ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد



(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

(نویں قسط )

(جنوبی ہند کی مسلم لیگ اور حیدرآباد کی مجلس اتحاد المسلمین کا جائزہ)

آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی اقدام کے تعلق سے کئی دانشوروں نے اپنے طویل تحقیقی مضامین شائع کئے ہیں۔ ان مطالعات کی بنیاد پراردو قارئین کے لئے مندرجہ بالا موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے۔
تھیو ڈور پی رائٹ جونئیر نام کے ماہر سیاسیات نے، ستمبر 1966میں ایک مضمون شائع کیا تھا، جس میں انہوں نے جنوبی ہند کی سیاسی جماعت مسلم لیگ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ایک مذہبی اقلیت اپنے جائز مفادات کاتحفظ اور مساوی حقوق و اختیارات کی بات،مذہب اور سیاست کی واضح تفریق کو نقصان پہنچائے بغیر، خود کو کس طور پر منظم کرکے کر سکتی ہے؟
نیو یارک سٹی میں یہودیوں کی تعداد تقریباً 25 فی صد ہے، لیکن ان کی کوئی مخصوص سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ انہوں نے لبرل پارٹی کا دامن تھام لیا ہے، جو ڈیمو کریٹک اور ریپبلیکن کے بیچ توازن کا کام کرتی ہیں۔
اگر محض الیکٹورل سیاست کی بات کی جائے تو مغرب سے مشرق تک زیادہ تر روش یہی رہی ہے کہ :
1. مختلف سیکولر پارٹیوں میں شامل ہو کر اور ان میں کام کر کے ہی اقلیتیں اپنے مفادات محفوظ کر پاتی ہیں، مثلاکیتھولک یورپ اور لاطینی امریکہ کے پروٹسٹنٹ یا پھر:
2. الیکٹورل سیاست کے بجائے "غیر سیاسی” پریشر گروپ اور لابی بنا کر، مثلا امریکہ کے یہودی۔
ہندوستانی مسلمانوں نے اوّل الذکر آپشن کو ہی زیادہ تر چنا ہے۔ لیکن جنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ مثلا کیرالہ کی مسلم لیگ نے ان دونوں آپشنز کے بجائے اپنی مخصوص سیاسی جماعت کا سہارا لیا۔ یہ ممکن اس لئے ہو پایا کہ :
1. بالعموم جنوبی ہند کے مسلمان وہاں کی عام آبادی کی علاقائی زبانوں اور بولیوں کو ہی بولتے ہیں، یعنی بڑی حد تک لسانی و تہذیبی ہم آہنگی ہےـ
2. تاریخی اعتبار سے جنوبی ہند کے مسلمان شمالی ہند کے مسلمانوں کے برعکس تاجر، پیشہ ور مچھوارے، کسان وغیرہ ہونے کی وجہ سے حکومتوں پر بہت کم منحصر رہے ہیں۔
3. جنوبی ہند کے مسلمانوں کے کریمی لیئر اور لیڈر شپ نے پاکستان کی جانب ہجرت نہیں کی۔
4. مالابار ساحل کے علاقے میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں مسلم اکثریت میں ہیں۔ یہ خطہ کشمیر اور مغربی بنگال کے مرشدآباد کے بر عکس پاکستان کی سرحد سے کافی دور ہونے کی وجہ سے ہندوؤں میں ویسی excitement پیدا نہیں کرتا ہے۔
برطانوی عہد کے مسلم قانون سازوں میں صرف حاجی عبدالستار سیٹھ جیسے معدودے چند لوگوں نے ہجرت کی تھی۔ مجموعی طور پر ان سب وجوہات کی بنا پر ہندو اکثریت کا اعتماد اور بھروسہ جنوبی ہند کے مسلمانوں پر نسبتا زیادہ بنا رہا۔
