ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

(پروفیسر محمد سجاد،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

قسط: 15
(جنوبی کرناٹک کے حوالے سے)

جنوبی کرناٹک کا ساحلی علاقہ یعنی منگلور اور آس پاس کے اضلاع کو اب ، یعنی 1990 کی دہائی سے، "جنوبی ہند میں ہندوتو کی لیباریٹری” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور ہندو یوا سینا جیسی تنظیموں نے لو جہاد کی مخالفت اور گؤ رکچھا کے نام پر تشدد پھیلا کر ان علاقوں میں تیزی سے اپنا اثر بڑھا یا ہے۔
کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بھی رہ چکی ہے۔ اس سے قبل ان علاقوں کو امن پسندی اور جدیدیت کے لئے جانا جاتا تھا۔ بین الاقوامی تجارت، مغربی تہذیب کے اثرات، اونچی شرح خواندگی، تعلیم، بینکنگ، بہتر طبی سہولیات، اچھی کمیونیکیشن وغیرہ کے لئے یہ علاقہ جانا جاتا ہے۔ شمالی اور مشرقی بھارت کے مقابلے شہری اور دیہی(زراعتی) معیشت بھی کا فی بہترہے۔
اس پورے علاقے میں کم از کم پانچ زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں۔ تولو، بیئری، کونکنی، کنڑ، کوڑگا وغیرہ۔
اس پورے علاقے میں (نسبتا) فرقہ وارانہ ماحول زیادہ نہیں تھا۔
سنہ 1968 میں پہلی بار ایک فساد ہوا تھا اور اس کے بعد پہلا اہم فساد ہوا تھا دسمبر29 ، 1998میں، منگلور سے 30 کلو میٹر دور سورتھکل کے پاس کے علاقوں میں۔ [شمالی کرناٹک کی ہبلی عیدگاہ کو لے کر اگست 1994 اور بنگلور میں اکتوبر 1994 میں بھی فساد ہوئے تھے]

ان فسادات پر کچھ اچھے تجزیاتی مضامین پروفیسر مظفر اسدی ، میسور یونی ورسٹی نے شائع کیا ہے، جس سے استفادہ نا گزیر ہے۔ ان کے علاوہ ایک خاتون صحافی گریشیما کو تھر نے بھی اپریل سے اگست 2019 کے درمیان طویل رپورٹیں شائع کی ہیں ۔ان رپورٹوں سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔

اس فساد کے قبل لگاتار فرقہ وارانہ تناؤ بنا ہوا تھا۔ نومبر 1998 میں چرچ پر حملہ کیا گیا تھا(یوں بھی اس زمانے میں عیسائیوں کے خلاف تشدد بڑھا ہوا تھا، اڑیسہ میں گراہم اسٹینس کو نذر آتش کرکے بے رحمی سے مار دیا گیا تھا)، اسی دوران دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک مسلم لڑکے پر ایک ہندو لڑکی کو چھیڑنے کے الزام میں کئی ہندو لڑکوں نے اسے زدو کوب کیا۔ ان کا تعلق ہندو جاگرن ویدیکے نام کی تنظیم سے تھا۔ پولس نے ان ہندو لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔ اس پر زعفرانی ہندو تنظیموں نے کافی وا ویلا مچایا۔ تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ یکچھگان مہوتسو میں کسی شر پسند نےایک بینر پھاڑ دیا تھا۔ ہبلی عیدگاہ اوربابو بودن گیری والےواقعات سے بھی بدلتے اور بگڑتے سماجی تعلقات کا پتہ چلنے لگا تھا۔ یہ علاقہ فرقہ واریت کی زد میں آ چکا تھا۔

