Home تراجم ہندوستان کی مسموم تکثیریت کے خلاف جدوجہد- معین قاضی

ہندوستان کی مسموم تکثیریت کے خلاف جدوجہد- معین قاضی

by قندیل

رکن نیتی آیوگ ، پی ایچ ڈی معاشیات و انگلش
انگریزی سے ترجمہ : محمد جاوید قاسمی
لیکچرار حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاونڈیشن، کانپور

موجودہ دور میں مسلم حکمراں کے تعلق سے عوام یا تعلیم یافتہ اشخاص کا تصور بڑی حد تک قابل پیش گوئی اور فرسودہ خطوط پر استوار ہوتا ہے۔ یہ بات مختلف علمی بحثوں سے واضح ہو چکی ہے کہ مسلم حکمراں کے تعلق سے عوامی تصور بڑی تیزی سے ایک ایسے خاکہ میں فٹ کیا جا رہا ہے جس کو دائیں بازو کے مورخین نے تیار کیا ہے۔اسلام کے تئیں منفی تصاویر کچھ تو غیر مسلموں کی جانب سے اسلام سے ناواقفیت کی بنا پر سامنے آرہی ہیں اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ مسلمان خود کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کر پا رہے ہیں ۔ اس کے نتائج سامنے ہیں کہ نفرت نفرت کو جنم دے رہی ہے۔اسلام کے تعلق سے جہالت مسلم و غیر مسلم دونوں میں یکساں پائی جاتی ہے۔ غیر مسلم جو اسلام سے ناواقف ہیں وہ اس سے خوف کھا رہے ہیں اور یہ یقین کر چکے ہیں کہ اسلام ان کے بنیادی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔
اسی طرح مسلمانوں کے اندر بھی غلط فہمیاں ہیں۔ غیر مسلموں کی نفرت اور خوف پر رد عمل کرتے ہوئے مسلمان اپنے معاشرے میں دفاعی انداز و ماحول پیدا کرے باغیانہ رویہ اختیار کررہے ہیں ۔ اور ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کی شدت اور غلط فہمی میں ایک عقلمند کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔
ایلیٹ اور ڈاؤن سن کے ذریعے لکھی گئی بدنام زمانہ کتاب "The History of India as told by its Historians” (ہندوستان کی تاریخ خودہندوستانی مورخین کی زبانی) نے مسلم تاریخ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب اس کتاب کو اسکول اور کالجوں میں بڑے پیمانے پر پڑھنے و پڑھانے کے لیے تجویز کیا جاتا تھا۔ اس کتاب کے چند اوراق پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی مسلم حکمرانوں کے خلاف قارئین کے اذہان کو زہر آلود کرنے کی مصنفین کی منظم کوششوں کا پردہ فاش ہوجاتا ہے۔ ان مصنفین کو برطانوی حکومت کے انصاف پسندی اور حسن کارکردگی کا موازنہ مسلم دور حکومت کے مزعومہ اور نام نہاد ظلم و ستم اور آمریت سے کرنے میں خاصی دلچسپی تھی اور انہوں نے مسلم دور حکومت کی من گھڑت کہانیوں کو سچ مان لیا ہے۔موجودہ دور میں سیاست کے زیر اثر تیار کردہ تاریخی کتابیں فرقہ وارانہ نفرت کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ ان کتابوں کے ذریعے ایک ایسا تاریخی شعور بیدار کیا جا رہا ہے جو مذہب کو نمایاں مقام دے کرایک ایسی روایت کی بنیاد ڈال رہا ہے جو کمیونٹی کی شناخت اس کے مذہب کے بنا پر کرتی ہے اور قارئین کے دماغ میں مخالفت کے بیج ڈال رہی ہے اور مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو صحیح تسلیم کیا جارہا ہے ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مغربی مورخین بھی اس بات کو ثابت کر چکے ہیں کہ مغل اپنے نظریہ اور منصوبہ سازی میں تکثیری نظام کے قائل اور فراخ دل تھے۔

