”ہندوستانی سماج کی رنگا رنگی اور آپسی بھائی چارہ“ پر فی البدیہ تقریری مقابلہ کا انعقاد

نئی دہلی:
اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلباء و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہر سال تعلیمی مقابلے منعقد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات کو انعام دیتی ہے اور بچوں کی ہمت افزائی کے لیے کنسولیشن انعام بھی دیتی ہے۔ ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز(سوال و جواب)، مضمون نویسی و خطوط نویسی، خوشخطی مقابلے اور امنگ پینٹنگ مقابلہ شامل ہیں۔ یہ تعلیمی مقابلے دہلی کے پرائمری تا سینئر سیکنڈری اردو اسکولوں کے طلباء و طالبات کے درمیان منعقد ہورہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مقابلے 13/دسمبر تک جاری رہیں گے۔
آج صبح ساڑھے دس بجے فی البدیہہ تقریری مقابلہ برائے سینئر سیکنڈری زمرہ منعقد کیا گیا جس میں جج کی حیثیت سے ڈاکٹر ابوبکر عباد اور جناب لئیق رضوی نے شرکت کی۔ جج صاحبان کے مشورہ سے دس منٹ قبل طلبا وطالبات کو”ہندوستانی سماج کی رنگا رنگی اور آپسی بھائی چارہ“موضوع دیا گیا۔ طلبا و طالبات پر کھل پر اس موضوع پر تقاریر کیں۔
ڈاکٹر ابوبکر عباد نے طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام بچوں نے بے حد اچھی تقریریں کی۔ جو لوگ پچھڑ گئے ہیں وہ زبان اور تلفظ کی ادائیگی کی وجہ سے اور اندازِ تقریر کی وجہ سے۔آپ اپنی زبان اچھی کرلیجیے، میڈیا کی زبان نہ بولیے، وہ زبان بولیے جو آپ کے گھروں میں بولی جاتی ہے اور اساتذہ بولتے ہیں۔ پورے ملک میں تنوع ہے اور یہ تنوع دہلی میں ہرجگہ نظر آتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کوئی بات نہ کیجیے۔ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے۔ جتنے مذاہب ہیں سب اچھائی کی تعلیم دیتے ہیں۔ مذہب کو کتابوں سے سمجھیے، اپنے علاقے کے لوگوں سے سمجھیے۔ آپ کے لیے آگے بہت سے امکانات ہیں، مطالعہ پر توجہ دیجیے، ادیبوں اور بزرگوں کی کتابیں پڑھیے۔
لئیق رضوی نے کہا کہ بھائی چارہ ہمارے ملک کی جان بھی ہے پہچان بھی ہے، یہی ہمیں دنیا کے دوسرے ممالک میں انفرادی رنگ عطا کرتا ہے۔ آج کے دور میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اگر آپ بولنا جانتے ہیں سماج کی دھڑکنوں کو پہچانتے ہیں، اگر آپ بیباکی سے اپنی بات رکھ سکتے ہیں تو یہ بڑی بات ہے۔ آج کے فی البدیہہ مقابلے میں کچھ کونمبر زیادہ ملیں گے اور کچھ کو کم اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن جو لوگ اس میں شریک ہوئے ہیں وہ خود کو کامیاب ہی تصور کریں۔ اگر اس مقابلے میں کچھ بچے پچھڑ بھی گئے ہیں تو مایوس نہ ہوں، زندگی کے اگلے مرحلے آپ کے منتظر ہیں۔
اس مقابلے میں جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق ندا حسن بنت حسن اقبال(ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار) اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ دوسرے انعام کے لییزبیر احمد ولد نبیل احمد(ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد) کو مستحق قرار دیا گیا جب کہ تیسرے انعام کے لیے فاطمہ بنت عبداللہ(شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، باڑا ہندوراؤ) اور تبریز عالم ولد محمد نصرالدین(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ اسلامیہ) کو مستحق قرار دیا گیا۔ ان کے علاوہ حوصلہ افزائی انعام کے لیے اقرا بنت فضل الرحمن(شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، باڑا ہندوراؤ) کو مستحق قرار دیا گیا۔