حُسن تکتا مرا،شراب نہ پی ـ قمر آسی

حسن تکتا مرا، شراب نہ پی
عمر بھر باخدا، شراب نہ پی

روز ملنے سے اجتناب برت
تشنگی کو بڑھا، شراب نہ پی

ان نگاہوں میں خود سپردگی تھی
میں نے پھر بھی ذرا شراب نہ پی

اس کو چوما نہیں ہے بارش میں
تم نے دو آتشہ شراب نہ پی

پاؤں دھوئے تھے اس نے جھرنے پر
میں بھی دیکھے گیا شراب نہ پی

اس رباعی بدن کی لذت سے
جو ہوا آشنا، شراب نہ پی

ساتھ شب بھر رہیں تری آنکھیں
رقص کرتا رہا، شراب نہ پی

اک خطا یہ کہ پیار کر بیٹھے
جرم ہے دوسرا شراب نہ پی

کیوں شرابی نہیں؟ قمر! جس نے
لمس کے ماسوا شراب نہ پی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*