حکومت دیگر کسان تنظیموں کے ساتھ متوازی مذاکرات بند کرے،کسان یونین نے مرکزکوخط لکھا

نئی دہلی:نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی 40کسان یونینوں نے بدھ کے روز مرکز کو ایک خط میں متنازعہ قانون پردیگرکسان تنظیموں کے ساتھ متوازی بات چیت نہ کرنے کوکہاہے ۔کسان مورچہ نے ایک ایسے وقت میں حکومت کو خط لکھاہے جب وہ مختلف ریاستوں کی کسانوں کی متعدد تنظیموں سے بات چیت کر رہی ہے اور مرکز نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ ان تنظیموں نے نئے زرعی قوانین کی حمایت کی ہے۔مشترکہ کسان مورچہ متعددکسان تنظیموں کی نمائندگی کرتا ہے (جن میں بیشتر کا تعلق پنجاب سے ہے)۔مرکزی وزارت زراعت اور کسان بہبود کے جوائنٹ سکریٹری ، ویویک اگروال کو لکھے گئے ایک خط میں مورچہ نے کہاہے کہ مرکز کو دہلی کی سرحدوں پر تینوں زرعی قوانین کے خلاف ہونے والے احتجاج کوبدنام کرنابھی چھوڑنا چاہیے۔متحدہ کسان مورچہ کے ممبر ، درشن پال نے ہندی میں لکھے گئے ایک خط میں کہاہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کسانوں کی تحریک کو بدنام نہ کرے اور دیگر کسان تنظیموں کے ساتھ متوازی بات چیت بند کرے۔اپنے خط میں پال نے کسانوں کی یونین کے نئے قوانین میں ترمیم کرنے کی حکومت کی تجویز کو مسترد کرنے کے فیصلے کو تحریری طور پر بھی دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ (9 دسمبر کو) بھیجی گئی تجویز اور آپ (اگروال )کے خط کے تناظر میں ہم حکومت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کسانوں نے اسی دن اس تجویز پر بات کرنے اور اسے مسترد کرنے کے لیے مشترکہ میٹنگ کی تھی۔پال نے کہا ہے کہ ہم نے(حکومت کے ساتھ) صرف آخری گفتگو میں ہی اپنا موقف واضح کیا تھا لہٰذاہم نے خط کا تحریری جواب بھیجا۔اترپردیش کی بھارتیہ کسان یونین (کسان) کے نمائندوں نے منگل کو وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ملاقات کی اور قوانین اور کم سے کم سپورٹ قیمت سے متعلق تجاویز کا ایک میمورنڈم پیش کیا۔بھارتیہ کسان یونین (کسان) نے اس وقت تک اپنا احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جو اتر پردیش میں ضلعی سطح پر مظاہرہ کررہے تھے۔اہم بات یہ ہے کہ دہلی کی سرحدوں پر ہزاروں کسان 21 دن سے نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر ہیں۔