ایسی مسموم فضا میں افواہوں کا بازار گرم تھا۔ عورتوں کی عصمت دری اور پولیس بربریت کی افواہیں لگاتار سماج میں تناؤ کا ماحول بنا رہی تھیں۔ اس کے باوجود پولیس فساد روکنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی تھی۔ بلکہ فسادیوں کو پولیس کی مدد ملنے کی رپورٹیں آ رہی تھیں۔
بہر کیف ان تینوں واقعات کے بعد دسمبر میں جو فساد ہوا وہ دیہاتوں تک بھی پھیل گیا۔ جو لوگ ان تینوں واقعات میں شامل تھے ان لوگوں نے ہی دسمبر 1998 والےفسادات میں بھی شرکت کی تھی۔ چھوٹے تاجروں اور دوکان داروں کو خاص طور سے لوٹا جارہا تھا۔ کاروبار اور دکان داروں میں جن سے مقابلہ تھا ، ان کو خاص طور سے نشانہ بنایا گیا۔ کرفیو کی نافرمانی ہندوتو بریگیڈ کے لئے بہت آسان تھی ۔
فسادیوں نے ہر حملے میں یہ ترکیب اپنائی تھی کہ اپنے گروہ کو چارٹکڑوں میں بانٹ رکھا تھا۔ ایک ٹکڑا پولیس سے الجھ جاتا اور باقی تین گروہ لوٹ اور آگ زنی کرتے تھے۔ دن کے اجالے میں اپنے چہروں کی شناخت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کارنامے انجام دے رہے تھے۔ زیادہ تر او بی سی والے ہی تشدد میں شامل تھے۔
در اصل یہ فساد مظہر تھا پچھلے پچیس برسوں میں رونما ہونے والی اقتصادی، معاشی ، سماجی، تہذیبی و معاشرتی تبدیلیوں کا، گرچہ 1940 کی دہائی سے ہی سنگھ پریوار کی کوششیں وہاں چل رہی تھیں، لیکن 1990 کی دہائی کا اخیر آتے آتے انہیں کامیابی ملنے لگی۔
[تاریخی اعتبار سے ہیڈ گیوار نے سنجیو کامتھ نام کے ایک وکیل (سارسوت برہمن) کو اس علاقے میں آر ایس ایس کی نظریاتی تبلیغ کی ذمہ داری سونپی تھی، یہ تفصیلات چندرشیکھر بھنڈاری کی کنڑ زبان میں لکھی کتاب میں درج ہیں]
منگلور اور آس پاس کے دیگر ساحلی شہروں میں آس پاس سے مہاجر آبادیاں بس گئی تھیں جن کا تعلق گرینائٹ ٹائلس، کاجو، مچھلیوں، وغیرہ کے کاروبار سے تھا۔
اقتصادی و طبقاتی اعتبار سے یہاں تین طرح کی آبادیاں ہیں:
زمین اور زراعت پر غلبہ بنت (نادوا) ہندوؤں کی اونچی ذات کا ہے،کونکنی اور برہمن کا غلبہ کاروبار پر، (بیئری مسلمانوں کا حصہ چھوٹی تجارتوں میں تھا)- اورکونکنی عیسائیوں کا غلبہ تعلیم اور تعلیمی اداروں پر،
اس طرح ان تینوں گُروپس(آبادیوں ) میں آپس میں کوئی تصادم یا مقابلہ نہیں تھا۔
سنہ 1974 میں زرعی اصلاحات کا قانون بن گیا، لہذا زمینوں کے مالکوں کو اب اس قانون کے بعد بمبئی اور دیگرشہروں میں کاروبار کا ذریعہ اختیار کرنا پڑا۔ اس سے قبل 1969 میں 14 بینکوں کو سرکار نے لے لیا تھا،(جن میں چار بینک اسی ساحلی علاقے کے سرمایہ داروں کے تھے)-
یہ لوگ خاص طور سے اوڈوپی ہوٹلوں کی نسبتا بڑی تجارت میں شامل ہوگئے۔ یہی خوشحال مہاجرین اب اپنے اپنے گاؤوں میں وہاں کی روایتی تہذیبی و مذہبی پروگراموں (تہواروں) کے لئے فنڈ فراہم کرنے لگے۔مثلا ناگ منڈل، بھوت کولا، کمبلی، وغیرہ، جن میں گاؤں کی تقریباً پوری آبادی شریک ہوتی ہے (بھوت کولا یا بھوت آرادھنا میں تو بیئری مسلمانوں کی ہی سب سے زیادہ شرکت ہوتی ہے)- بھوت کے معنی ہوئے مر چکے آبا و اجداد بھوت بن جاتے ہیں جن کی پرستش کی روایت۔ علی چا منڈی بھوت، بوبباریا بھوت، ایسے دیوتا ہیں جن کی پوجا بیئری مسلمان ، بللاوا (پو جاری) ہندو اور موگا ویرا ہندو بھی مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ یعنی یہاں ایک syncretic کلچر ہے۔ بیئری برادری کی زبان بھی مقامی بولی تولو، اور ملیالم کی ملی جلی شکل ہے، جینیوں کی مانند ان کے یہاں اب بھی گلڈ سسٹم قائم ہے، اور مقامی کلچر پڈیناراگ کا رواج بھی ان کے یہاں عام ہے۔ سماجی رتبہ کے مظاہرے کے لئے باری سسٹم، ماہرانہ روایت والی اللم سسٹم، اور ہندوؤں کی طرح گوتر سسٹم بھی ان کے یہاں جاری ہے۔
(پدننا نام کے folk گانوں میں یہ واضح ہے کہ بیئری یہاں کی intrinsic آبادی ہے)جبکہ زراعت سے منسلک نچلی ذاتوں کی کھیت مزدور والی آبادی اب زیادہ آزاد ہوگئی۔ (Guttenar سسٹم کا زوال ہوگیا)- اس آبادی کا ایک حصہ بھی اب آس پاس کے شہروں میں مزدوری اور چھوٹی تجارت میں داخل ہونے لگا۔
اسی دہائی میں اور اس کے بعد سے عرب ممالک کی ملازمت سے بیئری مسلمانوں میں خوش حالی آئی۔ جسے Gulf Boom کہتے ہیں۔ دوسری جانب نئی صنعتوں، اور بینکنگ کی بھی توسیع ہوئی ۔ اس کے تحت اب بیئری مسلمانوں کا بھی ایک دولت مند حصہ اب چھوٹی کے ساتھ ساتھ بڑی تجارتوں میں بھی داخل ہونے لگا۔ مقامی زبان کے بیئری لفظ کے معنی بھی تاجر کے ہی ہیں۔ 1997 کے ایک سروے کے مطابق بیئری مسلمانوں کا دس فی صد عرب ممالک میں ملازم تھا، اور تیس فی صد ایسے تھے جو کم از کم دس سال عرب میں ملازمت کر کے واپس آ گئے تھے، اور مقامی تجارتوں میں داخل ہونے لگے تھے۔
اس طرح اب اقتصادی تصادم اور مقابلہ کا ماحول بننا شروع ہوگیا۔ یہ مقابلہ اونچی ذات کے بنت ہندوؤں کے علاوہ، بللاوا (پو جاری)، موگاویرا (مچھوارے)، جنہیں کاروی بھی کہا جاتا ہے وغیرہ سے بھی ہونے لگا۔