اس طرح آزادی کی پہلی دو دہائیوں کے دوران جنوبی ہند کی مسلم لیڈرشپ نے پانچ طریقۂ کار اپنا ئے:
1. اپنی جماعت بنا کرـ
2. حکمراں کانگریس سے اتحاد قائم کر کےـ
3. غیر کانگریس حزب مخالف سے اتحاد قائم کر کےـ
4. انفرادی طور پر غالب پارٹی کے اندر کام کر کے اور
5. "غیر سیاسی” تنظیمیں بنا کر اور ساتھ ہی ساتھ دیگر اقلیت یا کمزور طبقوں کے ساتھ مل کر، ان تنظیموں کو پریشر گروپ اور لابی کے طور پر استعمال کیا۔
تھیوڈور رائٹ کا تجزیہ واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ ان پانچ طریقوں میں سب سے زیادہ موثر اور کارگر طریقہ پانچواں، یعنی "غیر سیاسی” طریقۂ کار ہی رہا ہے۔
مدراس صوبہ کے مسلم لیگ لیڈر محمد اسماعیل ( 1896-1972) نے ان پانچ میں سے پہلے دو طریقوں کو خوب آزمایااور انہی پر مصر رہے۔ 1954میں جب راج گوپال آچاری کی سرکار گرا دی گئی اور کام راج نادر نے کمان سنبھالی تو اسماعیل نے انہیں سے اتحاد قائم کر کے ان کو ذیلی اسمبلی انتخاب میں گوڈی یتتم (نزد، ویلور) حلقہ سے کامیابی دلوائی، جہاں مسلم آبادی بھی تھی۔ اس اتحاد کی وجہ سے مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا اور مالابار ضلع بورڈ الیکشن میں بھی۔
1953میں آندھرا پردیش صوبہ کے وجود میں آنے کے بعداور 1956 میں کیرالہ صوبہ کے وجود میں آنے کے بعد حالات بدل گئے۔ اور اسماعیل کی کانگریس سے اتحاد کی حکمت عملی بھی اب بہت کارگر نہیں رہی۔ محمد رضا خاں، ایم ایس اے مجید اور کے ٹی شریف جیسے لیڈر اب ان سے خفا ہو کر بغاوت پر آمادہ ہوگئے، اور 1961 میں ایک نئی پارٹی بنا لی۔ اس نے بھی کانگریس ہی سے اتحاد قائم کر کے، یہ مطالبات رکھے کہ سبھی مسلمانوں کو بیک وارڈ کی فہرست میں ڈالا جائے، تاکہ دیگر تحفظات (تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن) مل سکیں۔ اور یہ بھی کہ مسلمانوں کو سول، پولس اور ملٹری کی نوکریوں میں مناسب نمائندگی مل سکے۔ اس نے اب ڈی ایم کے کی آئین کو جلانے کی سیاست کی بھی مخالفت کی ، جن سے اسماعیل گٹ نے اب اتحاد قائم کر لیا تھا۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ کام راج نادر نے رضا خان کے اردو اخبار” ترجمان” کو کچھ فنڈ فراہم کر دیا تھا اور اسی کے عوض میں وہ کانگریس کے حمایتی بنے ہوئے تھے۔ اسماعیل نے بھی اپنے اردو اخبار "نصرت”اور انگریزی پندرہ روزہ اخبار”صراط” میں انتقامی تردیدی تحریریں شائع کرنا شروع کر دیں۔ رضا خاں 9 برسوں تک، لیجسلیٹو اسمبلی میں رہ کر مسلم عوام سے دور ہو گئے تھے۔ اس طرح، اسماعیل، رضا، اور مجید کے گروہوں نے آپس میں گٹ بازی کر کے 1964 کے میونسپل الیکشن میں اپنی اپنی لٹیا ڈبو لی۔ اور اس کمزوری کی بنا پر اب کام راج نے 1965 میں انہیں گریجوئٹ سیٹ سے لیجسلیٹو کونسل بھی نہیں بھیجا۔
