ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

(ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے طویل سلسلے، آرایس ایس اور فرقہ پرست تنظیموں کے طریقۂ کار اور سیاسی جماعتوں اور لیڈران کی فرقہ واریت اور سماجی کرپشن کے جائزے پر مشتمل دلچسپ، تحقیقی، مبسوط ومفید سلسلۂ مضمون)

دوسری قسط
اس دوسری قسط میں، گجرات میں، زعفرانی سیاست کے عروج کو سماجی، معاشرتی و اقتصادی تاریخ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں اچیوت یاگ نک اور سوچترا شیٹھ کی عمدہ تحقیق اور سلیس ترجمانی والی مقبول و معروف کتاب (2005) "دی شیپنگ آف ماڈرن گجرات : پلو ریلیٹی، ہندوتو اینڈ بیونڈ” سے خاطر خواہ مدد لی جا رہی ہے۔
ان مصنفین کا ماننا ہے کہ اکیسویں صدی کے گجرات کا متمول ، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہندو عمومی طور پر فی الوقت اپنے اندر جھانکنے اور خود احتسابی کی جانب مائل نہیں ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے نیچے کی آبادی، جو 20فی صد ہے، اس کی غربت ، پسماندگی، استحصال کی ذمہ داری خود پر عائد کرنے سے یہ متمول طبقہ منکر ہے۔
گجرات کا مقتدر ہندو ہندوستان کے آئین کی معنویت کا بھی منکر ہوتا جا رہا ہے۔ وہ صرف بازار، منافع، اور ہندو برتری والے راشٹرواد کے جنون میں مبتلا ہے۔
جدید گجرات اس تشویشناک حالت تک کس طرح پہنچا؟ یاگ نک اور شیٹھ کی مذکورہ کتاب کا سروکار اسی مرکزی سوال سے ہے۔
ہندوتو کی سیاست میں اور راشٹرواد کے ان کے تصور میں مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی دونوں متبادل ہیں۔ گجرات کے کانگریسی وزیر اعلی (جنہیں ہندوستانی جمہوریت کے پنچایتی راج کا موجد بھی مانا جاتا ہے) بلونت رائے مہتہ کی موت ستمبر 1965 میں ہند پاک جنگ کے دوران ہوئی تھی۔ پاکستان ایئر فورس نے ان کے ہوائی جہاز کو مار گرایا تھا۔ ہاورڈ اسپوڈیک (2011) بتاتے ہیں
کہ اس حادثے نے بھی گجرات میں ہندوؤں کے اندر مسلم مخالف جذبے کو بڑھایا۔ 1960 کی دہائی میں خصوصی طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول گجرات میں بنتا جارہا تھا۔
جون 2، 1968 میں جمیعت علمائے ہند نے احمدآباد میں ایک میٹنگ کی اور 16 نکاتی قرارداد پاس کیا۔ ان میں سے کچھ نکات کو علیحدگی پسندی سے تعبیر کیا گیا۔ پھر دسمبر میں آر ایس ایس نے بھی گولوالکر کی رہنمائی میں ایک جلسہ کیا اور ہندو راشٹر کی بات دہرا دی۔
جن سنگھ نے ، اٹل بہاری باجپائی کی رہنمائی میں1972 کے بھا گل پور، بہار کے اجلاس میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ زعفرانی تنظیمیں طلباو ہری جنوں میں اپنی ساکھ بنانے کی مہم چھیڑیں گی۔ 1979 میں بھارتیہ کسان سنگھ بھی بنا لیاگیا تھا۔
سنہ 1975 کے نو نرمان آندولن نے جن سنگھ اور اس سے ملحق تنظیموں کو ایک سنہرا موقع فراہم کیا۔ بہ ظاہرشروعات میں یہ بڑھتی مہنگائی کے خلاف مہم تھی۔ اس سے اپنی ساکھ بڑھاتے ہوئے اپنی طاقت میں 1977 کے انتخابات میں خاطر خواہ اضافہ کرلیا، لہذا 1980 میں جب کانگریس نےحکومت میں واپسی درج کی، تو اس نے KHAM والی سوشل انجنیرنگ کا تجربہ کیا۔
