حسنِ کوزہ گر کے نام!-شہلا کلیم

 

حسن کوزہ گر!
تجھے علم ہے سانحہ کسے کہتے ہیں؟
سانحہ وہ مخصوص حادثہ نہیں جس کے بارے میں ہمیں کامل یقین ہو کہ ہمارے حوصلوں کو اس سے گزرنے کی تاب نہیں اور اس سانحے سے گزرنے پر زندگی کا خاتمہ یقینی ہے ؛ بلکہ سانحہ تو یہ ہے کہ ہم اس حادثے سے گزر کر بھی زندہ رہیں جس کا تصور بھی قیامت خیز تھا اور پھر بقیہ زندگی بے یقینی کی دنیا میں گزرے!
اے سوختہ سر، حسنِ کوزہ گر!
تو جانتا ہے غم عشق کیا بلا ہے؟
درد عشق یہ نہیں کہ آپ یک طرفہ محبت کریں اور دوسرے دل میں آپ کے لۓ محبت نہ جاگے۔
محبت کا دکھ یہ بھی نہیں کہ آپ کسی کو پسند کریں اور وہ آپ کو ٹھکرا دے۔
اذیت تو یہ ہے کہ آپ محبت اور اس کے وجود سے بالکل بے خبر زندگی گزار رہے ہوں پھر اچانک کوئی بہارِ ناز کی طرح آپ کے دل کے دروازے پہ دستک دے۔
نسیمِ سحر کے جھونکوں کی طرح آپ کے وجود کو فرحت بخشے۔
رات رانی کی خوشبوٶں سے آپ کی روح کو معطر کر دے۔
آپ کے دل کی بنجر زمین پر محبت کی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔
اور پھر یکایک وہ کونپلیں یکدم تناور درخت بن کر آپکی ساری ذات پر حاوی ہو جایٸں،دیکھتے ہی دیکھتے اس درخت کے تنے آکٹوپس کی شکل اختیار کرکے آپ کے وجود کو اپنی گرفت میں اس طرح جکڑ لیں کہ وہ تڑخنے لگ جائے اور پھر غم عشق غم زیست میں تبدیل ہو کر آپ کی ذات کو ریزہ ریزہ کر دے۔

حسن، اے محبت کے مارے!
تو یہ بھی جانتا ہے کہ عشق کیا ہے!
تیرے تغاروں کی مٹی ، وہ کوزے ترے دست چابک کے پتلے، گل و رنگ و روغن کے بے جان پتلے سب کے سب عشق کی ایجاد ہیں ـ وجود کائنات عشق ہےـ نظام کائنات عشق ہےـ فطرت بھی عشق اور قدرت بھی عشق ہےـ طیور کے نغمے، ہوا کی سرگوشی، جھرنوں کے راگ، سمندر کا سکوت ، ساحل کی لہریں اور ندیوں کی روانی، خسرو کی پہیلی، تان سین کی موسیقی، کبیر کے دوہے میر و غالب کی غزلیں، اقبال اور ٹیگور کی نظمیں، امرتا کے گیت، فراز و فیض و ساحر کے اشعار ، امروز کی مصوری ، اجنتا کی مورت، مونا لیزا کی صورت ، مندر کی گھنٹی ، چرچ کی صلیب ، مسجد کا منبر، اولیا کی کرامت، انبیا کا معجزہ، درویش کا وجد ، صوفی کا رقص، سقراط کا پیالہ ارسطو کی بوطیقا ، لقمان کی حکمت ، جبران کا فسلفہ؛ ہر شے عشق کی پیداوار ہے! فن بھی عشق ہے تخلیق بھی عشق، عشق تحریر بھی تقریر بھی عشق اور عشق تخیل بھی ہےـ زمین سے آسمان تک عشق کی رنگینیاں جلوہ افروز ہیں ـ ابتدا تا انتہا عشق ہےـ ازل تا ابد عشق ہےـ عشق کے بغیر دھرتی کی کوکھ بانجھ ہے! عشق حیات ہے!
حسن سوختہ سر!
عشق کی طاقت کا بھی تجھے علم ہے!
ایسی طاقت جو فرہاد کو کوہ کن اور قیس کو مجنوں کر دےـ وہ طاقت جو تپتے صحراؤں اور سلگتے ریگستانوں میں حوصلوں کو سیراب رکھےـ وہ طاقت جو ہزاروں میل دور چلنے والی لیوانتر ہواؤں سے روح کو سرشار کر دےـ وہ طاقت جو ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنون ، رومیو جولیٹ اور اپنے ہر گرفتار کو زندہ و جاوید کر دےـ وہ حیات جاوداں حسن کوزہ گر! جو تیرے اظہار فن نے عطا کی جہاں زاد کو ـ گھومتے ہوئے تیرے چاک پر ؛ اس کا بدن، اس کا ہی رنگ، اس کی نازکی برس پڑی ـ پھر ہزاروں برس بعد اک شہر مدفون کی ہر گلی میں ترے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے کہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوں ـ عشق باقی ہے ، سب فنا ہے!
حسن کوزہ گر!
تو لذت وصال سے بھی آشنا ہے!
وہ جس کی حسرت میں تو نو سال دیوانہ پھرتا رہاـ حسن کوزہ گر! تو نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہےـ تونے، حسن گوزہ گر نے، جہاں زاد کی قاف کی سی افق تاب آنکھوں میں دیکھی تھی وہ تابناکی کہ جس سے ترے جسم و جاں ابر و مہتاب کا رہگزر بن گئے تھےـ حسن کوزہ گر، بغداد کی خواب گوں رات ، وہ رود دجلہ کا ساحل ، وہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیں، تجھ پہ ایک ہی رات وہ کہربا تھی کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست تیرا وجود، تیری جاں، تیرا پیکرـ
حسن سوختہ سر!
تو غم ہجر سے بھی واقف ہے!
درد غم فراق کے سخت مرحلے تجھ پہ یوں گزرے کہ جیسے کسی شہر مدفون پہ وقت گزرےـ تو خود میں حسن کوزہ گر! پا بہ گل خاک سر برہنہ سر چاک ژولیدہ موسر بہ زانو کسی غمزدہ دیوتا کی طرح گل و ولا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاـ یہ وہ دور تھا جس میں تو نے کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب پلٹ کر نہ دیکھاـ وہ کوزے تیرے دست چابک کے پتلے ، گل رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں وہ سرگوشیوں میں یہ کہتےـ "حسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟”

