ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجادعلی


(پروفیسر محمد سجادعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

بارہویں قسط
اردو قارئین کے لئے اس قسط وار گفتگو میں اب ہم مسلمانوں میں capacity building کی جانب کیے گئے اقدامات کی بات کرتے ہیں۔ جنوبی ہند اور دکن و مغربی ہند کا ذکر کسی اور قسط میں آئے گا۔ ابھی ہم اتر پردیش کی بات کرتے ہیں۔ اس کے لئے مغربی اتر پردیش کے میرٹھ شہر اور مشرقی اتر پردیش کے بنارس شہر کے مدن پورہ محلے کی بات ہوگی۔ ان دو شہروں کو کئی وجہوں سے منتخب کیا گیا ہے، جن میں ایک اہم آسانی یہ ہے کہ بنارس کے مدن پورہ کے سلسلے میں فلیپپا ولییمس نے 2011 اور 2012 میں تفصیلی تحقیقات شائع کیں اور میرٹھ کے سلسلے میں برونو دی کوردیئر نے 2010 میں ایک طویل تحقیقی مضمون شائع کیا۔ ان تینوں مضامین سے استفادہ کرتے ہوئےاردو قارئین کے لئے اس قسط کی گفتگو آگے بڑھاتے ہیں ۔
بابری مسجد کے انہدام (دسمبر 1992) اور بمبئی بم دھماکہ (مارچ 1993) اور عالمی سطح پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ، گجرات فسادات (2002) اور بمبئی حملہ (نومبر 2008) یہ سب حادثات ایسے ہیں جو ہندوستانی مسلمان پر کئی طرح سے اثر انداز ہوئے ہیں۔ یہ پورا عہد ہے معیشت کی عالم گیریت، شہر کاری (urbanization) اور ان سے منسلک اقتصادی و سماجی تبدیلیوں کا۔
ان سب کے پیش نظر ہندوستان میں اسلامی مذہبی بنیادوں پر کام کرنے والی سول سوسائٹی نے بھی سماجی خدمات پر ایک خاص اور منظم ڈھنگ سے کام کرنا شروع کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے بھی تعلیم، صحت، ریسرچ ایڈووکیسی، مائکرو فائینینسنگ، راحت کاری، اور عدالتی لڑائیوں کی طرف اقدام کئے۔
یوں تو جماعت اسلامی کا خواب ایک اسلامی حکومت قائم کرنا تھا، لیکن ہندوستان میں وقت کے ساتھ اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ ڈیموکریسی کا متبادل اگر وہ ڈھونڈیں گے تو اس کا نتیجہ ہندو شاذنیت ہی ہوگا۔ لہذا ان کو اسلامی حکومت قائم کرنے کا خواب تو چھوڑنا ہی تھا، ساتھ ساتھ ایسی امیج کو ختم کرنے کی جدوجہد بھی کرنی تھی اور غریب اور پسماندہ مسلمانوں کے تئیں حکومت کا رویہ بھی امتیازی رہتا ہے، ان کے علاقوں میں حکومت بنیادی سہولیات مثلا پانی، بجلی، سڑک، اسکول، ہسپتال، بینک، پوسٹ آفس وغیرہ بھی فراہم کرنے سے گریز کرتی ہے۔ (حکومت ہی نہیں، بائیں بازو اور سوشلسٹ نظریات کی سیاسی جماعتوں نے بھی ان غریبوں کے درمیان تعلیم و صحت وغیرہ سے متعلق سماجی خدمات کا کام نہیں کیا ہے۔ یہ جماعتیں بس حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کی مہم میں رہتی تھیں/ ہیں)- البتہ برونو کے مطابق سادہ لباس پولس اور جاسوسی پولس کی موجودگی بہت زیادہ رہا کرتی ہے۔ فسادات اور قدرتی آفات کے وقت بھی حکو متیں راحت کاری کا کام مختلف سو شل اور مذہبی گروپس پر ہی چھوڑ دیا کرتی ہیں۔ مسلمانوں میں غربت کی شرح 33 فی صد ہے، دو تہائی آبادی سیلف ایمپلوائیڈ ہے۔