ہندوستانی سچائی کی تاریخ
ہندوستانی تہذیب و ثقافت صدیوں تک مختلف میدانوں، خواہ وہ فنکاری ہو، مصوری ہو، دستکاری ہو یا پھر فن تعمیرات ہو، اسلامی تہذیب سے متاثر اور اپنے آپ کو منور کر تی آرہی ہے ۔اس دور کے فنکاروں نے انسانی تخیل کو مہمیز لگائی کہ وہ رنگا رنگ فنکاری کا تصور کرے۔ چھوٹی چھوٹی نقاشی نے محلوں اور مقبروں کو زینت بخشی اور اس کے بعد شہزادوں نے اس دستکاری سے اپنے تاجوں کو سجایا۔
لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مورخین نے تاریخ کا ایک صفحہ بھی بغیر تعصب و جانبداری کے نہیں لکھا۔ ان مورخین کے سینے مسلم دشمنی سے بھرے ہوئے تھے اور وہ حقائق کے مقابلے اپنے نظریے کے زیادہ وفادار تھے۔ مزید برآں ایسے مورخین کو متعصب حکمرانوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی ۔ اس نظریہ کے حامل مختلف تاریخ نویس یہاں تک کہ دانشوروں نے ہر طرح کے اسلامی نشانی کو مسخ کر کے حکمرانوں کی داد و تحسین حاصل کی۔اس معاملے میں یہ متعصبین اس حد تک گئے کہ انہوں نے اسلامی فن تعمیرات کو اپنا بنا کر پیش کر دیا اور اس طرح کے بہت سے معاملات میں حکمرانوں نے اپنے نظریے کے مطابق تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے لیے پرزور تایید و سرپرستی فرمائی۔
مسخ کردہ تاریخ کی تطہیر کا طریقہ
منصف اور غیر جانبدار مورخین کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسلامی تاریخ کو دوبارہ زندہ کرنے اور اس کو باہری نسبتوں سے پاک کرنا ہے۔ سید عبید الرحمن ایک ایسے جرات مند، محنتی اور پرجوش مورخ ہیں جنہوں نے اس عظیم کام کی ذمہ داری اپنے سرلی ہے ۔ اس مشن کے لیے ان کا شوق اور لگن قابل تعریف ہے۔ انہوں نے تاریخ کے عظیم پہاڑ سے انوکھے اور اچھوتے حقائق کا ایک طویل دستاویز اخذ کر کے اس کی ایسے جاذب اور پرکشش انداز میں تلخیص کی ہے کہ کتاب کی جامعیت قاری کو اپنی طرف کھینچ کر عہد وسطی کی ہندوستانی تاریخ کو صحیح زاویہ میں سمجھا دیتی ہے ۔
تہذیبی ہم آہنگی کا عہد رفتہ
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی مطالعہ کی پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ اسکالر Audrey Truschke کے مطابق ہندوستان کے موجودہ مذہبی فسادات کا سبب وہ خیالی مفروضے ہیں جو اس دور بارے میں گھڑ لیے گئے ہیں حالانکہ بر صغیر کی صحیح تاریخ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔وہ اپنی کتاب "کلچر آف انکاؤنٹرز سنسکرت ایٹ مغل کورٹ” میں لکھتی ہیں کہ سولویں عیسوی سے اٹھارویں عیسوی تک ہندوستان میں مسلم اقتدار کے شباب کے دن درحقیقت شاندار آپسی تہذیبی احترام اور ذرخیزی کے دن تھے۔ اس میں مذہب اور تہذیب کے نام پر کسی بھی قسم کا آپس میں ٹکراؤ نہیں تھا۔مزید لکھتی ہیں کہ 1757ء اور 1947ء کے دوران استعماری حکومت نے پھوٹ ڈالو والی پالیسی کو پروان چڑھایا ہے ۔ انگریزوں نے ہندو مسلم کے بیچ کھائی کھود کر اس سے خوب استفادہ کیا اور خود کو غیر جانبدار مسیحا کے طور پہ پیش کیا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ہندو مسلم خلیج کو پاٹ سکتے تھے۔ وہ کہتی ہیں جب 1940 میں استعماری دور کا خاتمہ ہو گیا تو ماڈرن دائیں بازو کے ہندوؤں نے ہندو مسلم دشمنی کو اپنے حق میں اپنی سیاست کے لیے مفید دیکھتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو مزید بڑھاوا دے کر جاری رکھا۔
