرے گا اور یہی ہر بڑے ادیب کی پہچان ہوتی ہے۔ دراصل جو ادیب اپنے زمان و مکان سے ماورا ہوکر آپ کے زمانے تک آ جائے وہی ادیب زندہ رہے گا۔ ابن صفی اپنے زمان و مکان سے ماورا ہو گیا ہے”(صفحہ 55)۔
خود ابن صفی کو مقبول عام ادب اور ادبِ عالیہ جیسے سوالوں سے کتنی آزردگی تھی اس کا اظہار ان کی ایک تحریر میں یوں ہوتا ہے:
"تھکے ہوئے ذہنوں کے لئے صحت مند تفریح مہیا کرتا ہوں، کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کی عادت ڈلوائی ہے۔ برصغیر میں ریڈنگ لائبریریوں کا رواج میرے بعد ہی ہوا ہے۔ انہیں لائبریریوں میں ادب العالیہ بھی کھپ جاتا ہے۔ جاسوسی ناول پڑھنے والوں کو جب کوئی ناول نہیں ملتا تو ادب العالیہ بھی پڑھ لیتے ہیں۔ لہذا ادب العالیہ پر ناز کرنے والوں کو مجھ پر خار نہ کھانا چاہئے، انہیں تو مجھ پر پیار آنا چاہئے۔ ادب العالیہ کی رسائی عوام تک کرانے کا سہرا بھی میرے ہی سر ہے”(بقلم خود،ناول خوفناک عمارت)۔
اس بات میں جو طنز ہے جو کاٹ ہے وہ دراصل کسی حقارت آمیز رویے کا جواب معلوم ہوتی ہے۔ یہ شائد مسلسل کھائے گئے طعنوں کا ردعمل ہے۔ آپ ابن صفی کو ادب عالیہ میں رکھیں، مقبول عام ادب کے خانے میں ڈالیں یا پھر کسی بھی زمرے لائق نہ سمجھیں، آپ کی مرضی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ادبی تاریخ کے سینے پر اس کا نام بہرحال کھدا ہوا ہے۔
آخر میں بات ‘فنگر پرنٹس’ کے صاحب کتاب کی۔ ادریس شاہجہانپوری نے انڈین انفارمیشن سروس کے افسر کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ لکھنے لکھانے کو بھی جزو حیات بنائے رکھا۔ انہوں نے انشائیے، ریڈیو ڈرامے، فیچر اور مضامین لکھے۔ کئی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ رشید جہاں پر ایک بہت تحقیقی کتاب بھی لکھی۔ ابن صفی سے چلا آ رہا ان کا پرانا معاشقہ انہیں کسی بڑے کام کے لئے اکساتا رہا۔ یہ بڑا کام ابن صفی پر ان کی اس انتہائی تحقیقی دستاویز ‘فنگر پرنٹس’ کی شکل میں ہوا ہے۔ پروفیسر دانش اقبال نے کتاب کا فلیپ لکھتے ہوئے کیا اچھی بات کہی ہے:
"زیر نظر تحقیق سے بخوبی یہ تاثر ملتا ہے کہ انہوں (ادریس شاہجہانپوری) نے ابن صفی سے جو کچھ لیا ہے، اس سے کہیں زیادہ واپس کرنے پر بضد ہیں”(فنگر پرنٹس، دوسرا فلیپ)۔
ادریس شاہجہاں پوری کے دل کی جس بے کلی کا میں نے ذکر کیا اس کی وجہ بھی مجھے کتاب میں ہی مل گئی۔ کتاب کے انتساب کی عبارت کو پڑھئے جس میں لکھا ہے:
"ان تمام ثقہ حضرات کے نام، جنہوں نے اپنی خلوتوں میں بیٹھ کر ابن صفی کی تخلیقات سے حظ تو اٹھایا لیکن روز روشن میں ان کی عظمت کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے”۔
یہی وہ دل کی پھانس تھی جس نے کوئی دس برس تک تحقیق کے پاپڑ بیل کر ایک بہت جامع کتاب تیار کرانے کے لئے آمادہ کر دیا۔ خود ابن صفی اور ان کے عاشق جانتے ہیں کہ ان کی قلمی عظمت کیا ہے۔ اسی اعتماد نے ادریس شاہجہانپوری کو یہ حوصلہ دیا کہ ابن صفی کے قلمی سفر کو ایک کتاب کے کوزے میں سمو دیں۔ ابن صفی نے ‘خوفناک عمارت’ کا بقلم خود جن سطروں سے شروع کیا تھا، ان پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں:
"اپریل 1928 کی کوئی تاریخ تھی اور جمعہ کا دن شام کے دھندلکے میں تحلیل ہو رہا تھا۔ جب میں نے پہلی بار اپنے رونے کی آواز سنی۔ ویسے دوسروں سے سنا ہے، اتنا نحیف تھا کہ رونے کے لئے منہ تو کھول سکتا تھا لیکن آواز نہیں نکال سکتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ دوسروں کو میری آواز اب بھی نہیں سنائی دیتی، کب سے حلق پھاڑ رہا ہوں۔ وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے ہیں اور پھر بے تعلقی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ خیر کبھی تو،کبھی تو۔”