کیرل میں بھی سیاسی اتھل پتھل نے، مسلم لیگ کو کچھ موقع فراہم کیا۔ کانگریس پارٹی کے عیسائی، کمیونسٹ پارٹی کو نا پسند کرتے تھے، اس لئے اسماعیل اور سید عبدالرحمان تھنگل، دونوں نے اس کا فائدہ اٹھا یا، اور کمیونسٹوں کے خلاف کانگریس اور سوشلسٹ سے اتحاد قائم کر لیا۔ اور احتجاجات میں شامل ہو کر کمیونسٹ حکومت گروا دی۔ اور جون 1959 میں صدر راج نافذ کروا دیا۔ حالاں کہ اس کمیونسٹ حکومت میں مسلمانوں کے اسکولوں کو کافی امداد فراہم کی گئی تھی۔ 1960 کے اسمبلی انتخابات میں اس اتحاد سے مسلم لیگ نے تو اپنی سیٹیں 8 سے بڑھا کر 11 کر لیں ، لیکن، کانگریس کو اتنی زیادہ سیٹیں آ گئیں کہ اسے حکومت سازی کے لئے مسلم لیگ کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اسی درمیان فروری 1961 میں جبل پور فسادات اور اپریل 1961 میں مسلم لیگ کے قد آور لیڈر سیٹھی صاحب کی موت کی وجہ کر پارٹی کی کانگریس نواز پالیسی بحران میں آ گئی۔ گرچہ اسمبلی میں نمبر کی طاقت کی وجہ کر چند مذہبی اور اقتصادی مطالبات کو مضبوطی سے رکھ سکے۔ مثلا، اسکولوں میں مزہبی تعلیم و تربیت کو پھر سے قائم کرنا، اسکولو ں کی نصابی کتابوں میں مسلمانوں سے متعلق قابل اعتراض باتوں کو ہٹایا جانا، مالا بار میں مساجد اور مدارس بنانے پر جو مدراس حکومت کی پرانی پابندی تھی، اسے ہٹایا جانا، مسلمانوں کی بیک وارڈ آبادیوں کے لئے تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کو 7.5% سے بڑھا کر دس فی صد کرنا، پبلک سروس کمیشن میں ایک مسلمان ممبر کا نام زد ہونا، اور مالابار علاقے میں حکو مت کی جانب سے مزید ترقیاتی فنڈ فراہم کرنا، وغیرہ شامل تھا۔ نمبودیریپاد کی کمیونسٹ سرکار نے اس میں سے بیش تر مطالبات پورا کیا تھا۔
جبل پور فساد کی وجہ سے مسلم لیگ کا اثر اب بمبئی میں بڑھنے لگا تھا، جس میں کیرل کے سی ایچ محمد کویا کا نمایاں رول تھا۔
اس اعتماد پر 1962 کے الیکشن میں مسلم لیگ نے مہا راشٹر اسمبلی میں چار امیدوار کھڑے کر دیے، اور کرشنا مینن کے مقابلے میں کر پلانی کی حمایت شروع کر دی، تاکہ مسلم لیگ کے امیدوار جیت سکیں۔ لیکن سبھی چار امیدوار، بہ شمول جی ایم بنا ت والا ہار گئے۔ اور اس طرح مہا راشٹر کی سیاست سے مسلم لیگ کا زوال اور اخراج ہو گیا۔
یعنی غیر کانگریس، حزب مخالف سے اتحاد کی لیگ پالیسی کا بھی بالآخر برا حال ہی ہوا۔ 1961-1962 میں لیگ نے احمد آباد، بھوپال، پورنیہ، کوٹا، کلکتہ، لکھنؤ، علی گڑھ، وغیرہ، کی طرف قدم بڑھانا چاہا، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ مدراس میونسپل ادارے میں "مسلم چیمبر آف کامرس”، اور "ہائڈس اینڈ لیدر مر چنٹ ایسو سی ایشن” ، کی نمائندگی مختص ہوا کرتی تھی، جس کا آزادی کے بعد، کم از کم سیاسی طور پر، زوال ہو چلا تھا، لیکن ڈی ایم کے سے اتحاد کے بعد، 1959 میں ایک مسلم میئر منتخب ہو پایا۔ 1962 میں ان کے لیڈر، کے ایس عبدالوہاب کو مدراس لیجسلیٹو کونسل میں اور 1964 میں ان کے لیڈر عبدالصمد کو راجیہ سبھا بھیجا گیا، اور اسماعیل لوک سبھا پہنچے، موپلا حلقے سے۔ اس مسلم درویڈ اتحاد کے دباؤ میں کام راج کو بھی اپنے کیبینیٹ میں ایک مسلمان، ایس ایم عبدالمجید کو شامل کرنا پڑا۔
