ہندستان میں ماحولیاتی بیداری کا مجاہدِ اوّل: سندر لال بہوگنا-صفدر امام قادری

 

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

 

دو ہفتہ پہلے جیسے ہی یہ خبر آئی کہ ’چِپکو آندولن‘کے تحریک کار بزرگ گاندھی وادی اور مشہور ماحولیاتی مجاہد سُندرلال بہو گُنا کورونا ٹسٹ میں مُثبت پائے گئے ہیں ، اُسی وقت سے یہ خدشہ سامنے آنے لگا تھا کہ شاید اس ظالم بیماری سے وہ محفوظ نہ رہ سکیں گے۔بارھویں دن آخر کار موت کے شکنجے نے انھیں حتمی نیند کی آغوش میں بھیج دیا اور ہندستان ہی نہیں دنیا بھر کے ماحولیاتی کارکنان کے لیے ایک مستقل صدمہ عطا کر گیا۔ کورونا کی دوسری لہر کا زور ایک طرف اور حکومتِ ہند اور اس کی نگرانی میں صوبائی حکومتوں کی بے پروائی اُس پر مُستزاد؛ روز ہی مرنے والوں اور جانے پہچانے چہروں کی ایک فہرست تیّار ہوتی جاتی ہے۔ ہر شعبۂ حیات کی جانب نگاہ کیجیے، اور روزانہ ایک فہرست تیّار ہوتی جا رہی ہے۔ ادبا، شعرا، علماے کرام، اساتذہ اور دانش وروں کے جانے کاایک سلسلہ قایم ہے۔ بڑی عمر والوں کے ساتھ ادھیڑ اور اُس سے بھی کم عمر کے افراد اِس سلوکِ نا روا میں ہم سے جُدا ہوتے جا رہے ہیں۔جمعہ کو اِسی سلسلے میں سُندرلال بہو گنا کی وفات کی بھی اطلاع ملی۔

سُندرلال بہو گنا تحریکِ آزادی میں نو عمر کارکن کے طَور پر سامنے آئے بعد میں جے پرکاش ناراین سے ترغیب لے کر ’سرودے‘ کی تحریک میں شامل ہوئے۔ اس اعتبار سے انھیں گاندھی وادی اور سماج وادی دونوں نقطہ ہاے نظر سے متعلّق سمجھنا چاہیے۔۱۹۶۰ء کی دہائی میں موجودہ اُتّرا کھنڈ میں جے پرکاش ناراین کی موجودگی میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اوّلاً ماحولیاتی سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لیے شرکا کو متوجّہ کیا گیا۔وہیں سے نوجوان سُندرلال بہوگنا اور ان کے دوست چنڈی پرساد بھٹ نے ماحولیاتی سوالوں کو اپنی زندگی کا ایجنڈا بنایا۔

آج ہمارے لیے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ پہاڑ ، جنگل، پانی ، ہَوا کے حوالے سے اچھّی خاصی بیداری پیدا ہو چکی ہے اور اسکول سے لے کر یونی ورسٹیوں تک ماحولیات کے ضروری امور ہماری تعلیم کا حصہ ہیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں بھی اِن باتوں پر غور و فکر کرنے کا ایک رُجحان رہتا ہے مگر آج سے ۶۰؍ برس پہلے ہندستان کے کسی گوشے میں اِن امور کے بارے میں عوامی توجّہ نہیں تھی۔سُندرلال بہو گنا وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے ہمالیہ پہاڑ کے پورے سلسلے کو ہمارے ماحول کے لیے ایک الگ تھلگ حصّے سے نکال کر لازمی جزو بنایا۔اپنی زندگی میں کئی بار وہ چار ہزار کلو میٹر کے زیادہ کے ان علاقوں میں گھومتے رہے ۔ پیدل یاترائیں کیں اور ہمالیہ کی ترائی اور اس کی آبادی کے مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔اِسی دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پہاڑوں پر پیڑ کی کٹائی سے مِٹی کے پہاڑی سلسلے کے گِرنے اور سیکڑوں کے ان میں دب کر مر جانے کا ایک لگاتار سلسلہ موجود ہے۔شہری ضرورتوں نے یہ سوچنے کا لوگوں کو موقع ہی نہیں دیا کہ جنگلوں کی کتنی ضرورت ہے اور اپنے تعمیراتی تعیّش کے جوش میں ہم اُن پیڑوں کو کاٹ کاٹ کر جنگل کو چٹیل میدان میں بدلتے جا رہے ہیں۔سُندر لال بہو گنا نے پیڑوں کے کٹنے کے سوال کو سامنے لانے میں کامیابی پائی مگریہ دیکھا جاتا تھا کہ سرکاری حکم سے اور جرائم پیشوں کی مدد سے جنگلات کاٹے جا رہے ہیں۔

