ہندوستان میں وبائی امراض کی تاریخ اور چند سبق آموز پہلو-پروفیسر محمد سجاد

جدید عہد کے ہندوستان میں مہاماری کے موضوع پر ہماری جانکاری نسبتا بہت کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نصابی کتابوں میں ہی نہیں ، بلکہ ایم اے تک کے کورسز میں بھی ہماری بہترین یونیورسٹیوں کے شعبۂ تاریخ میں بھی ، شاید ہی کچھ پڑھا یا جاتا ہے۔ میری محدود جانکاری کے مطابق ایسے موضوع پر تحقیق بھی بہت کم ہوئی ہے۔ جو تحقیقیں ہوئی ہیں وہ اکیڈمک حلقے سے باہر پاپولر حلقے تک پہنچائی نہیں گئی ہیں1896-97، 1918-20، اور 2019-20 کی مہاماریوں میں حکومت اور خواص کے رویوں میں ایک افسوس ناک مماثلت ہے۔
اب یہ واضح ہو جاناچاہئے کہ تعلیم اور نصاب اور درس کے موضوع اور مواد کو طے کرنے کی بھی اپنی سیاست ہوتی ہے۔ ہم ایک بڑا سچ عوام سے چھپانے کا جرم کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی یعنی انٹرنیشنل مسافرت کرنے والا طبقہ یعنی تاجر (بیوپاری)، افسر، فوج، یہ تین طرح کے خواص یعنی elite لوگ یہ بیماری ہندوستان لائے اور اسے پھیلایا، لیکن 1897 میں بھی بمبئ کے مارواڑی اور دیگر تاجروں نے ایسی رائے عامہ بنوا دی تھی کہ جیسے slum اور ghetto میں رہنے والے لوگ ہی بیماری لا رہے ہیں اور پھیلا رہے ہیں۔ پولیس کا repression اور surveillance بھی انہی غریبوں کے خلاف تھا۔ یعنی جو کمزور تھے، اقتدار سے باہر تھے ، انہی پر اس بیماری کی ذمہ داری ڈالے جانے کی گندی سیاست اس وقت بھی ہو رہی تھی۔ آج 2020 میں بھی quarantine اور سفر کے انتظام، دونوں محاذ پر ہم نے طبقاتی تفریق و امتیاز یعنی class based discrimination سے کام لیا ہے۔ اور پوری بے حیائی کے ساتھ لیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی جدید تاریخ میں مہاماریوں کے بارے میں چپی کتنی زیادہ ہے، اور کیوں ہے؟
کچھ ہفتے قبل میں نے اپنے ایک دوست دھروب کمار سنگھ سے رابطہ کیا۔ وہ جے این یو سے فارغ ہیں اور اب بی ایچ یو کے شعبۂ تاریخ میں استاد ہیں، اور ہیلتھ اینڈ میڈیسن کی ہسٹری پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان سے گفتگو میں جانکاری ملی کہ مریدولا رمننا Mridula Ramanna نام کی محقق نے ایک تاریخی مطالعہ شائع کیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کتاب کو حاصل نہیں کر پایا۔ ان کا تحقیقی مضمون (2003) ہے، جو کسی اینتھولوجی میں شامل ہے:
The Spanish Influenza Pandemic of 1918-19: The Bombay Experience.

