ہندوستان میں زعفرانی سیاست کا عروج:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

قسط-16
(شیو سینا، بمبئی اور مہاراشٹرکے حوالے سے)

بال کیشو ٹھاکرے (1926-2012) نے شیو سینا نام کی تنظیم 1966 میں بنائی ۔ حالانکہ ٹھاکرے خود کو ٹھیکرے کہلواناپسند کرتا تھا۔ بیئر پینا، کیوبا کا سگار پینا، انگریزی لکاؤ بوائے فلمیں دیکھنا اور ہٹلر کی تعریف کرنا، اس کی شدید پسند میں شامل تھا۔ مائکل جیکسن بھی بہت پسند تھا۔ لیکن سیاست خالص دیسی son of the soil کی کرتا رہا۔ اس کے والد کیشو ٹھاکرے رائٹر بھی تھے اور سیاست داں بھی اور اقتصادی اعتبار سے خاصے خوشحال بھی، لیکن ان کے بیٹے بال ٹھاکرے کی تعلیم زیادہ نہیں ہوئی تھی۔ بال ٹھاکرے ایک مشہور جریدہ فری پریس جرنل میں کارٹونسٹ تھا۔ کمیونسٹوں سے خاص طور پر نفرت کرتا تھا۔ کیشو ٹھاکرے نے مہاراشٹر نو نرمان سمیتی میں حصہ لیا تھا جس کے احتجاج سے پہلی مئی 1960 کو مہاراشٹر صوبہ وجود میں آیا۔
بال ٹھاکرے بعد میں اپنے والد کی لانچ کی ہوئی میگیزن مارمک میں آگیا اور یہیں سے "مراٹھی مانس” کی سیاست شروع کردی۔ مدراسی (ساؤتھ انڈینس) بالخصوص تمل کے خلاف نفرت، کمیونسٹ سے نفرت اور آخر میں مسلمانوں سے نفرت(جس میں وہ آ ر ایس ایس سے مماثلت رکھنے لگا)کی سیاست میں لگ گیا، اور اسی پر قائم رہا۔
جون 1966 میں "مارمک” ایک سیاسی پارٹی کو بھی جنم دینے میں کامیاب ہو گئی اور 30اکتوبر1966 کو شیو سینا پارٹی کی پہلی ریلی شواجی پارک میں ہوئی۔ یہ بھی آر ایس ایس کی طرح دسہرا والے دن ہی ہوئی۔
سنہ 1967 کے انتخابات کے بعد ٹھاکرے کی سیاست مسلمانوں سے نفرت پر مرکوز ہوگئی۔ مئی 1970 کی 7-8 تاریخ کے بھیونڈی (جل گاؤں اور مہاڈ سمیت) فسادات سے ٹھاکرے کی، مسلم مخالف سیاست میں مزید شدت آتی گئی۔ واضح رہے کہ بھیونڈی میونسپل کونسل کی 31 سیٹوں میں سے 19 نشستوں پر مسلم امیدوار منتخب ہوئے تھے (Darryl D’Monte، ای پی ڈبلیو، مئی 30، 1970)۔
صحافی دلیپ چترے کے مطابق (دی ہندو، اکتوبر 26، 2008) شیو سینا کو 1960کی دہائی کے اخیر میں حکمراں کانگریس کی خفیہ حمایت ملتی رہی اور شیو سینا کے طریقۂ کار میں فاشزم والا پاگل پن نمایاں ہونے لگا تھا۔ ٹریڈ یونین لیڈروں کو دھمکانے یا جان سے مار کر ختم کرنے کے لئے بھی صنعت مالکوں نے شیو سینا کے "کامگار سینا” کا بھاڑے پر استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس وقت کے مہاراشٹر کے کانگریسی وزیر اعلی وسنت راؤ نائک (1913-1979) نے بھی ان کا خفیہ طور پر خوب استعمال کیا۔ اسی لئے انہیں اس زمانے میں وسنت سینا بھی کہا جاتا تھا۔ وسنت نائک کا تعلق ویدربھ کے بنجارا جن جاتی سے تھا۔ اندرا گاندھی نے وسنت نائک کا استعمال سنڈیکیٹ اور غیر ویدربھ مہاراشٹر کے خلاف اور مرارجی دیسائی کے خلاف ایک counterweight کے طور پر کیا۔
شیو سینا نے کانگریسی اقتدار کی شہہ اور پشت پناہی پر گینگ وار کے انداز میں قتل وغارت کا کام انجام دیا۔ شیو سینا کی مراٹھی مانس والی سیاست سب سے زیادہ مقبول رہی ہے پولیس کانسٹیبل کی برادری میں۔ یہ لوگ ٹھاکرے کی میگیزین سامنا کو خوب پڑھتے ہیں۔ سنہ 1970 کی دہائی میں بمبئی اور تھانے میونسپل الیکشن میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرتی رہی۔