ان کی تحقیق کے مطابق تعلیم یافتہ مسلمان اور ہندون کے درمیان تعلقات سے پتا چلتا ہے کہ وہ لسانی و مذہبی امور میں ایک دوسرے کے معاون و مدد گار تھے ۔ان کا ریسرچ اس مزعومہ کی تردید کرتا ہے کہ مغل ہندوستان کے روایتی ادب اور تعلیمی نظام کے خلاف تھے، وہ اس بات کا انکشاف کرتی ہیں کہ کس طرح مغلوں نے ہندوستانی مفکرین اور خیالات کی حمایت کی اور خود کو اس سے جوڑنے کی پوری کوشش کی۔اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے سنسکرت میں لکھی گئیں کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کروایا خاص کر تاریخی کتابوں کا مثلاً سنسکرت کی دو عظیم شاہکار رزمیے ۔اس طرح Trushke کے مطابق ماضی کی دانستہ غلط تشریح سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے جو ایک مذہبی خود مختار ریاست کے قائم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مزید کہتی ہیں کہ ایسے وقت میں جب ہندو مسلم میں آپس میں ٹکراؤ ہو رہا ہے اس وقت ہندوستان کی صحیح تاریخ اور ہندو مسلم کے آپسی گہرے تعلقات کی معلومات ناگزیر ہے۔
ایک دوسرا عظیم حکمراں جس کو مورخین نے اپنی دشنام طرازی کا نشانہ بنایا وہ ہے ٹیپو سلطان۔ انگریزوں کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن، ایک ایسا دشمن کی اس جیسے سے شاید ہی انگریزوں کا پالا پڑاہو۔

ہندوستان کی پہلی عالمگیر انقلابی شخصیت
انگریزوں کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہونے والا سب سے پہلا حکمراں ٹیپو سلطان کو برطانیہ کے قومی فوجی میوزیم میں امتیاز کے ساتھ ان سب سے بڑے دس دشمن کمانڈروں کے ساتھ مجسم کیا گیا ہے جن سے برطانیہ کا مقابلہ ہوا۔ ٹیپو سلطان فوجی مدبر کے طور پر نپولین کے ہم پلہ شمار کیے جاتے ہیں۔ فوجی مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیپو سلطان ایک دور اندیش اور تخلیقی صلاحیت کے مالک حاکم تھے۔ فوجی ایجادات و تجدید کاری کے علاوہ ٹیپو سلطان نے نئے سکوں، کیلنڈر اور ایک ناپ تول کا نظام متعارف کروایا جو فرانسیسی تکنیک پر مبنی تھا۔ وہ ایک ایسے ماڈرن حکمراں تھے کہ جنہوں نے پہلی بار فرانسی انقلابیوں کے احترام میں سری رنگا پٹنم میں آزادی کا درخت لگوایا ۔ لیکن برطانوی متعصب تاریخ نویسوں کی وجہ سے ٹیپو سلطان ایک ظالم اور انسانی صفات سے عاری حکمراں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ برطانوی مورخین نے ان کی تصویر ایک خطرناک، متشدد متعصب اور کٹر مذہبی کے طور پہ پیش کی ہے۔ بعض نے تو ان کا موازنہ محمود غزنوی اور نادر شاہ سے بھی کیا ہے۔ ولکس اور کرک پیٹرک (Wilks and Kirkpatrick)نے تو ان پر 60 ہزار کنڑ عیسائیوں کو ملک بدر کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
