حیدرآباد بلدیاتی انتخابات اتنے اہم کیوں ہوگئے؟ ـ مسعود جاوید

 

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ملک کے بڑے میونسپل کارپوریشنز میں سے ایک ہے جو چار اضلاع ؛ حیدرآباد، رنگاریڈی، ملکاگیری اور سنگاریڈی پر مشتمل ہے۔ اس میں ٢٤ اسمبلی حلقے ہیں ۔

یکم دسمبر کو ہونے والے ١٥٠ نشست والے میونسپل کارپوریشن الیکشن میں اس بار کے سی آر – بی جے پی – کانگریس اور ایم آئی ایم کے مابین زبردست مقابلہ آرائی ہو رہی ہے۔

بی جے پی نے ، جو پچھلے الیکشن میں صرف ٣ تین نشست حاصل کر پائی تھی، اس بار نہ صرف تمام کے تمام ١٥٠ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں بلکہ اپنی پارٹی کے وقار کا مسئلہ بنا کر اپنے تمام دگج نیتاؤں کو اپنی پارٹی کے حق میں راے عامہ ہموار کے لئے وہاں بھیجا ہے۔ کے سی آر اور کانگریس نے بھی تمام ١٥٠ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے صرف ٥١ امیدوار میدان میں ہیں۔ یعنی دو تہائی پر بی جے پی کا مقابلہ کے سی آر اور کانگریس سے ہے۔

اویسی صاحب کی پارٹی صرف ایک تہائی سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے ان ٥١ میں ٥ غیر مسلم امیدوار ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں بھی مجلس ہمیشہ محدود سیٹوں پر الیکشن لڑتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر ٢٠١٨ میں مجلس نے ١١ امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں سے ٧ کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ ٢٠١٤ میں ٨ امیدوار میدان میں اتارے تھے اور آٹھ کے آٹھ کامیاب ہوئے تھے۔

2016 الیکشن میں کے سی آر نے ٩٩ سیٹوں پر اور مجلس اتحاد المسلمین نے ٤٤ سیٹوں پر فتح درج کرائی تھی جبکہ بی جے پی کو صرف ٣ اور کانگریس کو محض ٢ سیٹ ہاتھ لگی تھی۔

مقابلہ سخت ہے جہاں کے سی آر اور مجلس مقامی ایشوز کو انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنایا ہے وہیں بی جے پی یوگی وغیرہ کا حسب معمول فرقہ وارانہ صف بندی میں معاون مصالحے سرجیکل اسٹرائیک جیسے مدعے کامیابی کی ضمانت سمجھے جا رہے ہیں۔

گرچہ یہ بلدیاتی انتخابات ہیں پھر بھی چار دسمبر ٢٠٢٠ کا نتیجہ ملک کے مزاج کا عندیہ دے گا اس لئے بھی کہ انتخابات ای وی ایم کی بجائے بیلٹ پیپرز کے ذریعہ ہوں گے اور اس لئے بھی مجلس کے مقابل سیکولر جماعت کے سی آر اور کانگریس کے مسلم امیدوار ہیں۔ اپنے شہر میں اگر مجلس کی کارکردگی اچھی ہوگی تو ظاہر ہے نتیجہ اس کے حق میں ہوگا ورنہ ووٹ تین پارٹیوں کے سی آر – مجلس اور کانگریس میں بٹے گا۔