ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

چوتھی قسط

زعفرانی سیاست کی اس چوتھی قسط میں گفتگو ہوگی "نیو (Neo) ہندوتو” پر۔
اب یعنی اکیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں ہی ہندوتو کی لہر نئے مراحل طے کر چکی ہے اور نئے مقامات میں داخل ہو چکی ہے،محض ووٹوں اور صوبائی حکومتوں کے حوالے سے ہی نہیں ، بلکہ سماج کے سبھی طبقوں اور گروپس میں اپنے لئے حمایت اور اپنا نظریاتی و تنظیمی غلبہ قائم کر چکی ہے۔ اداروں(بالخصوص، میڈیا، تعلیمی، تحقیقی و تدریسی حلقے اور عدلیہ)، جغرافیائی حدود کے حوالے سے جنوب اور شمال مشرق کے صوبوں میں، آدی باسی، دلت اور پچھڑوں میں، عورتوں میں، شہر سے پھیل کر دیہی علاقوں میں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں، بیرونی ممالک کی این آر آئی آبادی کے درمیان، طلبا و نوجوانوں کے درمیان، کارپوریٹ کی دنیا پراور نظریاتی اعتبار سے بھی، اپنا غلبہ ہر جگہ قائم کر چکی ہے۔ بابا، گُرو، سادھو سنت قسم کے لوگوں کی سیاست و تجارت کی معرفت ہندوستان کی سیاست الیکشن اور آئین تک کو اپنے موافق بنانے میں روز افزوں کامیابی حاصل کرتی جا رہی ہے۔ نیو ہندوتوا کی یہ اصطلاح غالبا ایڈورڈ اینڈرسن نے وضع کی ہے۔ اینڈرسن نے اپنے تحقیقی مضمون (2015) میں اس نیو ہندوتو کی بھی دو قسمیں بتائی ہے۔ سافٹ اور ہارڈ۔
ہارڈسے مراد وہ حصہ ہے، جسے ہندو راشٹر بنانے کی مہم کو اظہار کرنے میں قطعی کوئی تامل نہیں ہے۔اور درون ملک ہندو یووا واہینی، ہندو جن جاگریتی سمیتی، شری رام سینا، وائس آف انڈیا فورم فار ہندو اویکیننگ و دیگر شدت پسند تنظیمیں جو گؤ رکچھا، لو جہاد، وغیرہ کے نام پر تشدد کرتی رہتی ہیں، جس میں بھارت ماتا کی جے، جے شری رام جیسے نعرے فلک شگاف آوازوں میں لگاتے اور زبردستی دوسروں سے لگواتے ہیں۔
سافٹ نیو ہندوتوا سے اینڈرسن کی مراد ہے: انڈیا فاؤنڈیشن تھنک ٹینک، دیگر انٹرنیشنل تنظیمیں، مثلا برطانیہ کا ہندو فورم اور نیشنل کاؤنسل آف ہندو ٹمپلس، امریکہ کا ویدک فاؤنڈیشن وغیرہ جیسی بین الاقوامی تنظیمیں۔ یہ لوگ اپنی نظریاتی اور تنظیمی فکر و عمل پر بہ ظاہرکچھ پردہ رکھنے کی ایک حد تک کوشش کرتے ہیں۔
یہ لوگ ہندوتو کے پکے حمایتی ہونے کے باوجود بین الاقوامی برادریوں میں بعض مصلحتوں کے تحت اپنے ہندو راشٹر کے منصوبے پر کچھ پردہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر بھی ایک مخصوص بین الاقوامی ماحول میں ہندوتوا پر مبنی اسلامو فوبیا کے اظہار میں اب انہیں کوئی تامل نہیں برتنا پڑتا ہے۔اس طرح ایسے تعصبات اب مین اسٹریم میں لا آ گئے ہیں اور انھیں اب نارمل بنا دیا گیا ہے۔ آن لائن حلقے میں ایسے تعصب اور نفرت کا اظہاران کے لئے اب باعث فخر ہو گیا ہے۔ان بنیا دوں پر اب نعرہ بازی اور mobilization، بھی کرنا آسان ہوتا جا رہا ہےیا ہوچکا ہے۔ 9ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردانہ حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کی ایسی شبیہہ بگاڑی کہ اس نے ہندو فرقہ پرستوں کے لئے کئی آسانیاں فراہم کرنے کا کام کیا۔
اس زعفرانی برادری نےاب ہندوؤں کو اکثریت کے بجائےمظلوم کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ماضی کے مبینہ طور پر غیر ملکی نسل کے مسلم حکمرانوں کی صدیوں کی حکومت، ان کا ظلم، استحصال، اور استبداداور سیکولرازم کے نام پر گاندھی، نہرو کے آئین میں بھی ہندو ہی ایک مظلوم قوم ہے، کیونکہ اقلیتوں کو چند تحفظات آئین میں دیے گئے ہیں، ایسا بیانیہ یعنی نیریٹیو بنانے میں زعفرانی طاقتیں کامیاب ہو چکی ہیں۔
سومیا سکسینا کے تحقیقی مضمون (2018) کے مطابق سپریم کورٹ نے 1995 کے ایک فیصلے میں ہندوتوا کو ایک طرز زندگی قرار دے کر زعفرانی نیتاؤں کے لئے یہ آسان کر دیا کہ وہ ہندو کے نام پر ووٹ مانگ سکتے ہیں اور اس کو الیکشن کمیشن ممنوع عمل قرار نہیں دے سکتا۔ اس کی وجہ سے اب ہندو ازم کے بجائے ہندوتو ہی ہندوستانی کلچر کا نمائندہ مانا جانے لگا۔ اس فیصلے کی وجہ سے ہادیہ کے کنورژن (تبدلیِ مذہب ) یا اس جیسے دیگر معاملات کو ہندو مذہب کے لئے ہی خطرہ قرار دیا جانا آسان ہو گیااور یونیفارم سول کوڈ کو بی جے پی کے لئے انتخابی ایجنڈا بنانا مزید آسان ہو گیا۔
اسی وجہ سے بہ ظاہر ہندوستانی کلچر کو مضبوط کرنے کے نام پر بابا رام دیو یادو کی پتنجلی تجارت، یوگاکی معرفت ہندو قوم کی صحت اور سو دیشی وغیرہ کا ملمع بنا کر بی جے پی کے لئےووٹ اور روپےیعنی الیکشن اخراجات، دونوں کا انتظام کر دیا گیا ۔ اور یوگا کیمپ یعنی شیویر کے معرفت دور افتادہ علاقوں، خطوں اور صوبوں میں بھی یہ تنظیمیں داخل ہو گئی ہیں۔ آرکوتونگ لانگ کومیر نے اپنے تحقیقی مضمون (2018) میں اس کی وضاحت تفصیل سے کی ہے۔
اس کے علاوہ فرقہ پرست تنظیمیں قدرتی آفات و فسادات کے متاثرین میں راحت کاری و امداد رسانی کے ذریعے بھی اپنے سیاسی و مسلکی مقاصد و حصول اقتدار و غلبہ کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ گجرات کے 2001 کے زلزلہ کے حوالے سے ایڈورڈ سمپسن (2014) کی کتاب دی پولیٹیکل بائیوگرافی آف این ارتھ کوئیک نے ان پہلوؤں کی وضاحت کی ہے۔
ونواسی کلیان کیندر کے معرفت آدیباسیوں کے درمیان ان کا دخل اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ مہوا سے جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں میں آدیباسی شراب بنانے اور پینے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن زعفرانی مداخلت سے مہوا کے پھولوں سے چٹنی بنانا سکھا کراور شراب سے دور کر کے ایک اخلاقی ما حول بنا نےکی کوشش کی گئی ہے۔ کیونکہ ہندوستانی معاشرت کے نچلے طبقےمیں شراب پینا اخلاقی زوال سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس طرح ہندو راشٹر کے مشن میں ڈسپلن اور اخلاقیات و فخر کا عنصر داخل کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے۔ سنسکار اور روایت کا گھول پلا یا جاتا ہے۔ حالانکہ ون واسی کلیان کے اسی مشن میں آدی باسیوں سے زمینیں چھین کر کارپوریٹ کو دیا جانا بھی شامل رہا، جس کے نتیجے کے طور پر آدی باسیوں نے جھارکھنڈ میں پتھر گاڑی تحریک چلائی اور پچھلے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی شکست ہوئی۔
ان تمام عناصر کی معرفت انٹرنیٹ پر ایک مہم ہےگرو یعنی فخر سے کہو ہم ہندو ہیں اور اس سے ایک آن لائن کمیونیٹی بنائی گئی ہے۔ سہانا اوڈوپا کے تحقیقی مضمون نے اس پر ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ آن لائن اور آف لائن شخصیات سے میں کچھ لوگوں میں ایک تضاد یا نمایاں فرق پایا گیا ہے، یعنی ہندوتو کے ایسے حمایتیوں میں ایک حصہ ایسا بھی ہے جو آن لائن تو نفرت، زہر پھیلاتا ہے، لیکن آف لائن گفتگو میں قدرے شائستگی دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ آف لائن مباحثے میں ہندوتو کی تنقید بھی کرتا ہے۔
اسی متوسط طبقے نے 2011 کی موسم گرما میں دہلی میں بد عنوانی یعنی بھرشٹاچار کی مخالفت کے نام پر ایک مہم چھیڑی جس کو میڈیا اور سنگھ گروہ کی بھر پور پشت پناہی ملی ہوئی تھی۔

