سوشل میڈیا:استعمال کی شرطیں ـ عبداللہ ممتاز

سوشل میڈیا پر ہمیں دو قسم کی قوم سے خوب واسطہ پڑتا ہے، اول "بلاکیے” (جن کی آئی ڈی کسی وجہ سے بلاک کردی گئی یا پوسٹ ڈلیٹ کردیے گئے) دوم "رپورٹیے” (جو اپنے مزاج کے خلاف ہر چیز کو رپورٹ مارتے ہیں اور اور رپورٹ مارنے کی تبلیغ وتشہیر بھی کرتے ہیں)

فلسطین معاملے پر سوشل میڈیا پر "جہاد عظیم” چھیڑا گیا، ہمارے مجاہدوں نے اسرائیل کے خلاف فیس بک اور واٹس ایپ پرخوب جہاد کیا؛ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ جس پلیٹ فارم کا وہ استعمال کر رہے ہیں وہ ان ہی یہودیوں کا ہے، یہاں جہاد ان ہی کی شرطوں کے مطابق کرسکتے ہیں ورنہ آپ کی پوسٹ حذف کردی جائے گی اور اگر آپ تب بھی نہیں مانے اور اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو بلاکستان بھیج دیے جائیں گے۔
آئیے جانتے ہیں کہ پوسٹ کیوں ڈلیٹ ہوتی ہیں اور آئی ڈیز کیوں بلاک ہوتی ہیں۔
فیس بک یوزرس کے لیے کچھ "استعمال کی شرطیں” یعنی Community standard ہے،جسے آئی ڈی بناتے وقت ہم بغیر پڑھے قبول Accept بھی کرتے ہیں۔
اب یہاں رہتے ہوے اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے، اگر آپ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کئی مرتبہ detector خود آپ کی پوسٹ کو رپورٹ کردیتا ہے اور کئی مرتبہ آپ کو یا آپ کی تحریر کو ناپسند کرنے والے آپ کے پوسٹ کو رپورٹ کرکے آپ کی آئی ڈی کا بیڑا غرق کرتے ہیں ۔
1۔ فیس بک پر کسی ایسےگروپ/تنظیم /میڈیا /شخص کی تعریف وتحسین نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کے کسی کام(act) کی تعریف کرسکتے ہیں جنھیں فیس بک نے "دہشت گرد” ڈکلیر کیا ہوا ہے۔
چوں کہ فیس بک America based کمپنی ہے، اس لیے وہ American standard کو فالو کرتا ہے، چناں چہ حماس کو دنیا کے کئی ممالک بشمول ترکی، چائنا، رشیا اور آسٹریلیا "دہشت گرد” گروپ نہیں مانتے ؛ بلکہ اسے "مزاحمتی گروپ” بتاتے ہیں؛ لیکن امریکہ نے اسے "دہشت گرد” قرار دیا ہوا ہے، اس لیے فیس بک پر آپ حماس یا اس کے کسی ایکشن کی تعریف نہیں کرسکتے۔
پاکستان میں تحریک لبیک، سپاہ صحابہ جیسی تنظیمیں الیکشن بھی لڑتی ہیں ؛ لیکن امریکہ بہادر نے انھیں دہشت گرد بتایا ہوا ہے، اس لیے وہ دہشت گرد ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکہ علی الاعلان سمجھوتہ کرتا ہے ، جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرتا ہے؛ لیکن تب بھی وہ دہشت گرد ہے۔ ان دہشت گرد گروپوں کو چھوڑیے ، امریکہ کی ایران سے نہیں بنتی ، اس لیے امریکہ نے ایران کی پوری فوج کو دہشت گرد ڈکلیر کیا ہوا ہے، اگر آپ فیس بک پر ایرانی فوج کی تعریف کرتے ہیں یا ایرانی فوج کا فوٹو/ویڈیو شیر کرتے ہیں تو آپ فیس بک کے "شرائط استعمال” کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔
2۔ فیس بک کی پالیسی کے مطابق آپ کسی مذہب /کلچر یا ملک سےتعلق رکھنے والی پوری قوم (کمیونیٹی) کے خلاف "سخت نفرت آمیز” مواد شیر نہیں کرسکتے ۔ مثلا فلاں مذہب کے ماننے والے سارے دہشت گرد ہیں، آپ کو ایسا کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے کہ "یہودی بڑے خبیث ہوتے ہیں” اور نا ہی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ "اسرائیلی کتے ہیں”۔ اسی طرح کسی پوری کمیونٹی کو گالی دینا بھی درست نہیں مثلا "فرنچ حرامی ہوتے ہیں”۔
3۔ آپ کسی فرد/افراد کی حادثاتی موت یا کسی پر قدرتی آفات کا مذاق نہیں بناسکتے۔مثلا دہشت گرد القسام بریگیڈ کے راکٹ حملہ میں کوئی یہودی مارا گیا تو آپ "خس کم جہاں پاک” نہیں کہہ سکتےہیں۔
4۔ فیس بک پر بعض الفاظ بڑی سختی سے ممنوع ہیں اور سنگین ترین گالی سمجھے جاتے ہیں، جیسے لفظ "کافر” کسی فرد یا قوم کو کہنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔آپ فیس بک پر "قادیانی کافر” بالکل بھی نہیں لکھ سکتے۔ لفظ کافر؛ یہ فیس بک انتظامیہ کی نظر میں کفر سے بڑا گناہ ہے، یہ ایک قسم کا اٹیک ہے، فیس بک اور مولانا طارق جمیل میں کوئی فرق نہیں ہے، فیس بک بھی پوری دنیا میں کسی ایک فرد کو بھی کافر نہیں مانتا اور نہ ہی کسی کو کافر کہنے کی اجازت دیتا ہے۔ سب کے سب شاید مسلمان ہیں اور مارک زکر برگ تو سب سے زیادہ سچا پکا مسلمان ہے۔
اب تک کے مشاہدہ کے مطابق عام طور سے ہمارے فیس بکی مجاہدین کی آئیڈیز پر انھیں تین چار وجوہات کی بنیاد پر بندش لگتی ہیں اور ان کی پوسٹیں ڈیلیٹ ہوتی ہیں۔ آپ اپنی آئی ڈی کا خود خیال رکھیں۔
عام طور سے فیس بک اپنی پالیسی میں سیکولر ہے؛ یعنی یہودیوں کو جن ٹارگیٹس کی بنیادوں پرآئی ڈی بلاک کرتا ہے وہی ٹارگیٹ اگر مسلمانوں کو کیا جائے تب بھی فیس بک آئی ڈیز پر بندش لگاتا ہے؛ البتہ بعض قوموں کو فیس بک نے Endanger species کا رتبہ دیا ہوا ہےکہ انھیں اضافی تحفظ ملنا چاہیے ورنہ یہ چند سالوں میں دنیا سے ایسے ہی ناپید ہوجائیں گے جیسے کئی لاکھ سال پہلے ڈائنا سور کی نسل مٹ گئی تھی۔ ان ہی Endangered species میں سے قادیانی مذہب بھی ہے۔
آپ کی جانکاری میں یہ اضافہ یقینا اہم ہوگا کہ فیس بک پالیسی کے مطابق آپ کسی مذہب کے مانے والوں کو تو ٹارگیٹ نہیں کرسکتے ہیں ؛ لیکن مذہب کو آپ چاہیں جتنی گالیاں دے دیں، کسی ملک سے تعلق رکھنے والوں کو ٹارگیٹ نہیں کرسکتے ہیں؛ لیکن اس ملک کے تئیں چاہیں جتنا زہر اگل لیں۔ مثلایہ کہنے کی تو اجازت نہیں ہے کہ” اسرائیلی دہشت گرد ہیں” لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ "اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے” تو اس پر کوئی بندش نہیں۔ آپ یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کہ "قادیانی بدترین کافر ہیں "لیکن اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں کہ "قادیانی مذہب دنیا کا غلیظ ترین مذہب ہے”۔