حسن کوزہ گر!
تو مرے سامنے آئینہ ہی رہاـ جس میں کچھ بھی نظر نہ آیا مجھے اپنی ہی صورت کے سوا، اپنی تنہائی جانکاہ کی وحشت کے سواـ
حسن، اے محبت کے مارے!
لکھ رہی ہوں تجھے خط ـ اور وہ آئینہ میرے سامنے ہےـ اس میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ایک ہی صورت کے سواـ لکھ رہی ہوں تجھے خط اور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟ لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سے خط کیوں نہ لکھوں؟ نشاط اس شب بے راہ روی کی ، مجھے پھر رلائےگی ـ
حسن!
لبیب کون ہے؟ لبیب ہر نوائے سازگار کی نفی سہی! رقیب سہی! مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھی ـ حسن! ایک تو اور ایک وہ اور ایک میں، یہ تین زاویے کسی مثلث قدیم کے، ہمیشہ گھومتے رہےـ کہ جیسے تیرا چاک گھومتا رہاـ مثلث قدیم کو میں توڑ دوں، جو تو کہے ، مگر نہیں ! جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اس مثلث قدیم کاـ

سن سوختہ سر!
حسن نام کا ایک جواں کوزہ گر ــــــ ایک نئے شہر میں ـــــ تیرے دست چابک کے پتلوں کی مانند قلم کی دھار سے اوراق کے چاک پہ اپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوا وقت کی بھینٹ چڑھ گیاـ
وقت کیا چیز ہے تو جانتا ہے؟
وقت ایک ایسا پتنگا؛ جو دیواروں پہ ، آئینوں پہ، پیمانوں پہ، شیشوں پہ، تیرے جام و سبو ترے تغاروں پہ سدا رینگتا ہےـ رینگتے وقت کی مانند کبھی لوٹ آئے گا حسن کوزہ گر سوختہ جاں بھی شاید! اور میں جہاں زاد، سوختہ بخت کہہ اٹھوں گی:”حسن! یہاں بھی کھینچ لائی جاں کی تشنگی تجھے!” یہی وہ ندا ہے جس کے پیچھے حسن نام کا یہ جواں کوزہ گر بھی پیاپے رواں ہے زماں سے زماں تک! خزاں سے خزاں تک!
تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے حسن کوزہ گر! لیکن زمانہ، حسن! وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں!
زمانہ ، حسن! افسوں زدہ برج ہے ـ یہ سب لوگ اس کے اسیروں میں ہیں ـ دیکھو! یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں کبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیں ـ انہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےــــ میرے اور اس جواں کوزہ گر کےـــــ انہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سے ؟ انہیں کیا خبر کون سے حُسن سے؟ کون سی ذات سے ؟ کس خد و خال سے؟ اس نے ،جواں کوزہ گر نے،جہاں زاد کے چہرے اتارے، اس کے پیکر تراشے ـ یہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیں! ہزاروں برس بعد یہ لوگ تیرے رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں کے ریزوں کو چنتے ہوئے(یہ کوزوں کے لاشے جو ان کیلیے ہیں کسی داستان فنا کے وغیرہ وغیرہ) یہ ریزوں کی تہذیب پا لیں تو پا لیں ـ حسن کوزہ گر کو کہاں پا سکیں گے؟
ہزاروں برس بعد یہ لوگ اس کوزہ گر کی….. جواں کوزہ کی کتابوں کے اوراق الٹنے پلٹنے لگیں گےـ یہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گے جو تاریخ کو کھا گئی تھیں ـ وہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گے جو ہر چیخ کو کھا گئی تھی ـ لیکن حسن کوزہ گر کو ،اس جواں کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گے؟

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*