بھوپال کے مسلم حکمرانوں کی وراثت کو مٹانے کا کھیل- انشو سلیجا

ترجمہ:نایاب حسن

(چیف ایڈیٹر قندیل آن لائن)

حالیہ دنوں میں شہروں، علاقوں اور نشانیوں کے نئے  نام رکھنے اور پرانے نام بدلنے کا عمل سیاسی حساب کتاب کے لیے اہم ہو گیا ہے۔ اسی کے تحت الہ آباد کو پریاگ راج اور فیض آباد کو ایودھیا میں تبدیل کر دیا گیا ہے، مگر یہ رجحان کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں  بھوپال کے دورے کے دوران وزیر اعظم نے تجدید شدہ حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا اور اسے "قوم کے نام وقف” کیا۔ 18ویں صدی میں اس علاقے میں حکومت کرنے والی گونڈ ملکہ کے نام پر اس کا نام بھی رانی کملا پتی اسٹیشن رکھا گیا۔ اس نئے نام کو لانچ  کرتے ہوئے  بی جے پی کی قیادت نے انھیں "بھوپال کی آخری ہندو حکمراں” قرار دینے میں جلدی کی ہے۔

فرقہ وارانہ خطوط پر بھوپال کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے اور اس کے مسلم حکمرانوں کے کردار و میراث کو ختم کرنے کی یہ کوئی انوکھی کوشش نہیں ہے۔ مقامی قائدین بشمول ایم ایل اے اور میونسپل کارپوریٹرز نے   راجہ بھوج کے نام پر بھوپال کا نام بدل کر بھوجپال رکھنے کی بارہا کوششیں کی ہیں ، راجہ بھوج  11ویں صدی میں مالوہ کے خطے پر حکمرانی کرنے والے ایک پرمار راجہ ہیں، جنھیں وہ شہر کا اصل بانی مانتے ہیں۔ ان داستانوں میں بھوج اور کملا پتی جیسی شخصیات کے کارناموں کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جب کہ دوست محمد خان کے دور میں جو ترقیاں  ہوئیں ، جن کے تحت 18ویں صدی میں ریاست بھوپال کی بنیاد رکھی گئی،انھیں اور ان کے جانشینوں کو حاشیے پر رکھ دیا گیا ہے۔

ہندو حقوق کے حامی یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ  اصل بھوج  شہر موجودہ بھوپال کے پرشور بازاروں اور مساجد کے نیچے دفن ہے۔ ایسی کوششوں کے ذریعے تاریخ کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

بھوپال کی ریاست 1722 میں ایک افغان مہم جو دوست محمد خان نے قائم کی تھی، جس نے وسطی ہندوستان میں اپنی قسمت آزمانے سے پہلے مغل فوج میں کچھ عرصہ خدمات انجام دی تھیں۔ ان کے جانشینوں نے انگریزوں کے زیر کفالت ہونے کے ناطے نوآبادیاتی تسلط کے پورے دور میں ریاست پر حکمرانی جاری رکھی۔ 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل میں ریاست کی قیادت چار قابل ذکر بیگموں: قدسیہ، سکندر جہاں، شاہ جہاں اور سلطان جہاں نے کی۔ بھوپال کی بیگموں کا سلسلہ 1926 میں سلطان جہاں پرختم ہوا۔ اہم بات یہ ہے کہ آج بھوپال کے شہریوں  کی نوجوان نسل اس تاریخ سے بے گانہ نظر آتی ہے۔ 1947 میں ریاست بھوپال انڈین یونین میں شامل ہوگئی۔ 1949 میں اسے ایک چیف کمشنر کا صوبہ بنیا گیا اور 1956 میں یہ نو تشکیل شدہ ریاست مدھیہ پردیش کا دارالحکومت بنا۔

اگر ہم بھوپال کا موازنہ مدھیہ پردیش کے دوسرے بڑے شہروں، یعنی اندور اور گوالیار سے کریں، جو کہ بھوپال کے ہی مانند  نوابی ریاستوں کے ہیڈ کوارٹرز تھے، تو ایک حیرت انگیز تضاد سامنے آتا ہے۔ اندور میں بہت سے ممتاز اداروں کے نام وہاں کے سابق ہولکر حکمرانوں کے نام پر ہیں۔ اسی طرح گوالیار میں زیادہ تر علاقوں اور سرکاری عمارتوں کے نام  سندھیا خاندان کے لوگوں کے نام پر ہیں؛ لیکن بھوپال میں بہت کم جگہوں پر سابق نوابی  خاندانوں اور ان کے لوگوں کے نام ہیں۔

اسے ریاستی دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے اقدامات کیے گئے ،جن  کی وجہ سے یہ حالت پیدا ہوئی۔ بھوپال کے بیوروکریٹ منصوبہ سازوں نے جان بوجھ کر اس کے نوابوں والے ماضی کو نظر انداز کیا۔آس  پڑوس کے مکانات کو لوگوں کے  ناموں کی بجاے نمبروں والی شناخت دی گئی(مثلاً 45 بنگلے، 1100 کوارٹرز اور 1250 کوارٹرز وغیرہ ) ۔ بس اسٹاپ کو بھی ہندسوں کے ذریعے نامزد کیا گیا؛ حالاں کہ مختلف طرز کے نام کرن کی اس اسکیم میں بھی کئی ہندو شبیہوں کو جگہ مل گئی۔

بھوپال کے نوابی ریاست کے ماضی کو نظر انداز کرنے کے عمل کے طور پر جو کچھ شروع ہوا، اس نے دھیرے دھیرے کہیں زیادہ مذموم تصور حاصل کر لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ  یہ تصور جان بوجھ کر مخالفت کرنے، غلط بیانی سے کام لینے اور تحریف جیسے عمل سے متاثر ہوتا رہا۔ اس کے مشترکہ ماضی کو دبانے کے لیے کی گئی ابتدائی منصوبہ بندی اب اسے دوبارہ تشکیل دینے کی بھرپور کوششوں کے ساتھ ساتھ اسے مسلم یا ہندو کے طور پر باہم مخالف اصطلاحات میں ڈھالنے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ عرصے سے اس منصوبے پر کافی توانائی صرف کی جارہی ہے اور اس عمل میں نیا نام دینے اور نام بدلنے کی حکمت عملی کو خوب استعمال کیا گیا ہے۔ مقصد واضح ہے اور وہ ہے نئی نسل کی اجتماعی ثقافتی یادداشت کو بدلنا، باہمی یکجہتی کے تجربات کو درکنار کرنا  اور اس طرح فرقہ وارانہ  خطوط پر قائم ا یک تند و تیز حال کو وجود بخشنا ، جو بھرپور سیاسی ثمرات و نتائج کا حامل ہو۔

(مضمون نگار تاریخ کی اسکالر ہیں ،اصل مضمون روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*