ہم سب اپنی باری کے منتظر ہیں-آصف انظار عبدالرزاق صدیقی

عمر گوتم اور مفتی جہانگیر صاحب کی گرفتاری پر جس اضطراب کا مظاہرہ ملت کی طرف سے ہونا چاہیے تھا، وہ نظر نہیں آرہا ہے۔ نجی محفلوں میں بھی گفتگو سہمی ہوئی ہے۔ گوتم بھائی اور مفتی صاحب کی گرفتاری ایک بالکل ہی غیر متعلق معاملے میں ہوئی ہے۔ عمر بھائی اور ان کا سینٹر اپنی مرضی اور چاہ سے اسلام قبول کرنے والوں کو لیگل ڈاکومنٹیشن میں رہنمائی کرتا تھا۔ اسلام قبول کرنے والے سارے ہی لوگ اعلی تعلیم یافتہ افراد ہیں، جن کی ساری تفصیلات بھی رکھی جاتی ہیں، مگر حکومت کی شرارت کے کیا کہنے! اور پھر ہماری بے حسی بھی غضب کی ہے۔ بس کہیں کہیں سے آوازیں ہیں۔ بہت سی آوازیں تو ہمارے غیر مسلم بھائیوں کی طرف سے ہیں۔ملی تنظیموں میں سے کسی کا بیان اب تک ہماری کور نگاہوں میں نہ آیا، بس ملی کونسل کے ڈاکٹر منظور صاحب نے کچھ عرض کیا ہے۔ ملی شخصیات میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ندوی بول رہے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا کے بہادر نوجوانوں کو بھی ابھی تک شاید معاملے کی سنگینی کا ادراک نہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*