میرا دوسرا source ہے دربھنگہ مہاراج لکچھمیشور سنگھ کی لیجسلیٹو کونسل ، کلکتہ میں وہ تقریر جو انہوں نے 1897 میں بنائے جانے والے مہاماری قانون کے بل پر بحث کے دوران کی تھی۔
اس مہاماری کا ہماری تاریخ کی کتابوں میں جو ذکر آتا ہے اس میں انسانیت کو در پیش پریشانی کی تفصیلات کے بجائے چاپیکر بھائیوں نے پلیگ کمشنر کا جو قتل کیا اور اس قتل کے لئے بال گنگا دھر تلک کی صحافت اور تقریر کو قتل کے لئے اکسانے والی حرکت مانا گیا تھا اور پھر ان پر دیش دروہ کا مقدمہ چلایا گیا، ان سب کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی میں sedition ایکٹ 1870 کے سیکشن 124 A کا استعمال بھی تلک کے خلاف کیا گیا تھا۔
یعنی ایک طرح کا jingoism تاریخ میں دکھایا جاتا ہے،جس میں مہاماری کی human ٹریجڈی کے بجائے ہم ایک خاص طرح کے "نیشنلزم” کی ہی بات کرتے ہیں۔ یعنی عام لوگوں کی بڑی پریشانی سے منہ موڑنے والی نیشنلزم، اور اسی رویے کو مضبوط کرنے والی تاریخ نویسی کے جرم کے مرتکب ہیں ہم لوگ۔ اگر "جرم” ایک سخت لفظ ہے تو پھر دوسرے لفظ "کوتاہی” کا استعمال کیا جائے۔ جس "نیشنلزم” میں لوگوں کا بڑا حصہ بد دیانتی سے الگ رکھا جائے، اسے نیشنلزم کیوں کہا جائے؟
ستمبر 1896 میں بمبئ میں پلیگ کے پہلے مریض کا پتہ چلا اور فروری 1897 تک کئی لاکھ لوگ ہجرت کر چکے تھے۔ جوشاید اس وقت کے بمبئ کی آدھی آبادی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری ہانگ کانگ اور چین سے آئی تھی۔ تقریباً دو ہزار لوگ ہر ہفتے بمبئی میں موت کی زد میں آ رہے تھے۔ حکومت پریشان ہو چکی تھی اور اپنا سارا زور اس پر لگا رہی تھی کہ یہ بیماری کلکتہ نہ پہنچ جائے۔ لیکن مجموعی طور پر یا تو تاریخی دستاویز ہی بہت کم ہیں یا ان کا استعمال کر کے اب تک تاریخ لکھی نہیں گئی ہےکہ آخر کتنے لوگوں کو ہجرت کرنا پڑا، کتنے لوگ دوران سفر موت کے شکار ہوئے؟ اتنا تو طے ہے کہ جتنا دستاویزوں میں درج ہوگا اس سے کئی گنا زیادہ موتیں ہوئی ہونگی۔ یہ بات ہسٹوریکل کامن سینس سے بہ آسانی وثوق سے کہی جا سکتی ہے۔
سنہ 1897 میں جو قانون پاس کیاگیا، اس میں زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ مستقبل میں ایسی مہاماری کو آنے سے کیسے روکا جائے۔ بلکہ کہاجاتا ہے کہ اس پہلو پر بھی دربھنگہ مہاراج نے کلکتہ یونیورسٹی کو کچھ ہزار روپئے کا endowment دیا تھا کہ اس کی ویکسین یا علاج کی تحقیق کے لئے کچھ کام کیا جائے۔ اس سلسلے میں تاریخ نویسوں نے ان پہلوؤں کو اجاگر اور مقبول کرانے کا کام خاطر خواہ طور پر نہیں کیا ہے۔ آج 2020 میں کیا بڑے بزنس گھرانے میں سے کسی نے ایسی پہل کی ہے؟ (صرف خواجہ عبدالحمید کی قائم کردہ کمپنی CIPLA کو چھوڑ کر،جو یوں بھی سستی اور اچھی دوائیاں بنانے کے لئے مشہور ہے)۔فی الوقت اس وبا کے لئے کیا کیا جائے اس پر شاید ہی کوئی توجہ تھی۔
پولیس کا گھروں میں جبرا داخل ہونا اور عورتوں سے بد سلوکی کرنے جیسی باتیں بھی خوب آئیں جس کے خلاف بال گنگا دھر تلک کا تقریری و تحریری احتجاج ہوا اور چا پیکر برادران نے انگریز افسروں کا قتل کیا۔
اس پس منظر میں، اور کچھ حد تک، ان کے نتیجے کے طور پر، تشدد پسندی، دائیں محاذ کی سیاسی روش ، وغیرہ کو بھی فروغ ملا، جس پر کبھی اور گفتگو کی جائے گی۔
کہا جاتا ہے کہ 1918 کی مبینہ اسپینش فلُو یا مہاماری میں بر صغیر ہند یعنی انڈین سب کانٹینینٹ میں تقریباً دو کروڑ لوگ مر گئے تھے۔