لہذا جماعت اسلامی ہند نے خدمت خلق کے لئے اپنی سوشل سروس ونگ قائم کی۔ اس کے تحت 2006 میں کیپیٹل انوسٹمنٹ فنڈ قائم کیا اور اس نے دس سالہ ویژن ڈاکیومینٹ بھی تیار کیا۔ اس کی نگرانی کے لئے ہیومن ویلفئیر ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ ان سب کی قومی سطح پر کم سے کم پانچ این جی او ہیں اور صوبائی و علاقائی سطح کے پچاس این جی او خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سہولت مائکرو فائینینس سوسائٹی (غیر سودی قرضے فراہم کرنے کے لئے) کا خاص طور پر ذکر ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہیومن ویلفئیر فاؤنڈیشن، سوسائٹی فار برائٹ فیوچر، میڈیکل سروس سوسائٹی، وغیرہ ذیلی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان سب کے تحت فلاح عام (تعلیمی ادارے) اور الشفا (ہسپتال) بھی قائم کئے گئے ہیں۔ ان ساری سرگرمیوں اور ادارہ سازی کے لئے ان کو مڈل کلاس اور تکنیکی پروفیشنل تعلیم یافتہ تاجر اور نوکری پیشہ مسلمان فنڈ فراہم کرتے ہیں۔ ان اہل خیر حضرات میں سے بڑی تعداد ان کی ہے جو بیرونی ممالک میں نوکری اور تجارت کر رہے ہیں۔ یہی لوگ اپنی آبادی کے ان طبقوں سے قریب سے جڑے ہوئے بھی ہیں۔ برونو کاردیئر کی تحقیق کے مطابق بیرونی ممالک کی حکومتیں با ضابطہ طور پرانہیں مالی امداد فراہم نہیں کرتی ہیں۔
میرٹھ میں آزادی کے بعد فسادات ہوتے رہے۔ خاص طور پر 1987 کے فسادات نے میرٹھ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس شہر کی آبادی میں تقریباً 30 فی صد مسلمان ہیں۔ ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے محض 65 کلو میٹر کی دوری پر بسا یہ شہر پاور لوم ٹکسٹائل، ڈرائی کلینینگ، کھیل کود کے سامان بنانے، قینچی بنانے، چمڑے کے کاروبار اور بیرونی ممالک میں گوشت ایکسپورٹ کرنے کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی تجارت کا پچھلی دہائیوں سے زوال ہو نے لگا ہے۔ اس شہر میں تقریباً 200 سے کچھ کم جھگیاں یا جھگیوں جیسے محلے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں دیہاتوں سے شہر کی طرف ہجرت ہونے لگی۔ کیونکہ دیہاتوں میں کھیت مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ہو چلے تھے۔ میرٹھ میں قریشی (قصاب) اور انصاری برادری کی آبادی خاصی ہے۔ ان برادریوں کے کچھ مخصوص افراد نے بڑی اقتصادی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ مثلاحاجی یعقوب قریشی (الفہیم میٹیکس والے) اور حاجی شاہد اخلاق (الثاقب ایکسپورٹس والے)- یوں تو آبادی کے لحاظ سے غالبا انصاریوں کے مقابلے قریشی زیادہ ہیں۔ لیکن تعلیمی بیداری اور اقتصادی diversification کے لحاظ سے شاید انصاریوں کو قریشیوں پر سبقت حاصل ہے۔ ان میں سے کچھ نے انتخابی سیاست میں بھی قسمت آزمائی کی ہے۔