سماج کے مظلوم و محروم طبقوں ( کچھتریہ او بی سی، ہریجن، آدیباسی، اور مسلمان، یعنی KHAM) کو اپنا سماجی آدھار بنانے کا ٹھوس قدم اٹھایا، جو گجرات کی آبادی کا 56 فی صد ہے اور 1980 میں 10 فی صد سے بڑھا کر 1985 میں 28 فی صد او بی سی ریزرویشن کر دیا۔
گرچہ کانگریس نے او بی سی سماج کے مادھو سنگھ سولنکی کو وزیر اعلی بنایااور جلد ہی پہلی بار ایک آدی باسی امر سنگھ چودھری کو وزیر اعلی بنا دیا۔ پھر بھی یہی طبقے بعد میں زعفرانی تنظیموں سے منسلک ہو گئے۔ ہوا یوں کہ جب 1980 میں اے بی وی پی نے دس فی صد ریزرویشن کے خلاف احتجاج کیا اور 1981 میں مسلم کش فسادات ہوئے تو نچلے طبقوں نے اس ہنسا سے خود کو الگ رکھا اور مسلمانوں کی حفاظت اور مدد بھی کی۔ لہذا زعفرانی تنظیموں نے اپنی حکمت عملی اور کارکردگی میں 1982 اور 1983 سے ایک تبدیلی لا کر دلتوں اور آدی باسیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر فلاح، راحت رسانی اور امداد کا کام شروع کر دیا۔
اسی لئے کانگریس کی سولنکی حکومت نے 1985 میں ریزرویشن میں مزید اضافہ،دس سے بڑھا کر 28 فی صد کر دیا تھااور ریزرویشن مخالف احتجاج کو مسلم کش فسادات میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس ہنسا میں دلتوں نے بھی حصہ لیا۔ ہوا یوں تھا کہ 1980 کی دہائی کی شروعات میں ٹکسٹائل ملوں کا زوال شروع ہو گیا تھا اور 50 ہزار مزدور بے روزگار ہو چکے تھے۔ ان مزدوروں میں بیش تر ہندو دلت بنکراور مسلم بنکر اور دیگر پچھڑے طبقے کے لوگ ہی تھے۔ مسلم بنکر کے خلاف دیگر ہندو مزدور زعفرانی تنظیموں سے منسلک ہو نے لگے تھے اور اسی لئے یہ بے روزگار مزدور فرقہ وارانہ نفرت کے شکار ہو گئے۔ اور اسی دہائی میں گنگا جل یعنی ایکتا ماتا یاترا لے کر شمال میں ہری دوار سے جنوب میں رامیشورم تک اور مشرق میں گنگا ساگر سے مغرب میں سومناتھ تک یہ یاترائیں نکالی گئیں۔ ان یاتراؤں میں دلتوں کی شرکت بڑھا ئی گئی۔ دلتوں کو بھی ایسی سر گرمیوں سے ایک جذباتی تسکین حاصل ہوئی کہ اب وہ اچھوت کے بجائے ہندو سماج میں کچھ بڑھا ہوا رتبہ حاصل کر رہے ہیں۔ انہی یاتراؤں میں رام جنم بھومی کی تحریک نے شدت اختیار کرنا شروع کیا۔ 1987 میں رام جانکی دھرم یاترا، 1989 میں رام شیلا پوجن، 1990 میں رام جیوتی وجے یاترا، (جس کے سر براہ نریندر مودی تھے) نکالی گئیں۔ سبھی یاتراؤں میں فسادات ہوئے اور اب آدی باسیوں نے بھی مسلمانوں پر حملے کئے۔ سنہ 1990 کی لال کرشن آڈوانی کی رتھ یاترا اسی سلسلے کی کڑی تھی ، جو بنیادی طور پر منڈل کمیشن کی رپورٹ کے نفاذ کے خلاف تھی، ایسا سمجھا جاتا ہے۔
اب ہندوتو اپنے عروج پر تھا۔ بیرونی ممالک میں بھی 1999 میں کئی وشو دھرم پرسار یاترائیں نکالی گئیں۔ سنہ 1995 کے بعد دیہی گجرات میں زعفرانی غلبہ قائم کیا جانے لگا۔ کو آپریٹو اداروں پر قابض ہونے لگے اور اس طرح اقتدار کے مقامی ڈھانچوں پر بھر پور غلبہ قائم کر لیا۔ بلدیاتی اداروں اور تعلیمی اداروں پر قابض ہو گئے۔ اب مذہب کو عقیدہ کے بجائے آئی ڈیا لوجی اور اقتدار کا آلۂ کار بنا یا جا چکا تھا۔
تاریخی اعتبار سے گجراتی معاشرے میں اس تبدیلی کی کیا وجوہات تھیں؟ سنگھ گروہ کے لئے تاریخ کو آلۂ کار بنا کر مسلمانوں کی ظالم والی شبیہہ بنا کر ہندوتو کی سیاست آسان کیوں ہو جاتی ہے؟