لیکن بہ حیثیت مجموعی، مسلم لیگ کی سیاست نے مسلمانوں کو دیگر آبادیوں سے دور کرنے کا ہی کام کیا، اور میونسپل باڈیز میں تو کامیابی رہی، لیکن قانون سازیہ اور انتظامیہ میں اس پارٹی نے کوئی بڑا کام انجام دینے والی کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ مہاراشٹر اور کرناٹک کے بیش تر اہم لیگ لیڈر کانگریس میں ضم ہو گئے، مثلا، حفیظکا اور جکاکو شمس الدین ۔ ٹراونکور اور کو چین کے ٹی اے عبداللہ اور پی قاسم کنجو بھی کانگریس میں شامل ہو گئے۔اس مہم کو مزید کامیاب کرنے کے لئے کانگریس نے "ساؤتھ انڈیا مسلم کنونشن” کی شروعات کی، دسمبر 1956 میں۔
"غیر سیاسی” تنظیم سازی کے ضمن میں "مسلم ایجوکیشنل ایسوسی ایشن آف ساؤتھ انڈیا” ، کیرالہ کی "مسلم جماعت فیڈیریشن” اور حیدرآباد کی "مجلس تعمیر ملت” (بانی سید خلیل اللہ حسینی) نے زیادہ نمایاں اور کار گر رول ادا کیا۔ ان تنظیموں نے تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دیا ۔ واضح رہے کہ مارچ 1948 میں مسلم لیگ نے بھی اس موقف پر غور کیا تھا اور تجویز رکھ کر بحث بھی کیا تھا کہ اب تعلیمی و اقتصادی ترجیحات پر ہی توجہ مرکوز کیا جائے۔
ان بنیادوں پر تھیوڈور رائٹ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہئیے کہ تعلیمی و اقتصادی ترقی کے لئے مختلف قسم کی تنظیمیں تشکیل دیں۔
‏Muslims need a variety of organisations with a functional division of labour.

تھیوڈور رائٹ کا کہنا ہے کہ امریکی تجربہ یہ بتلاتا ہے کہ اپنی پارٹی ہونے کے بجائے اور انتخابی سیاست میں وقت اور وسائل کی بربادی کرنے کے بجائے پریشر گروپ اور لابی بنانے کو ترجیح دیا جائے۔ اقلیتوں کی انتخابی سیاسی پارٹیاں صرف مزہبی اور شناخت پر مبنی جذباتیت کی سیاست میں الجھی رہتی ہے، یہ سوچ کر کہ ان سے مزہبی اقلیتیں اپنی شناخت محفوظ کر لینگی۔ جب کہ تعلیمی و اقتصادی توانائ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے کہ اپنی مزہبی، لسانی، تہزیبی شناخت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ہیری بلئر نے بہار کی مسلم سیاست 1952-72 کے تعلق سے، اور راقم کی تحقیق (بہار کی اردو تحریک 1951-89) کے تعلق سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کی بڑی ضرورت یہ ہے کہ انتخابی سیاست کے بجائے، زیادہ ٹھوس ریسرچ کو، فوقیت اور ترجیح دیں، تاکہ نوکریوں میں امتیازی برتاؤ، اور دیگر نا انصافیوں کے خلاف عدالتوں میں، سرکاری کمیشنوں میں ، اور اخبارات و میڈیا میں مضبوط ترین ثبوت اور حقائق پیش کئے جا سکیں، اور رائے سازی کو مضبوطی سے عام کیا جا سکے۔ مانا کہ برطانوی پارلیمانی نظام ، جو ہندوستان میں ہے، میں لیجسلیٹو کمیٹیاں اور بیروکریسی متعصب اور کمزور ہوتی ہیں جب کہ سیاسی پارٹیاں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں اور پریشر گروپ اور لابی امریکی نظام میں زیادہ کار گر ہیں، پھر بھی ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کو اسی لائحۂ عمل کو اختیار کرنا چاہیئے۔