بہر کیف،میرٹھ شہر میں 1987 فسادات کے بعد آشیانہ کالونی کا وکاس ہوا۔ یہیں جماعت کا ہسپتال، فلاح عام ، قائم کیا گیا۔ برونو کی تحقیق کے مطابق یہاں جماعت کے 26 اہم کارکن، اور 80 دیگر کارکن ہیں جو ان تمام کاموں کی نگرانی رکھتے ہیں۔ 1979 کے بعد سے ہی فلاح عام تعلیم، صحت اور عورتوں کی آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں لگ گئی تھی۔ ضلع سطح پر نگراں کمیٹی بھی ہوتی ہے۔ شہر میں دو اسکول اور مضافات میں دیگر تین اسکول قائم کیے گئے ہیں، اور یہ ہسپتال جلد ہی 100 بیڈس کا ہسپتال ہو جائے گا۔ اس کے لئے ایک سوسائٹی رجسٹر کرا لی گئی ہے (وقف نہیں)- ان کے طلبا ونگ ایس آئی او کے وکاس پوری اسلام آباد احاطے میں بھی ایک اسکول چلتا ہے۔ عورتوں کے لئے شام میں سیمینار اور مذاکرے جیسی سرگرمیوں کی معرفت تعلیم و بیداری کا کام کیا جاتا ہے۔
یوں تو جماعت اسلامی نے بھی حیدرآباد میں انتخابی مہم کے لئے سیٹزنس فار ویلفئر اینڈ جسٹس نام کی ایک تنظیم2010میں شروع کی ہے اور 2009 میں ان لوگوں نے کیمپین ایگینسٹ کیپیٹلسٹ امپیریلزم بھی شروع کیا تھا، لیکن تعلیم و صحت کے میدان میں کئے گئے اقدام ہی زیادہ مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ یوروپ میں بھی کچھ عیسائی مذہبی تنظیمیں اور سوشلسٹ سیاسی تنظیمیں بھی سوشل سیکٹر میں فلاحی کام انجام دیتی ہیں۔ برونو دی کاردیئر نے جماعت اسلامی کی ان خدمات کو یوروپ کی ان خدمات جیسی ہی مانا ہے۔
میرٹھ میں جماعت اسلامی کی ان سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت اور ہندو فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس بنارس کے مدن پورہ علاقے میں دیگر افراد نے ایسی کوششیں کیں، کچھ کامیابیاں بھی ملیں، لیکن ہندو فرقہ پرست تنظیموں نے بڑی رکاوٹیں کھڑی کیں اور مودی اور یوگی سے پہلے کی "سیکولر” حکومتوں نے بھی ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کوئی خاص تعاون نہیں کیا۔
بنارس (وارانسی) شہر میں بھی مسلمانوں کی آبادی 30 فی صد ہے۔ اس شہر کے مد ن پورہ کی آبادی 40 ہزار ہوگی، جو کہ ایک مسلم اکثریت والا محلہ ہے۔ مسلمانوں میں انصاری برادری کی آبادی مدن پورہ میں 90 فی صد ہوگی۔ اس علاقے میں سرکاری اسکول، ہسپتال، بجلی سپلائی، نالی صفائی، وغیرہ کے معاملات میں مقامی حکومتوں کی بے توجہی بالکل نمایاں ہے۔ پینے کا پانی اس علاقے میں سیاہی اور گندگی مائل ہے۔
مدن پورہ کے مسلمانوں نے طے کیا کہ سیاست کے دلدل میں شریک ہونے کے بجائے (جہاں اکثریت ہی کا وزن بھاری رہے گا) کمیونیٹی ویلفیئر کے کام میں آزادانہ اور خود مختار طریقے سے کچھ اقدام کیے جائیں۔
اس طرح کچھ برس قبل یہاں مختلف مسلم افراد نے مل جل کر تین پرائیویٹ اسپتال قائم کیے ہیں۔ ان اقدامات کو تنظیمی شکل دے دیا گیا ہے۔ ان میں دوسرے مذاہب کے غریبوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔ جنتا سیوا مینیجمنٹ کمیٹی اور بنارس ویلفیئر اسپتال کے ناموں سے۔ ڈاکٹر مسعود نے اپنی مرحومہ بیوی کی یاد میں ایک وقف رجسٹر کرا کے 1999 میں ایک مسجد کی تعمیر کروائی۔ 14 دنوں کے اندر ہی ہندو فرقہ پرست تنظیموں سے جڑے مقامی لوگوں نے اسے بند کروا دیا۔ اس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ تک گیااور 20 اپریل 1999 کو عدالت نے مسجد کو کھلوانے کاحکم دیا۔ دو ماہ کے اندر پھر اسے بند کروا دیا گیا اور اس بار اس میں پولیس بھی شامل تھی اور پولیس نے مسجد کو منہدم کروانا چاہا۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔
سنہ 2000 میں مدن پورہ کے 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر دیش دروہ کا مقدمہ لگایا گیا، الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک جین تاجر کا قتل کیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ قتل ایک ہندو علاقہ،ل جنگن باری میں ہوا تھا، لیکن پولیس نے اس کی جائے واردات مدن پورہ ہی بتایا۔ اس معاملے میں سول سوسائٹی نے مداخلت کی، احتجاج کیا، اور سبھی 14 ، نہ صرف رہا ہوئے بلکہ بے قصور بھی ثابت ہوئے۔
سنہ 2008 میں جامعہ سلفیہ کے ایک استاد اور ریشم کی ساڑی کے تاجر مولانا عبدالمتین کو مدن پورہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ الزام تھا جے پور دھماکہ کا۔ جب کہ یہ الزام انڈین مجاہدین نام کی ایک دہشت گرد تنظیم پر بھی عائد کیا گیا تھا۔ متین ایک نیک آدمی سمجھے جاتے تھے اور غریب ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوائیاں بھی تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس طرح ان کی حمایت میں احتجاج کی آوازیں بلند کی گئیں۔
ان تمام طرح کے امتیازی برتاؤ کے باوجود ان مسلمانوں کے پاس سیکولرزم کے نعرے کا استعمال کر کے احتجاجی سیاست کے ذریعہ بھی مطالبات پورے کروانے کے راستے محدود یا بند تھے۔ خود اپنے وسائل سے تعلیم، صحت اور میونسپل ضروریات کے لئے ادارے قائم کرنے کے لئے بھی انہیں حکومت کی مدد کی ضرورت ہے اور ان ضرورتوں کو پوری کروانے کے لئے بھی اس آدھے ادھورے ریاستی سیکولرزم کے حوالے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لئے اس کے کسی متبادل کی تجویز بھی ان کی جانب سے نہیں رکھی گئی۔ بلکہ مساوی شہریت کے اصولوں کے دائرے میں ہی انہیں بات رکھنی پڑ رہی ہے، خواہ ریاستی سیکولرزم میں جتنی بھی خامیاں ہیں۔
مندرجہ بالا دو شہروں کی مثالوں سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
1.مدن پورہ (بنارس) کے مسلمانوں کو جتنی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اتنی رکاوٹیں میرٹھ میں جماعت اسلامی ہند کو جھیلنا نہیں پڑیں، ایسا کیوں؟
2. کیا انتخابی سیاست کا راستہ چھوڑ کر صرف capacity building کی طرف بھی توجہ دیں، تو بھی کیا اکثریت پرست طاقتیں اور حکومت رکاوٹ بن کر سامنے نہیں آ جائیں گی؟
3. کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ تعلیمی ادارے، ہسپتال، مائکرو فائینینس، وغیرہ جیسے اقدام کے لئے اتنی رکاوٹیں نہیں ڈالی جائیں گی، لیکن مسجد بنانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں گی؟
4. اگر ایسا ہے تو اکثریت پرستی کا اہم جزassimilation سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟
5. کیا میرٹھ اور بنارس کی مخصوص مثالیں کسی عمومی ٹرینڈ کی مظہر ہیں؟ یا یہ مستثنیات ہیں؟

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)