ابنِ انشا کی یاد میں-عمران عاکف خان

کسی اور کے متعلق تووہ خود جانے ،مگر تحقیق و تنقید کے طلبا کے لیے ابنِ انشا گنجِ قاروں سے کم نہیں ہیں۔ نثر میں انھیں "ابن انشا” کے پردۂ زنگاری میں "چلتے ہو تو چین کو چلیے” ، "چاند نگر” ، "خمار گندم” اور "اردو کی آخری کتاب” جیسے شاہ کاروں سے یاد کیا جاتا ہے، جہاں وہ طنز اور مزاح کے ایسے نشتر چبھوتے ہیں کہ زخم خوردہ جسم کا ایک ایک پوردرد سہتا رہتا ہے ہنستا رہتا ہے۔ باتوں ہی باتوں میں وہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ کوئی اور کیا کہتا ہوگا.باربار ان کے جملوں کو پڑھنے کو جی کرتا ہے اور ہربار پہلے سے زیادہ لطف آتاہے.
اور جب ان کی شاعری کی کائنات میں بلا اجازت یابہ اجازت داخل ہوتے ہیں تو وہاں وہ اکثر”انشا جی” کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ کسی سے بھی پوچھیے کہ مجھے انشاجی کی کٹیا تک جانا ہے، وہی جو اس نے شہرسے دور بنائی ہے اور اس کے ماتھے پر… ہاں ہاں وہی، تو وہ ہاتھ پکڑ کر پہنچادیتا ہے، وہاں انشا جی چاندی جیسے کاغذ پر لفظوں کا لوہا پگھلاتےاور ان میں اپنے زخموں کا کھوٹ ملاتے نظر آتے ہیں۔
سب مایا سب مایا ہے
سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
جو تم نے کہا اور فیض نے جو فرمایاہے
وہ ٹھوک بجا کر حکم بھی لگاتے جاتے تھے.
ایک دن تو قیامت ہی ٹوٹ پڑی….
السلام علیکم شیر محمد خان صاحب، اوہ یہاں بیٹھے ہیں، ہم سب ہرجائیوں سے چھپ کر…”
جیسے ہی یہ آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہے وہ چونک جاتے ہیں
” اخاہ، میرے پرانے یار، فیض، قتیل، ساحر، عالی ہیں، آئیے آئیے”
چھوٹی سی کٹیا اور پانچ یار،قیس میاں بھی وہیں گھوم رہے ہیں، مگر پاس آنے سے ڈرتے ہیں، کیوں کہ ان کا سب قصہ انشاجی کو معلوم ہے؛بلکہ وہ تو اسے”جنوں پیشہ” کہتے ہیں اورخود کو اس سے بڑا "وحشی” اور”رسوا” کہہ کر اسے چڑھاتے تھے۔اب فرہاد اور رانجھا کی کیا بساط جو ان کے منہ لگیں۔
” کیا کررہے تھے جناب والا؟” پرانے یاروں نے پوچھا "اور یہ کیا، آپ ہم سے دامن چھڑانا چاہتے ہیں،اتنا آسان نہیں ہے۔”
"نہیں نہیں بات در اصل یہ ہے کہ کل بھور بھئے گھر گیا تھا مگر سجنی سے کوئی بہانہ نہ کرپایا. جس کے بعد وہ دن چڑھے تک سسکتی سبکتی رہی اور آج پتا نہیں دروازہ کھولے گی کہ نہیں”۔
” بس اتنی سی بات…سنو جناب!
اک روز تو کیا وہ حشرتلک رکھے گی کھلا دروازے کو
تم لوٹ کے گھر کب آؤگے سجنی کو بتاؤ انشا جی
"ہاں یارو یہی تو بتانا مشکل ہے۔”
"اچھا چھوڑو،یہ بتاؤ چاند نگر سے کوئی نامہ آیا؟”
"الہڑ آنکھوں میں حیرانی لیے وہ لڑکی کیسی ہے، جو وہاں کی رانی ہے”
"اب اس کی شادی ہوگئی”۔
"ارے کمبختو،رکو رکو، کیا آج ہی” ڈان” اور” جنگ” کے لیے پورا انٹرویو لے لوگے، جب کہ مجھ سے بیس قسطوں کا کنٹریکٹ ہوا ہے”۔انشاجی جزبز ہوگئے، ان کی جزبزاہٹ دیکھ کر سب یار تو ہنسے ہی،آس پاس کہیں موجود قیس میاں بھی قہقہے لگانے لگے۔ انشا جی مزید جھنجھلا ہٹ کے شکار ہوتے کہ انھیں اسی لڑکی کی آنکھیں یاد آگئیں اور پھر وہ ہنس دیے، چپ رہے،اس کا پردہ منظور تھا۔
” بولو بولو… انشاجی بولو”پرانے یاروں نے اصرار کیا، معا انشاجی کے کان بج اٹھے:
نہیں صرف قتیل کی باتیں یہاں،کہیں ساحر ہیں کہیں عالی ہیں
تم اپنے پرانے یاروں سے دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
مگر ڈر یہ تھا کہ:
بھرم کھل جائے نا ظالم تری قامت درازی کا
"تم ہی بتاؤ،فیض صاحب ہاں تم ہی،کتنے دن کی ضمانت ملی ہے؟” اب کی بار انشاجی چڑھ دوڑے.
"ارے ارے… کچھ نہیں بس چند روز اور میری جان،ہم جوتاریک راہوں میں مارے گئے، وہ صبح تو آئی نہیں جس کا انتظار تھا۔ ”
"اور بھائی سوال چنیں، جواب دیگر،یہ کیا ہے؟”
"کچھ نہیں،کچھ نہیں، بات دراصل یہ ہے کہ…..
پھر نہ جانے کس طرف سے تیز آندھی چلی اور انشاجی کی کٹیا ہی اڑگئی…بس یہی ازلی حقیقت بچی رہ گئی :
سب مایا ہے سب مایا ہے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)