ہندوستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتِ حال پر ایک چشم کشا کتاب-پروفیسر محمد سجاد

 

ایم راج شیکھر ایک غیر معمولی صلاحیتوں والے جواں سال صحافی ہیں۔ انہوں نے تفتیشی صحافت کا نیا پیمانہ اور اعلی معیار قائم کرتے ہوئے ایک غیر معمولی کتاب شائع کی ہے۔ اس فری لانس (آزاد) صحافی کی اکادمک تحقیقی ٹریننگ بھی بہت عمدہ ہے۔ انگلینڈ سے اعلی تعلیم حاصل کر کے ہندوستان کے انگریزی روزنامہ ایکونومک ٹائمز (ٹائمز آف انڈیا گروپ) اور اسکرول میں اپنی صحافتی خدمات کے دوران راج شیکھر نے پچھلے کچھ برسوں میں منی پور، بہار، اوڈیشہ، گجرات، تمل ناڈو وغیرہ جیسے صوبوں کے دیہاتوں اور شہروں میں طویل مدت قیام کیا اور صحت و دیگر بنیادی سیکٹرز میں ریاستی حکومتوں کی کوتاہیوں، انتظامی بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ کو قریب سے دیکھا۔ سیاسی پارٹیوں کی کمزوریوں کو اجاگر کیا۔ فرقہ پرست تنظیموں اور ریاستی حکومتوں اور کارپوریٹ کی سانٹھ گانٹھ کا مشاہدہ اور انکشاف باریک بینی سے کیا۔ ان سب لوٹ کھسوٹ، نفرت و تشدد اور قتل و غارت کا ایک وسیع تر عالمی پس منظر بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی بد ترین شکل میں پورے عالم پر حاوی ہے۔ ان تمام پیچیدہ، مبہم اور غیر واضح صورت حال کو نہایت ہی سلاست اور وضاحت کے ساتھ، ایک آسان اور خوب صورت نثر میں پیش کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ اس کام کو راج شیکھر نے نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔ 300 سے کم صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 30 سے زیادہ صفحات پر مبنی ایک خصوصی باب، صوبہ بہار پر ہے۔ وہاں قیام کے دوران مصنف نے راقم سے اور ارشد اجمل صاحب سے لگاتار رابطہ قائم رکھا، جس کا اعتراف مصنف نے اس باب میں تفصیل سے کیا ہے۔
باب کاعنوان ہے: The Absent State یعنی ایک ایسا صوبہ ،جہاں ریاست یعنی حکومت کا وجود برائے نام ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی حالات خاصے بد تر ہیں ۔ اس عدم وجود کی صورت حال نے فرقہ وارانہ تشدد کو دانستہ و غیر دانستہ طور پر غذا فراہم کرتے رہنے کا خوف ناک کام کیا ہے۔ تفصیلی تبصرہ تو بعد میں شیئر کروں گا۔ ابھی اردو قارئین کے لئے صرف ایک باب، جو بہار پر ہے، اس کا خلاصہ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
راج شیکھر نے اس باب کی شروعات سارن فسادات (اگست، 2016) کے واقعے سے ہے۔ سارن میں شیو چرچا کی تحریک نے زمینی سطح پر بھگوائییت میں جو شدت پیدا کی ہے، اس کی وضاحت اور اس پر مصنف نے تبصرہ بہت اچھا کیا ہے۔ تازہ دہائیوں میں بجرنگ دل نے بہار میں جس قدر اپنے ناخن تیز کیے ہیں اور اپنی جماعت کا سماجی آدھار بڑھایا ہے، اس کی سیاسی معیشت کو بھی قدرے تفصیل سے اجاگر کیا ہے۔
لیکن یہ محض گراؤنڈ رپورٹنگ نہیں ہے۔ یہ گراؤنڈ رپورٹنگ وہ صحافی کر رہا ہے جس کی ایک معقول اکادمک ٹریننگ ہے، وسیع اور گہرا مطالعہ ہے اور دور حاضر کی عالمی سیاست اور معیشت پر گہری نظر ہے۔
نہایت ہی تندہی سے 1990 سے پہلے ، 1990 سے 2005 کے بیچ کے اور 2005 کے بعد کے بہار میں رونما ہونے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو سمجھتے ہوئے 2013 کے بعد کے بہار میں آئی گراوٹ کا جائزہ لیا ہے۔
پینے کے انڈر گراؤنڈ پانی میں آرسینک کی خطرناک مقدار کا انکشاف اور اس سلسلے میں سیاسی پارٹیوں، حکمراں پارٹی، حزب مخالف، بیروکریسی وغیرہ کی سرد مہری، بد عنوانی، کا انکشاف بہت درد ناک ہے۔ فی ہزار آبادی پر ایک ڈاکٹر کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بہار میں حالات اس قدر افسوس ناک ہیں کہ ایک لاکھ کی آبادی پر بھی ایک ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے۔
اس باب کے آخری دو حصوں میں بہار کی اس درد ناک صورت حال کا موازنہ تمل ناڈو سے کیا گیا ہے، جہاں تمل ناڈو کی حکومت نے پینے کے پانی کی دستیابی سے متعلق اپنی کوتاہی کو کیرل اور کرناٹک کے سر منڈھنے کی کوشش کی اور نیتیش کمار نے میڈیا کی مدد سے سو شاسن بابو کے طور پر اپنی شبیہ مشتہر کرنے کی کوشش کی۔ نوین پٹنائک نے لوہے کی معدنیات سے صنعت کاری و روزگار کے مواقع کی توسیع کے بجائے کچھ اور کرنا شروع کیا اور اس کو بے نقاب کرنے کا کام میڈیا و دیگر متعلقہ ایجنسیوں نے نہیں کیا۔ محض لیڈر کے cult کو مضبوط بنا کر ایک خطرناک قسم کی شخصیت پرستی کے کلچر کو توانائی فراہم کرنے کا گناہ کیا جا رہا ہے اور کسی ایک کمیونٹی کو دوسرے کے خلاف نفرت و تشدد میں الجھا کر گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس گندی محاذ آرائی کا بھی ایک خاص طریقۂ کار ہے اور خاص قسم کی بھاشا ئیں ہیں۔ ایسا جرمنی میں بھی 1930 کی دہائی میں کیا گیا تھا۔ راج شیکھر نے Leonidas Donskis کی کتاب Moral Blindness،Zygmunt Bauman
کی کتاب Liquid Modernity،Vasily Grossman کی کتاب Life and Fate،Victor Klemperer کی کتاب دی لینگویج آف دی تھرڈ ریخ،جیکوب ہیکر و پال پئیرسن کی کتاب Winner-Take-All Politics اور متعدد دیگر کتابوں کے حوالے سے موجودہ حالات کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
راج شیکھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ہمیں یوں متنبہہ کرتے ہیں:

"Each of these responses compounds India’s problems. Data fuddging blinds us to reality. Diversion deepens fissures in the country and pushes us closer to communal, caste and ethnic conflagrations. Cultism accentuates political centralization, weakens party democracy and sets the stage for demagogues to come to power” (pp. 179-180).

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*