ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق! ـ محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

ہم اسلام کے تعلق سے بے حمیتی اور بے غیرتی کے جس دور میں جی رہے ہیں اس سے بد ترین دور شاید تاریخ کی نگاہوں نے دیکھا ہو اور اسے آئینۂ ایام میں محفوظ کیا ہو، عرب ممالک نے تو اپنے رخ پر پڑی ہوئی نفاق کی نقاب الٹ دی ہے ،اور بے حجابانہ نامحرموں سے آ شنائی اور شناسائی کے رشتے قائم کرچکے ہیں، سعودی عرب کی کارستانیاں خدا کی پناہ!”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں کا” قصہ بھی اب تمام ہوا، آج٢٣نومبر٢٠٢٠ء کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہواور موساد کے چیف یوسی کوہن سے سعودی ولی عہد شہزادہ اورعملًافرماں روا محمد بن سلمان کی سعودی عرب کی نوتعمیر شدہ گناہ نگری نیوم سٹی میں خصوصی ملاقات ہوئی، برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پول کھول دی، اسرائیل بول گیا، سارے ثبوت اسرائیلی طیارہ کے نیوم ائیرپورٹ پر اترنے کے مل گئے لیکن سعودی عرب کی طرف سے کسی ملاقات سے مسلسل انکار ہے کہ:

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

اس واقعہ پر سعودی کی”ھیئة کبار العلماء”( اکابر علما ء کونسل) کا کوئی فتوی تو کیا، ناپسندیدگی کا ڈھکا چھپا اظہار بھی نہیں ہوگا، سعودی عرب میں رقص وسرود کو اذنِ عام ملے، خواتین کو بے حجاب کرنے اور ان کی ڈرائیونگ کی حوصلہ افزائی ہو، نیوم جیسا کثیر سرحدی شہر تعمیر ہوجس کے معنی ہی ہیں ”نیا مستقبل”،”نیو” لاطینی سے لیا گیا اور عربی کے مستقبل کا پہلا حرف ”میم” لے کر نیوم بنادیا گیا، جہاں حسن وعشق کی تمام تر جلوہ سامانیوں کا انتظام ہو اور” زفرق تا بقدم” حیا سوز کرشموں کی اجازت ملنے والی ہو، سعودی وژن٢٠٣٠ء کے تحت ناقابل یقین حد تک جائز وناجائز آزادی کی راہیں کھولی جارہی ہوں، امام کعبہ حرمت والی مسجد میں بر سر منبر وہ اوصاف محمد بن سلمان کے زیب گلو کردیں جو زبان نبوت سے حضرت عمر کے لیے ادا ہوئے تھے، فرانس میں ناموس رسالت پر شدید ترین حملے ہوں، جمال خاشقجی کو بے دردی سے قتل کیا گیاہو،ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے ہوں اور ان کے چہرے کو زخم لگا کر مسخ کیا گیا ہو، ملک سعود یونیورسٹی ریاض کے سابق پروفیسر ترکی الحمد نے امام بخاری کو فرانس سے بڑا گستاخ رسول قرار دیاہو، یہ سب کچھ ہو،لیکن لبوں پر تالے، اور زبانوں پر چھالے پڑے ہوں۔

سعودی عرب سے فتوی آئے گا تو کس کے خلاف؟ تنظیم الاخوان المسلمون کے خلاف جن سے سعودی نے اپنے طویل دیرینہ تعلقات کویکسرمنقطع کرتے ہوئے مدت ہوئی ناطہ توڑ لیا اورمارچ٢٠١٤ء سے ہی سرکاری طور پر الاخوان کو دہشت گرد قرار دے کر اس سے ہر طرح کے تعلقات کی راہیں مسدود کردی تھیں، اب اس فتوی کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی، آخر یہ علماء کونسل کو کیوں استعمال کیا گیا کہ دوبارہ باضابطہ فتوی جاری کرکے اعلان کیا جائے کہ عالم عرب میں سرگرم دینی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون دہشت گرد تنظیم ہے،اور یہ کہ یہ تنظیم جماعتی اہداف کو اسلامی تعلیمات پر فوقیت دیتی ہے، یہ دین کی آڑ میں فتنہ انگیزی، تفرقہ بازی، تشدد اور دہشت گردی کر رہی ہے،اکابر علما ء کونسل کے سربراہ اور مملکت کے مفتیٔ اعظم عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ اور علماء کونسل کے دیگر اراکین کے دستخط کے ساتھ٠ا نومبرکو جاری کردہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی جانب سے مضحکہ خیز طور پر یہ رپورٹ بھی جاری کردی گئی کہ” اللہ تعالی نے ہمیں حق کا ساتھ دینے اور تفرقہ وانتشار سے باز رہنے کا حکم دیا ہے”، مفتیٔ عام نے اپنے ایک صوتی پیغام میں دوبارہ دوہرایا کہ” اخوان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ ایک گمراہ تنظیم ہے، اس نے خوں ریزی کی ہے،عزتیں پامال کی ہیں،اور حکومتوں میں بگاڑ پیدا کیاہے ”،افسوس کہ:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

عجیب بات ہے کہ سب سے پہلے اس فتوی کی پذیرائی اسرائیل کے سرکاری ٹیوٹر ہینڈل سے عربی زبان میں ہوتی ہے، دنیا کی تقریباً پندرہ علماء کی مخصوص تنظیموں کے اتحاد رابطہ علماء المسلمین کی علماء کے تعلق سے مثبت سوچ یہ ہے کہ سعودی علما ء کونسل کی جانب سے اس فتوی کا جاری ہونا اور اس میں استعمال ہونے والی زبان کا فتوی کی زبان سے میل نہ کھانا اس بات کی داخلی شہادتیں ہیں کہ سعودی حکومت اپنے حق گو علماء کے ساتھ جیسا بد ترین سلوک روا رکھ رہی ہے اس سے بعید نہیں کہ وہ اپنے نامۂ سیاہ کو علماء کی طرف منسوب کررہی ہے، اور فتوی جیسے مبارک لفظ کو جسے اللہ کے منشا ومراد کا ترجمان سمجھا جاتا ہے ،قصداً بدنام کرکے کفر کی چوکھٹ پراسلام کو رسوا کررہی ہے،جمیل مظہری کی زبانی:
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

الاخوان کے ترجمان طلعت فہمی نے واضح کیا کہ الاخوان دعوتی واصلاحی جماعت ہے، دہشت گردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں،فہمی نے ماضی اور حال کے سرکردہ سعودی علماء عبد العزیز بن باز، ابن جبرین اور سفر الحوالی وغیرہ کے اخوان کی تائید میں دئیے گئے فتووں کا بھی حوالہ دیا ہے، اسی طرح سعودی عرب کی سرکاری فتوی کمیٹی ”اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء”(مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات وافتاء) کا فتوی ہے کہ اخوان حق پرست جماعت ہے، اس کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے، اور ناجی فرقوں میں سے ایک معتدل جماعت ہے جس کا مقصد اصلاح اور، دعوت الی اللہ ہے،اس فتوی کا بھی انہوں نے حوالہ دیا۔
شروع سے اخوان کے تعلقات سعودی حکومت سے معتدل رہے ہیں، شاہ فیصل نے تو اخوانیوں کو مجاہد قرار دیا تھا،ایک زمانہ میں سعودی علماء نے اخوان کے جانی دشمن جمال عبد الناصر کے بالاجماع کافر ہونے کا فتوی دیا تھا،موجودہ سعودی حکومت کے بانی ملک عبد العزیز آل سعود نے تو حسن البناء سے ملاقات بھی کی تھی؛ لیکن٢٠١١ء میں عرب بہارکے جھونکوں کے بعد سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی، حتی کہ اخوان سے منسوب قلم کاروں کی کتابیں سعودی عرب کے کتب خانوں سے ہٹا دی گئیں،،مشہور مصری ارب پتی یوسف مصطفی علی ندا نے اپنی یادداشتوں میں ذکر کیا ہے کہ الاخوان المسلمون نے سعودی عرب کو دو تباہ کن جنگوں سے بچانے میں مدد کی ، پہلی١٩٨٧ء میںایران کے ساتھ جس کی فضا حجاج سے متعلق ایک بحران کی وجہ سے بنی تھی ، اور دوسری ایک سخت سرحدی تنازعہ کی وجہ سے ٩٠ کی دہائی میںیمن کے ساتھ،کیا سعودی عرب آج اخوان کے ان احسانات کا پاس رکھے گا؟
