ابن صفی کے قلمی سفر کا انسائیکلوپیڈیا ـ مالک اشتر

ایک چیز ہوتی ہے کسی کا اچھا لگنا، دوسری کیفیت ہے اس کی جانب کشش محسوس کرنا،جو پاس آنے یعنی قربت کا سبب بنتی یے،پھر انسیت،کا نمبر آتا ہے جو پیار، محبت کی وجہ بن جاتی ہے اور چوتھی منزل ہے عشق کا جنون اور پھر سودا میں تبدیل ہوجانا۔یہ جو چوتھی چیز ہے یہی ادریس شاہجہانپوری کو نوعمری میں ابن صفی سے ہو گئی۔ جاسوسی دنیا میں ہر ماہ ابن صفی کے ناول شائع ہوتے تھے لیکن ان کے دل کو ضبط شوق کہاں آتا تھا؟ سو، لائبریریوں کی خاک چھانا کیے اور پرانے شمارے کھوج کھوج کر ابن صفی کو پڑھا۔ نکہت اور جاسوسی دنیا کے شماروں کو اکٹھا کر، کرکے گھر میں لائبریری بنا ڈالی جہاں دوست احباب ابن صفی کی قلمی جولانیوں کا لطف لینے کے لئے اکثر جمگھٹ لگایا کرتے تھے۔
ایسے ہی چلتا رہا۔۔لیکن وہ جو کہتے ہیں ‘ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں’ وہی ہوا۔ ابن صفی ملک عدم کو سدھارے اور ادریس شاہجہانپوری مرکزی حکومت کی ملازمتی ذمہ داریوں میں بندھ گئے۔ مختلف وزارتوں میں اہم منصب سنبھالتے رہے لیکن دل میں ابن صفی کی محبت کا دیپک مسلسل جلتا رہا۔
دس گیارہ برس پہلے ان کے سر میں سودا سمایا کہ ابن صفی سے اپنی محبت کو کوئی عملی شکل دینی ہے۔ جذبہ ایسا والہانہ تھا کہ جی جان سے جٹ گئے۔ لائبریریوں کی دھول پھانکی، مختلف شہروں کے سفر کئے، جدید تکنیک کے ماہرین کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں مغز ماری کی اور اس ریاضت کے نتیجہ میں جو کچھ سامنے آیا وہ آٹھ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہے جس کا نام انہوں نے ‘فنگر پرنٹس’ رکھا۔
اس بات میں ہرگز مبالغہ نہیں کہ یہ کتاب ابن صفی کی قلمی زندگی کی جامع دستاویز ہے۔ میں نے اپنے محدود مطالعے میں ابن صفی پر اس سے زیادہ مفصل اور منظم کام اب تک نہیں دیکھا۔ اس سے پہلے کہ آپ میری اس بات کو تبصرہ نگاری کے تکلفات کا حصہ مان بیٹھیں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کتاب میں کیا کیا ہے، تاکہ آپ کو اس کی وسعت کا اندازہ ہو سکے۔
کتاب میں ماہنامہ جاسوسی دنیا اور ماہنامہ نکہت کے ابن صفی کے ناولوں کے (چند ایک کو چھوڑ کر) تقریبا تمام سر اوراق شائع کئے گئے ہیں۔ جاسوسی دنیا میں شائع ابن صفی کے 214 ناولوں میں سے 207 کے سر اوراق اور نکہت میں چھپے ابن صفی کے 37 میں سے 32 ناولوں کے سر اوراق اس کتاب میں عمدہ پیپر پر رنگین شائع کئے گئے ہیں۔ نکہت کے ‘عمران نمبر’ اور ‘عمران کے کارنامے’ شماروں کے سرورق بھی کتاب میں شائع کئے گئے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ اس قدر پرانی اشاعتوں کے سر اوراق ڈھونڈنا اور ان کو اشاعت کے لائق بنانا بجائے خود کتنا چیلنجنگ معاملہ رہا ہوگا؟۔ ادریس شاہجہانپوری نے پیش تحریر میں بتایا ہے:
"پہلے ایڈیشن یا اصل سرورق کی تلاش میں مجھے دور دراز مقامات کا سفر کرنا پڑا اور الہ آباد، سنبھل، امروہہ، لکھنؤ، شاہجہانپور اور بھوپال وغیرہ شہروں کی خاک چھاننا پڑی”(صفحہ 9)۔
ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ بہت سے سر اوراق اس قدر بوسیدہ حالت میں ملے کہ انہیں لائق اشاعت بنانا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ ادریس شاہجہاں پوری نے درج کیا ہے:
"بیش تر سر اوراق جو مختلف حضرات، لائبریریوں یا نیٹ سے دستیاب ہوئے وہ خراب یا خراب تر حالت میں تھے۔ اس لئے ان کو فوٹو شاپ (فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر) ماہر سے ٹھیک کروانا پڑا تاکہ ان کا معیار طباعت کے قابل ہو سکے”(صفحہ 64)۔
ذرا سوچئے کہ جس دور میں انٹرنیٹ پر میسر مواد کو ہی ٹھوک پیٹ کر ہر تحقیقی کام انجام دے دیا جاتا ہو وہاں ایک محقق شہروں اور بستیوں میں جاکر مواد اکٹھا کر رہا ہے۔ یہ لگن یہ تگ و دو اسی وقت ہو سکتی ہے جب ویسا عشق وسیلہ بن جائے جیسا ادریس شاہجہانپوری کو ابن صفی سے رہا ہے۔ ابن صفی کے ناولوں کے سر اوراق ان کے شیدائیوں کے لیے بڑی کشش رکھا کرتے تھے۔ کتاب بتاتی ہے کہ یہ سر اوراق سجاد احمد صدیقی اور دیپک نامی فنکار بناتے تھے۔