سنہ 1893 میں سومناتھ شہر کے پر بھاس پٹن میں تعزیہ کو لے کر ایک فساد ہو گیا تھا۔ تب سومناتھ، ایک مسلم حکمراں کی ریاست جونا گڑھ کا حصہ تھا۔ بمبئ سے لے کر لندن تک اس فساد کو لے کر کافی شور شرابہ ہوا۔ آزادی کے وقت نواب مہابت خاں نے مسلم لیگ کے لیڈر شاہنواز بھٹو کو ریاست کا دیوان بنا کر چاہا تھا کہ پاکستان میں شامل ہو جائے۔ اس کے خلاف سوراشٹر کی ریاستوں میں شدید غم و غصہ تھا۔
در اصل سومناتھ ایک استعارہ بنا دیا گیا ہے ہندوؤں پر مسلمانوں کے شدید ظلم کی تاریخ کااور اس کا تاریخی انتقام لینے کی بات زعفرانی گروہ کرتا رہتا ہے۔
محمود غزنوی نے 11ویں صدی میں چالکیہ راجہ بھیم دیو اوّل کی راجدھانی پٹن اور دیگر شہروں کو تا راج کیا تھا۔ اسی مہم میں سومناتھ کے مندر کو لوٹا اور برباد کیا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت اور کئی سو سال بعد تک کے کئی سارے دستاویزوں میں محمود غزنوی کو اس کی نسل یا جغرافیائی تعلق سے ہی یاد کیا گیا۔ اس کی مذ ہبی شناخت سے اس کا حوالہ کسی ہندو یا جین تصنیف یا کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے۔ (البتہ ایک جگہ غزنوی کو ملیچھ راجہ کہا گیا ہے)
الغ خان اور 1395 میں ظفر خاں نے بھی سومناتھ کو لوٹا۔ ظفر کے باپ راجپوت تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔
سنہ 1411 میں احمد شاہ کی حکومت نے ہندوؤں اور شیعوں ، بالخصوص بوہرہ کے خلاف شدید امتیازی برتاؤ کیا۔ احمد شاہ اور اس کے بعد محمود بے گڑھا کے عہد میں گرچہ گجرات نے اقتصادی طور پر ترقی کی، شہر کاری، تجارت وغیرہ کو فروغ ملا، لیکن ہندوؤں کے خلاف امتیازی برتاؤ بھی کیاگیا ۔ ساتھ ہی ساتھ اہم اور اعلی عہدوں پر بھی ہندوؤں کو فائز کیاگیا ۔ سلطان محمود سوئم (1537-1554) نے بھی یہی کیا۔
اکبر کے عہد میں لبرل پالیسیاں اختیار کی گئیں لیکن اورنگ زیب کے عہد میں امتیازی برتاؤ روا رکھا گیا۔ ہولی دیوالی تک پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ شیواجی نے بھی گجرات کو خوب لوٹا۔ سورت کو کافی نقصان ہوا اور تجارت پر بھی بہت برا اثر پڑا۔ جس کی وجہ سے مراٹھوں کو "غنیم ” یعنی ‘گوریلا’ کہا گیا۔ مراٹھی میں اس لفظ کو مثبت طور پر لیا جاتا ہے ، جب کہ گجراتی میں اسے لٹیروں اور ڈکیتوں کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ لیکن آج شیواجی اور مر اٹھوں کی لوٹ کھسوٹ کو عام ہندو کا اجتماعی حافظہ کسی تلخی سے یاد نہیں کرتا ہے۔
یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ برطانوی عہد میں 19ویں صدی میں شناخت، اجتماعی حافظہ اور یادداشت، سیاست، کلچروغیرہ کو لے کر ان تمام تاریخی پہلوؤں پرایک خاص طرح کی سیاست کی گئی۔ پرتگالیوں اور انگریزوں کے لوٹ مار کی کہانی کواور مسلم حکمرانوں کی لوٹ ماراور امتیازی سیاست کو مختلف طریقے سےاجتماعی ہندو شعور کا حصہ بنایا گیا۔
آج کا ہندو اور مسلمان برطانوی تاریخ نویسی کی اس ہولناک سیاست کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے، جب کہ19 ویں صدی کی اس سیاست پر سنجیدہ غور و خوض کی اشد ضرورت ہے۔ مسلم فرقہ پرستوں کا ایک چھوٹا طبقہ بھی غزنوی کے حملے پر جھوٹے فخر کا اظہار کرنے سےباز نہیں آتا ہے۔

( جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)