جنوبی کرناٹک میں بیئری مسلمانوں کی تعداد 15 فی صد ہے۔ ان کی 90 فی صد آبادی منگلور (بہ شمول بنت وال، پتور، بیلتھانگادی) ہی میں ہے۔ اس کے علاوہ اوڈوپی، کار کالا اور کونڈاپور (نزد کیرل) میں بھی ہے۔ 1996 میں بھی تقریباً 51 گرام پنچایتوں میں بیئری مسلمانوں کی تعداد خاصی اور بلدیاتی انتخابات میں فیصلہ کن طور پر بڑی تھی۔

نئی صنعت کاری کے طور پر شہروں اور نیم شہری علاقوں سے بیئری آبادیوں کو جبرا بے دخل کیا جانے لگا۔ بیئری آبادی ماحولیاتی انصاف کی لڑائی لڑنے والوں کے ساتھ اس صنعت کاری کی مزاحمت اور مخالفت والی تحریکوں کا عام حصہ بن گئی۔ غریب بیئری قلی، بیڑی مزدور، ڈرائیور، ٹکسٹائل مزدور اور سبزی، غلہ، بیچنے والی چھوٹی تجارت میں تھے، جبکہ خوش حال بیئری اب ہوٹل، گرم مصالحے، کاجو، پان سو پاری، لکڑی وغیرہ کی تجارت میں۔ عرب ممالک کی ملازمت نے بیئری مسلمانوں کی بڑی آبادی کو ہندوؤں کی او بی سی آبادی کے مقابلے کافی خوشحال بنا دیا تھا۔ ان خوش حالیوں کا مظاہرہ ان کی مساجد کی عمارتوں کی خوب صورتی و عظمت، مدارس کی عمارتوں اور یوتھ کلب (یووک منڈل) کی سر گرمیوں سے بھی ہوا کرتا تھا۔ ہندو مچھواروں کی برادری، موگا ویرا، سے بیئری مسلمانوں کا اقتصادی مقابلہ اور تصادم اب بالکل نمایاں ہونے لگا۔
(در اصل 1968 والے فساد کی بھی فوری وجہ یہ تھی کہ گوشت کی تجارت کرنے والے ایک مسلمان قادر کا مبینہ طور پر رشتہ تھا ایک موگاویرا عورت سے۔ اس پر 1979 میں ایک کنڑ فلم بھی بنی تھی، کاراوللی۔)
ایسے ماحول میں دہائیوں سے کوشاں سنگھ پریوار کے کارکن اب مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سیاست کو فروغ دینے میں، اور انہیں بنیادوں پر ہندو اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہونے لگے۔ رام جنم بھومی تحریک، بابری مسجد کا انہدام اور اوڈوپی کے میٹھوں، بالخصوص پیجا وور مٹھ نے رام جنم بھومی تحریک کی معرفت ہندوتو کا لہر پیدا کر دیا۔
اوڈوپی کرشنا مٹھ یعنی پیجاور مٹھ کے سادھو، تیرتھ، اب ان کی عمر تقریباً 90 سال ہے ، نے ساحلی کرناٹک میں رام جنم بھومی کی تحریک کو توانائی بخشی۔ گولوالکر کے زمانے سے ہی اس مٹھ کا تعلق آر ایس ایس سے گہرا تھا۔ 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں تیرتھ ہی دلت بستیوں میں جایا کرتے تھے، اور عیسائی مبلغین کے خلاف دلتوں کے درمیان کچھ اپنی تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ اس کا خوب اثر پڑا نچلی ذاتوں کی آبادیوں پر۔ حالانکہ اب بھی دلت اور دیگر غیر برہمنوں کو اس مٹھ کے مندر کے گربھ گرہہ اور جائے طعام تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ 1981 میں میناکچھی پورم میں ایک ہزار دلتوں نے اسلام قبول کر لیا تھا تو سوامی تیرتھ نے ہی اس کے خلاف مہم چھیڑی تھی ۔
ٹی وی سیریل رامائن کے بعد جب اس جنوبی علاقے میں بھی "نئے بھگوان” رام کے تئیں بھکتی پیدا کر دی گئی ، اور ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مہم ، سنگھ نے شروع کردی ، تب وشو ہندو پریشد نے گھر گھر جا کر اینٹیں مانگ کر جنوبی کرناٹک میں فرقہ واریت کی جڑیں مضبوط کرنا شروع کردی۔
(اب تو یہ حالت ہے کہ دلت سنگھرش سمیتی کے لیڈر اپنے دلتوں کو بھی ہندو سماج اتسو میں شریک ہونے سے روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ )

اوڈوپی میں آٹھ مٹھ ہیں جن کا تعلق دوویئیت ویدک فکر سے ہے۔ آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والی کمیونیٹی نیٹورک بھی ہے۔ جن میں کونکنی بولنے والے گوڑ سارسوت برہمن، چترپور سارسوت برہمن، تولو بولنے والے شیوالی برہمن، اور کنڑ بولنے والے ہویک برہمنوں نے ہندو مہاسبھا اور اس سے بھی قبل برہمو سماج اور آریہ سماج کی تنظیمیں قائم کر رکھی تھیں۔
حالانکہ ساحلی کرناٹک کے بجائے بیلگام میں اکتوبر 1935 میں ہیڈ گیوار نے آر ایس ایس کی پہلی یونٹ قائم کی تھی۔
منگلور میں سنجیو کامت کی پہل پر اننا سیش کی مدد سےکرکلا سداشیو راؤ نے آر ایس ایس کی شروعات کی تھی۔ سدا شیو راؤ کا تعلق گوڑ سارسوت برہمن پریشد سے تھااور وہ کینیرا بوائز ہاسٹل کا سپریٹینڈنٹ تھا۔ (یہ ہاسٹل اسی تنظیم سارسوت برہمن پریشد نے 1893 میں قائم کیا تھا)- اسی ہاسٹل سے آر ایس ایس کی اس شاخ کی شروعات ہوئی تھی ستمبر 1940 میں ، یہیں اس کی منگلور شاخ کا پہلا دفتر تھا۔ دوسری شاخ قائم کی گئی پینتلیندپیت میں جہاں چندرشیکھر بھنڈاری دس سال کی عمر سے آر ایس ایس سے منسلک ہو گیا۔ گولوالکر نے ناگ پور کے ایک وکیل یادو راؤ جوشی کی مدد سے جون 1942 میں منگلور ضلع یونٹ آر ایس ایس کی قائم کی۔ جگن ناتھ راؤ جوشی نے پھر بھارتیہ جن سنگھ کی شروعات کی۔ سدا شیو راؤ کو ضلع سنگھ چالک اور جناردن ماللیا کو ضلع سیکریٹری بنایا تھا۔ اس طرح صوبہ میں بنگلور، منگلور، بیلاری اور دھارواڑ ، یہ چار مرکز آر ایس ایس کے بنے۔ سبھی یونٹ میں برہمنوں کا ہی غلبہ تھا۔ فرینک ایف کولون کی کتاب کاسٹ ان اے چینجنگ ورلڈ کے مطابق سارسوت برہمن کا جھکاؤ انیسویں صدی کے اخیر سے ہی ہندو "نیشنلزم” کی جانب ہونے لگا تھا۔ انیسویں صدی میں عیسائی مبلغین کے زیر اثر نچلی ذاتوں میں بالخصوص بللاوا کے درمیان، جدید علوم کا فروغ ہونے لگا تھا۔ بللاوا تیر اندازی اور تاڑی اتارنے سے منسلک سمجھے جاتے تھے۔ اور ان علاقوں میں تولو بولنے والی آبادیوں میں سب سے بڑی آبادی بللاوا کی ہے۔ یہ لوگ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت بھی کرنے لگے۔ اس کے ردعمل کےطور پر ان علاقوں میں انیسویں صدی کے اخیر میں آریہ سماج کا اثر بڑھنے لگا۔