جنگلوں اور پیڑوں کو بچانے کے لیے سُندرلال بہو گُنا اور ان کے دوست چنڈی پرساد بھٹ نے عوامی معاونت سے ایک کامیاب تحریک چلائی ۔ جب حکومت ان کی بات نہیں سُن رہی تھی تو ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ گانوں کے لوگوں کو لے کر وہ جنگلوں میں اُس طرف چلے جاتے تھے جدھر پیڑ کی کٹائی کا سلسلہ ہوتا تھا اور لوگ پیڑ کی اپنے جسموں سے حصار بندی کر دیتے تھے۔ گاندھی اور جے پرکاش ناراین سے سیکھا ہوا عدم تشدّد کا یہ انوکھا طریقہ تھا کہ جسے پیڑ کاٹنا ہے، اُسے اس علاقے کے لوگوں کے انسانی جسموں کو بھی کاٹنا پڑے گا۔اس تحریک کا نام ’چپکو تحریک‘ اس وجہ سے ہی پڑا کہ لوگ پیٹروں سے چِپک کر اُن پیڑوں کی حفاظت کرتے تھے۔مُلک کی سطح پر اگرچہ یہ ایک علامتی تحریک ہی تھی مگر ہندستان کے گوشے گوشے میں پیڑوں کے بے دریغ کاٹے جانے کے خلاف ایک عوامی بیداری پیدا ہوئی۔سُندر لال بہوگُنا کی تحریک نے پورے ملک میں جنگلات کی اہمیت، پیڑوں کی ضرورت اور انسانی زندگی اور اس کے ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے مطابق پیدا کرنے کے لیے عوامی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

سُندر لال بہو گنا نے صرف پیڑ اور جنگل تک اپنے موضوعات محدود نہیں رکھے۔انھوں نے جدید ترقّیات کے وسائل کا جائزہ لیا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ صنعتی انقلاب اور تکنیکی فروغ سے جو ماحول بگڑ رہا ہے اس سے عوامی بے خبری خطرناک ہے۔ انھوں نے ندیوں پر باندھ بنائے جانے ، خاص طَور سے بڑے باندھ بنائے جانے کی سخت مخالفت کی اور ٹِہری میں مجوّزہ ہائی ڈَیم کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ٹِہری بچائو آندولن شروع کیا اور دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب ہوئے کہ اس سے خطرے کیا ہیں۔وہ خود ٹہری گڑھ وال کے رہنے والے تھے ، اس لیے وہ اس سوال کو مزید شدّت کے ساتھ اُٹھانے میں کامیاب ہوئے۔ اگرچہ حکومتِ ہند نے ان کی بات نہیں مانی ، وہ شہر ڈوب گیا اور یہ خطرہ آج بھی بنا ہوا ہے کہ اگرکبھی زلزلہ کا بڑا جھٹکا آیا تو ٹہری ڈیم منہدم ہو سکتا ہے۔ اس وقت اُتّر پردیش سے لے کر گنگا کے کنارے کے شہروں کا کیا ہو جائے گا ، یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔

سُندر لال بہو گنا نے اپنی تحریک میں گاندھی سے سیکھا ہوا ایک سبق بار بار آزمایا۔ پچاس دن اور ستّر دن تک کی بھوک ہڑتا ل انھوں نے کی ۔ ٹہری میں بھی بھوک ہڑتال کی اور دلّی میں گاندھی کی سمادھی پر بھی بھوکے پیاسے مہینوں بیٹھے رہے۔اُنھی کا دباو تھا کہ اِندرا گاندھی کے زمانے میں یہ فیصلہ ہوا کہ پندرہ برس تک پیڑ نہیں کاٹے جائیں گے۔پھر بعد میں حکومت کی یہ پالیسی بنی کہ جب پُرانے پیڑ کاٹے جائیں گے، تو اس سے پہلے اس سے زیادہ تعداد میں نئے پیڑ لگائے جائیں ۔ وہ ہمالیہ اور گنگا کے علاقے میں بار بار چھوٹی بڑی پد یاترائیں کرتے تھے۔جن کا مقصد عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ مسائل کو قریب سے بہ ذاتِ خود دیکھنا تھا۔رفتہ رفتہ ملک میں ان کی یہ حیثیت بھی بنتی چلی گئی کہ ماحولیات کے سوالوں پر اُن کی بات سُنی جانے لگی اور نظامِ تعلیم میں بھی اس بیداری مُہم کے لیے جگہ پیدا ہوئی۔

