ہندوستان کے قریب 20 فیصد پانی میں آرسنک زہریلی سطح پر،ملک کی 25 کروڑ سے زیادہ آبادی کو خطرہ: تحقیق میں خلاصہ

نئی دہلی:آئی آئی ٹی کھڑگ پور کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کے کل زمین کے 20 فیصد حصہ میں آرسنک کی سطح زہریلی ہے اور ملک کی 25 کروڑ سے زیادہ آبادی کو اس خطرے کا سامنا ہے۔ اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تخمینہ لگانے والے نظاموں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق ماحولیات کے جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔ مطالعے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پورے ملک میں آرسنک سطح کے نمونے اکٹھا کرنے کے لیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق آرسنک ایک انتہائی زہریلا عنصر ہے جس کی پینے کے پانی اور کھانے میں طویل مدتی موجودگی کینسر جیسی مہلک بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔ موجودہ مطالعے میں ذکر کیا گیا ہے کہ اعلی آرسینک مواد کے حامل یہ علاقے بنیادی طور پر دریائے سندھ – گنگا، برہم پتر ندی کے میدانی علاقوں اور جزیرہ نما ہندوستان کے کچھ علاقوں پر مشتمل ہیں۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زیرزمین پانی میں اعلی آرسینک مواد والی ریاستیں پنجاب (92 فیصد)، بہار (70 فیصد)، مغربی بنگال (69 فیصد)، آسام (48 فیصد) ہریانہ (43 فیصد)، اترپردیش (28 فیصد) اور گجرات (24 فیصد) ہیں۔ کھڑگ پور (مغربی بنگال) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ابھیجیت مکھرجی نے کہاکہ ہندوستان کے زیر زمین پانی میں اعلی آرسینک مواد کی گرفت میں 25 کروڑ سے زیادہ کی آبادی کے آنے کاخطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالعہ ہندوستان میں آرسینک کی تقسیم کے بارے میں زیادہ تفصیل فراہم کرتا ہے۔ مطالعاتی ٹیم میں شامل ماہرین نے بتایا کہ انہوں نے حکومت کے واٹر لائف مشن کے 27 لاکھ رقبے کی پیمائش کی ہے، جو اس مہم کے تحت لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پینے کے پانی کا 80 فیصد حصہ زمینی پانی ہے۔