ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)

پانچویں قسط
دونوں عظیم جنگوں کے درمیانی وقفے میں ہندوستان کے شہری علاقوں میں افلاس و ظلم میں شدید اضافہ ہوا اور تاریخی اعتبار سے محروم آبادیوں کے درمیان نہ صرف مذہبی جنون، بلکہ فرقہ واریت، یعنی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے خلاف نفرت اور ہنسا میں شدید اضافہ ہوا۔
تب سے ٹھیک ایک صدی بعد اب ہمارے عہد میں زعفرانی سیاست نے جس طرح ان تمام محروم طبقوں کو پھر سے اسی جنون کا افیم پلانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، تو ہمارے لئے تاریخ کے ان صفحات کو پلٹنا ابھی اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے، کہ شاید ہم اپنے عہد کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں یا ماضی کا وہ عہد حال کی روشنی میں ہمارے لئے اور زیادہ بہتر طریقے سے قابل فہم ہو جائے۔
روایتی طور پر جدید ہندوستان کی تاریخ پڑھتے اور پڑھاتے وقت تحریک خلافت اور ترک موالات کے بعد موپلا سے لے کر چوری چورا تک کے تشدد کے بعد شدھی، سنگٹھن، تبلیغ، تنظیم کی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ جی۔ آر۔ تھرسبی کی کتاب”ہندو مسلم ریلیشنس ان برٹش انڈیا "(1975) کا ذکر کر کے آگے نکل جاتے ہیں۔
حالانکہ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم تحقیق نندینی گوپتو (استاد، آکسفورڈ یونی ورسٹی) کی ہے۔ دی "پولیٹکس آف دی اربن پوور” (2001) یعنی شہری غریبوں کی سیاست۔گوپتو کے علاوہ ساندریا فرےتا (1989) نے بھی اس عہد میں اتر پردیش کی فرقہ وارانہ سیاست کا مطالعہ کیا ہے۔

لیکن گوپتو کی اس کتاب کوجدید ہندوستان کی تاریخ کے مطالعات میں اہم ترین کتابوں کی فہرست میں شمار کیا جانا چاہیے۔
مجھے حیرت ہے (یا میری کم علمی بھی ہو سکتی ہے) کہ پسماندہ دلت کی باتیں کرنے والے ان طبقوں کے تعلیم یافتہ شہری خواص کی توجہ بھی اس کتاب ک طرف خاطر خواہ طور پر مبذول نہیں ہے۔ (اگر میری یہ رائے غلط ہو تو معافی چاہوں گا)۔
تقریبا 500 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ اتر پردیش کے چار اہم شہروں، بنارس، الہ آباد، لکھنؤ اور کانپور پر مرکوز یہ مطالعہ نہایت عرق ریز محنت کا غیر معمولی ثبوت ہے۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں ان شہروں میں اچھوتوں اور پچھڑوں کے درمیان فرقہ پرستی کا جنون پیدا کرنے کی سیاست و معیشت کی ایسی وضاحت غیر معمولی تفصیلات کے ساتھ، وہ بھی پرائمری ماخذ پر مبنی بہت کم تصنیفات میں ملتی ہیں۔

