ہندوستان میں زعفرانی سیاست:ایک تفصیلی جائزہ-پروفیسر محمد سجاد


پروفیسر محمد سجاد(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

قسط: 6

اس سیریز کے پچھلے قسط میں، 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں اتر پردیش کے مخصوص بڑے شہروں میں شودروں کے فرقہ واریت کی جال میں پھنسنے کی داستان تھی۔ اب اس قسط میں نندینی گوپتو کی تحقیق کے حوالے سے ہی غریب اور پسماندہ دست کار مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات کی جائے گی ۔

(1920 اور 1930 کی دہائیوں میں جو ہوا وہ آج کی زعفرانی سیاست کو سمجھنے میں کافی معاون ہو سکتا ہےاور ٹھیک اسی طرح آج کے تناظر میں ماضی کی ان دہائیوں کو زیادہ واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے)

مذکورہ دہائیوں میں خلافت تحریک کے تعلق سے رو نما ہونے والے مبینہ موپلا تشدد (جو واقعتا ایک طبقاتی تشدد تھا، لیکن اس وقت کچھ برسوں تک گاندھی جی اور بہت بعد تک امبیڈکر بھی اسے فرقہ وارانہ تشدد ہی مانتے رہے)، شدھی، سنگٹھن، تبلیغ، تنظیم کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا جس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی۔
علما نے مسلمانوں کو شرعی طور پر بہتر مسلمان بنانے کی مہم تیز تر کر دی۔ گوپتو کے مطابق اس مہم میں نئی روایتیں اور رسوم و رواج کی ایجاد کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے کئی پبلک ایوینٹس اور عوامی مظاہرے وجود میں لا دیے گئے۔ اصلاح پسند، احیا پرست اور نجی طور پر تقوی برتنے والے، تینوں طرح کے مسلمانوں نے ایسے پبلک ایوینٹس کو آرگنائز کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح سے مذہبی شناخت کے پبلک مظاہرہ کو فوقیت دی جانے لگی، بر عکس اس کے کہ مذہبی جذبات کو ذاتی و نجی عقیدت مندی تک محدود رکھا جائے۔اس مہم میں اردو اخبارات نے بھی تعاون کرنا شروع کر دیا۔ کان پور مسجد کے وضو خانہ کے انہدام (1913) کے خلاف مزاحمت اور احتجاج سے یہ معاملہ زیادہ بہتر طریقے سے سامنے آنے لگا۔
1892 کے بعد الہ آباد میں معراج شریف یا رجب شریف کے اہتمام میں پبلک جلوس، تقاریر بر سیرت رسول وغیرہ کا اہتمام کیا جانے لگا۔ اس سے قبل اس موقعے سے چند متقی علما اور دیگر عام مسلمانوں کی چھوٹی آبادی نجی طور پر عبادات کیا کرتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان موقعوں سے مذہبی جلسوں، جلوس، تقاریر، نعت خوانی وغیرہ کا اہتمام کرکے عام مسلمانوں کی بڑی آبادی کو بھی اس میں شریک کروا کر پبلک مظاہرہ شروع کر دیا۔ 12 ربیع الاول کو بھی عید میلادالنبی یا بارہ وفات (ہمارے عہد میں تو اس اصطلاح کا استعمال بھی معدوم ہونے لگا ہے)کا اہتمام اب بڑے پیمانے پر کیا جانے لگا۔ لکھنؤ میں اس کا اہتمام 19 ویں صدی کے اخیر سے فرنگی محلی علما نے شروع کیا تھا، جب کہ الہ آباد اور تقریبا دیگر تمام شہروں میں اس کا اہتمام 20 ویں صدی کی اوائل دہائیوں سے پبلک مقامات پر کیا جانے لگااور یہ پہلی ربیع الاول سے شروع ہو کر پورے 12 دنوں تک چل کر 12 تاریخ کو بڑے جلوس کی شکل میں چراغاں وغیرہ کے ساتھ اختتام پذیر ہونے لگا۔ حتی کہ ان جلوسوں میں بھی ہتھیاروں، مثلا لاٹھی، تلوار، وغیرہ کا مظاہرہ کیا جانے لگا۔ اب سے قبل ہتھیاروں کا مظاہرہ صرف محرم کے جلوس میں کیا جاتا تھا۔ شب برات کے موقعے سے بھی پہلے ان کا اہتمام محض فیملی کے درمیان کیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس کا اہتمام بھی پبلک کر دیا گیا اور مسلمانوں میں مارشل جذبہ سرایت کرنے کی غرض سے پٹاخوں کا چلن زور پکڑنے لگا۔