اندرا گاندھی کے قتل کے خلاف آر ایس ایس ہی کی طرح "راشٹرواد کی سیاست ” اور اقلیتوں کو سبق سکھانے والی سیاست کی پر زور حمایت کی۔ 1985 کے میونسپل الیکشن میں بمبئی میں شیو سینا نے 70 سیٹیں جیت لیں۔ اور اسی کے بعد مسلمانوں سے نفرت کی سیاست کو تیز کر دیا۔ 1990 کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے 94 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ اس سے قبل انہیں صرف 16 سیٹیں حاصل تھیں۔
ٹھاکرے، کانگریس سے نفرت کا اظہار جتنا بھی کرتا رہا ہو، اندرا گاندھی ( 1917-1984) اور عبدالرحمن انتولے (1929-2014) سے ان کی محبت بھی ایک ایسا راز تھا جو سب پرفاش تھاopen secret تھا۔
سنہ 1967 میں پریل میں کمیونسٹ پارٹی کے دفتر پر حملہ، کمیونسٹ ایم ایل اے کرشنا دیسائی کا قتل، اوڈوپی ریستوراں پر حملے، بھیونڈی فسادات میں اور بیلگام بارڈر پر تشدد وغیرہ سے یہ پارٹی خوف اور دہشت کا ماحول بنا کر اپنا غلبہ قائم کر رہی تھی۔ [نوٹ: قسط15 میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ جنوبی/ساحلی کرناٹک کے اونچی ذات والے تاریخی اعتبار سے اہل زمین لوگ بمبئی میں اوڈوپی ریستوراں کی تجارت میں داخل ہو رہے تھے] ۔
سنہ 1968 سے شیو سینا بمبئی میونسپل الیکشن میں کامیاب ہونے لگی، جب ایک تہائی کونسلراس پارٹی کے منتخب ہوئے۔ اس کے بعد سے ہنسا اور تشدد میں شیو سینا کی خاص پہچان بن گئی۔
سنہ 1980 کی دہائی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ مل کر رام جنم بھومی تحریک میں کافی پیش پیش رہی۔ ویلینٹائن ڈے کے خلاف دہشت کا ماحول پیدا کرنے میں تو اس نے بجرنگ دل اور اے بی وی پی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اکتوبر 1991 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے کرکٹ میچ کی شدید مخالفت میں بمبئی کے وا نکھیڑے اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ اور پچ کو کھود ڈالا تھا۔
بابری مسجد کے انہدام میں شامل ہونے کی ذمہ داری لیتے ہوئے بمبئی فسادات میں پیش پیش رہی۔ شری کرشن کمیٹی کی تفتیشی رپورٹ میں بھی بہت واضح طور پر لکھا ہے کہ 8جنوری 1993 سے شیو سینا نے لوٹ پاٹ، قتل اور آگ زنی میں خوب حصہ لیا۔ اور یہ کہ یہ سب بال ٹھاکرے کے احکام پر ہو رہا تھا۔ بہت تاخیر سے، ان میں صرف تین ملزموں کو سزا دلوائی گئی جب کہ 12 مارچ 1993 کے بم دھماکے میں 100 سے زائد مسلمان ملزموں کو سزا دے دی گئی ۔ سنہ 1995 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ مل کر شیو سینا نے مہاراشٹر میں حکومت بنا لی۔ یہاں سے اس پارٹی کا ایک طرح سے زوال شروع ہوا۔ جس کی ایک اور بڑی وجہ یہ تھی کہ گھر کے اندر جا نشینی کی جنگ شروع ہو گئی۔ جنوری 2003 میں جب ٹھاکرے نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو شیو سینا کا چیف بنا دیا تو اس کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے اپنی الگ پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا بنا لی۔ 2015 میں بی جے پی نے شیو سینا سے اپنا اتحاد ختم کر لیا۔