لیکن یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ان کنڑ عیسائیوں نے میسور اور انگریزوں کے درمیان ہوئی دوسری جنگ کے دوران مینگلور فتح کرنے میں انگریزوں کی مدد کی تھی ۔ ٹیپو نے اپنی سلطنت کے شامی عیسائیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا اور آرمینیائی تاجروں کو میسور میں بسنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ اسی طرح ٹیپو سلطان پر زبردستی اسلام میں داخل کرنے کا ایک غلط الزام لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ 1913ء میں پائے گئے ایک قدیم ریکارڈ سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ٹیپو سلطان نے سرنگیری آشرم کو 21 خط لکھے ہیں ۔ ان خطوط سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ہندو مندروں کے سرپرست تھے۔ ٹیپو کے خلاف انگریزوں کی جانب سے اس شدید زہر افشانی کا کا راز اس چیلنج میں نظر آتا ہے جو اس نے انگریزی اقتدار کے سامنے کھڑا کر رکھا تھا۔ جب راجپوت شہزادوں نے خود کو حوالے کردیا، شیر پنجاب رنجیت سنگھ نے سمجھوتہ کر لیا اور مراٹھا چپکے سے پیچھے ہٹ گیے تو اس وقت تنہا ٹیپو سلطان نے جرآت مندی سے انگریزوں کے مقابلہ کیا تھا۔
ابھرتے ہوئے انصاف پسند مورخین
فراموش کردہ مسلم تہذیب کو بازیافت کرنے کی بہت سی نئی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک مسلم مورخ جناب سید عبید الرحمن صاحب نے ایک نیا غیر جانبدار زاویہ پیش کیا ہے جو مسلم تاریخی منظرنامے کو بڑی جرات کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی فراموش کردہ تاریخ کو تلاش کر کے پیش کرنے کے لیے بہت سے دوسرے ریسرچ اسکالر بھی دادو تحسین کے مستحق ہیں اگرچہ ان کی توجہ خالص شمالی ہند کی تاریخ پر مرکوز رہی جو ان اسکالر کے لیے جنت نما تھا جس کی وجہ سے بہت سا عملی کام وجود میں آیا جس میں کچھ سچائی پر مبنی تھا اور کچھ کا سچائی کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ ان انصاف پسند تاریخ نویسوں نے ہندوستان کی مسموم تکثیریت کو پاک کرنے اور مسلم تہذیب کی بے عیب عظمت کو بحال کرنے میں اپنی پوری کوشش کی۔ جنوبی ہند کی وسیع تہذیب کو زندہ کرنے کے لیے سید عبید الرحمن صاحب ایک بہت مناسب انسان ہیں جو باذوق، پر شوق اور محنتی ہیں. ان کی تحقیق یقینی طور پر مسلم تاریخ کے پس منظر کو تعبیر نو عطا کرے گی۔ یہ بہت ہی جرات اور ہمت کا کام ہے لیکن سید عبید الرحمن کے لیے بہت آسان ہے کیونکہ وہ اپنے مشن کے تئیں بہت پر عزم ہیں۔
جناب سید عبید الرحمن صاحب دہلی نژاد ایک مصنف ہیں جن کی محنتوں سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ہندوستانی مسلم تاریخ کے تحفظ کے لیے وقف کر دی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے اندر انہوں نے کم سے کم پانچ کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان میں سے تین کتابیں علمی حلقوں میں بہت زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہیں۔
"Forgotten Muslim Empires of South India: Bahamani Empire,Madurai,Bijapur,Ahamadnagar,Golconda,and Mysore Sultanets(جنوبی ہند کے فراموش کردہ مسلم سلطلنتیں: بہمنی دور مدرائی، بیجاپور، احمد نگر، کول کنڈا اور میسور سلطنت)Ulema`s Role in India`s Freedom Movement” ) ہندوستان کی تحریک ازادی میں علماء کا کردار )
)Biographical Encyclopedia of Indian Muslim Freedom Fightersہندوستانی مجاہدین آزادی کی سوانحی انسائیکلوپیڈیا (۔