دسمبر 1998 کا یہ سورتھکل فساد انہیں اقتصادی تبدیلیوں کا مظہر تھا۔ انہیں بنیادوں پر مارچ 1998 میں ہوئے بارہویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے رام کرشن ہیگڑے کی لوک شکتی سے اتحاد کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جس میں لنگایت اور برہمن (LiBra) کا سوشل انجینرنگ کامیاب ہوا تھا۔ حالانکہ اس چناؤ میں دلت، کسان (زیادہ تر او بی سی) اور ماحولیاتی تحریکوں کے کارکنوں کے بڑے حصے نے اسی اتحاد کو ترجیح دیا تھا۔

اس کے بعد اگلے چند برسوں میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ چلتا رہا اور ہندوتو مضبوط ہوتا رہا۔ میسور، بیلگاوم، ہبلی، گوکک، دکچھن کنڑا، اوڈوپی، کے علاقوں میں لگاتار متعد چھوٹے بڑے فسادات ہوتے رہے۔

گودھرا (گجرات) میں فروری 2002 میں جو تشدد ہوا اس کا رد عمل مذکورہ علاقوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیا۔ اوڈوپی کے کونڈاپور کے آسوڈی میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ گاؤں کے تہواروں میں بیئری مسلمان ہندوؤں کو سازشا ایڈس سے متاثر کر رہے ہیں، پھر اچانک اس افواہ میں ایک ٹوئیسٹ لا دیا گیا اور اینتھریکس پھیلانے کی افواہ پھیلائی گئی۔ یہ بھی افواہ پھیلائی گئ کہ مسلمان لڑکے ہندو عورتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بڑھتی فرقہ واریت کی وجہ سے پہلے ہی ان تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت اور مزاروں پر ہندوؤں کی شرکت کم ہونے لگی تھی۔

اپریل 1981 میں ہندو سماج اتسو کی شروعات کی گئی تھی ، اور وشو ہندو پریشد میں اس کا کافی غصہ تھا کیونکہ میناکچھی پورم میں دو ماہ قبل ایک ہزار دلت مسلمان بن گئے تھے۔تامل ناڈو کا میناکچھی پورم بھی ان ساحلی علاقوں سے زیادہ دور واقع نہیں ہے۔ سنجیو کیلکر کی کتاب دی لوسٹ ایئرس آف دی آر ایس ایس (2011) کے مطابق، اس پہلی شروعات میں کانگریس کے کئ الوا لیڈر بھی شامل ہوئے تھے۔
ہندو سماج اتسو ( گنیش اتسو اور مندروں کے بھجن کے علاوہ ) کی اس نئ روایت میں ہندوؤں کی مختلف ذاتیں متحد ہو کر شرکت کرنے لگیں، اور ان میں برہمن، کونکنی، بنت، کے علاوہ بللاوا، کللالا، دیوڈیگا، جیسے، او بی سی بھی شامل ہونے لگے، اور مختلف ذاتوں کے مٹھوں کے پوجاریوں اور ان ذاتوں کے دیہی سرداروں کو ان سماج اتسو میں خاصی اہمیت دی جانے لگی۔ اس طرح سماج اتسو کے ذریعے اب ہندوؤں کے اندر کی سماجی (ذات پر مبنی) اختلافات (contradictions) پر پردہ ڈال دیا گیا۔ اس سماجی اتحاد کو "چار بی ” ، یعنی برہمن، بنت، بللاوا، بیک وارڈ، کہا گیا۔
پدننہ oral روایت (حافظے کی ،غیر تحریری ، روایت) میں تولو سماج کی روایتیں محفوظ ہیں۔ ان غیر تحریری روایتوں میں آر ایس ایس کے نظریے کو مضبوط کرنے والی ہندو روایتوں کو اب آسانی سے داخل کر دیا جا رہا ہے۔مقامی دیوی دیوتاؤں کی اہمیت بنائے رکھتے ہوئے انہیں شیو اور وشنو کا اوتار قرار دیا جانے لگا۔
کل ملا کر آر ایس ایس چھ فیسٹیول مناتے ہیں۔
ورش پرتی پد ( ہندو نیا سال)، یہی ہیڈگیوار کا جنم دن بھی ہے، شیوا جی اتسو (ہندو سامراجیہ دیوتسو)، رکچھا بندھن، گُرو دکچھنا (بھگوا جھنڈا کو گُرو تصور کر کے)، دسہرا، مکر سنکرانت۔
سنگھ پریوار کی تنظیموں کی رہنمائی پر اب بھی اونچی ذاتوں کا غلبہ رہا گرچہ کارکنوں میں نچلی ذاتوں کی تعداد میں عظیم اضافہ ہونے لگا۔ ساحلی علاقوں کی کو آپریٹیو تنظیموں ، مثلا، ناریل کوآپریٹیو، اریکا نٹ کو آپریٹیو، ضلع کو آپریٹیو بینک، بھومی وکاس بینک، وغیرہ، میں اب ہندوتو والوں کا غلبہ ہونے لگا۔