سُندرلال بہو گُنا کی کامیابی کا ایک خاص پہلوٗ یہ بھی ہے کہ وہ قلم کے بھی مُجاہد تھے۔ ’چِپکو تحریک‘ سے لے کر چند برسوں پہلے تک اپنی تحریکی سرگرمیوں سے متعلّق سوالوں پر وہ اخبارات میں چھوٹے بڑے مضامین لگاتار لکھتے رہے۔اس معاملے میں اُن کی مستعدی حیرت انگیز تھی۔مجھے خود اس کا عینی شاہد بننے کا موقع ملا کہ پَد یاترا کرتے ہوئے شام کے وقت جب کہیں رُکنے کا موقع آیا تو سیکڑوں کی بھیڑ کے باوجود بہو گُنا جی نے کاغذ قلم لیا اور انگریزی اور ہندی میں دو تین صفحات کے پریس نوٹ بنا کر کسی آدمی کے ذمّہ لگایا کہ اُسے پی ٹی آئی میں فیکس کر دیا جائے۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے انھیں اپنا قومی نامہ نگار بنا رکھا تھا۔عام سائز سے بہو گُنا جی ذرا بڑے حروف لکھتے تھے اور دیکھتے دیکھتے چند سطروں میں وہ صفحات پُر ہو جاتے تھے۔اس باضابطگی کی وجہ سے ان کے خیالات دوٗر دوٗر تک بر وقت پہنچے اور ہم خیالوں کی ایک بڑی جماعت اس بیداری کے نتیجے میں بھی پیدا ہوئی۔ ان کے مضامین اِسی بھیڑ اور مصروفیت میں لکھے جاتے اور چھپتے رہے۔ بعد میں مختلف اخباروں نے بھی انھیں اپنا نامہ نگار یا کالم نگار بنایا اور وہ اپنی تحریک کے ساتھ ساتھ اُس کی خبریں بھی عوام تک اس طرح پہنچاتے رہے۔

سادگی، شرافت ، ایمان داری اور عمل کی بنیاد پر وہ آگے بڑھے تھے، اِسے آخر تک وہ نبھاتے رہے۔مجھے یاد ہے کہ بڑے باندھوں کے سلسلے سے ہم چند دوستوں نے ایک عالمی کانفرنس کی۔ اُس میں سُندر لال بہو گُنا ، بہ طورِمہمان تشریف لائے۔ پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر میں انھیں خوش آمدید کہنے کے لیے گیا تھا۔ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف لائے، پچھتّر برس سے زیادہ کی عمر اور میری ہزار گزارشوں کے باوجود انھوں نے اپنا سامان مجھے اُٹھانے کا موقع نہیں دیااور میاں بیوی دونوں پیٹھ پر اپنے سامان ٹانگے رہے۔ریل کے ٹکٹ کے لیے میں نے اُن سے کہا کہ ہمارا ٹریول ایجنٹ یہ کام کر لے گا، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مگر انھوں نے خود کائونٹر پر جا کر کھڑکی سے اپنے ہاتھوں سے واپسی کا ٹِکٹ خریدا۔جس شخص کی دنیا بھر میں پہچان ہو ، اُس میں ایسی سادگی، شرافت اور با عمل ہونے کی حد درجہ صلاحیت ہمیں حیرت میں ڈالتی ہے۔ آج عظمت سے بڑھ کر عظمت کے ڈھنڈھورچی نظر آتے ہیں اور ان کا رعب اور جلال تو نہ جانے کب روزِ قیامت کی بشارت دے دے۔ ایسے ماحول میں سندرلال بہو گنا جیسے لوگ غنیمت تھے۔آج اُن کے گُزرنے کے بعد ہمیں سادہ زندگی اور صوفیانہ لَے کے ساتھ عام آدمی کی طرح رہنے والے بڑے دانش ور اور عظیم شخصیات شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں۔اُن کی وفات کے موقعے سے اس بات کا اطمینان ہے کہ انھوں نے جن سوالوں کو پیشِ نظر رکھا، وہ پورے مُلک میں قابلِ غور سمجھا گیا اور اب دنیا کے سامنے ترقّی اور فطرت میں تواز ن کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر کا ماحول قایم ہو چکا ہے، یہی ایسی زندگیوں کی کامیابی ہے۔