وہ ، یعنی Ramanna Mridula کہتی ہیں کہ جون کی 19 تاریخ کو سال 1918 میں سات پولس والوں میں یہ بیماری بمبئی، ہندوستان میں پہلی بار detect ہوئی تھی۔ ستمبر سے یہ بری طرح پھیلنا شروع ہوگئی۔ قلتِ تغذیہ کے شکار (malnourished कुपोषित)بچے اور عورتیں زیادہ تعداد میں موت کا شکار ہوئیں۔ گاندھی جی بھی گجرات میں بیمار ہو گئے تھے۔ سوریہ کانت تریپاٹھی نرالا کے پریوار کے کئی لوگ مر گئے تھے۔ شاید پریم چند بھی انفکٹ (infect) ہو گئے تھے۔ اس کی جانکاری ہندی ادب پڑھنے والوں کو خوب ہے، اس لئے اس پر مزید تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
1918 میں تو اینٹی بایوٹک دوائیں بھی ایجاد نہیں ہوئی تھیں ـ Ramann (2003) اور ڈیوڈ آرنلڈ (2019) اپنے اپنے تحقیقی مضامین میں یہ بتاتے ہیں کہ:
برٹش حکومت نے صرف یہ کیا کہ وہ متاثرین کی تعداد گننے اور اس کا ریکارڈ رکھنے پر زور دیا۔ لوگوں کو کھلے میں سونے اور رہنے کا مشورہ دینا شروع کیا۔ حکومت محض مشورے دیتی رہی جن کے لئے وہ "میمورنڈم ” جاری کرتی تھی۔ اسے اب 2020 کے بھارت میں "نوٹیفیکیشن” کہتے ہیں۔ جس کی تعداد ابھی صرف دو مہینے کے اندر چار ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف ان نو ٹیفیکییشنز کو ہی غور سے پڑھ لیا جائے تو contradictions, Confusions اور policy paralysis کا اندازہ ہو جائےگا۔ ان حالات میں بھی سرکاروں نے پرو ڈیموکریسی ایکٹیو سٹس کی گرفتاری میں اپریل مئی 2020 میں بھی ہانگ کانگ سے لے کر بھارت تک بہت तत्पर्ता دکھائی ۔ بلکہ ہانگ کانگ سے لے کر ہندوستان تک، ان گرفتاریوں کی غیر جانب دارانہ تفصیلی رپورٹوں کے لئے بھی ہمیں دی گارجین، نیو یارک ٹائمس جیسے اخباروں اور دیگر مخصوص پورٹلوں پر منحصر ہونا پڑا ہے۔
یعنی ان سو سالوں (ایک صدی) میں بھی ہم زیادہ بدلے نہیں ہیں۔ تو پھر اس شاعر کا کیا کریں جس نے کہہ ڈالا کہ:
ثبات بس ایک تغیر کو ہے زمانے میں!
برٹش افسران نے تو ہل اسٹیشنوں میں آرام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور وہیں سے طرح طرح کے تعصب اور حقارت بھرے بیان دیتے تھے کہ ہندوستانی ایسے ہوتے ہیں اور ویسے ہوتے ہیں۔ اور ہل اسٹیشنوں میں افسروں اور حکمرانوں کا سنکٹ کے زمانے میں چلے جانا ایک عام بات ہے۔ 1946-47 کے فسادات کے وقت بہار کے گورنر، رانچی سے ہوتے ہوئے شملہ چلے گئے تھے۔
حکومت نے 1918 میں شہروں میں، سینما گھروں، اسکولوں، کالجوں کو بند کروا دیا تھا۔ لوگوں کو فٹ اور ہیلدی fit and healthy رہنے کے مشورے اور نصیحتیں دیتی رہی تھی۔ فیس ماسک اور اسپرے کے مشورے بھی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ 1918 کے بھارت میں کتنے لوگ اور کون سا اسپرے کرتے اور کہاں سے حاصل کرتے؟
اس زمانے میں ٹائمس آف انڈیا اور کچھ مقامی اخبارات نے حکومت سے تھوڑے بہت سوالات اٹھائے تھے کہ آخر حکومت بھی کچھ فراہم کرے گے، دستیاب کروائے گی یا محض مشوروں اور نصیحتوں سے ہی لوگوں کو بہلاتی رہےگی؟ لیکن آج کے مقبول ہندی ٹی وی نیوز چینلوں کی طرح ہی، اس وقت بھی، پریس نے بہت زیادہ سوالات حکومت سے نہیں کئے تھے۔ اس طرح اس نہج پر بھی ہم لوگ زیادہ نہیں بدل پائے ہیں۔
حکومت لاکھوں روپئے خرچ کرنے کا دعوی کر رہی تھی لیکن لوگوں تک وہ رقم پہنچ نہیں رہی تھی ۔ لوگوں تک پہنچانے کیلئے تو شاید وہ رقم تھی بھی نہیں۔ ایسی رقم تو سرکاری دلالوں کی جیبیں بھرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ اور وہ مہا سنکٹ ہی کیسا جو چند مقتدر لوگوں کے لئے موقع یا अवसर نہ بن پائے!