یہ رویہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ صحابیٔ جلیل حضرت عبد اللہ بن سلام کویہودی پہلے ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے،ہمارے سردار اور سردار کے سردار فرزند، اور ہمارے سب سے بڑے عالم،اور سب سے بڑے عالم کے بیٹے جیسا خطاب دیا کرتے تھے، جب انہیں ان کے اسلام لانے کا علم ہوگیا توان کو بے وقوف اور بے وقوف کا بیٹا، جاہل اور جاہل کا بیٹا کہنے لگے، اس لیے عبد اللہ بن سلام نے یہودی علماء کومتلون مزاج اور عیب جو قوم بتایا تھا،کہ وہ حق کو جانتے بوجھتے اس کی مخالف سمت میں چلتے ہیں(مسند احمد:مسند انس بن مالک،حدیث نمبر:١٣٨٦٨)۔

حق یہ ہے کہ بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ممالک میں احیائے اسلام کی تحریکیں برپا ہوئیں ، لیکن قید و بند اور شہادت کی آزمائشوں کی جو تاریخ مصر کی الاخوان المسلمون نے رقم کی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی،اس کے بانی کو بے دردی سے شہید کیا گیا،اس کے متعدد رہنماؤں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا ، اس کے ارکان کو ہزاروں کی تعداد میں کال کوٹھریوں میں ٹھونس دیا گیا،آزمائشوں کا شکار ہونے والوں میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی ، لیکن کسی کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی۔
اس جماعت کی تاریخ دیکھی جائے تو ذو القعدہ ١٣٣٧ھ مطابق مارچ ١٩٢٨ء میں مصر کے شہر اسماعیلیہ سے صرف چھ لوگوں کے ذریعہ تنظیم الاخوان المسلمون کاخاموشی سے جماعت تبلیغ کی طرح مسجدوں کو بنیاد بنا کرایک مخصوص دائرہ میں آغاز ہوا، ١٩٣٣ء میں اس تحریک کے بانی حسن البناء شہید قاہرہ منتقل ہوئے،اور اس سال سے یہ کام ایک نئے دور میں داخل ہوا، ١٩٣٤ء میں حسن البناء نے اپنے ایک مقالہ میں بتایا کہ یہ تحریک مصر کے پچاس سے زیادہ شہروں میں اپنا کام کررہی ہے،باضابطہ اس کی مخصوص مساجد،مخصوص مدارس،انجمنیں اور مکاتب قائم ہوچکے ہیں،اسی مدت میں اخوان نے سیاسی میدان میں بھی اس طور پر قدم رکھا کہ حسن البناء نے مصر ی حکام سے اصلاحی ودعوتی مکاتبت کا آغاز کیا، جن میں خاص طور پر اسلام کے سیاسی نظام کو داخلی اصلاح کے لیے اختیار کرنے کا مشورہ ہوتا تھا؛لیکن سرکاری طور پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا، ١٩٣٥۔١٩٣٦ء کے دوران میں حسن البنا ء نے ”نحو النور”(روشنی کی طرف) کے عنوان سے عالم اسلام کے تمام قائدین کو ایک خط روانہ کیا جس میں حکام کے مطابق سب سے خطرناک بات یہ کہی گئی تھی کہ” سیاسی گروہ بندی ختم کرکے امت کی ایک مشترکہ سیاسی طاقت بنائی جائے، اور سب کوباطل قوتوں کے خلاف صف آرا کیا جائے”۔