اب بات کرتے ہیں فیس بک پر موجود "رپورٹیے” قوم کی۔ انھیں لگتا ہےکہ ہر مرض کی دوا رپورٹ کرنا ہے، جیسے فیس بک کی پالیسیز سلطان ٹیپو سلطان یا اورنگ زیب نے بنوائی ہو اور شکایات پر فتاوی عالمگیری دیکھ کر ایکشن لیا جاتا ہو۔ جہاں کوئی یوٹیوب یا فیس بک پراسلام کے خلاف بکواس کرتا نظر آتا ہے بس اس کے خلاف رپورٹ کی ایک تحریک چھیڑ دی جاتی ہے، خود بھی رپورٹ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی رپورٹ کی دعوت دیتے ہیں۔ چوں کہ وہ بکواس مذہب اسلام کے خلاف کر رہا ہوتا ہے، جس کی سوشل میڈیا پر اجازت ہے، اس لیے اس کا چینل/ویڈیو یا آئی ڈی/پوسٹ ڈلیٹ تو نہیں ہوتے ؛ لیکن اس کی آئی ڈی/چینل پر لوگوں کی ٹریفک ضرور بڑھ جاتی ہے۔ ہر ایکشن کا ری ایکشن بھی ہوتاہے، کب کسی چینل کے خلاف کچھ لوگ تحریک چھیڑتے ہیں تو رد عمل میں کچھ لوگ اس کی حمایت بھی شروع کردیتے ہیں، اس لیے سستی شہرت کمانے اور سوشل میڈیا پر پاپولر ہونے کا یہ بڑا آسان نسخہ لوگوں نے ڈھونڈا ہوا ہے کہ اسلام کے خلاف بکواس کرکے مسلمانوں کے جذبات کا فائدہ اٹھاؤ ، ایک طرف سستی شہرت تو دوسری طرف یوٹیوب اور فیس بک سے ہونے والی آمدنی۔حالیہ دنوں میں "خان سر ” کا واقعہ دیکھا،اس کی ویڈیوز خوب رپورٹ کی گئیں ؛ لیکن اس کی کوئی ایک ویڈیو بھی یوٹیوب کی پالیسی کے خلاف نہیں تھی، اس لیے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، اس کے برخلاف اس نے خوب شہرت کمائی اور جو شخص سوشل میڈیا تک محدود تھا وہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی آنے لگا۔ اس کے سبسکرائبر اور ویوورز کی تعداد جو بڑھی سو الگ ہے۔
اس لیے اس قسم کی تحریک چلانے سے پہلے یہ ضرور چیک کرلیں کہ یہ پوسٹ فیس بک/یوٹیوب کے کمیونیٹی اسٹینڈرڈ کے خلاف ہے بھی کہ نہیں۔ اگر وہ پوسٹ ان کی پالیسی کے خلاف نہیں ہے تو ایک ہزار یا ایک لاکھ لوگ بھی رپورٹ کریں تب بھی ان کی ویڈیو/پوسٹ ڈلیٹ نہیں ہوگی۔
فیس بک کے اردو ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اردو زبان پر کام کرنے والوں میں ستر اسی فیصد ان لوگو ں کی ہے جنھیں ڈھنگ کی اردو نہیں آتی ۔انٹرویوز میں عام طور پر اردو سے زیادہ انگلش پر فوکس ہوتا ہے، چوں کہ یہ اردو کے ملازمین انگریزی سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے اس ٹائپ کے ڈپارٹمنٹ میں آسانی سے ان کی تقرری ہوجاتی ہے، گوکہ اردو ان کی معمولی یا خانگی لیول سے زیادہ نہیں ہوتی ، اس لیے کئی ساری ایسی پوسٹوں کو یہ بڑی آسانی سے ڈلیٹ کر جاتے ہیں جو بالکل ڈلیٹ نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں ان کے بغض کا کوئی دخل نہیں ، بس ان کی کم علمی اور کم فہمی کا قصور ہے۔