ادریس شاہجہانپوری نے کتاب کے آئندہ ابواب میں جاسوسی دنیا اور نکہت میں شائع ابن صفی کے ایک-ایک ناول کی تفصیلات جمع کر دی ہیں۔ اس ذیل میں جو جانکاریاں کتاب میں درج کی گئی ہیں ان کو دیکھ کر یہ بات اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ ادریس شاہجہانپوری نے دراصل ابن صفی کے ناولوں کا انسائیکلوپیڈیا ترتیب دیا ہے۔ وہ تفصیلات کون کون سی ہیں، ذرا سنئے۔
ناول کا نام، وہ کس ماہ و سال میں شائع ہوا؟، اس ناول کی قیمت کیا تھی؟ ناول کتنے صفحات کا تھا؟ اس ناول کا عنوان کہانی کے کس مکالمے یا حوالے سے مستعار تھا؟، ناول میں جرم کی نوعیت کیا تھی؟، ناول میں کون کون سے ابواب ہیں؟، اس کے مرکزی کردار اور معاون کردار کون کون تھے؟، ناول میں کن کن مقامات (شہر/دیہات کے نام) کا احاطہ ہے؟، ناول میں کن اہم مقامات یا افراد کے حوالے آئے ہیں؟ اور ناول میں مجرم کون تھا؟۔ یہ ساری تفصیلات (سر ورق کی تصویر سمیت) کتاب میں موجود ہیں۔ یہ حیرت زدہ کر دینے والی بات ہے کہ ادریس شاہجہانپوری نے ماہنامہ جاسوسی دنیا کے ابن صفی کے تمام 214 اور ماہنامہ نکہت کے تمام 37 ناولوں کے بارے میں مذکورہ بالا ایکو-ایک جانکاری سلسلہ وار درج کی ہے۔ ہر تعارف کے آخر میں اس ناول کا سرورق کیسے اور کہاں سے حاصل ہوا اس کو بھی درج کر دیا گیا ہے۔
یہ کام کتنی عرق ریزی سے کیا گیا ہے اس کو جاننے کے لیے بس اتنا سن لیجیے  کہ ناولوں کا یہ تعارفی مواد ہی ساڑھے چھ سو سے زیادہ صفحات پر محیط ہے۔ اب ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ ہر ناول کے متن کا باریکی سے مطالعہ کرکے اس کا نچوڑ بھی تعارف میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ادریس شاہجہانپوری نے ہر ناول میں شامل فلسفیانہ خیالات کو فکر پارے، زبان کی شیرینی کے نمونوں کو شکر پارے اور طنز و مزاح سے بھرپور حوالوں کو نمک پارے کے عنوانات سے اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ اس طرح کتاب ابن صفی کے ناولوں کی ایسی کھڑکی بن گئی کہ اس میں ان کی قلمی استعداد کو ہر پہلو سے دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ ادریس شاہجہانپوری نے فکر پارے، شکر پارے اور نمک پارے میں متعلقہ مکالمہ/مکالمے/منظر نقل کر دیے  ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کتاب میں وضاحت بھی کی ہے:
"ہو سکتا ہے اس سلسلہ میں بعض حوالے قارئین کو غیر اہم محسوس ہوں مگر میں نے ان کو اس لیے شامل کرنا ضروری خیال کیا کہ قارئین اور محققین دونوں کو ہی ابن صفی کے ذہنی افق اور رجحان کو سمجھنے میں مدد ملے گی” (صفحہ 11)۔
جاسوسی ناولوں کے علاوہ ابن صفی نے جاسوسی کہانیاں، اساطیری فکشن اور طنز و مزاح کے ناول/افسانے/مضامین بھی لکھے۔ ادریس شاہجہاں پوری اپنی کتاب میں ان سب کی ایک ایک تفصیل بھی لے آئے ہیں۔
کچھ لوگوں کے لیے یہ بات نئی جانکاری ہو سکتی ہے کہ ابن صفی کی تخلیقیت کا سفر شاعری سے ہوتا ہوا جاسوسی ناول نگاری کی طرف آیا ہے۔ انہوں نے خود بھی لکھا ہے کہ وہ ساتویں آٹھویں جماعت میں ہی شعر کہنے لگے تھے۔ عباس حسینی نے جب ‘نکہت’ نکالا تو اس کے نظم والے حصے کی ادارت ابن صفی کو ہی دی تھی، جو اس وقت تک اسرار ناروی ہوا کرتے تھے۔ ادریس شاہجہانپوری نے اپنی کتاب میں ابن صفی کے شعری آثار کی مکمل تفصیلات جمع کر دی ہیں۔
یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ ابن صفی کے بیٹے احمد صفی نے ایک انٹرویو میں ابن صفی کے شعری دیوان کی اشاعت کی تفصیلات بتائی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ابن صفی اپنا منتخب کلام مرتب کرکے مسودہ تیار کر چکے تھے لیکن اس کی اشاعت ان کی زندگی میں نہیں ہو سکی۔ ان کے مرنے کے بعد بیٹوں نے اسے چھپوانے کا سوچا لیکن یہ کام ٹلتا رہا۔ اس کے بعد احمد صفی نے ابن صفی کا دوسری جگہ بکھرا ہوا کلام بھی جمع کیا اور اسی مسودے میں ضمیمہ کے طور پر لگا دیا۔ ‘متاع قلب و نظر’ نام سے ان کا دیوان وفات کے 34 برس بعد شائع ہو سکا۔