سنیوں کا محرم اور تعزیہ اب ایک استعارہ بن گیا مسلمانوں کے محرومئ اقتدار کے خلاف برٹش مخالف مظاہروں کااور اس طرح رفتہ رفتہ مارشل اور جہاد کا عنصر، ان تقریبات کے ذریعے پبلک مقامات پر مسلمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے ساتھ فروغ پانے لگا۔ علما اور مقتدر مقامی متمول مسلمانوں نے بھی ان مظاہروں کو ہندوؤں کے مذہبی مظاہروں اور جلوسوں کے بالمقابل ایک سیاسی ضرورت کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ اس میں احیا پرست، اصلاح پسند مسلمانوں کے علاوہ شیخ، پیر اور سجادہ نشینوں نے بھی اپنا تعاون کیا۔ الہ آباد کے مشہور دائروں نے بھی خوب پروان چڑھایا۔ بریلوی علمااور بالخصوص احمد رضا خاں کے عقیدت مندوں نے بھی اس کا خاص خیال رکھا کہ textual یا scriptural orthodoxy کے چکر میں عوام کا رشتہ نہ کہیں صوفی اسلام سے ٹوٹ جائے اور ان دائروں کا اثر اور ان کی مقبولیت نہ کم ہونے لگے۔ ان دائروں کا اثر غریب پسماندہ طبقوں میں زیادہ تھا۔ لہذا کئی صوفی دائروں نے اب عرس کا انعقاد 12 ربیع الاول کو ہی کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح اس صوفی اور نبی سے تعلق کو ایک دوسرے سے براہ راست منسلک کر دیا۔
یعنی مذہبی جلوسوں اور پبلک مظاہروں کے ذریعہ مذہب اب ذاتی عقیدت مندی، تقوی اور انفرادی خود مختاری کے بجائے کمیونٹی کو سیاسی طور پر منظم کرنے کے آلۂ کار کے طور پر شروع ہو گیا۔ یہ کام تحریک تنظیم کی معرفت اور بھی زیادہ مضبوط اور توانا ہو گیا۔ ان جلوسوں میں دستکار غریب مسلمانوں کی شرکت خصوصی طور پر زیادہ ہونے لگی تھی۔ ان طبقوں کی بڑی آبادی، اقتصادی اعتبار سے اب زیادہ بدحالی کا شکار ہو چلی تھی۔ بڑھتے فرقہ وارانہ ماحول میں ہندو تاجر اب مسلم دست کاروں، مزدوروں، پیشہ وروں کو ملازمت دینے میں خاصا تامل اور تعصب برت رہے تھے۔ اقتصادی اعتبار سے پریشان یہ طبقہ اب مذہبی عقیدت کی ظاہر پرستی اور کمیونٹی اتحاد میں نفسیاتی سکون کی تلاش کر رہا تھا۔ لہذا1901 کی مردم شماری سے ہی مومن انصاری نے اپنا رشتہ اب مدینہ کے انصار سے جوڑنا شروع کیا اور دیگر پیشہ ور طبقوں نے بھی اپنا اندراج شیخ (مثلا شیخ منصوری، شیخ ادریسی، وغیرہ) میں کرانا شروع کیا۔ اسی دوران کان پور کے عالم مولانا آزاد سبحانی نے ہاتھ سے بنے ہوئے گاڑھا کپڑوں کی تحریک کو منظم کیا اور جمیعت الانصار اور مومن کانفرنس کی تحریک بھی کلکتہ، الہ آباد اور کان پور میں منظم ہونے لگی۔
ان جلوسوں میں بھی اکھاڑا ، کشتی، تلوار بازی وغیرہ کا اہتمام کیا جانے لگا۔ ان سب سے رفتہ رفتہ ان جلوسوں میں ہندو شرکت میں کمی واقع ہونے لگی اور مارشل عنصر غالب آنے کی وجہ سے غازی اور شہید کا تصور نمایاں ہونے لگا اور ان کا اظہار ہندوؤں کے مذہبی و ہتھیار بند مظاہروں کے مقابلے اور مخالفت میں کیا جانے لگا۔ اس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے روز مرہ کے تعلقات میں دوریاں بھی پیدا ہونے لگیں۔
زوال پذیر مسلم قوم کا تصور اب مضبوط ہو چلا تھا۔ اردو اخبارات اس میں نمایاں رول ادا کر رہے تھے۔