سید عبید الرحمن کا مقصد ہندوستانی مسلم تاریخ کو منظم انداز سے محفوظ کرنے کا ہے ۔ جنوبی ہند کے مسلم سلطنتوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ بات یہ رہی کہ یہ اپنی طرف باصلاحیت مورخین کو متوجہ نہیں کر سکے جو اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ یہ تاریخ بھی اہم تاریخ کا حصہ ہے۔
سید عبید الرحمن صاحب کی کتاب "جنوبی ہند کی فراموش کردہ سلطنتیں” عہد رفتہ کی کھوئی ہوئی عظمت کو زندگی عطا کرتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے عہد وسطی کے مسلمانوں کی تاریخ رقم کی ہے اور اس کتاب کی آنے والی جلدیں مختلف پہلوؤں اور علاقوں پر مزید روشنی ڈالیں گی۔ تاریخ کو ازسر نو دوبارہ لکھنے اور اس کی کھوج کرنے کا یہ کام بہت ہی تفصیل طلب اور محنت کا ہے۔ یہ اس بات کی کوشش ہے کہ عہد وسطی کی مسلم سلطنت کو ہندوستان کی علمی بحث میں جگہ دلا کر اس کی موجودہ ابتری حالت کو صحت سے نوازا جائے۔ تاریخ نویسی کا یہ کام غیر معمولی اور محنت و لگن کا ہے لیکن اگر مقصد کے حصول کا عزم کر لیا جائے تو کامیابی ضرور قدم بوس ہوتی ہے۔

جنوبی ہند کی مسلم تہذیب کی بازیافت
جنانب عبید الرحمن صاحب تمام بادشاہوں کی زندگی، بہمنی دور کے بڑے بڑے حکمراں، جنگوں اور اہم تاریخی مرحلوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ان کے خاندان سے تھے اور وہ ان سے ذاتی طور پر واقف ہیں ۔ جنوبی ہند میں اسلام اور مسلمانوں کی کہانی بہت ہی پرکشش اور مسحور کن ہے۔
اس کتاب میں فرقہ وارانہ تفرقہ بازی اور بد امنی کے لیے ایک اچھوتا علاج موجود ہے۔ یہ کتاب عہد وسطی کے ان اہم ریاستوں کی ایک مختصر مگر جامع تحقیق پیش کرتی ہے جن کی تہذیبی اور فنی میراث مختلف اعتبار سے انوکھی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس طرح مسخ کر دی گئی کہ اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ یہ کتاب عالمانہ انداز سے تحریر کی گئی ہے جو مصنف عبید الرحمن صاحب کے عزم، لگن اور ان کے جذبے کی طرف اشارہ کرتی۔ وہ خود میں ایک مکمل فوج ہیں جو اپنے دل کی آواز کی اتباع کر رہے ہیں۔ عبید الرحمن صاحب نے تاریخ کے ہر دھندلے زاویے کی تحقیق کر کے جنوبی ہند کو اس کا صحیح مقام عطا کیا ہے جو یقینا ایک ناقابل یقین کام ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی ہند میں مسلمانوں کی کافی تعداد موجود ہے لیکن بدقسمتی سے شمالی ہند کے مسلمانوں کے برعکس جنوبی ہند کے مسلمانوں، ان کی حکمراں نسلوں اور مسلم سلطنتوں کی تاریخ اس طرح تفصیل سے نہیں لکھی گئی جس طرح کی ضرورت تھی۔ دوسری جانب کثیر تعداد میں مورخین نے شمال سے اپنا رشتہ جوڑا اور مختلف کتابیں شمال کی تاریخ پر لکھیں جس کی وجہ سے جنوب کے حکمراں کی تاریخ ماند پڑ گئی ۔ اسی وجہ سے شمال پر غیر متناسب توجہ نظر آتی ہے۔ انہی کمیوں کو دور کر کے جنوبی ہند کی تاریخ کا کینواس اس کے صحیح مقام پر رکھنے کی رحمان صاحب کی کوشش ہے۔
