ہندوتو،افسانہ یا حقیقت؟-عبد الحمید نعمانی

کسی امر کے متعلق صحیح رائے یا فیصلہ اس وقت کیا جاسکتا ہے ، جب کہ اسے اصل حالت میں دیکھا جائے ، بھارت میں ہندو مسلمانوں کا وجود ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات اور ایک دوسرے کی حیثیت ووجود کے اقرار و انکار کو لے کر کئی طرح کے مسائل و مشکلات ہیں ، دیگر بہت سے اہل علم و دانش کے علاوہ مولانا وحید الدین خاں نے بھی ان کے متعلق خاصا لکھا ہے ، لیکن بسا اوقات وہ اظہار خیال میں توازن و اعتدال اور حقیقت بیانی سے کام نہیں لے سکے ہیں ، انھوں نے جہاں مسلم سماج اورا س کی معروف شخصیات و تحریکات کے متعلق خوبیوں کے اعتراف و اظہار میں بخالت و منفی ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے ، وہیں ہندوتو وادی عناصر کی فرقہ پرستی کی تاویل و نفی کرتے ہوئے اسے ناقابل توجہ بنانے کی بھی کوشش کی ہے ، جس کے نتیجے میں مسائل کا صحیح تجزیہ کرکے بہتر حکمت عملی اختیار کرنے کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے ، ایک طرف جہاں مسلم اکابر و عوام کی مبینہ کمیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے تو دوسری طرف سنگھ اور ہندوتو کے بڑھتے اثرات و خطرات کی سرے سے نفی کر کے تحریک و مزاحمت کی ضرورت کو بے معنی قرار دینے کا کام بھی کیا ہے ، جب کہ بسا اوقات کئی طرح کی باتوں کا بہ طور واقعہ بذات خود ذکر کرتے ہیں ، ہندوتو کے خطرات و اثرات ایک واقعہ و حقیقت ہیں یہ سب کے سامنے ہیں ، کھلی آنکھوں سے دیکھے جارہے ہیں لیکن مولانا وحید الدین خاں ہندوتو کے خطرے کو محض فرضی بتاتے رہے ہیں ، وہ اور جاوید احمد غامدی جیسے حضرات خاصے پڑھے اور سنے دیکھے جاتے ہیں ، کچھ طبقات میں ان کو بہ نظر تحسین و تسلیم دیکھا پڑھا جاتا ہے ، ایسی صورت میں کئی طرح کے درپیش مسائل پر بحث و گفتگو ، صحیح رائے و فیصلے کے لیے ایک ضرورت بن جاتی ہے ۔
مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ،ہند، پاک ڈائری ، کی پہلی اشاعت 2006 میں ہوئی تھی ، جس میں انھوں نے ہندوتو:حقیقت یا افسانہ کے عنوان کے تحت پورے وثوق کے ساتھ لکھا:خطرے دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک حقیقی خطرہ اور دوسرا فرضی خطرہ ۔اگر حقیقی خطرہ در پیش ہو تو اس کاحل یہ ہے کہ آدمی اس کی نوعیت کو سمجھے اور اس کے مطابق بچاﺅ کی ضروری تدبیر کرے۔لیکن اگر خطرہ محض فرضی ہے تو مسئلہ بالکل بدل جاتا ہے ، اب اس سے بچاﺅ کی تدبیر صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے، فرضی خطرہ کو نظر انداز کر دینا ہی اس سے بچاﺅ کی سب سے زیادہ کامیاب تد بیر ہے ، ہندوتو کا خطرہ راقم الحروف کے نزدیک محض فرضی خطرہ ہے ۔ وہ کبھی واقعہ بننے والا نہیں ہے ایسی حالت میں اس کے لیے پریشان ہونے کی کیا ضرور ت ؟ (مذکورہ کتاب صفحہ 190)
بعد میں اس کتاب کا دوسراایڈیشن 2018میں منظر عام پر آیا ۔ اس میں بھی مذکورہ اقتباس جوں کا توں ہے ۔ اس میں مولانا وحید الدین صاحب نے تر میم و اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے جب کہ پورا بھارت اور پوری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ2014کے بعد ہندوتو کے کلچرل نیشلز م کے زیر اثر، ہندوتو کا خطرہ واقعہ بن چکا ہے اور بھارت کا رنگ تیزی سے بدل رہا ہے ، اس کی مزاحمت صرف وہ ہندستانی بلا امتیاز مذہب و فرقہ کر رہے ہیں جو ہندوتو کے خطرے کو واقعہ اور حقیقی مان رہے ہیں ۔ سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن راﺅ بھاگوت، کھلے عام اعتراف و اظہار کر رہے ہیں کہ آر ایس ایس نے سوسال کی محنت اور جدو جہد سے دو دہائی میں یہ( اس ہندوتو کا)انقلاب برپا کر دکھایا ہے)(روزنامہ راشٹریہ اوتار 19 اکتوبر 2020) جس میں سب کو جذب کر لینے کی طاقت و صلاحیت ہے ۔ مولانا وحید الدین خاں کے سامنے مختلف ہندوتو وادی نمائندوں کے ارادے و اعلانات رہے ہیں ،مثلاً سنگھ کی آئیڈیالوجی سے وابستہ جے دوباشی نے یہ اعلان کیا کہ انڈیا میں قومی تشخص صرف ہندو ہی ہوسکتا ہے ۔
in India , the National Identity can only be Hindu
( السٹسٹریڈ ویکلی آف انڈیا 12 مارچ 1993) ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے گری لال جین کا کہنا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کے کلچر کو اختیار کرلیں ،انڈیا کوئی انسانی چڑیا گھر نہیں ہے جس میں مختلف انسانی انواع ایک مقام پر الگ الگ خانوں میں رکھ دی گئی ہوں اور ان کو ایک نہ کیا جاسکتا ہو ،بھارت واضح ممتاز طور پر ہزاروں سال سے ایک یکساں کلچر کا ملک ہے ۔
India is not a human zoo with different species of humanity put together in one physical location separate enclosuess and it can not be turned int one Homebodies a remarkably homogenous.
