ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد


پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

ساتویں قسط

آج نو ہندوتو کے دور میں دلتوں اور شودروں کی شمولیت ایک حقیقت بن چکی ہے۔(بھلے ہی شہری پڑھے لکھے دلت ایکٹیوسٹوں کا ایک حصہ اس حقیقت کا کھل کر اعتراف کرنے سے گریز کر رہا ہے)، شمالی ہند یا کاؤ بیلٹ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور خاص طور سے غریب مزدور طبقے کے مسلمانوں کے خلاف بربریت اور تشدد، گؤ رکچھا کے نام پر لنچنگ کی وارداتیں اور پولیس، عدلیہ، وزرا اور ہندوتو کے حمایتی قانون سازوں کی کسی نہ کسی شکل میں حمایت اور پشت پناہی وغیرہ نے ایسا بھیانک ماحول بنا دیا ہے کہ اچھوتوں/ہریجنوں/ دلتوں کی زعفران زدگی کے عمل کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ برطانوی عہد کی سیاست میں دلتوں کی تحریکوں اور تنظیموں کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے۔
اس کے لئے نندینی گوپتو کی کتاب (2001) کے باب 5 کا خلاصہ پیش ہے۔
بیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں دلتوں کو بھی نئی شناخت و پہچان کی ضرورت محسوس ہوئی، جس سے وہ نئے ابھرتے ہوئے اربابِ اقتدار میں نمائندگی و حصہ داری کے لئے مزاحمت، مفاہمت اور مقابلہ کی تیاری کر سکیں۔
اس کے لئے سب سے پہلے ان لوگوں نے مذہبی و سماجی اصلاح کی پہل کی۔اتر پردیش کے اہم شہروں میں اس تحریک نے اپنی خاص اہمیت درج کرائی۔
سب سے پہلے انہوں نے ویدک ہندو ازم کو ترک کرتے ہوئے ما قبل آریہ یعنی آدی ہندو کی پہچان بنانے کی کوشش کی۔
انیسویں صدی کے نصف آخر میں دیہاتوں سے الہ آباد، بنارس، لکھنؤ اور کان پور کی طرف اچھوتوں کی ہجرت ہوئی۔ کینٹونمینٹ اور سول لائنس میں کئی طرح کی ملازمتوں میں شامل ہوئے۔مہتر، بھنگی، چمار، ڈوم وغیرہ کو میونسپل کاموں میں بھی اورچمڑے کی صنعت میں بھی انہیں کان پور اور آگرہ میں ملازمتیں ملیں۔ بالمقابل دیہاتوں کے شہروں میں اجرت اور تنخواہ والی ملازمت میں یہ لوگ نسبتا آزاد تھے۔گرچہ شہروں میں بھی انہیں بد ترین جگہوں پہ ہی رہائش کی جگہیں فراہم کی گئیں۔
نا خواندگی کی وجہ سے 1934 تک ان کو پولس محکمہ کے سب سے نچلی سطح کی نوکری بھی نہیں تھی۔
بہر کیف شہروں میں آ جانے کے بعد بیسویں صدی کی شروعات میں ان لوگوں نے نرگن بھکتی یا سنت مت کی تحریک شروع کر کے منظم ہونا شروع کیا۔ کبیر پنتھی اور روی داس یا شیو نارائنی مسلک کو منظم کیا، خود کو بھگت کہنے لگے، جنیؤ کے خلاف کنٹھی مالا پہننے لگے۔پھر ذات کے خطوط پر پنچایتیں منظم کرنے لگے۔ انہی خطوط پر یہ لوگ اب شہروں میں اپنے علاقوں میں مندر بنانے لگے۔ کینٹونمینٹ علاقے کے مندر کے دلت پجاری کو بریگیڈ مہنت کہا جانے لگا۔ ان مندروں میں بھجن، کیرتن اور ستسنگ کیا جانے لگا۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں ان مذہبی رحجانات میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس دوران اب روزگار کے مواقع سکڑتےجا رہے تھے کیونکہ اب کینٹونمینٹ اور شہری توسیع کا کام رک سا گیا تھا۔ دونوں جنگ عظیم کے بیچ کی دو دہائیوں میں میونسپل قوانین نے بھی سختی بڑھا کر ان کی رہائشی مشکلیں بڑھا دی تھیں۔ انہیں بے دخل کر کے شہر کے مزید دور افتادہ علاقوں میں بھگایا جانے لگا تھا۔