شمالی ہند کے تاریخ نویسی میں بھی زیادہ تر توجہ مغلوں کی تاریخ پر رہی جنہوں نے تقریبا تین سوسال حکومت کی۔ جناب عبید الرحمن صاحب نے دہلی سلطنت اور اس کے مختلف حکمرانوں کی تاریخ بہت ہی خوبصورتی سے لکھی ہے لیکن دہلی سلطنت کے علاوہ شمال کے مختلف علاقوں پر حکومت کرنے والی سلطنتوں پر ابھی خاص نہیں لکھا گیا ہے جس میں جونپور کی شرقی سلطنت بھی شامل ہے۔
جنوبی ہند کی مسلم تاریخ بھی دہلی کی تہذیب اور مغل سلطنت کی طرح شاندار اور عظمت والی ہے۔ اس نے اپنی عظمت کھو دی کیونکہ مورخین کو ایسا لگا کہ ان کو حکمرانوں کی ایسی سرپرستی حاصل نہیں ہو گی جو ان کو شمالی ہند کے حکمرانوں کی طرف سے حاصل ہوئی۔ سولویں صدی کے اوائل میں ایک وقت ایسا تھا جب بیدر کی بہمنی سلطنت جنوبی ہند بلکہ برصغیر کی سب سے زیادہ طاقتور سلطنت تھی۔
مسلمانوں کی پریشانی یہ ہے کہ وہ ایک چوراہے پے کھڑے ہوئے ہیں اور مختلف محاذوں پر بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مختلف ایجنڈوں میں کس کو ترجیح دیں ان کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ صرف عبید الرحمن اور Truschke جیسے اشخاص اپنے شوق کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں ۔

تحریک آزادی میں مسلمانوں کا قائدانہ کردار
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کا عظیم کردار رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سن 1800 عیسوی سے 1947 تک کے عرصے پر پھیلی ہوئی آزادی کی تحریکوں میں مسلمانوں کے کردار کو جھٹلانے کی کوشش کی جاری ہے اور ادھر بیس کروڑ مضبوط ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی طرف سے اپنی تاریخ کے تحفظ کے لیے کوئی منظم جدوجہد نہیں ہورہی ہے۔

مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں سے بڑھ کر کردار اور قربانیاں دی ہیں۔ آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے لے کر نواب، شہزادے، ہر طرح کے زمیندار علماء اور اسی طرح دیگر لوگ اس کے لیے کھڑے ہو ئے ، ایک بڑے چیلنج کو قبول کیا اور اس کی آزادی کی خاطر ہر چیز قربان کر دی ۔ علماء کی ایک بڑی تعداد کو پھانسی پے لٹکا دیا گیا۔ 1857 کی بغاوت کے بعد پوری دہلی سے مسلمانوں کو اجاڑ دیا گیا اور انہیں اپنے گھروں کو واپس آنے اور اپنی جائداد تک واپس نہیں لینے دیا گیا ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے مسلمانوں کو بغاوت کا اصلی سازشی قرار دیا گیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو انگریزی حکومت کا پورا غصہ جھیلنا پڑا۔ برطانوی فوجوں نے ان کی عبادت گاہوں اور دوسرے روحانی مراکز پر قبضہ کر کے ان کو فوج گاہوں میں تبدیل کر دیا۔ جامع مسجد ایک فوجی اڈا بن گئی جہاں پہ سکھ فوجیوں کو کئی سالوں تک تعینات رکھا گیا ۔ کافی مذاکرات کے بعد جس کی ابتدا مفتی صدر الدین آزردہ نے کی تھی یہ عبادت گاہیں مسلمانوں کو واپس کی گئیں۔
ممبئی نزاد قلم کار و مورخ امریش مشرا اپنی کتاب In War of Civilizations: India AD 1857 میں لکھتے ہیں کہ دس سال کے اندر جس کی ابتدا 1857 میں ہوئی”ناقابل بیان قتل عام” ہوا جس میں تقریباً ایک کروڑ لوگ بے رحمی سے قتل کیے گیے۔ مشرا کہتے ہیں کہ برطانیہ اس وقت دنیا کا سپر پاور تھا لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی سب سے محبوب ملکیت ہندوستان کو کھو دیا۔ بغاوت میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کردار تھا اسی وجہ سے برطانوی حکومت نے بدترین بدلہ لینے کے لیے مسلم کمیونٹی کا انتخاب کیا ۔ جب برطانوی جلاد پھانسی دیتے دیتے تھک گیا تو بہت سے لوگوں کو سنسان جگہ پر لے جا کر کے گولی مار دی گئی۔
