ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

(ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے طویل سلسلے، آرایس ایس اور فرقہ پرست تنظیموں کے طریقۂ کار اور سیاسی جماعتوں اور لیڈران کی فرقہ واریت اور سماجی کرپشن کے جائزے پر مشتمل دلچسپ، تحقیقی، مبسوط ومفید سلسلۂ مضمون)

پہلی قسط

ہندوستان میں فسادات سے متعلق تحقیقی تصانیف کا ایک ذخیرہ دستیاب ہے۔ پھر بھی ڈچ اسکالر وارڈ بیرینشوٹ کی کتاب، رائٹ پولیٹکس: ہندو مسلم وائلنس اینڈ دی انڈین اسٹیٹ (2013)، بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ یوں تو یہ کتاب گجرات فسادات (2002) سے تعلق رکھتی ہے جس کی تحقیق کے لئے محقق نے جنوری 2005 سے مارچ 2006 تک احمد آباد شہر کے تین علاقوں میں 15 مہینے تک قیام کیا،ان میں دو علاقے وہ ہیں جو بری طرح فساد سے متاثر رہے اور تیسرا علاقہ ہے رام رحیم نگر، جہاں کی مخلوط آبادی نے اپنے مخصوص طریقۂ کار سے 2002 فساد کو روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اگر صرف احمدآباد کے فسادات کی بات کی جائے تو اسرائیلی اسکالر اورنت شانی اور امریکی اسکالر ہاورڈ اسپوڈیک، وغیرہ کی کتابیں بہت اہم ہیں، جنہوں نے 1981، 1985، 1986کے فسادات کی تفصیلات اور ان کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ شانی نے خصوصی طور پر اس سوال پر توجہ دی کہ 1981 کے فساد میں دلتوں نے مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کا خیال رکھا، جب کہ 1985اور 1986کے فسادات میں انہی لوگوں نے تشدد میں شمولیت اختیار کی۔

جنوری 1985 میں اونچی ذات کے ہندوؤں نے کانگریس حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا تھا، کیونکہ کانگریس کی مادھو سنگھ سولنکی حکومت نے او بی سی کے لئے سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں کے داخلوں میں 10 فی صد سے بڑھا کر 28 فی صدتک ریزرویشن کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ سی ۔وی ۔رانے کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی تھا۔ اس سے قبل اے۔ آر۔ بخشی رپورٹ نے 82 ذاتوں کو او بی سی فہرست میں ڈالا تھا، جن میں 20 مسلم برادریاں بھی شامل تھیں۔

سولنکی کی سربراہی میں کانگریس پھر سے منتخب ہو کر آگئی۔ اور 18 مارچ 1985 کے بعد یہ احتجاج اچانک مسلم کشی میں تبدیل کر دیا گیا اور اس قتل اور لوٹ میں دلت اور پچھڑے پیش پیش نظر آئے۔ شانی کی عرق ریز تحقیق میں مصنفہ کی تمام کوششوں کے باوجود اس حیرت انگیز تبدیلی کی وجہ کا بہت تشفی بخش جواب نہیں مل پاتا ہے۔ ہاورڈ اسپوڈیک (2011) نے احمدآباد کی بیسویں صدی کی تاریخ میں ان تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی نیکیتا سود کی تحقیقوں سے اتنا اندازہ ہو جاتا ہے کہ غیر ممالک میں تجارت اور نوکری کرنے والے امیر گجراتی لوگوں نے سنگھ پریوار، بالخصوص وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں کا بھر پور مالی تعاون کیا، جس سے ان تنظیموں نے 1981 کے فسادات کے فورابعد سے ہی پچھڑوں اور دلتوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ تعلیم، صحت کے شعبوں میں فلاحی کاموں کے علاوہ غریب ہندوؤں کی مدد اور دلت اور پچھڑوں کو اپنی ہفتہ وار شاکھاؤں میں ملٹری ٹریننگ دینا، نظریاتی گھٹیاں پلانا (indoctrination)اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب پھیلانے کا کام شروع کر دیا۔ اس کے لئے تین چار ہزار روپئے ماہانہ کی تنخواہ پر انہی دلتوں اور پچھڑوں کے درمیان رضاکار سیاسی و سماجی کارکن کا بڑا دستہ بھی تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہی سیاسی کارکن کو مسلمانوں کے خلاف تشدد میں استعمال کیا گیا۔

