ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمدسجاد

(پروفیسر محمدسجاد-علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)

گیارہویں قسط

ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی (1913-1974) کی کانگریس مخالف سیاست (مسلم مجلس) کے بعد سید شہاب الدین (1935-2017) نے ایک تجربہ کیا۔ انہوں نے انصاف پارٹی لانچ کی ۔ ان کا یہ مقصد کہ مسلمان، دلت ، پچھڑے اور آدی باسیوں کو ایک سیاسی دھاگے میں متحد کر کے سیاست کی جا سکتی ہے، کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے بعد کچھ لوگوں نے یہ سوچا کہ کل ہند سطح پر نہ سہی، صوبائی یا علاقائی سطح پر ایسا تجربہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ دیگر کئی حضرات کی سوچ یہ تھی کہ مسلمانوں کو سرے سے کوئی انتخابی سیاست کی پارٹی بنانی ہی نہیں چاہئے، کیوں کہ علاقائی پارٹیوں نے مسلمانوں کی بھر پور حمایت حاصل کر لی ہے۔ جنوبی ہند کے صوبوں میں تو کئی دہائی قبل سے ہی یہ صورت حال تھی۔
1990 کی دہائی سے بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال وغیرہ،میں کچھ ایسی ہی صورت حال بنی ہوئی تھی۔اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اور ان کے ذاتی مفاد پرست مسلم رہنماؤں نے عام مسلمانوں کے ووٹوں کا بیجا استعمال کر کے ان کی تعلیمی و اقتصادی ترقی کا کوئی کام نہیں کیا۔ اس لئے جیسے ہی سنہ 2000ء کی دہائی میں بی جے پی کا خطرہ تھوڑا کم ہوا تو مسلمانوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ علاقائی سطح پر مسلم سیاسی پارٹی کا تجربہ کیا جائے اور اس طرح ڈاکٹر ایوب انصاری کی پیس پارٹی اور رشادی کی علما کونسل وجود میں آئیں۔ آسام میں بھی بدرالدین اجمل کی آسام یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ وجود میں آئی۔
اتر پردیش میں 18 فی صد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔ 1998 میں مسلمانوں کا 75 فی صد ووٹ سماج وادی پارٹی کی حمایت میں گیا۔ 2004 میں یہ گھٹ کر 47 فی صد ہو گیا۔ اور 2009 میں تو اس میں مزید کمی آئی اور یہ 30 فی صد ہو گیا۔ اتنا ہی نہیں اس سال ان کے سبھی 12 مسلم امیدوار ہار گئے۔ جبکہ 2004 میں 11 مسلم امیدوار اس پارٹی سے کامیاب ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی ناراضگی سماج وادی پارٹی سے یوں مزید بڑھ گئی کہ اس نے بی جے پی کے راج ناتھ سنگھ کے خلاف اورلوک دل کے جینت سنگھ (متھورا سیٹ) کے خلاف کوئی امیدوار نہیں دیا۔
جنوری 2007 میں گورکھ پور کے فسادات ہوئے تھے اور ملائم سنگھ یادو حکومت نے اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے اہم ترین ملزم یوگی آدتیہ ناتھ کے تئیں حمایتیں دکھانا شروع کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مایا وتی کے برہمن کارڈ کے خلاف ملائم ٹھاکر کارڈ کھیل رہے تھے اور اس وقت ان کی پارٹی کے اہم ٹھا کر لیڈر امر سنگھ یوگی کی خفیہ حمایت کر رہے تھے۔کسی سیاسی لیڈر کے بجائے ایک مقامی صحافی پرویز پرواز نے مقدمہ دائر کیا، جو مقدمہ اب بھی زیر سماعت ہے۔ فروری 2018 میں ہائی کورٹ میں یہ منکشف ہوا کہ ثبوت کے طور پر جو سی ڈی پولس کو دی گئی تھی وہ اکھیلیش کی سرکار میں بھی سی ڈی سیل ہی رہی، اس اہم ثبوت پر دس برسوں تک کبھی کسی پولس نے نظر ہی نہیں ڈالا۔ ( تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں راقم کا مضمون، ریڈف ڈاٹ کام، فروری 26، 2018)
علما کونسل کے وجود میں آنے کی فوری وجہ تھی 2008 میں دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں اعظم گڑھ کے دو مسلم نوجوانوں کا پولس انکاؤنٹر میں بے رحمی سے قتل۔ ایسا سمجھا جاتا تھا کہ اعظم گڑھ کے مسلمانوں کی، سماج وادی پارٹی کوحمایت ملتی رہی تھی اس کے باوجود اس معاملے پر سماج وادی پارٹی تقریباً خاموش رہی۔ بی ایس پی کا بھی رویہ ایسا ہی تھا۔