١٩٣٨ء میں پہلی بار واضح طور پراس دعوت وتحریک کے خط وخال بنائے گئے، حسن البناء نے لکھا:”الاخوان المسلمون ایک جامع فکر کا نام ہے، جس میں اصلاح کی تمام جہتیں شامل ہیں، ایک سلفی دعوت ہے؛چونکہ یہ کتاب وسنت کی روشنی میں اسلام کے صاف وشفاف سرچشمہ سے پانی لیتی ہے،اور سلف کی تشریحات کی پابند ہے،ایک سنی طریقت ہے؛چونکہ یہ ہر چیز میں سنت مطہرہ پر عمل کی دعوت دیتی ہے،ایک راہ سلوک بھی ہے؛چونکہ اس کا ماننا ہے کہ خیر کی بنیاد نفس کی پاکیزگی،دل کی صفائی،اللہ کے لیے آپسی محبت اور خیر کے لیے ایک دوسرے سے مل جانے پر ہے،ایک سیاسی تنظیم بھی ہے ؛چونکہ یہ داخلی وخارجی طور پر حکومت کی اصلاح کی بات کرتی ہے، اورعزت وسرخروئی کے ساتھ مسلمانوں کی تربیت وقیادت چاہتی ہے،یہ ایک اسپورٹ کلب بھی ہے؛چونکہ اس کے افراد کو حرکت ونشاط پیدا کرنے والے کھیلوں کی تربیت دی جاتی ہے،اور جسمانی تربیت کے لیے اس کی مخصوص ٹیمیں ہیں جو کسی طرح کھیل کی دنیا قومی ٹیموں سے کم نہیں،ایک ثقافتی اور علمی رابطہ بھی ہے ؛چونکہ اخوان کی انجمنیں حقیقت میں تعلیم وتہذیب اورذہنی وروحانی تربیت کے مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں،ایک معاشی ادارہ بھی ہے؛چونکہ اسلام میں مالیاتی منصوبہ بندی کی بڑی اہمیت ہے، اور اخوان نے اپنی اسلامی کمپنیوں کے ذریعہ نیشنل سطح کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، یہ ایک سماجی تحریک بھی ہے؛چونکہ اس میں معاشرہ کی بیماریوں کی تشخیص اور ان کے طریقۂ علاج کی تلاش اور امت کو امراض سے پاک کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رہتی ہیں” ۔
اخوان نے ١٩٤٢ء سے باضابطہ سیاست میں حصہ لینا شروع کیا،مختلف سطح کے انتخابات میں بھی حصہ لیا،اس کے خلاف سازشیں کرکے کبھی اس پر پابندی عائد کردی گئی،بارہا ووٹوں کی گنتی میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کو نقصانات ہوئے،جمال عبد الناصر کے زمانہ میں اس کو بالکلیہ سیاست سے دور رکھا گیا،انور سادات کے زمانہ میں یہ اجازت ملی،١٩٦٧ء سے ٢٠٠٧ء تک کے مختلف انتخابات میں اسے ترقی ملتی گئی،تاآنکہ وہ دن بھی آیا کہ اخوان نے ٢٠١١ء میں حریت وانصاف پارٹی تشکیل دی،اور ٢٠١٢ء میں جماعت کے قیام کے ٨٤ سال بعدحافظ ڈاکٹر محمد مرسی عیسی العیاط جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر قرار پائے؛لیکن عبد الفتاح سیسی نے سعودی عرب،امارات اور دیگر ممالک کے مالی تعاون سے ٢٠١٣ء کی فوجی تاخت کے ذریعہ ان کا تختہ الٹ دیا،اور اخوان پر پھر آزمائش کا ایک دورشروع ہوا، جب قانونی طور پر منتخب حکومت کو ایک سال ہی کے اندرمعزول کردیاگیا، احتجاج کرنے والے کئی ہزار اخوان مردوں ، عورتوں، بچوں اور بچیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا،صدر محمد مرسی،اخوان کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع اور بے شمار اخوان رہنماؤں کو جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں میں قید کردیا گیا، سات سال کے اس عرصہ میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے ، بھیانک تشدد کیا گیا، یہاں تک کہ اس کی تاب نہ لاکرمحمد مرسی کمرۂ عدالت ہی میں غش کھاکر گر پڑے اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی، ان کی وفات کو الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ گروپ نے خوفناک قرار دیاتھا۔