1980 کی دہائی میں کرشن جنماشٹمی میں بھی آر ایس ایس والوں نے مسلمانوں کی شرکت دشوار کردی، اور مسلمانوں نے بھی اس کو شرک قرار دینا شروع کر دیا۔ اسی دہائی میں تولو آبادیوں مین پدننا folk گانوں کی غیر تحریری روایت میں خاص قسم کی ہندو روایتوں کو سنگھ پریوار نےسرایت کرا دینا شروع کیا۔ اور مقامی دیوی دیوتاؤں کو شیو اور وشنو کا اوتار قرار دے دیا۔
کمیونسٹ تحریک کا خاصہ اثر ہوا کرتا تھا۔ لیکن 1980 کی دہائ میں ہونے والی ان کلچرل تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی ان کے پاس نہیں تھی۔ یہ رفتہ رفتہ حاشیے پر چلے گئے اور اب گمنامی کی حد کو پہنچ گئے ہیں۔

جب کہ آر ایس ایس کی کمان سنبھالنے والے بالا صاحب دیورس نے 1973 سے ہی سنگھ کا کام نچلی ذاتوں کے درمیان میں شروع کر دیا تھا۔ 1975 کی ایمرجنسی کی مخالفت کے نام ہر تو آگے چل کر خوب خوب فائدہ اٹھایا، اور حکمرانی میں شامل بھی ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
کانگریس نے بھی اس دہائ میں ایک متبادل ہندو سیاست کی کوشش کی۔ لیکن دیورس کے آر ایس ایس کی سوشل جسٹس والی سیاست زیادہ دور رس اور پائیدار ثابت ہوئی۔

کانگریس کی مرکزی کابینہ وزیر رہے جناردن پوجاری نے کچھ کوششیں کیں ، مثلا مندروں کا بنوانا، ان میں نچلی ذاتوں کو داخل کروانا وغیرہ، لیکن ناکام رہے۔ جناردن پوجاری کا تعلق دیو دیگا برادری سے ہے۔ موگا ویرا برادری کے منور مادھو راج اور بللاوا برادری کے لیڈر ویرپپا موئلی کو پارٹی میں شامل کرایا۔ جو ساحلی علاقے سے پہلے شخص ہوئے کرناٹک کا وزیر اعلی بننے والے۔ مزہبی اور کلچرل میدان میں مداخلت کے بغیر انتخابی سیاست میں کئے گئے اس سوشل انجنیرنگ کا کوئ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ منورما بھاردواج تو اب بی جے پی می شامل ہیں۔

فرقہ واریت کے اس ماحول کو ہوا دینے میں پولیس اور انتظامیہ اور مقامی میڈیا نے بھی اپنا رول نبھایا۔ آدور ( چک مگلور) کے فساد میں انتظامیہ نے ہے، بغیر کسی ثبوت کے، آئی ایس آئی کا ہوا کھڑا کر دیا۔ بیئری اور نویاتھی ( یہ بھی صدیوں سے تجارت سے منسلک ہیں، حقارت سے انہیں صابی کہا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ ساتویں آٹھویں صدی سے ہی آنے والے عرب تاجر اور مقامی لوگوں کے میل سے یہ قوم وجود میں آئی ) مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول کھڑا کر دیا۔ ان دونوں مسلم برادریوں نے تجارت اور عرب ممالک کی ملازمت میں ترقی کر کے ہسپتال، تعلیمی اداروں، دیگر فلاحی اداروں، اور صنعت کاری کی طرف بھی کامیاب قدم بڑھانے لگے تھے۔ یہ اب گرینائٹ ٹائلس کی تجارت میں خاص طور سے آگے جا رہے تھے۔