مشرا لکھتے ہیں یہ ایک ہولو کاسٹ (قتل عام) تھا جہاں لاکھوں لوگوں کو غائب کر دیا۔ انگریزوں کی نظر میں یہ ضروری تھا کیونکہ انہوں نے یہ سوچا کہ فتح کے لیے صرف یہی ایک راستہ ہے کہ گاؤں اور قصبوں سے مکمل آبادی کو ختم کر دیا جائے۔ یہ بہت ہی آسان اور بہت بہیمانہ طریقہ تھا۔ وہ ہندوستانی جو ان کے راستے میں آئے قتل کر دیے گئے لیکن اس کی تعدا کو خفیہ رکھا گیا۔
مشرا کے یہ اعداد و شمار کی بنیاد تین بنیادی ذرائع پر مبنی ہے۔ ان میں سے دو ریکارڈ شہید ہونے والے مذہبی مزاحمین کی تعداد ہے جو یا تو اسلامی مجاہدین تھے یا پھر وہ ہندو جنگجو جنہوں نے برطانیہ کو ملک نکالنے کا عزم کیا تھا۔
تیسرا ذریعہ انگریزی کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا ریکارڈ ہے جس میں پانچ یا تین فیصد کے درمیان گراوٹ ہوئی۔ ایک برطانوی سرکاری تاریخ کے مطابق ان خطرناک اور منحوس دنوں میں برطانوی طاقت کے مظاہرے کے لیے یہ کرنا ضروری تھا ۔ اس میں لاکھوں کی تعداد میں بد قسمت موت کے گھاٹ اتار دیے گیے۔
بغاوت میں مسلمانوں کا قائدانہ کردار
مسلمانوں نے بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کیا اور ملک سے برطانوی استعماری اقتدار کا تختہ پلٹنے میں پیش پیش رہے۔ جب برطانیہ کو اس کی خبر ہوئی تو تحریک ریشمی رومال کے سینکڑوں کارکنان بغیر ٹرائل کے سالوں تک جیل میں ڈال دیے گئے۔ اعلی قیادت بشمول مولانا محمود حسن اور ان کے آدھا درجن مریدین کو فرضی ٹرائل کے بعد مالٹا بھیج دیا گیا جہاں انہیں سخت ترین تکالیف دی گئیں۔
حالیہ تحقیق سے اس سے زیادہ حقائق سامنے آئے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ تعاون بے باک مورخ عبید الرحمن کی جانب سے ہوا ہے۔ بغاوت سے پہلے علماء اور صوفیان کرام ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کی پیشین گوئی کر رہے تھے۔ جب بغاوت اپنے شباب پر تھی تو ہزاروں مسلم مجاہدین بغاوت کے لیے نکل پڑے اور آخر دم تک لڑے جس میں کانپور و شاہ جہان پور کے ساتھ ساتھ دہلی، لکھنؤ بریلی، آگرہ، تھانہ بھون شامل تھا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب باغیوں نے ہار مان لی اور میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تو مسلم مجاہدین کھانے پانی کی کمی کی وجہ سے کئ دن تک خالی پیٹ انگریزوں سے سخت مقابلہ کرتے رہے ۔ ان مجاہدین کو برطانوی فوج کو لوٹنے کے خلاف بھی بہت بڑی قربانیاں دینی پڑیں جس نے آخر کار ان باغیوں کو شکست دے دی تھی۔
1857 کی بغاوت پھوٹنے سے پہلے بہت سے مقامات پر علماء جہاد کی دعوت دے رہے تھے۔ مولوی احمد شاہ آگرہ میں جہاد کی تبلیغ کر رہے تھے۔ ان کو 1857 سے دو سال پہلے فیض آباد میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس و قت رہا کر دیا گیا جب جہاد شروع ہو گئی اور حامیوں نے فیض آباد جیل توڑ دی۔ بالکل یہی معاملہ مولوی لیاقت علی کا تھا جنہوں نے بغاوت کے دوران الہ آباد کی ذمہ داری سنبھالی اور پھر بعد میں بہادر شاہ ظفر کے ذریعے ان کو گورنر منتخب کیا گیا۔