پالیسی سازی یعنی नीति निर्धारण کی سطح پر کنفیوزن اور inconsistency تھی۔ دو اعلی افسران ، ٹرنر اور ہچنسن کے درمیان شدید اختلاف اور بحث محض اس بات پر ہوتی رہی تھی کہ کیا یہ پتہ کیا جائے کہ مہاماری کی شروعات کہاں سے ہوئی؟
اس وقت 2020 میں بھی ہم ایسا ہی دیکھ رہے ہیں کہ کس ملک یا کس مذہب کے لوگوں پر اس مہاماری کی ذمہ داری ڈال دی جائے کہ سماج اپنی حکومت سے کوئی سوال ہی نہ پوچھے۔
بیجاپور کے جیلر نے 1918 میں infected قیدیوں کو رہا کرنا چاہا تھا لیکن برٹش حکومت کی جانب سے کوئی واضح ہدایت نہ مل پائی۔ بمبئی اور کراچی میں تین ماہ تک سنیما گھر بند رہے۔ کاروبار کو بند کرنے سے معیشت تباہ ہوئی، لیکن میری محدود جانکاری کے مطابق اس کا بھی جامع یعنی یا comprehensive مطالعہ ہمارے ایکونومسٹ نے بھی ایسا نہیں کیا ہے کہ عام پڑھے لکھے لوگ اس کو پڑھ کر اپنی معلومات اور احساسات میں اضافہ کر پائیں۔
جب روایتی طریقۂ علاج یعنی آیوروید اور یونانی کی اجازت مرکزی حکومت نے دے دی تو صوبائی حکومتوں نے بمبئی میڈیکل ایکٹ 1912 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت صرف ایلوپیتھی ہی چل پائے گا۔ اور اس طرح مریض بے توجہی کا شکار ہوتے رہے تھے۔
رضاکار تنظیمیں یعنی والنٹیری آرگینائیزیشن ہی زیادہ خدمات انجام دے پا رہی تھیں۔ ذات اور مذہب کی بنیادوں پہ بنی فلاحی تنظیمیں زیادہ امداد رسانی کر پا رہی تھیں۔
یعنی ایک صدی بعد بھی ہماری کوتاہیاں وہیں کی وہیں کھڑی ہیں۔ ہم نے ہیلتھ سسٹم کو عام لوگوں کے علاج کے لئے مضبوط نہیں کیا ہے۔ امریکہ سے لے کر ہندوستان تک سرکاری اسپتالوں کو تہس نہس کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں جس صوبے میں پبلک ہیلتھ نسبتا بہتر ہے وہاں اس بحران یا سنکٹ سے لڑنا کم مشکل رہا ہے۔
چومسکی اور ہراری نے حال کے اپنے مضامین اور کالموں میں یہ واضح کر دیا ہے کہ سائنسی تحقیق اور فارما سیوٹیکل لا ببیاں صرف دل اور دوسری بیماریوں کے لئے دوائیاں بنا کر خوب مہنگی قیمتوں پر بیچنے میں مصروف رہیں۔ میڈیکل سائنس کی تحقیقات میں مہاماری جیسے مسائل کے تئیں توجہ نہیں دی گئی۔ صرف سرمایہ دارانہ لوٹ جاری رکھا گیا۔ ہم نے انہی لوٹنے والوں کی حمایت کرنے والے اور ان کے ہاتھوں بک چکے لوگوں کو اپنا قانون ساز ممبر چنا اور مذہب اور ذات پر مبنی نفرت کو ہی اہم ترین خوراک سمجھ کر اس نفرت کو ہی کھاتے ، پیتے اور اگلتے رہے۔ اور انسانیت سسسکتی رہی۔
ہمیں سماج کےطور پر اس سیاست کو سمجھناچاہئے اور شدت سے اجاگر کرنا چاہئے کہ پولیو اور مہاماری کی ذمہ داریاں سرکاروں اور یو این او کے ڈبلیو ایچ او پر رہتی ہے اور مریضوں سے دولت لوٹنے والی بیماریوں مثلا دل، گردہ، کینسر، پھیپھڑا وغیرہ کے لئے دوا بنانے والی کمپنیوں اور ڈاکٹروں اور کارپوریٹ ہسپتالوں کو امیر بنانے اور لوٹ مچانے کی آزادی ملی رہتی ہے۔ اسٹینٹ (stent) اور اینجیو پلاسٹی (angioplasty) کی قیمت تو ایک عظیم لوٹ کھسوٹ ہے،ایک مہا گھوٹالہ ہے۔!