اسی درمیان ان کی نئی نسل میں کچھ تعلیم اور آگے بڑھنے کی آرزو میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ (میونسپل اسکولوں میں کچھ دلت کا داخلہ ہونے لگا تھا)۔ اس نئی نسل نے آدی ہندو آندولن کو فروغ دیا۔ کانپور کے سوامی اچھوتانند (1879-1933)، لکھنؤ میں رام چرن (1888-1938) ، اور الہ آباد میں سوامی بودھا نند نے نمایاں رول ادا کیا۔ شروع میں ان لوگوں نے آریہ سماج تحریک سے اثر قبول کیا، جنہوں نے اسکول قائم کئے، ہاسٹل دیا، کچھ اسکالرشپ بھی دینا شروع کیا اور ان کو آریہ دھرم میں لانے کے لئے شدھی کیا جانے لگا۔ جلد ہی ان اچھوت راہنماؤں کو یہ انکشاف ہونے لگا کہ آریہ سماج چھوا اچھوت رواج کے خلاف مہم نہ چلا کریہ لوگ انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھےاور ہندوؤں کی مجموعی تعداد کو بڑی تعداد دکھا کر 1919 کے ایکٹ کے بعد ارباب اقتدار یعنی کونسل اور ضلع بورڈ میں ہندو نمائندگی کے لئے اس تعداد کا استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔ سوامی اچھوتانند نے یہ کہنا شروع کیا کہ آریوں کی آمد سے قبل بھارت کے مول نواسی کودسیو dasyu اور آسر asur کہہ کر بد نام اور زیر کیا گیا۔ اچھوتانند نے وکیل کی حیثیت سے لکھنؤ میں بے دخل کئے جانے والے دلتوں کی لڑائی لڑنے کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس طرح آدی ہندو تحریک بنیادی طور پر ان اچھوتوں کے حقوق و اختیارات کی لڑائی تھی اور امتیازی برتاؤکے خلاف جدوجہد تھی۔ اسی لئے نرگن بھکتی والے مذہبی رحجان میں انہیں پنڈت، پجاری کی ضرورت عموما نہیں تھی۔ لیکن مجموعی طور پر ان لوگوں نے نہ ہی ذات پات والے نظام کے خلاف اور نہ ہی چھوا چھوت کے خلاف کوئی بڑی مزاحمت والی منظم تحریک شروع کی۔اس لئے شمالی ہند میں آدی ہندو تحریک نے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی۔ گرچہ ان کی یہ محدود کامیابی بھی کم اہمیت کی حامل نہیں تھی۔ یہ تحریک نا خواندہ اچھوتوں تک بھی پہنچ پائی تھی۔ فضول خرچی پر مبنی چند رسوم و رواجات کے خلاف، شراب نوشی کے خلاف اور کبھی کبھی سبزی خوری کی تحریک بھی چلائی۔ 1925 میں آدی ہندو سبھا کی تشکیل بھی کی۔لیکن اب یہ تحریک اپنے عوامی کردار پر کم توجہ دے رہی تھی اور ارباب اقتدار میں نمائندگی کے مذاکرے کو ترجیح دینے لگی تھی۔ اس سے اچھوتوں کا اوپری طبقہ ہی فائدہ حاصل کر پا رہا تھا اور اس طرح اوپر کی راہنمائی کا عام، غریب اچھوتوں سے رشتہ کمزور پڑنے لگا۔ 1930 کی دہائی میں ایک دھڑا کانگریس کی طرف مائل ہوا اور آدی ہندو تحریک کے بعض لوگوں نے ڈیپریسڈ کلاسز لیگ بنا لیا۔ گاندھی جی کی مہم کے باوجود اچھوتوں کو ہندوؤں کے درمیان وقار اور رتبہ نہ مل سکا اور 1934 میں کان پور میں گاندھی جی نے جن 25 مندروں کا افتتاح کیا تھا، ان میں جلد ہی اچھوتوں کی غیر حاضری نمایاں ہو گئیں۔ حالاں کہ گاندھی جی کے علاوہ کانگریس سوشلسٹ پارٹی اور مدن موہن مالویہ نے بھی ان کی فلاح کے لئے کافی کام کیا۔ مالویہ تو مندروں اور دیگر پبلک مقامات یا جگہوں سے اچھوتوں کو دور رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ مالویہ کی فکر اور تشویش یہ تھی کہ اب مسلمانوں کی نمائندگی علیحدہ الیکٹوریٹ کی وجہ کر بڑھ گئی تھی، لہذا اچھوت آبادی کو مکمل ہندو کا سماجی درجہ دلانے کی خاطر چھوا چھوت کے خلاف ایسی اصلاحیں ایک بڑی سیاسی ضرورت بن گئی تھیں۔
یعنی، تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو:
1۔ اچھوتوں کے فلاح کے لئے، آریہ سماج یا مالویہ اور ہندو مہاسبھا تب آگے آئے جب انہیں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے مقابلے میں اچھوتوں کا استعمال کیا جانا تھا؟
2۔ دلت اتتھان کی گنجائش بنانے کے لئے، ہندو سیاست میں مسلمانوں کا وجود ضروری ہے؟
ان سوالوں پر مزید تحقیق اور بحث کی ضرورت ہے۔

( جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)