حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا:مہاجر مزدوروں کی موت کا کوئی ریکارڈ نہیں،معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

نئی دہلی، یونین لیبر وزارت نے بتایا کہ مہاجر مزدور کی اموات پر حکومت کے پاس ریکارڈنہیں ہے ،اس صورت میں میں معاوضہ دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ دراصل حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن میں اپنے اہل خانہ تک پہنچنے کی کوشش میں جان گنوانے والے مہاجر مزدوروں کے لواحقین کو معاوضہ دیا گیا ہے؟حکومت کے جواب پر حزب اختلاف کی جانب سے خوب تنقید اور ہنگامہ کیا گیا ۔ وزارت نے اعتراف کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران 1 کروڑ سے زائد مہاجر مزدور پورے ملک سے اپنی آبائی ریاست پہنچے ہیں۔کوروناوائرس کے درمیان ہورہے پہلے پارلیمانی اجلاس میں وزارت سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے پاس مہاجر مزدوروں کی آبائی ریاستوں میں واپسی کے بارے میں کوئی اعداد و شمار موجود ہیں؟ اپوزیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت کو معلوم ہےکہ اس دوران بہت سے مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کیا حکومت کے پاس ان کے بارے میں کوئی تفصیلات ہے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ایسے خاندانوں کو مالی امداد یا معاوضہ دیا گیا ہے؟اس پر مرکزی وزیر سنتوش کمار گنگوار نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ اس طرح کے اعداد و شمار کومحفوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ تو ایسی صورت میں معاوضے کا کوئی سوال نہیں اٹھتا ہے۔اس پر کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ وزارت یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے پاس مہاجر مزدوروں کی موت سے متعلق کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، لہٰذا معاوضے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یا تو ہم سب اندھے ہیں یا پھرحکومت کو لگتا ہے کہ وہ سب کو بے وقوف بنا سکتی ہے۔