یہ ہے مختصر داستان اس کاروان ایمان وعزیمت کی،یقیناًغلطیاں اخوان سے بھی ہوئیں،ان کے علماء ودانشوران نے بہت سے مسائل میں خود آپس میں ایک دوسرے کی تنقید وتصحیح کی،ان کے افکار میں بھی موقع ومحل اور زمان ومکان کے اعتبار سے بارہاجزوی تبدیلیاں آئیں؛لیکن اسلام ،اسلامی مقدسات اور اسلامی تعلیمات پر حملہ کرنے والی طاقتوں سے ان کی پنجہ آزمائی آج بھی جاری ہے،اگر یہی دہشت گردی ہے تو سعودی عرب نے ماضی میں بارہا ایسی دہشت گردیاں کی ہیں؛ لیکن اب اس کا اسلام توحید توحید کی رٹ تک محدود ہوگیا ہے،ہمارے ملک میں بھی اصلاح فکر ونظر کے مدعی ایسے عقل کے دشمنوں کی کمی نہیں جن کاسارا اسلام دو رکعت نماز کی غلو آمیز تصحیح اور اپنے مسلمان بھائیوں کو مشرک وبدعتی قرار دینے میں سمٹ کر رہ گیاہے،اور وہ دن دور نہیں جب یہ سعودی عرب کو خلافت راشدہ کا نمونہ قرار دے دیں ۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے الاخوان کی چند خصوصیات شمار کرائی تھیں،ایک تو اس کے داعیٔ اول شیخ حسن البناء شہید کی طاقتور شخصیت تھی جس میں اسلام کا وسیع مطالعہ،اسلامی غیرت،جہد مسلسل،سحر انگیز طرز خطابت،اپنے ہم نواؤں میں بے پناہ مقبولیت جیسی صفات جمع ہوگئی تھیں جو بہت کم کسی ایک شخصیت میں جمع ہوتی ہیں، دوسری اس تحریک کی جامعیت ہے جو اسے موجودہ دور کی دیگر بہت سی تحریکوں سے ممتاز کرتی ہے، قوت ایمان، قوت عمل، عصری تعلیم،تنظیمی کاموں میں جدید تیکنیک سے استفادہ، ادب وصحافت اور صنعت وتجارت سے اس تحریک کے افراد کا ربط وتعلق اس جامعیت کی دلیلیں ہیں،چنانچہ اس جماعت میں اعلی درجہ کے قلم کار،صحافی،تاجر،وکیل، طبیب، سیاستداں اور معلم جیسے سماج کے باوقار حضرات اپنی داعیانہ پہچان کے ساتھ یکساں نظر آتے ہیں، تیسری اس کے ماننے والوں میں اسلام سے بے پناہ محبت،شجاعت وجرأت اور اسلام کے لیے جینے مرنے کا حوصلہ،قید وبند کی صعوبتوں اور حکومتوں کی دھمکیوں سے بے خوف ہوکر مکمل اسلام کو پیش کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے، جس میں اسلامی جہاد کی یادیں بھی تازہ ہوتی رہی ہیں، چوتھی اسلام کو مکمل اعتمادکے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا قابل تقلید طریقہ انہوں نے ہمیشہ سے اپنا رکھا ہے،اور سب سے بڑھ کر ان کی یہ کوشش کہ ہم اسلام کو نظام حیات کے طور پر پیش کریں اور اس کو برت کر دکھائیں جس میں عقیدہ، اخلاق، تجارت،سیاست،عبادت،انفرادی اور اجتماعی اصلاح، سب شامل ہوں، پھر عقل،قلب،روح اور جسم تمام جہتوں پر توجہ ہو، ”(دیکھئے:أرید أن أتحدث الی الاخوان،ص:٩)۔
اور مولانا کا ہی یہ تاریخی جملہ بار بار دوہرائے جانے کے قابل ہے کہ ”جس کو اخوان سے محبت ہے وہ مومن ہے اور جس کو ان سے نفرت ہے وہ منافق ہے”،افسوس کہ اب ہمارے ملک کے دوسرے اداروں اور تنظیموں سے تو گلہ کیا کہ انہوں نے” احتیاط” کی روش اپنا رکھی ہے،اور محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈھ لی ہیں، ان اداروں اور خانوادوں سے بھی کوئی آواز نہیں آتی جن کے اسلاف خاشاک غیر اللہ کے لیے برق وآتش اور رگ باطل کے لیے نشتر تھے؛لیکن ان کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا،یہ وقت دیر کرنے کا نہیں:
اٹھ کہ ترے دیار میں پرچم کفر کھل گیا دیر نہ کر کہ پڑ گئی صحن حرم میں ابتری

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)