اس سرمایہ دارانہ سازش کے خلاف مضبوط عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔
اسی مہاماری کے درمیان حکومت اپنا repression جاری رکھتی رہی۔ رولٹ ایکٹ، اور جلیان والا باغ کا قتل عام ، اسی درمیان ہوتا رہا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے 2020 میں اسی مہاماری کے دوران فسادات اورpro democracy پرو ڈیموکریسی کارکن ، طلبا اور دانشوروں کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔
کیا ہم اب آگے عوامی تحریک برائے بہتر طبی سہولیات دیکھیں گے یا صرف فرقہ پرست نفرت میں ہی ڈوبے رہیں گے؟
ہمارے تاریخ نویس اور کہانی اور ناول اور آپ بیتی لکھنے والے تخلیق کار ادیب اور ناقد اور آلوچک بھی ان ٹریجڈیز پر کتنی توجہ دیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن سر دست ہمارے پاس اس کا تاریخی مطالعہ بہت ہی کم ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ”قرنطینہ” نرالا کی کچھ تحریریں، بالخصوص ان کی آپ بیتی کے علاوہ ہمارے پاس زیادہ کچھ نہیں ہے۔ بیدی تو معروف کہانی لکھنے والوں میں ہیں، انہیں بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے، لیکن ان کا یہ افسانہ اب تک اتنی اہمیت کا حامل نہیں تھا، اس پر نصابوں میں، یا ناقدین نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔
آپ بیتیوں اور رپورتاژ قسم کی تحریروں میں بھی لگتا ہے کہ ان موضوعات پر زیادہ کچھ دستیاب نہیں ہے، یا جو کچھ بھی دستیاب ہے اس پر عوام کی توجہ نسبتا بہت ہی کم ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی آپ بیتی "شہاب نامہ "میں بھی پلیگ کا ذکر ہے ، لیکن ایک دوسرے انداز میں ہے۔
دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں تاریخی تحقیق کے تعلق سے بھی جو کچھ کیا گیا ہے، بعض جانکاروں کا ماننا ہے کہ وہ بہت ہی ناکافی ہے۔ فرانسیسی اور انگریزی ادب میں بھی مہاماریوں کا موضوع شاید بہت زیادہ توجہ نہیں پایا ہے۔ کا مو کے ناول "پلیگ” کو بھی نصابوں میں کتنی جگہ اور توجہ ملی ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
‏John M Barry کی 2006 میں شائع کتاب "دی گریٹ انفلوئنزا” بتاتی ہے کہ 1918 کی مہاماری کے بارے میں تحریری کے بجائے لوگوں کے حافظے میں زیادہ مواد محفوظ ہیں۔ امریکی سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اس سے انکار اور اس کو چھپانے کا ہی رویہ رکھا۔ جبکہ یہ وہیں کنساس کی بحری فوج سے شروع ہوا تھا۔ اس کا نام اسپینش فلُو محض اس لئے ہو گیا کہ امریکہ کے بجائے اسپین حکومت نے اس وبا کے آنےکا اعلان کیا ۔ بیری کہتے ہیں کہ سچائی کو عام کرنا ہی پہلی شرط ہے، ایسے سنکٹ سے لڑنے کا۔ اور یہ ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا اعتماد اور وشو اس حاصل رہے، یہ بھی اہم شرط ہے۔
‏ "The final lesson of 1918, a simple one yet one most difficult to execute, is that…those in authority must retain the public’s trust. The way to do that is to distort nothing, to put the best face on nothing, to try to manipulate no one. Lincoln said that first, and best. A leader must make whatever horror exists concrete. Only then will people be able to break it apart.”