لہذا "باوقار شناخت سازی” کی مہم تیز تر ہونے لگی تھی۔ فلاحی، سماجی خدمت اور تنظیم سازی بھی شروع ہوئی۔ کان پور کا فیض عام مدرسہ، مدرسہ جامع علوم، حلیم مسلم ہائی اسکول، مدرسہ الہیات، انجمن اسلامیہ، انجمن محمدیہ، انجمن حفاظت الاسلام وغیرہ قائم کئے گئے۔ چمڑے اور لکڑی کے تاجروں مثلا حافظ محمد حلیم اور کونسل ممبر و بیرسٹر حافظ ہدایت حسین نے نمایاں رول ادا کیا۔ بنارس میں بھی تاجروں نے مدد کی، انجمن تائیدالاسلام قائم کیا۔لکھنؤ میں تعلقداروں نے قدم بڑھایا، انجمن معیدالاسلام قائم کیا۔ الہ آباد میں مولانا محمد حسین، جن کا تعلق بہادر گنج کے دائرہ شاہ حجت اللہ سے تھا، نے انجمن رفاہ اسلام قائم کیا۔ان کے بیٹے ولایت حسین اور پوتے محمد میاں فاروقی نے 1924 میں مدرسہ محمدیہ امدادیہ قائم کیا۔ شاہ محمد فاخر عرف رشید میاں (دائرہ شاہ اجمل) اور ان کے بیٹے شاہد فاخری نے بھی غریب مسلمانوں کو منظم کرنے اور انہیں پلیٹ فارم برائے احتجاج فراہم کرنے میں مدد کیا۔ بنارس میں بابا خلیل داس چترویدی کی سرگرمیاں بھی لائق ذکر ہیں۔ تنظیم کی تحریک نے دست کار مسلمانوں کو مالی امداد فراہم کرکے ان کی اقتصادی مضبوطی کے لئے بھی اقدامات کئے۔ یتیم خانے قائم کرنے، عید گاہوں اور قبرستانوں کی دیکھ ریکھ، املاک اوقاف کی حفاظت وغیرہ کا کام بھی کیا جانے لگا۔
میونسپل پالیسیوں کی وجہ سے بے دخل اور بے گھر ہونے والے مسلمانوں کی مدد کی خاطر 1926 میں ایک نئ تنظیم بنائ گئی، انجمن محافظ املاک مسلمانان۔ شاہ محمد فاخر نے حکیمی سے علاج کی روایت کو بھی مضبوط کیا۔
ہندوؤں کی کتھا محفلوں کے مقابلے میں (اور طرز پر ؟) میلاد کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا، خاص طور پر مل مزدوروں کے علاقوں میں۔ علی غول اکھاڑہ بھی زور پکڑنے لگا۔ اس میں بھی ہتھیاروں کا مظاہرہ کیا جاتا تھا اور پسماندہ دستکاروں کی شرکت ان مظاہروں میں زیادہ ہوتی تھی۔ حتی کہ انگریز افسروں کے فائلوں میں الہ آباد میں کنجڑوں اور قصابوں کو fanatic اور reckless لکھا جانے لگا۔ کہیں کہیں تو عید کے موقعے سے بھی ہتھیاروں کا مظاہرہ کیا جانے لگا۔ ہندو تنظیموں، مثلا سیوا سمیتی، دھڑی کانڈو میلہ، ہری نام جس سمیلن، سناتن دھرم سبھا، جہاں ہر دل، ہنومان دل وغیرہ میں مقامی کانگریس کارکنوں کی شمولیت اور ہتھیاروں کے مظاہروں نے عمل اور رد عمل کا مقابلہ جاتی سلسلہ شروع کر دیا۔ اس سے باہمی فرقہ وارانہ تعلقات پر برا اثر پڑا۔ کان پور کے مل مزدور یونین کے اندر بھی فرقہ وارانہ خطوط پر دراڑیں واضح ہونے لگیں۔

لیکن نندینی گوپتو کی بہترین تفصیلات و توضیحات اپنی جگہ، یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ اکادمک دیانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ اقلیتی فرقہ واریت کو صرف اکثریت کی فرقہ واریت کے رد عمل کے طور پر دیکھنے کا رویہ غلط اور نقصان دہ ہے۔
اسی طرح عوام اور کمزور طبقے کی ہر کمزوری کو خواص کی سازش اور شاطرانہ چال پر ہی موقو ف اور محدود رکھنا بھی کتنا مناسب ہوگا، اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔
کیا عوام کی اپنی آزاد و خود مختار عقل و ایجنسی نہیں ہوتی ہے؟ ان سوالات پر ہمیں غورو فکر کرتے رہنا چاہئے۔

( جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)