اوپر ذکر کیا گیا کہ بیئری مسلمانوں کے یہاں کئی ہندو رواج اب بھی قائم ہیں، جو کئی مندر کو اب بھی فنڈ فراہم کر رہے تھے، اور بیئری ہی کئی مندروں پہ ڈھول بجاتے تھے، کچھ علاقوں میں مندر کی کچھ رسمیں کسی مسجد سے شروع کرکے مکمل طور پر ادا کی جاتی ہیں ( اس روایت کو سیکمما کہتے ہیں)۔ ایسی تمام syncretic روایتوں پر ہندوتو نے حملہ کرنا شروع کر دیا اور کلچرل interdependence کو ختم کرنے کی مہم چلنے لگی۔ یعنی مقامی syncretic کلچر پر شمالی ہند کے ہندو کلچر کا غلبہ قائم کیا جانے لگا۔
منگلور کے درگاہ (حضرت سیدانی بی بی صاحبہ ) پر اب ہندوؤں کی شرکت کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ بوببریا کو بیئری مسلمانوں کے پیر کے روپ میں عقیدت سے دیکھا جاتا ہے لیکن موگا ویرا بھی ان سے عقیدت رکھتے ہیں کہ سمندر میں جانے والے مچھ واروں کے محافظ یہی ہیں۔ اس سے لگاتار بیئری کو دور کرنے کی سنگھ پریوار کی کوششیں جاری ہیں۔ منگلور بندرگاہ Bunder میں 52 فی صد ناو کے مالک مسلم اور عیسائی ہیں جہاں اب بیئری مسلمانوں کو ٹریڈ بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی سے کچھ دوری پر ملبے بندرگاہ پر موگاویرا اور بللاوا کی اکثریت ہے جہاں مسلمان مچھوارے اور ناو مالک کی تعداد زیرو سے محض کچھ زیادہ ہوگی۔

ساحلی علاقوں میں آرایس ایس کے اسکولوں کی ایک بڑی تعداد ہو گئ ہے، شری رام و دیا کیندر، دھرم استھل ایجوکیشن سو سائٹی، الوا ایجوکیشن سوسائٹی، وغیرہ، کا تعلق، و دیا بھارتی سے ہے۔ بیشتر اسکولوں مین نچلی ذاتوں کے ہندوؤں کے بچے ہی بڑی تعداد میں ہیں، جہاں امبیڈکر کی فوٹو کی پوجا بھی کروائ جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق اس علاقے میں تقریباً دو ہزار ایسے اسکول ہونگے۔ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ مرکز اور صوبہ دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہونے کی وجہ کر ان تعلیمی تنظیموں کو اب سرکاری اور کارپوریٹ فنڈ کی بہتات ہو رہی ہے۔

