حجۃ الاسلام اکیڈمی، دیوبند کی چار کتابوں کا اجرا

دیوبند: آج یہاں حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کی لائبریری میں اکیڈمی کی چار اہم مطبوعات کا اجرا عمل میں آیا۔نومطبوعہ کتب میں سرفہرست دوجلدوں پر مشتمل ”فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند“ کے علاوہ”موقف الامام محمد قاسم النانوتوی ؒ“(عربی)انتصار الاسلام (انگریزی)اور”قصائد قاسمی“شامل ہیں۔اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانامحمد سفیان قاسمی صاحب نے کتابوں کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ کورونائی دور کے اس وحشت انگیز، تشویشناک ونامساعد احوال کوکارآمدو مفید بنانے میں دارالعلوم وقف دیوبند کا کردار مثالی وتقلیدی رہا ہے، چاہے تعلیم وتعلم سے متعلق ہو یا بحث وتحقیق سے، طلبہ کے تعلیمی سال کے تحفظ اور ان کے تعلیمی حرج کے تدارک کا مسئلہ ہو یا پھر اساتذہ کےلیے  اس اجباری فرصت کو کارآمد بنانے کا مرحلہ ہو، ہر جگہ دارالعلوم وقف دیوبند نے احوال زمانہ کی ضروریات کا ادراک کرتے ہوئے جس حسن انتظام کے ساتھ اپنے منظم ومرتب نظام العمل کے زیر اثر اہم علمی وتحقیقی امور انجام دیے ہیں وہ یقینا تمام علمی دوائر کیلئے لائق تقلید ہیں اور ان اہم علمی وتحقیقی خدمات کے تسلسل کےلیے جملہ افراد کار کے ساتھ خاص طور پر اکیڈمی کے ڈائریکٹر وادارہ کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی صاحب کی شبانہ روز جہود وسعی پیہم کو خراج تحسین پیش ہے، آج ان ہی حضرات کی محنت وکاوش کے نتیجہ میں چار اہم کتب پر مشتمل یہ علمی ذخائر عمومی استفادے کےلیے پیش کی جارہی ہیں، ان کتب کی طباعت کے ساتھ اکیڈمی کا سفر ابھی رکا نہیں ہے بلکہ مزید تیز گام ہے،جلد ہی اکیڈمی اپنی مزیدعلمی کاوشیں پیش کرے گی۔دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث وصد رالمدرسین مولانا احمد خضر شاہ مسعودی نے اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی کی شبانہ روز محنت کو ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطبوعات علم وتحقیق کی دنیا کی عظیم شاہکار اوردارالعلوم وقف دیوبند کے مثالی علمی وتحقیقی ذوق کی عکاس ہے، انہوں نے کہا کہ فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند کی ترتیب ایک عرصہ سے محسوس کی جارہی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہے، جس کےلیے مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی صاحب کے ساتھ ان حضرات مفتیان کرام کی محنتوں کو خراج تحسین پیش ہیں جنہوں نے اپنے فقہی و تحقیقی ذوق کی بناء پر مستند انداز میں امت مسلمہ کی دینی قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے نومطبوعہ چاروں کتب کا تعارف پیش کراتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے قابل افتخار وتاریخ ساز ہے، ماقبل میں اکیڈمی کی تقریبا ۲۵ مطبوعات مقبول عام ہوچکی ہیں اور اب ایک بار پھر اکیڈمی اپنی چار اہم مطبوعات پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ دارا لعلوم وقف دیوبند اپنے دیگر تفردات کے ساتھ علمی، فقہی اور تحقیقی خدمات کی بناء پر اہل علم کے مابین خصوصاً حسنِ تذکرہ کا عنوان رہا ہے۔جس کے لیے اس ادارہ کو مستند و معتمد مفتیان کرام کی زریں خدمات حاصل رہی ہیں،اپنے اسی امتیازی شان کے ساتھ شعبہ دارالافتاء کے ذریعہ دارالعلوم وقف دیوبندکے زمانہ قیام سے ہی ملک و بیرون ملک کے مسلمانوں کی علمی و دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا جا رہاہے، جس کی بناء پر دارالافتاء میں فتاویٰ کے مجلدات بڑی تعداد میں جمع تھی۔ایک عرصہ سے اس کی ترتیب و تبویب نیزجدید اسلوب بحث وتحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے تخریج کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، لیکن دیگر ترجیحات اس اہم کام کی انجام دہی میں حائل رہیں، جس کی بناء پر ترتیب کا یہ عمل انجام کو نہیں پہنچ پایا۔ تعلیمی توقف کے اس دورانیہ کو غنیمت جانتے ہوئے فتاویٰ کی ترتیب، تبویب کا عمل انجام پایا اور آج بحمد اللہ فتاویٰ کی دو جلدیں ترتیب و تحقیق کے مراحل سے گزر کر منظر عام پر آنے کو تیار ہیں۔ ان دونوں جلدوں میں عقائد، ایمانیات، دعوت و تبلیغ کے علاوہ کتاب الطہارت کے مباحث پر مشتمل فتاویٰ شامل ہیں۔بقیہ جلدیں جو دیگر ابواب پر مشتمل ہے تیزی سے کام جاری ہے۔ دوسری کتاب کا تعارف پیش کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم النانوتویؒ کی شہرہ آفاق تصنیف ہدیۃ الشیعہ اور اجوبہ اربعین اور دیگر رسائل وخطوط کی روشنی میں بزبان عربی دراسہ کی شکل میں ایک تحقیقی کام ”موقف الامام النانوتویؒ فی القضایا الخلافیۃ بین السنۃ والشیعۃ“کے نام اسے نجام دیا گیا ہے،تیسری کتا ب حضرت نانوتوی ؒکی ایک اور شہرہ آفاق ”انتصارالاسلام“کا انگریزی ترجمہThe Irrecusable Answerکے نام سے ہے۔جس میں اسلامی عقائدو احکامات پر کیے جانے والے دس اعتراضات کے نقلی دلائل کے ساتھ عقلی و فلسفیانہ جوابات دیے گئے ہیں، جو اپنے طرز استدلال کی بناء پر شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔جبکہ چوتھی کتاب حضرت نانونویؒ کے منتشر قصائد کا مجموعہ ہے، جس میں حضر ت کے اردو کے علاوہ فارسی قصائد کو بھی جمع کیا گیا ہے، اس موقع پر جملہ اساتذہ دارالعلوم وقف دیوبند موجود رہے۔