خصوصی طور پراس کتاب کے تین مختلف ابواب، یعنی اچھوت (باب 5) ، شودر(باب 6)، اور پسماندہ غریب دست کار مسلمانوں (باب 7)، کو فرقہ پرست سیاست کا اہم کردار بنا دئے جانے کی اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی عوامل کی تفصیلات و توضیحات پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
اردو قارئین کے لئےمودی عہد کی زعفرانی سیاست پر میری قسط وار تحریر میں ہی اس تعارفی (تبصراتی؟) تحریر کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس تحریر میں سب سے پہلے ہم گوپتو کی کتاب کےباب 6، یعنی شودروں کی زعفرانیت زدگی کا خلاصہ پیش کریں گے۔ (آئندہ قسطوں میں باب 5 اور 7 کا خلاصہ شیئر کیا جائے گا)۔
نندینی گوپتو لکھتی ہیں کہ مذکورہ دہائیوں میں اتر پردیش کے اہم شہروں میں ہندو مسلم فرقہ وارانہ کشیدگی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ مذہبی جلسے و جلوس، مسلح بھیڑ، خوفناک نعروں، نئے نئے تہواروں کی ایجاد اور خطرناک روایتی ہتھیاروں کے مظاہرے دکھائی دینے لگے۔ ان مظاہروں میں پوجا، عبادت کا عنصر بہت کم اور مارشل ملیٹینسی کا عنصر بہت زیادہ تھا۔
شہروں میں مزدوروں کے درمیان کا اقتصادی مقابلہ اور ان کی صف آرائی ذات پات اور مذہب کی بنا پر ہونے لگی۔ان کو ملازمت دینے والے تاجر، اہل صنعت اور حکومت سبھی نے اپنا کنٹرول انہی خطوط پر مضبوط کرنا شروع کر دیا۔
غریب شودروں کے لئے مذہبی ملیٹینسی ایک ذریعہ تھا وسیع تر ہندو معاشرے میں ہندو کی حیثیت سے وقار، اعتبار اور خود اعتمادی حاصل کرنے کا۔ اقتصادی کمزوری کو مذ ہب کے نام پر ہتھیاروں کے ساتھ جلوس اور مظاہروں کی معرفت نفسیاتی طور پر compensate یا overcome کرنے کی کوشش تھی۔
کیونکہ سامراجی، سرمایہ دارانہ جنگ، مہاماری، قحط، بے روزگاری وغیرہ نے انہیں بدحال کر رکھا تھا۔ دیہاتوں سے کھیت مزدور اور غریب کسان شہروں میں مزدوری کرنے کی غرض سے ہجرت کرنے لگے تھے۔
آریہ سماج، سناتن دھرم مہا منڈل، ہندو سبھا جیسی بڑی، ملک گیرتنظیموں کے علاوہ مخصوص ذات برادریوں کی چھوٹی چھوٹی علاقائی تنظیمیں بھی ان شہروں میں، وجود میں آنے لگیں۔ ان میں خاص طور سے یادو، کرمی، گوجر، پاسی اور کھٹک ذات کے لوگ زیادہ تھے۔
واضح رہے کہ شہروں میں اچھوت (اب دلت کہلاتے ہیں) اور پسماندہ غریب دست کار مسلمان پہلے سے ایسے تمام روزگار میں شامل تھے۔ اور اب ان کے درمیان روزگار اور ٹھیلے خوانچے والی چھوٹی تجارت کے میدان میں مقابلہ اور تشدد شروع ہو گیا تھا۔
شہروں کے سول لائنس اور کینٹونمینٹ والے حصوں کی توسیع اور تعمیر کا کام اب saturate ہو چلا تھااور اس طرح وہاں روزگار کے مواقع محدود یا ختم ہو چلے تھے۔
علاوہ ازیں اچھوتوں اور شودروں میں اونچے سماجی مرتبے کی دعوے داری بھی شروع ہو گئی تھی، جس کا اظہار مختلف ذات کی تنظیمیں، چھتریہ کے رتبے کی مانگ کرنے لگی تھیں۔ ایسی آبادیاں اب حقارت آمیز روایتی پیشوں کو چھوڑ کر چھوٹی تجارت کو ترجیح دینے لگی تھیں ۔ اور اس وجہ کر بھی ان اقتصادی سیکٹرس میں مقابلہ، حسد، تشدد کی شروعات ہو گئی۔ اس طرح مسلمان دستکاروں اور شودروں کے درمیان ان شہروں میں سخت مقابلہ اور تناؤ نمایاں ہونے لگا۔
ان شہروں کے بڑے تاجر، سیاست داں اور دیگر متمول، با اثر حضرات نے فرقہ وارانہ خطوط پر انہیں پشت پناہی فراہم کی۔ مندروں کی تعمیر، تہواروں اور جلوسوں کے لئے چندے فراہم کر کے، رام لیلا، نوٹنکی، ہولی وغیرہ کے ذریعہ ان شودروں کو ہندو مذہب اور شناخت کے محافظ کا درجہ فراہم کیا اور ان نچلے طبقوں کو نفسیاتی تسکین اور سماجی رتبہ بڑھانے کا احساس دلایا گیا۔ ہتھیاروں کے مظاہروں نے ان تاریخی اعتبار سے کمزوروں کو طاقت ور ہونے کا احساس دلوایا۔اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور فلاحی کاموں کے ادارے اور ٹرسٹ کی معرفت بھی ان کو منظم کیا گیا ۔ ان پیش قدمیوں کو "تقوی کی سیاست” بھی کہا جا سکتا ہے۔
انہیں یہ بھی سمجھایا گیا کہ مسلم حکمرانوں کی آمد سے قبل یہ شودر واقعتا چھتریہ تھے اور ان کا وہ رتبہ چھین کر شودر بنانے کا کام مسلم حکمرانوں نے کیا اور یہ کہ یہی ماضی کے چھتریہ اور حال کے شودر لوگ آدی ہندو اور مول نواسی ہیں اور تھے۔ مثلا الہ آباد کے ملاحوں نے 1923 میں ایک تنظیم خونی دل खूनी दल (خود کش جماعت) بنایا اور رام لیلا کے جلوس کو مسلم علاقوں سے لے جانے پر مصر رہے۔
میونسپل اور پولس انتظامیہ نے بھی اپنے طور پر ان معاملات کو متاثر کیا۔
کان پور کے پلے دار مزدوروں نے بھی کچھ ایسے ہی طریقوں سے خود کو منظم کیا۔
ایسی مارشل مذہبی مظاہرہ سازی اور تنظیم سازی کے لئے انہیں نظریاتی اور ثقافتی وسائل فراہم کئے گئے۔ آلہا و اودل کی کہانیاں اور گیت اور یادووں کے لئے لوریکی کے گیت وغیرہ میں ان شودروں نے یوں بھی خود کو چھتریہ مان رکھا تھا۔ آریہ سماج نے خاص طور سے ان طبقوں کو آریہ ہندو اور سناتن دھرم کی جماعت کا حصہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے لئے عہد وسطی کے مسلم حکمرانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کا کام بھی سب سے زیادہ آریہ سماج نے ہی کیا۔ رام لیلا، نوٹنکی، ہولی کے گیتوں کے ذریعہ بھی ہندو شناخت کو مضبوط اور مسلمانوں کے خلاف ایک منظم شناخت سازی کا کام انجام دیا جانے لگا۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)