حکومت سے الگ رائے رکھنا غداری نہیں:فاروق عبداللہ کے خلاف دائررجت شرما کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کے روز جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کرنے سے متعلق دائر درخواست خارج کردی۔ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی رائے سے مختلف خیالات کا اظہار کرنے والے کو غدار نہیں کہا جاسکتا۔ جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے خلاف غداری کی کارروائی کے احکامات جاری کرنے کےلیے  سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔رجت شرما نامی ایک شخص نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خلاف بیان دینے پر فاروق عبد اللہ کے خلاف غداری کی کارروائی کرنے کے حکم کا مطالبہ کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ فاروق عبد اللہ نے ملک مخالف اور ملک دشمن کام کیا ہے۔ نہ صرف وزارت داخلہ کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے بلکہ ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی منسوخ کردی جانی چاہیے۔ اگر ان کی رکنیت برقرار رکھی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں ملک دشمن سرگرمیاں قبول کی جارہی ہیں اور اس سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔ درخواست گزار نے کہا تھا کہ فاروق عبداللہ نے ایک بیان دیا تھا کہ وہ 370 کو دوبارہ نافذ کریں گے جو ملک مخالف ہے اور یہ غداری کے مترادف ہے کیونکہ اسے پارلیمنٹ نے اکثریت کے ساتھ منظور کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے آج یہ عرضی خارج کردی اور یہ پی آئی ایل دائر کرنے والے درخواست گزار پر پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے یہ جرمانے درخواست گزار کی دلیل کو ثابت کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے عائد کیا کہ فاروق عبداللہ نے آرٹیکل 370 پر ہندوستان کے خلاف چین اور پاکستان کی مدد طلب کی تھی۔