عالم گیر سرمایہ اور ہندوتو کے موجودہ اتحاد و سنگم اور صوبائ اور مرکزی ریاستی اختیارات نے ان منصوبوں کو کامیاب بنانا مزید آسان کر دیا ہے۔ اور اس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوریوں کو بڑھوا کر نفرت و تشدد کی سیاست کو بے پناہ فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری کی اس روایت پر سیاسی ہندوتوا کے ان حملوں میں ہندوتو اب کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سنگھ پریوار سے جڑا پورٹل ، پوسٹ کارڈ نیوز، جنوبی کرناٹک کا مقبول پورٹل ہے، جو سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلا کر نفرت، تناؤ اور تشدد بڑھاتا ہے۔
سنہ 2006 میں بھی مسلمانوں کے ٹریڈ بائکاٹ کی مہم چلائ گئ اور اب یہ کافی frequent ہو چلا ہے۔سنہ 2006 میں فسادات کا ایک سلسلہ چلا۔ اگست 2008 میں عیسائیوں پر حملے ہوئے، (حالاں کہ کچھ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ کیتھولک عیسائ تو ہندوؤں سے بھی زیادہ اسلاموفوبک ہیں۔ )۔ جبکہ کچھ کیتھولک کو یہ شکایت ہے کہ ٹتیپو سلطان نے ان پر ظلم کیا تھا۔
مارچ 2005 اور مئ 2018 میں گؤ رکچھا کے نام پر اوڈوپی میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد اور ہندو یووا سینے نے کئ مسلمانوں کا قتل کیا ہے۔ اکتوبر نومبر 1952 میں بھی یہاں گؤ رکچھا تحریک چلی تھی۔ اس تحریک کو ان مٹھوں نے ستمبر 1966 میں ایک تنظیم کی شکل دے دی، اور نومبر 1966 میں دہلی میں احتجاج میں شامل ہوئے۔ گؤ کشی کے خلاف قانون بنانے کی مانگ کی۔ لیکن تب تک یہ تحریک برہمنوں تک ہی محدود تھی۔ جولائی 2018میں یہ تحریک کرناٹک میں زوروں پر تھی، جب کہ بجرنگ دل کا ہی ایک کارکن، ششی کمار بھٹ، کو وٹلا پولیس نے گائے کو قصابوں کے یہاں پہنچاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
سنہ 2005 سے شروع ہوکر، 2008 میں یہ تحریک تیز ہوئ اور 2009 میں پب پر حملے ہوئے، اور 2012 میں لو جہاد کے خلاف مزید پر تشدد تحریک شروع کر دی گئی۔ جس کے لئے کچھ تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ ایک ہے ہندو جاگرنیہ ویدیکے۔ دوسری تنظیم ہے شری رام سینا۔
سینے کا موجودہ صدر ہے پرمود موتھالک۔ منگلور کے بیک وارڈ ذات کے ہندوؤں کو اس تحریک میں شامل کروانے میں پرمود کا اہم رول سمجھا جاتا ہے – مئ 2010 میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ لوگ بھاڑے پر مسلم کش فسادات میں شامل ہوتے ہیں۔ ( تفصیل کے لئے دیکھیں، دھیریندر جھا، شیڈو آرمیز، 2017، صفحات 87-108) ۔
آشا جگدیش (اے بی وی پی) جنوبی کرناٹک میں، اب ، لو جہاد مخالف تحریک کا چہرہ سمجھی جاتی ہے۔
مذہبی پولرائیزیشن کا یہ کھیل پولیس نے بھی ایک خاص انداز میں کھیلا ہے۔اکیسویں صدی کی شروعات سے (یعنی سورتھکل فساد، دسمبر 1998 کے بعد سے) پولیس کی نظر منگلور کے گینگسٹر پر پڑی۔ انڈر ورلڈ کی اس دنیا میں بھی فرقہ وارانہ پولرائیزیشن ہو چکا تھا۔ ایس ہی ایک گینگسٹر، گوناکر شیٹی، 1989 میں ہی ہندو یوا سینے بنا چکا تھا۔ گنیش اتسو میں ان کی خاص شرکت رہتی ہے۔ گریشیما کی رپورٹ کے مطابق منگلور کے کئ (گینگسٹر سے جڑے) افراد کا تعلق سینے سے ثابت ہوا ہے۔ یوں تو گونا کر شیٹی کا قتل ایک ہندو گینگسٹر نے ہی 1991 میں کر دیا تھا، لیکن 1992 کے بعد جو کریک ڈاؤن اور مبینہ انکاؤنٹر کا سلسلہ چلا ، وہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لیا۔ 2006 میں ایک بی جے پی لیڈر کے قتل کے بعد اور صوبہ میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد، مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اورمبینہ انکاؤنٹر کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا، اور لگاتار مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں، ان پر سخت تعذیرات نافذ کرنا، اور انکاؤنٹر میں ان کا قتل عام ہوتا چلا گیا۔ منگلور بار ایسوسی ایشن کے وکیل ان کے مقدمے کی پیروی سے انکار کرنے لگے۔ ان حالات میں ایک محنتی، پڑھا لکھا نوجوان ، وکیل ، نوشاد قاسم جی ، نے ان نوجوانوں کی لڑائ لڑنی شروع کی۔ نوشاد نے تین پولیس افسروں، وینکٹیش پر سننا، جینت شیٹی، ناگ راج ، کے خلاف شکایتیں دائر کرنا شروع کر دیا۔ ان پر ان زیادتیوں کو کرنے کے علاوہ انڈر ورلڈ سے سانٹھ گانٹھ، بلیک میلنگ، اور دھمکی، روپئے اینٹھنے۔ ، وغیرہ کی شکایتیں درج کرنے لگا۔ ہیومن رائٹس کمیشن، سینئر اعلی پولس افسر، اور صدر جمہوریہ تک کو شکایتیں کیں۔
آخر کار اپریل 9، 2009 کو نوشاد کا قتل کر دیا گیا۔ قتل کے بعد جاۓ واردات پر پہنچ کر بعض انسان دوست دیانت دار صحافیوں نے پولس انسپیکٹر وینکٹیش پرسننا کے چہرے پر لکھی عبارتیں پڑھ لی تھیں ۔ ویینکٹیش کو 2015 میں صدر جمہوریہ کے میڈل سے نوازا گیا۔
کرناٹک صوبہ کی تاریخ ما بعد آزادی کے حوالے سے دو قتل کئ معنوں میں یاد کیا جانا ضروری ہے۔ [نوشاد کے قتل سے 33 سال قبل 1976 کے رمضان میں ایک اورقتل ہوا تھا۔ کے اسماعیل کو، منگلور سے 35 کلو میٹر دور کلڑکا میں اسماعیل کو اس کی دوکان پرسےعشا کی نماز کے بعد پولس اٹھا کر لے گئ۔ تین دن بعد اس کی لاش ملی۔ کرناٹک کے سابق وزیر تعلیم بی اے معیدین نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہےکہ اسماعیل نے 1974 میں اپنی دوکان کو ہی دفتر بنا لیاتھا اور رعیتوں (tenants) کی دن رات مدد کرتے ہوئے ان کی تمام طرح کی دستاویزی امداد کر کے انہیں لینڈ ریفارم قانون 1974 کے تحت زمینیں دلوانے کا کام کیا تھا۔ اور اچانک ایک دن قتل کر دیا گیا]۔
اسی 2001 سے 2006 کے دوران مسلم تنظیم، کے ایف ڈی (بعد کو پی ایف آئی) بھی وجود میں آئی اور سرگرم ہوئی۔ (پچھلی قسط میں اس کا ذکر کیا گیا ہے)۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)