امیت کپور کی کتاب riding the tiger میں بھی 1918 کے بعد آنے والی اقتصادی مندی کا تھوڑا ذکر ہے۔ بھارت میں قحط بنگال سے بھی زیادہ موتیں اس مہاماری سے ہوئیں تھیں۔ مہنگائی کافی بڑھ گئی اور جی ڈی پی minus 11 ہو گئی۔ تقریباً دو سال تک یہ وبا ہندوستان میں موجود رہی۔ تاریخ نویس ہی نہیں economists بھی شاید اس موضوع پر خاص توجہ نہیں دیتے ہیں۔
جس طرح 2020 میں ہماری مرکزی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے شروع میں کوئی مشورہ نہیں کیا، یہاں تک کہ خود کیبینٹ کی میٹنگیں تک نہیں بلائیں، اسی طرح 1896 میں بھی کلکتہ کی میونسپلٹی سے تو برٹش حکومت نے کوئی مشورہ ہی نہیں کیا تھا، جس پر دربھنگہ مہاراج لکچھمیشور سنگھ نے کونسل کے اندر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر افسران نرمی اور محبت سے لوگوں کا تعاون مانگیں گے تبھی حمایت ملے گی۔ high handed طریقہ کام نہیں آۓ گا۔ لیکن این رینڈ کا اور آئرسٹ کا قتل ہوا۔ اسی شدت پسندی سے تعلق ہے تشدد پسند سیاست کا بھی۔ مہاراشٹر سے یہ سیاست چل کر ملک میں پھیلی اور بال گنگا دھر تلک کا رول بھی اس میں جو کچھ تھا اور اس سے ہندو مسلم تعلقات پر جو اثرات پڑے اس پر بغیر تفصیل کے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہم لوگوں کو ان واقعات کا از سر نو مطالعہ کر کے ملک میں امن اور ترقی کے لئے کچھ سبق سیکھنا چاہئے۔
تاریخ داں ڈیوڈ آرنلڈ David Arnold نے اپنے ایک حال ہی میں شائع مضمون Death and the Modern Empire میں یہ انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اتنی آبادی موت کا شکار نہیں ہوئی تھی جتنی ہندوستان میں ہوئی تھی۔ سرکاری دستاویز، اخبارات اور یہاں تک کہ نجی تحریروں، مکتوبات و آپ بیتی میں بھی بہت کم ذکر ہے۔ کھانے کی کمی اور بڑھتی مہنگائی اور معیشت یعنی ایکونومی کی ٹوٹی کمر نے ہندوستان میں قحط کا ماحول بنا دیا تھا۔ آرنلڈ کے مطابق ہندوستانی عوام بیماری کے بجائے بھوک اور مہنگائی کی وجہ سے حکومت سے زیادہ ناراض رہی تھی۔
یہاں تک کہ اس زمانے کی تعزیتی تحریروں میں بھی اس زمانے کے ماحول کی تفصیلات اور عکاسی ایسی نہیں ہے کہ وہ تاریخ نویسی میں معاون یا مددگار ثابت ہو سکے۔
حکومت نے اپنے افسران کے ذریعہ زیادہ ذمہ داری عوام پر ہی ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ ہندوستانی معاشرے میں رویہ ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔
لکھنے والوں نے بھی سرکار، سائنس اور معاشرے کے بارے میں کچھ زیادہ ایسا نہیں کہا ہے جس سے اس وقت کے فورا بعد یا آج بہت سبق سیکھا جا سکے۔ آرنلڈ کہتے ہیں کہ ہندوستان کے لئے یہ ایک فراموش کردہ مہا ماری ہی ہے۔
ہمارے آج کے معاشرے میں جس قدر anti- intellectual ماحول بنا دیا گیا ہے، ایسے میں ادب، صحافت، تاریخ نویس، ایکونومسٹ ، ہیلتھ سائنسداں سبھی کو ایسے مسائل پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ اور معاشرے کا اعتماد ان طبقوں میں بحال کیا جانا چاہیے۔ جدید ہندوستان کی ان تینوں مہاماریوں کی تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)