ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد

پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

قسط: 8
محض مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے دے کر ہندوؤں کی بڑی آبادی کو کب تک زعفران زدہ رکھا جا سکتا ہے؟
حال ہی کے لوک نیتی کے (چار صوبوں پہ مشتمل) ایک سروے کے مطابق سیمپل کے ہر تیسرے ہندو نے مسلمانوں کو تشدد پسند اور ہنسک مانا اور حال کے برسوں میں ہندوؤں کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی اکثریت پرستی کی حامی جان پڑتی ہے۔ لیکن کیا محض اس نفرت کی بنا پر ایک طویل مدت تک تمام ہندو ووٹ دہندگان بڑھتی اقتصادی بد حالیوں کے باوجود بی جے پی کی حمایت میں متحد رہیں گے ؟ المیہ یہ ہے کہ اسی ہنسک، تشدد پسند ہندو کو اپنا مذہب امن پسند دکھا ئی دیتا ہے!
بی جے پی حکومت نے امیدیں (aspirations) جگانے کے بعددیر یا سویر، مایوسیوں (disappointments) کو راہ دینا شروع کر دیا ہے یا کر دے گی۔ ان کی حکومت کے وعدوں کا کھوکھلا پن کبھی تو عیاں اور ظاہر ہونا شروع ہوگا۔ کتنے لمبے وقفے تک یہ تمام ناکامیوں کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے رہیں گے؟ امیدوں کو محض مسلم مخالف resentment پر کب تک موقوف رکھا جا سکتا ہے؟ بے روزگاری، غریبی، بھک مری، زراعتی بحران وغیرہ کی تمام ذمہ داریاں صرف مسلمانوں پر کچھ برسوں تک ہی رکھی جا سکتی ہیں ۔
کرونا مہاماری میں سرکاری خدمات صحت کی خامیاں (اور عدم دستیابی) بری طرح نمایاں ہو چکی ہیں۔ کیرالہ کی کامیابی اور گجرات کی ناکامی سے نفرت کے پجاری کب تک منہ موڑتے رہیں گے؟ مزدوروں کو مذہب کا افیم جتنا بھی پلایا جا رہا ہو، ان کی بھوک مری و دیگر پریشانیاں، محض تبلیغی جماعت کو ذمے دار ٹھہرا کر بھی کچھ ہی دنوں تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا جا سکتا ہے۔ یا یہ کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی پریشانیوں کے باوجود ہندوتو کا افیم سر چڑھ کر بولنے والے جادو کی طرح کام کرتا ہی رہے گا؟
اسلاموفوبیا پھیلانے کے لئےسوشل میڈیا پربھاڑےکے یا مفت میں خدمت دینے والے جتنے بھی ٹٹو ہیں اور تھے، عرب ممالک میں ان کے خلاف رد عمل نے ان کی نوکریوں پر کچھ خطرے تو ضرور ہی ڈال دیے ہیں۔ واضح رہے کہ تقریباً سوا کروڑ غیر مسلم ہندوستانی عرب ممالک میں روزگار اور تجارت کرتے ہیں، (بین الاقوامی تجارت سے منسلک روزگار کے علاوہ)-
کورونا مہاماری اور اس سے اپجنے والے بے پناہ اقتصادی بحران کے بعد اگر مرکزی حکومت نے غریبوں کے لئے فلاحی کام کے طور پر کارپوریٹ مخالف فیصلے لینا شروع کیا ، توکیا ہوگا؟ اور اگر ان غریب مزدوروں کے لئے کچھ نہیں کیا اور تعلیم یافتہ نوجوانوں اور مزدوروں کو روزگار فراہم نہیں کیا، تو کیا ہوگا؟ متوسط طبقے اور چھوٹے سرمایہ داروں کی پریشانیوں کا اس حکومت کے پاس، کیا حل ہوگا؟
امریکہ اور چین کے بیچ دنیا کی معیشت پر غلبہ قائم کرنے کے شدید مقابلے میں ، ہندوتو کی سیاست کو امریکہ سے کتنی اور کب تک حمایت ملتی رہے گی؟ ہندوستان میں اسرائیل کی طرح کا امتیازی شہریت والا نظام قائم کرنے اور اس طرح کا آئین لانے میں کتنا وقت لگے گا؟
آنے والے دنوں میں ایسے تمام سوالوں پر گہری نظر بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔

(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*