لیکن 1995 کے بعد سے ہی شیو سینا نے اپنا عروج بھی حاصل کیا تھا۔ 1997 میں اپنی علاقائیت پر مبنی شاذنیت سے تجاوز کر کے اب ہندی میں گرو(فخر) سے کہو، ہم ہندو ہیں، کے نعرے کو مقبول کرانے میں بمبئی اور مہاراشٹر میں شیو سینا نے کامیاب مہم چھیڑ دی تھی۔ اس کا دائرۂ اثر اور دھمکانے ڈرانے کی صلاحیت اب بمبئی شہر کے باہر صوبے کے دیگر خطوں میں بھی بڑھنے لگی۔
مہاراشٹر میں 1950 کی دہائی میں سمیکت مہاراشٹر تحریک چلی، اس کے بعد ویدربھ اور مراٹھ واڑا علاقے کے لئے خود مختاری کی مانگ شروع ہوئی، اس صوبے میں دلت تحریک اور کسان تحریک بھی مضبوط رہی ہے، لیکن پھر بھی کانگریس کا غلبہ 1995 میں ہی کمزور پڑا، یا ناکام ہونا شروع ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ 1980اور 1990 کی دہائیوں میں دیہی مہاراشٹر میں زراعت میں سرمایہ داری کا اضافہ ہوا لیکن ان آبادیوں کے نوجوانوں کی جو آرزوئیں (aspirations) تھیں وہ پوری نہیں ہو پا رہی تھیں اس لئے کانگریس مخالف جماعتوں کی مقبولیت بڑھ رہی تھی؛ مہاراشٹرین اور غیر مہا راشٹرین میں مقابلہ اور تصادم بھی بڑھنے لگا۔
شیو سینا کی میونسپل الیکشنوں میں کامیابی کے ساتھ ہی بلڈرس لابی (real estate lobby) سے پیسے اینٹھنا آسان ہوگیا، انہیں مادی وسائل سے نوجوان کارکنوں کا کیڈر (cadre) کھڑا کرلیا، انہیں وسائل سے ایمبولنس سروس اور مقامی جھگڑوں کے تصفیہ اور صلح کی کمیٹیاں (استھانیہ لوک ادھیکار سمیتی، جو کلچرل کلب اور ایمپلائمنٹ ایکسچنج کا کام بھی کرتی تھی) چلانا شروع کر دیا، اور اس طرح سے اپنی پارٹی کو تنظیمی اعتبار سے مضبوط کرلیا ، جب کہ کانگریس ان (تنظیمی) میدانوں میں کمزور ہوتی چلی گئی۔
ساتھ ہی ساتھ 1970 اور 1980 کی دہائیوں تک بمبئی کے دفتروں میں اچھی نوکریوں میں اب بھی غیر مراٹھی زبانیں بولنے والوں کا ہی غلبہ قائم تھا، اور اسی ایشو کو بال ٹھاکرے سیاسی مفاد کے لئے اچھالتے رہے اور مراٹھی زبان والی آبادی میں مقبولیت حاصل کرتے رہے۔ ان نوکریوں میں مسلمانوں کا دخل اور قبضہ بھی نہیں تھا، پھر بھی ان کی تحریک مسلمانوں کے خلاف نفرت میں کیسے تبدیل ہوئی اور کامیاب بھی ہوئی؟ 1960 اور 1970 کی دہائی میں ٹھاکرے کے اخبار مارمک اور سامنا نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کا ہوا کھڑا کیا اور بنگلہ دیش سے آئے مسلمانوں کا ہنگامہ کھڑا کیا۔ ان س پھر بھی زیادہ واضح باتیں نہیں کہی گئیں۔ صرف انکی دیش بھکتی کو مشکوک قرار دیا جاتا رہا۔ مراٹھی روزنامہ سامنا 1989 میں شروع کیا گیا اور جلد ہی اس کا سرکولیشن تین لاکھ تک پہنچ گیا۔ 1988 میں پہلی بار سینا نے بمبئی کے باہر دھرم یدھ کے ایجنڈا پر انتخابی کامیابی حاصل کی اور وہ کامیابی ملی اورنگ آباد میں۔