صرف علماء اور صوفیان کرام ہی نہیں بلکہ مسلم نواب، زمیندار، عام شہریوں نے بھی بہت بہادری کے ساتھ لڑائی لڑی اور ملک کی آزادی کی خاطر زبردست قربانیاں دیں ۔ بہت سے نواب جنہوں نے بغاوت کی حمایت کی یا وہ لوگ جنہوں نے کسی بھی طریقے کی اخلاقی حمایت کا اظہار کیا ان کو برطانیہ نے سخت سزائیں دیں۔
ولیم ڈیلیمپل (William Dalrymple)اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ وہ شہری جو قتل سے بچ گئے تھے ان کو ملک کے باہر لے جاکر چھوڑ دیا گیا کہ وہ خود اپنی حفاظت کریں۔ دہلی کو خالی ویران چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ شاہی خاندان نے بہت آرام سے خود کو حوالے کر دیا تھا لیکن شہنشاہ کے سولہ بیٹوں کو گرفتار کیا گیا اور پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اسی دوران تین شہزادوں کے پہلے ہاتھ کھول دیے گئے، پھر کپڑے اتارنے کا حکم دیا اس کے بعد بے رحمی سے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ کیپٹن ولیم ہڈسن اگلے دن اپنی بہن کو لکھتا ہے کہ میں نے 24 گھنٹے کے اندر تیمور تاتار کے گھر کے اہم افراد کو ختم کر دیا۔ میں ظالم نہیں ہوں لیکن میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں ان بدقسمتوں کی زمین پر سوار ہونے کے موقع سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔

زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت
آج بھی کٹر منصوبہ ساز ہندو ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداری کا امتحان وقتا فوقتاً لے رہے ہیں۔ جیسا کہ عظیم برطانوی سیاستدان جیمز بالڈون "نوٹس آف نیٹو سن” میں لکھتا ہے ” لوگ تاریخ میں پھنسے ہوئے ہیں اور تاریخ ان میں پھنسی ہوئی ہے”۔ تاریخ کو ایک بار پھر دوبارہ لکھنا ہی ریکارڈ کو صحیح اور ان غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے جو جانبدار متعصب مورخین کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں، جن کی کتابوں میں خیالی باتیں قیاس آرائی اور گھسی پٹی باتوں نے حقیقت اور اصلیت کی جگہ لے رکھی ہے۔ بصورت دیگر ہم عظیم مفکر والٹر بن جامین کے اندیشوں کو صحیح کر دیں گے کہ” فاتحین تاریخ رقم کرتےہیں۔” یہ متناقض جملہ” بھگوان ایس گڈوانی اپنی کتاب” سوارڈ آف ٹیپو سلطان” کے انتساب میں خوب اچھی طریقے سے برتا ہے جنہوں نے اپنی ناول لکھنے کے لیے تیرہ سال تک آدھا درجن سے زیادہ ممالک کے محافظ خانوں کا دورہ کیا. وہ لکھتے ہیں "اس ملک کے نام جو ایک مورخ سے محروم ہے، ان لوگوں کے نام جن کی تاریخ باز آباد کاری چاہتی ہے۔
ہندوستان کی حالیہ ماضی کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ مسلمانوں کو اپنی تاریخ کے تحفظ کے لیے شعوری محنتیں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اس میں وسائل اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلم تنظیموں کو اس میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے یا وہ لوگ جو اس خلا کو اپنے طریقے سے پر کر رہے ہیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔

You may also like