(ٹائمس آف انڈیا 11 مارچ 1993) اس سلسلے میں ڈھیروں شواہد و واقعات سامنے آچکے ہیں ، بذات خود مولانا وحید الدین خاں نے اچھے موڈ اور لمحات میں ہندوتو پر معقول تنقیدات و سوالات پیش کیے ہیں ،لیکن یہ کتابی شکل میں یکجا نہیں ہیں ، جیسا کہ دیگر موضوعات اور جماعت اسلامی کی سیاسی تعبیر دین کے سلسلے میں یکطرفہ طور پر انتہا پسندانہ رد عمل کے طور پر تعبیر کی غلطی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ انھوں نے گرو گولولکر اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے پیش کر دہ راشٹر واد اور ہندو کلچر کے متعلق کئی طرح کے معقول سوالات پیش کیے ہیں ، جن کے جوابات کی فراہمی کی آج تک کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آئی ہے ۔ انھوں نے لکھاہے: اصل مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے ، یکساں کلچر کو اختیار کر نے کے لیے اس کا ایک ماڈل ہونا ضروری ہے حالاں کہ ایسا کوئی ماڈل سرے سے ملک کے اندر موجود نہیں ہے اور جب ماڈل موجود نہ ہوتو اس کی پیروی کس طرح کی جائے گی وہ چیز جس کو ہندوکلچر کہا جاتا ہے وہ بروقت کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے ۔ اس میں بیک وقت بے شمار خدا ہیں ، بابری مسجد کو ڈھانے والے بھارتی کلچر کے نمائندوں نے پر فخر طور پر اجودھیا میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ ایک طرف33کروڑ ،ایک طرف ایک اللہ ،اس طرح ہندوﺅں میں ہر چیز میں اختلاف ہے ۔ حتی کہ ایک ہندو مبصر کے الفاظ ہیں اس ملک میں جتنے ہندو ہیں ،اتنی ان کی قسمیں ہیں ، کس ہندو کی پیروی کی جائے ، وہ ہند و جو رامائن اور مہا بھارت کو تاریخ کہتا ہے یا وہ ہندو جو رامائن اور مہابھارت کو افسانہ سمجھتا ہے ہندوتو خود ایک بہت بڑا ہیومن زوہے، وندے ماترم، سرسوتی کا گیت یا اس طرح اور چیز یں، کسی مذہب کے خلاف ہوں یا نہ ہوں مگر یہ یقینی ہے کہ وہ ترقی کے خلاف ہیں،، (ہند-پاک ڈٓئری صفحہ191/176مطبوعہ گڈورڈ دہلی 2018)
لیکن اس طرح کے معقول سوالات کے باوجود ان کو نظر انداز کر کے ہندو تو ایک خطرے اور تباہ کن شکل میں ہم سب کے سامنے آچکا ہے ۔ اس کا انکار یا فرضی قرار دینا بڑی سادہ لوحی اور بے معنی سی بات ہے ۔ اس سلسلے کی باتوں کو پیناری وجائن کی کتاب India vs RSS اور اے جی نورانی کی The RSS a menace to India کے مطالعے سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ہندوتو محض مفروضہ نہیں بلکہ واقعتا سنگین خطرہ ہے ۔ جس طرح آئین میں ترمیمات و اصلاحات کی کوششیں جاری ہیں، فرقہ وارانہ خطوط پر قوانین بنائے جارہے ہیں اور اقتدار کی مدد سے جمہوری اداروں کو ختم کرنے کا عمل جاری ہے، اس نے اس دعوے و تبصرے کو مفروضہ بناکر رکھ دیا ہے کہ ہندوتو کا خطرہ فرضی ہے اور وہ کبھی بھی واقعہ بننے والا نہیں ہے ۔ یہ انصاف و دیانت کی بات نہیں ہے کہ ایک طرف وطنی و عالمی سطح پر مسلم سماج کی طرف سے صیہونیت ، مغربی استعماریت اکثریت پرستی پر مبنی جارحانہ فرقہ پرستانہ کارروائیوں کے خلاف مزاحمتوں اور تحریکات کو خطرے کی شکل میں پیش کیا جائے تو دوسری طرف صیہونیت اور بڑا خطرہ بن چکے جارحانہ ہندوتو کو محض مفروضہ قرار دے کر اسے نظر انداز کرنے کو بچاﺅ کی کامیاب تدبیر بتایا جائے ، یہ روش و طرز مولانا وحید الدین خاں کی کتابوں اور ماہنامہ الرسالہ کی تحریروں واضح طور سے نظر آتا ہے ، لیکن آنکھیں موند لینے اورر یت میں سردے دینے سے طوفان کا وجود ختم نہیں ہوجاتا ہے اور ایسا سمجھ لینا کوئی راست فکر و رویہ قرار نہیں پاسکتا ہے۔ آج کی تاریخ میں یہ سوال سنجیدہ توجہ کا متعاضی ہے کہ ہندوتو ! افسانہ ہے یا حقیقت ؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*