لیکن مراٹھی بولنے والے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد بمبئی اور تھانے میں 1961 میں 160000 تھی، جو 1990 میں بڑھ کر 35 لاکھ ہو چکی تھی اور ان میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ لہذا 1997 میں شائع ایک تحقیقی مضمون (میری ایف کیٹزینستین، اودے سنگھ مہتا اور اُوشا ٹھکر) کے مطابق شیو سینا اور ہندوتو کی مسلم مخالف سیاست کی کامیابی کا راز اقتصادی کے بجائے کوئی دیگر وجہ تھی۔ اس وجہ کو یہ لوگ discursive زمرے میں ڈالتے ہیں۔ شاہ بانو اور رام جنم بھومی تحریک کے نام پر، اور کئی شیو سینا نیتاؤں نے ان محققین سے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس ماحول میں سیاسی تقریروں میں ہندو راشٹر کا وعدہ عوام میں بہت مقبولیت اختیار کر رہا تھا۔ اور 1980 کی دہائی میں ہی مسلم مخالف تحریریں بہت واضح طور پر سامنا میں شائع ہونے لگیں۔ اسی دہائی میں مسلم کا demonisation زور پکڑنے لگا۔ شواجی اور مغل کے سیاسی تصادم کو اب مسلمانوں سے تصادم کے طور پر سماج میں زیادہ مقبول کرایا جانے لگا۔
بےروزگار نوجوانوں میں مذہب پر فخر کرنے کی ترغیب اور اس کے لئے دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی مسلمانوں سے نفرت سکھانے نے سیاست کو آسان کر دیا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کا عروج بغیر بڑے اداروں کی حمایت کے ممکن نہیں تھا۔ عدلیہ اور کانگریس حکومت کی پولیس نے ان کی بے جا حمایت نہ کی ہوتی تو شیو سینا جیسی تشدد پسند پارٹی کا عروج ممکن ہی نہیں تھا۔ اس کے مقابلے نکسلائٹ تحریک کے خلاف پولیس کا استعمال کرکے حکومت انہیں کچلنے میں کامیاب ہوگئی۔
البتہ یہ بھی طے ہے کہ 1995 کے الیکشن میں کئی کمزور طبقے بھی کانگریس حکومت سے نالاں ہو چکے تھے اور اس کا فائدہ بھی شیو سینا بی جے پی اتحاد کو ملا۔ اس الیکشن میں کانگریس کو دو اور الزامات کا سامان کرنا پڑا: بد عنوانی اور انڈر ورلڈ سے سانٹھ گانٹھ۔
اس انڈر ورلڈ کے سرغنہ کی پہچان کو کسی مسلم اقلیت کے ایک نام پر سمیٹ کر مرکوز کر دیا جائے تو اکثریت پرستی کی سیاست کو اس سے اچھا ہتھیار اور کیا چاہئے! احمدآباد کے لطیف ڈان سے لے کر بمبئی کے داؤد ابراہیم تک اور سیوان( بہار) کے شہاب الدین تک زعفرانی سیاست کی discursive پروپیگینڈہ کی سیاست نے کامیابی کے بہت سارے حربے آزمائے ہیں اور کامیابی حاصل کی ہے۔ ہندو گینگسٹر صرف caste hero جب کہ مسلم گینگسٹر کو بین الاقوامی دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اب تو محلے کے چھوٹے غنڈوں کو بھی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ایسی ہی تفریق کے ساتھ سیاست کی جانے لگی ہے جس میں چھوٹا غنڈہ بھی، اگر مسلمان ہے، تو اسے بین الاقوامی دہشت گرد کے طور پر پیش کر کے اکثریت پرستی کی سیاست کی جارہی ہے۔ ان محلوں میں چند مسلم نوجوان عرب ممالک کی ملازمت سے تھوڑی خوش حالی حاصل کر رہے ہیں، اس لئے کسی مسلم غنڈے کو بین الاقوامی دہشت گردی کی افواہ سے منسلک کرنا ہندوتو کارکن کے لئے نسبتا آسان ہو جاتا ہے۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)