علما کونسل کے برعکس پیس پارٹی ایک سیکولر اور inclusive پارٹی رہی۔ ہندو اور مسلم دونوں کے پچھڑے طبقوں کو متحد کر کے سیاست کرنے کی کوشش رہی اور مسلمانوں کے لئے ایک محتاط اصطلاح، سماجی اعتبار سے مظلوم، کا استعمال کیا۔ 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں 20 امیدوار کھڑے کئے۔ کوئی نہیں جیتا لیکن کئی سیٹوں پر کافی اچھے ووٹ حاصل کئے، اور دیگر کئی سیٹوں پر مضبوط پارٹی یا امیدوار کو شکست دلوانے میں کامیاب رہے۔ خلیل آباد، ڈمریا گنج، سنت کبیر نگر وغیرہ۔ 2012 کے اسمبلی الیکشن میں کئی طرح کے انتخابی اتحاد قائم کرنے کا تجربہ کیا۔ اُدت راج کی جسٹس پارٹی، مختار انصاری کی قومی ایکتا دل، بھارتیہ سماج پارٹی، جنوادی پارٹی، مومن کانفرنس، لوک جن شکتی پارٹی، اپنا دل، پرو تیہ سماج اور توقیر رضا خاں کی اتحاد ملت کونسل وغیرہ۔ اس اعلان نے بی ایس پی کو خاصا پریشان بھی کر دیا تھا۔ لیکن تنظیم، وسائل، اور اتنے بڑے الیکشن کے انتظام کے تجربہ وغیرہ کی ایسی کمی تھی کہ کوئی خاص حوصلہ افزا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ چار سیٹیں اور 2.35 فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔ کامیاب امیدواروں میں دو مسلمان اور دو ہندو تھے۔ اپنا دل کی انو پریا پٹیل بھی کامیاب رہیں۔ قومی ایکتا دل نےبھی دو سیٹیں جیت لیں۔ اتحاد ملت نے بھی ایک سیٹ جیتی۔
علما کونسل کے برعکس یہ inclusive بھی ہے، اور ماڈرن آؤٹ لک کے نوجوانوں کی لیڈرشپ ہے، نا کہ clergy کی۔
کل ملا کر اتر پردیش کی کل 403 اسمبلی سیٹوں میں مسلمان ممبران کی تعداد تقریبا 70 جا پہنچی۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان امیدواروں نے اور اس پارٹی یا تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم، امتیازی برتاؤ، وغیرہ کے لئے اسمبلی کے اندر یا باہر آوازیں اٹھائیں؟ ان کے یہاں اعدادوشمار کی تحقیق اور ان کی ایڈووکیسی کے کیا انتظامات تھے اور ہیں ؟ کیا محض سیاسی نمائندگی میں اضافے کی سیاست سے بات بن جائے گی؟ یا مزید کچھ اور کرنا ہوگا؟
جون جولائی 2012 میں شہری بلدیاتی (لوکل باڈیز) انتخابات ہوئے۔ ان میں مسلمانوں کی کامیابی کی شرح بہت اونچی رہی۔ اے کے ورما کی تحقیق کے مطابق مغربی اتر پردیش میں، جہاں مسلم آبادی 28 فی صد کے قریب ہے، وہاں مسلم ممبران کا شئر بھی 28 فی صد رہا۔ روہیل کھنڈ علاقے میں مسلم آبادی 34 فی صد ہے اور مسلم ممبروں کا شیئر 54 فی صد رہا۔ بندیل کھنڈ علاقے میں مسلمانوں کی 7 فی صد آبادی، لیکن بلدیاتی شیئر تقریباً 9 فی صد۔ اودھ علاقے میں آبادی 16 فی صد، لیکن نمائندگی 29 فی صد۔ مشرقی اتر پردیش میں آبادی 12 فی صد لیکن نمائندگی 30 فی صد، جبکہ مشرقی یو پی کے شمالی حصوں میں آبادی 22 فی صد اور نمائندگی 27 فی صد۔ اے کے ورما نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ ان مسلم آبادی والے علاقوں میں دلت ریزرویشن والی سیٹیں بہت کم ہیں اور پچھڑی آبادی کی سیٹوں پر ہندو پچھڑوں کے بجائے مسلم پچھڑے بہت زیادہ کامیاب ہوئے۔
کیا مسلمانوں کی پارٹیوں اور امیدواروں کے اس انتخابی عروج کا کوئی اثر زعفرانی سیاست پر بھی پڑا؟ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں اور 2017 کے اسمبلی چناؤ میں زعفرانی طاقت کے بے پناہ عروج میں ، مسلمانوں کی اس بڑھی ہوئی سیاسی نمائندگی نے بھی ‘ہندو خطرے میں ہے’ کے نعرے کو مقبول کرانے میں، بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر، کوئی رول ادا کیا؟
ستمبر 2013 میں مظفر نگر اور شاملی اور اطراف و جوانب میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے،جان و مال کے نقصان کے علاوہ لاکھوں مسلمان غریب مزدور بے گھر کر دیئے گئے اور راحت کیمپوں میں ریفیوجیوں کی زندگی جینے پر مجبور ہو گئے۔ 70 سے کچھ کم ایم ایل اے اور سماج وادی پارٹی کی نام نہاد سیکولر حکومت کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ ہوا۔ مظلومین کو انصاف دلانے کی عدالتی لڑائی سے لے کر راحت رسانی کے کام میں ان سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا رول کتنا تشفی بخش رہا؟
ان سوالوں پر گہرائی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔

(نوٹ: اس قسط میں پروفیسر مرزا اثمر بیگ (شعبۂ سیا سیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ) کے مضمون (27 اکتوبر 2012) اور اے کے ورما کے مضمون (6اکتوبر 2012) سے خاطر خواہ استفادہ کیا گیا ہے۔)

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)