مذکورہ بالا تنظیموں اور افراد کا یہ نہایت ہی بڑا گروہ اب عملی طور پر ایک متوازی ریاست بن چکا ہے۔ یوں بھی انہیں نریندر مودی اور امیت شاہ کے عہد میں ریاست و اقتدار کی اور ریاست سے منسلک تمام تر اداروں (بہ شمول میڈیا و عدلیہ) کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
اس طرح ہندوستان اب اکثریت پرستی کے جذبات و منصوبوں پر مبنی نسلی جمہوریت (ethnic democracy) یعنی ہندو راشٹر بننے کے بالکل قریب آ چکا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اس کا اعلان محض باقی رہ گیا ہے، ورنہ عملی طور پر تقریباً بن ہی چکا ہے۔
اس کی مزاحمت کی کوئی صورت بھی ہے؟ اس اہم سوال پر قارئین اپنے غور و فکر کا سلسلہ جاری رکھیں، اور تبادلۂ خیال بھی کریں۔ اس پر آگے گفتگو و مباحثہ جاری رہنا چاہیے ، اس وقت تک، جب تک بولنے، لکھنے، منظم ہو کر مزاحمت و مخالفت کرنے کی جگہ اور گنجائش ہے اور اس جگہ کو بچانے اور بڑھانے کی جدو جہد بھی جاری رہنی چاہیے ۔

( جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)