ہندوستانی مسلمان اتنا سہما ہوا کیوں ہے ؟ـ مسعود جاوید

 

سدرشن ٹی وی کے مالک اور اینکر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے مقابلہ جاتی امتحانات کے کوچنگ سنٹر کے طلبہ و طالبات کی کامیابی کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے اسے بیوروکریسی جہاد یعنی آئی اے ایس انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس میں گھسنے کا منصوبہ بتایا۔ اس پر بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر ان طلبا کی کامیابی کی تشہیر کر کے فرقہ پرست عناصر کو موقع دیا۔
سب سے پہلی بات یہ کہ ہندوستان کے دستور میں سیاسی،سماجی، اقتصادی، روزگار اور تعلیمی مواقع میں مساوات کی ضمانت دی گئی ہے اس کے تحت ان میدانوں میں آبادی کے تناسب سے گرچہ اب بھی ہم اتنے پیچھے ہیں کہ سچر کمیٹی کو اپنی رپورٹ میں لکھنا پڑا کہ مسلمان دلتوں سے بھی بدتر حالات میں ہیں۔ سید شہاب الدین مرحوم ہمیشہ فرقہ پرست عناصر کے نشانے پر اس لئے رہے تھے کہ وہ سرکاری اعداد و شمار statistics کا حوالہ دیتے ہوئے ہر ماہ اپنے ماہنامہ مسلم انڈیا میگزین میں مسلمانوں کے مختلف میدانوں میں تناسب کا ذکر کر کے مسلمانوں کے ہمدرد اور مسلم خوشنودی کے لئے کام کرنے والی حکومت کو آئینہ دکھاتے رہتے تھے۔ وہ اتنا مدلل ہوتا تھا کہ ایک طرف فرقہ پرستوں کے لئے ان اعداد و شمار کا رد کرنا مشکل ہوتا تھا تو دوسری طرف مسلمانوں کو اپنا محاسبہ اور معروضی انداز میں جائزہ لینے کی دعوت دیتا تھا۔
ان کے مد مقابل وہ مسلم رہنما ہوتے تھے اور ہیں جو مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کے لئے ہوا میں باتیں کرتے ہیں۔ اس دور میں ان کی تقریروں کا (تحریر کی صلاحیت سے بالخصوص انگریزی زبان میں وہ محروم تھے) موضوع وہی ہوتا تھا جس سے وہ اخبارات کی سرخیوں میں آئیں۔
دوسری بات یہ کہ ہم اپنی حصول یابیوں کو شائع کریں یا چھپائیں فرقہ پرست عناصر کے پاس ہمارا ڈیٹا ہوتا ہے،ہماری ہر نقل و حرکت یہاں تک کہ اردو اخبارات اور سوشل میڈیا میں مسلمانوں کے مسائل پر شائع ہونے والی تحریروں کا ترجمہ اور تجزیہ کرنے کے لئے مستقل سیل کام کرتا ہے جیسا کہ ملی کونسل کی ایک میٹنگ میں اردو کے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے ایک بار بتایا تھا۔
تیسری بات یہ کہ سید شہاب الدین مرحوم ہوں یا آج کل سوشل میڈیا پر لکھنے والے، ان سب کا مطمح نظر مسلم نوجوانوں میں تعلیمی بیداری اور مقابلہ جاتی امتحانات اور اہلیت ٹسٹ کے لئے کامیاب ہونے والے طلبہ کی مثال دے کر روح پھونکنا ہوتا ہے۔ تاکہ ان سے دوسرے inspire ہوں۔ سدرشن ٹی وی نے گرچہ ہندو مسلم منافرت پھیلانے کی غرض سے یہ خبر چلائی اور یہ تک کہہ دیا کہ کیا آپ(ہندو) چاہیں گے کہ کوئی مسلم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ/ ڈپٹی کمشنر آپ کے ضلع کا مالک ہو؟ کیا آپ چاہیں گے کہ وزارتوں کے سکریٹریز مسلمان ہوں اور آپ ان کے رحم و کرم پر رہیں ؟ لیکن وہ یہ بھرم پھیلانے میں کتنا کامیاب ہوا یہ تو نہیں معلوم، البتہ اس کا بیانیہ counterproductive ضرور ہوا اس لئے کہ اس کی منفی تشہیر کی کوشش سے بہت سے ان طلبا کو جن کو یو پی ایس سی کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں تھا ان کے اندر تفصیل سے جاننے کی جستجو پیدا ہوئی اور کئی نے میڈیکل اور انجینئرنگ کی تیاری کو خیر باد کہہ کر یوپی ایس سی کی تیاری شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ اچھی خبر ہے کہ اتر پردیش سروس کمیشن کے مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ بہار پبلک سروس کمیشن،جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن اور دیگر ریاستوں میں بھی یہ جہاد جاری و ساری ہے اور ہم شکرگزار ہیں سدرشن ٹی وی کے کہ اس کی منفی تشہیر مسلم طلبا وطالبات کے لیے مہمیز ثابت ہو رہی ہے۔
اس لئے ڈنکے کی چوٹ پر ہم تعلیمی میدان میں اپنا جھنڈا لہراتے رہیں یہ ہمارا حق بھی اور ضرورت بھی ہے۔
ہم کیوں اتنے سہم جائیں کہ اپنی حصولیابیوں کو ظاہر کرنا بھی خوف کا باعث ہو۔
مسلمانوں کی معاشی حالت بدتر ہے اس لئے کہ مسلمانوں میں تعلیم کے تئیں خاطر خواہ بیداری کا فقدان ہے۔ مسلمان تعلیمی میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں اس لئے کہ پروفیشنل اور اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اٹھانے کے اہل نہیں ہیں۔ پہلے انڈا یا پہلے مرغی کے معمے سے نکل کر ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*