پریشر گروپ اور لابی کے اس طریقہ کار میں بہت روپیوں کی ضرورت ہوگی، جن کی مدد سے قوم کی فلاح اور تعلیمی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہوئے تنظیم سازی اور تحقیق کا کام انجام دیا جائے۔
جنوبی ہند کی مسلم لیگ نے آزادی کے بعد، شروع کی دہائیوں میں، علمی و اقتصادی ترقی کے لئے محض باتیں بنائیں جب کہ "مسلم ایجوکیشنل ایسو سی ایشن آف ساؤتھ انڈیا” (اور حیدر آباد کی "مجلس تعمیر ملت”) نے ٹھوس کام کیا۔ ایجوکیشنل ایسو سی ایشن نے 1951 میں تعلیمی اداروں کے قائم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ (اس کا قیام 1901 میں ہی ہوا تھا، لیکن حکو مت کی بعض پالیسیوں کی وجہ کر ان کے قائم کردہ محمڈن کالج میں ہندوؤں کی تعداد کثیر ہو گئی تھی)۔
اب ، اسی تناظر میں، ایک نظر، حیدرآباد کی مجلس اتحادالمسلمین کی کار کردگی پر ڈالتے ہیں۔
مجلس اتحادالمسلمین کا قیام یوں تو 1927 میں ہوا تھا، لیکن آزاد ہندوستان میں اس کی کارکردگی 1957 میں ایک نئے سرے سے شروع ہوتی ہے ( 1946 میں اس کے رضاکاروں نے شدت پسند ہندو مخالف دستہ کا کام کیا تھا)-
شروع میں اس نے مسلمانوں کو ماضی کے افتخار کے نام پر مو بیلائیز کیا۔ جاوید عالم (1943-2016) اپنے تحقیقی مضمون (1995)میں لکھتے ہیں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ایک نفسیاتی منطق تھی کہ 1948 کے حیدرآباد کے خونی "پولس ایکشن "کے بعد مسلمانوں کے ایک طبقہ کا زوال ہو گیا تھا، تو اس بے حوصلگی کو دور کرنے کا یہ ایک کار گر طریقہ تھا کہ انہیں اس ماضی کے حوالے سے ہی جگایا جائے۔ 1975 کے بعد سے مجلس نے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت، اردو، اور اقتصادی، تعلیمی، سیاسی میدانوں میں پسماندگی اور حکومت کے امتیازی برتاؤ کی بات شروع کر دی۔ 1962 سے لگاتار الیکشن لڑتے لڑتے 1984 میں پہلی بار لوک سبھا کے لئے صلاح الدین اویسی (1931-2008) کامیاب ہوئے۔ اس درمیان ان کا ووٹ بڑھتا رہا۔ حیدرآباد میں 13 اسمبلی سیٹیں ہیں 1967 سے 1989کے درمیان تین سے پانچ سیٹوں پر مجلس کامیاب ہوتی رہی۔ حیدرآباد میونسپل میں 100 سیٹیں ہیں۔ 1986 میں ایم آئی ایم نے 62 سیٹوں سے لڑ کر 38 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اور اس طرح شہر کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ 1979 میں 31 سال بعد پہلی بار وہاں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ یہ فساد بنیادی طور سے سبزی منڈی میں تجارتی مقابلے کی وجہ کر ہوا۔ 