ایک طویل تحقیقی مضمون (ستمبر 2018) میں ایڈورڈ اینڈرسن و پیٹرک کلیبنس نے بھی یہ بتایا ہے کہ سنگھ پریوارنےانہی زعفرانی گجراتی این آر آئی ، خصوصی طور پر انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، افریقہ میں بسے لوگوں کی مدد سے ایمرجنسی (1975) کی مخالفت کے بہانےاپنا سیاسی عروج حاصل کیااور ہندوستانی سیاست و معاشرت میں اپنے لئے اعتبار اور قدر حاصل کی۔ ورنہ گاندھی جی کے قتل کے الزام کی وجہ سے انہیں کبھی خاطر خواہ اعتبار میسر نہیں ہو پایا تھا۔اس کی برملا وضاحت اروند راجا گوپال نے بھی اپنے ایک مختصر، مگر جامع مضمون (جولائی 2003) میں کیا ہے۔ انہی مادی و تنظیمی وسائل کے ذریعہ قدرتی آفتوں ، مثلا سیلاب، زلزلہ، وغیرہ کے دوران امداد رسانی کی معرفت بھی اپنے تنظیمی نظریات اور تعصب کو فروغ دے کر مصیبت زدہ لوگوں کے درمیان اپنی ساکھ بناتے ہیں۔ (فساد، 2002، متاثرین میں مسلم تنظیموں نے راحت کاری کا کام کرتے ہوئے مسلکی سیاست کی توسیع کیسے کی ہے، اس کی تفصیلات روبینہ جسانی کے طویل تحقیقی مضمون، 2008 میں درج ہیں ۔اردو قارئین کے لئے اس کا خلاصہ بھی اسی سلسلہ وار تحریر کی کسی قسط میں پیش کیا جائے گا)۔

وارڈ بیرینشوٹ کا کمال یہ ہے کہ احمدآباد شہر کے محلوں کے ان دلت سیاسی کارکنوں اور چمچوں، دلالوں، مقامی غنڈوں، شراب فروشوں پر ایک معرکة الآرا تحقیق پیش کی ہے۔ جن کی مدد سے بڑے سیاسی لیڈر، مثلا، ایم ایل اے، ایم پی، وزیر وغیرہ تعصب، نفرت اور افواہ پھیلاتے ہیں ، ہتھیار سپلائی کرتے ہیں اور پولیس ان کی بھر پور مدد کرتی ہے ۔اس محقق نےاس پورےنظام کو”رائٹ نٹ ورک” کی اصطلاح دی ہے، جسے سنگھ گروہ کے پورے تنظیمی ڈھانچے نے نظریاتی وسائل بھی فراہم کیا۔

اس محقق نے اپنے سامنے مندرجہ ذیل سوالات رکھے ہیں اور ان کا جواب پیش کرنے کی کوشش کی ہے:
اس "رائٹ نیٹ ورک” کو وجود میں لائے جانے کا سیاسی، سماجی و اقتصادی و نفسیاتی پس منظراور اس نٹ ورک کی کارکردگی کے ڈھانچے اور طریقۂ کار کی تفصیلات کیا ہیں؟

کیوں اور کس طرح یہ نٹ ورک اتنے بڑے ہجوم کو قتل و غارت، آگ زنی، عصمت دری، لوٹ ماروغیرہ جیسے جرائم کے لئے آمادہ کر لیتی ہے؟

کیوں یہ کسی شہرکے مخصوص محلوں میں یہ سب ظلم کر پاتے ہیں جب کہ کچھ مخصوص محلوں میں یہ کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں؟

کون لوگ ہیں جو افواہیں پھیلاتے ہیں اور کیوں ان کی افواہوں پر اعتبار کر لیا جاتا ہے؟
اورسیاست دانوں میں یہ صلاحیت کیوں اور کیسے پائی جاتی ہے کہ اپنے ذاتی سیاسی مفاد کے لئے وہ ایک بڑی آبادی کو اپنا مرید بنا لیتے ہیں؟

محلوں کے یہ دلال، غنڈے، شراب فروش، جوا کے اڈے چلانے والے، غیر قانونی ہتھیار کی تجارت کرنے والے، پیشہ ور مجرموں کو ان محلوں میں اس قدر مقبولیت کیوں کر اور کیسے حاصل ہوتی ہے؟
ان میں بھی تین طرح کے لوگ ہیں:
کچھ لوگ تقریروں سے اشتعال پھیلاتے ہیں، کچھ لوگ باضابطہ قتل و ہنسا میں شامل ہوتے ہیں اور کچھ ان بلوائیوں اور دنگائیوں کو اپنی راہنمائی میں لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ ان تینوں کے درمیان باہمی تعلق ، گٹھ جوڑ اور رشتہ کا قائم ہونا اور اس رشتے کا بنے رہنابھی ایک پیچیدہ عمل ہے، ایک آرٹ ہے۔ اس کا ایک وسیع تر ڈھانچہ ہے۔ عام غریب، کمزور ووٹروں کاروز مرہ کی ضروریات (پولس سے بچنے میں، راشن کارڈ یا کاروبار کا لائسنس بنوانے میں، سرکاری ہسپتال اور سرکاری اسکولوں و کالجوں میں داخلے، بجلی، پانی کا کنکشن وغیرہ) کے لئے ان دلالوں پر انحصاراور ان دلالوں، غنڈوں کو بڑے نیتا ؤں کی پشت پناہی، وغیرہ کا پیچیدہ ڈھانچہ ایک معمہ ہے، جسے اس محقق نے کامیابی سے اپنے قارئین کے لئے سلجھایا ہے۔
ایسی تحقیق کے پیش نظرگجرات کے بعد بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال جیسے صوبوں میں سنگھ پریوار کی ایسی کوششیں کس طرح اور کتنے وقت میں کامیاب ہو پائیں گی یا ان کی مزاحمت ہی کامیابیوں سے ہم کنار ہوں گی؟ اس پر نظر رکھنا اور اس کا جواب جانناخاصا دلچسپ اور اہم ہوگا۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)