1948 کے بعد ہندو تاجروں کا غلبہ قائم ہو گیا تھا۔ جہاں مسلمان پھر سے آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جنتا پارٹی حکومت 1977-1979 نے پاسپورٹ حاصل کرنا کافی آسان کر دیا، مسلم نوجوان پاسپورٹ حاصل کر کے عرب ممالک میں جا کر روزگار کرنے لگے اور اقتصادی ترقی حاصل کر کے حیدرآباد کی تجارت میں داخل ہونے لگے، ایم آئ ایم کو بھی چندے دے دے کر مضبوط کرنے لگے۔ کیونکہ مجلس نے ہی فساد زدگان اور متاثرین میں راحت کاری کا کام کیا، مکانات بنوائے، انہیں چھوٹی بڑی تجارتت کھڑی کرنے کے لئے سرمایہ دے کر امداد کرنے لگے۔ خوانچے والے، رکشہ ٹیکسی والوں کی مدد شروع کی۔ اور اس طرح آئیڈیولوجی والی سیاسی پارٹیوں کی کمزوریاں نمایاں ہونے لگیں۔ سرکاری محکموں، خاص طور سے، پولس کا مسلم مخالف چہرہ بے نقاب ہونے لگا۔
سیاسی اعتبار سے مجلس اب ہریجنوں سے بھی اتحا د قائم کرنا شروع کیا ۔1985 میونسپل الیکشن میں 8 ہریجن منتخب ہوئے اور متعدد سیٹوں پر بی جے پی کو ہرایا۔ پرکاش راؤ نام کے ایک ہریجن مئیر منتخب ہوئے۔ کل ملا کر اس وقت تک تین ہریجن اور دو مسلمان مئیر منتخب ہو چکے تھے۔ 1970 کی دہائ میں ہی مجلس نے عدالت سے دارالسلام کو پھر سے حاصل کر لیا۔ (اس طویل عدالتی جنگ کی تفصیلی کہانی، تھیوڈور رائٹ نے اپنے دوسرے تحقیقی مضمون می بیان کی ہے)۔ ساڑھے چار ایکڑ زمین میں پھیلا یہ ادارہ مجلس کا ایک بڑا اثاثہ ہو گیا۔ اس کا کرایہ اور دیگر چندوں سے 1976 میں ایک آئی ٹی آئی قائم کیا، ان کے فارغین کو عرب ممالک میں نوکریاں حاصل کرنے میں تعاون کیا، 1983-85 کے درمیان دکن انجنیرنگ اور میڈیکل کالج اور 700 بیڈس کا ہسپتال قائم کیا۔ ان اقدام نے مسلم نوجوانوں کے اعتماد میں اضافہ کیا، اور ساتھ ساتھ ایسے سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی کم یا عدم نمائندگی کی وجہ امتیازی سلوک بتایا۔ حکومت نے کمیونیٹی کو اس طرح آگے بڑھانے میں اپنا رول نہیں ادا کیا، بلکہ یہ کام کسی مسلم تنظیم نے کیا۔ لہذا اگر اس تنظیم کو فرقہ پرست تنظیم کہا جائے تو پھر اس تنظیم کی مقبولیت اور طاقت میں اضافہ کی ذمہ دار بھی حکومت کی امتاز ی برتاؤ اور کوتاہی ہے۔ اس طرح تعلیمی اور اقتصادی میدانوں میں بڑی نمایاں خدمات انجام دے کر ہی مجلس نے بھی اپنا سیاسی دائرۂ اثر بڑھایا۔ ان کاموں میں چندے کے معاملے میں صلاح الدین اویسی پر غبن وغیرہ کے الزامات بھی لگائے گئے۔ ان الزامات میں جو بھی سچائ ہو، لیکن، تعلیمی و اقتصادی اقدام نے جو ریز لٹ دیا وہ قابل تعریف ہے۔
اس طرح جنوبی ہند اور حیدرآباد کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مسلمانوں کو (جارحانہ زعفرانی عروج کے عہد میں) اپنی capacity building پر ہی توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)