ہندوستان کے دیہی علاقوں میں کیاگیا سروے،50 فیصد خاندان کھا رہے ہیں کم کھانا

نئی دہلی:ملک کے 12 ریاستوں کے دیہی علاقوں میں 5000 گھروں کو لے کر کئے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس وبا کو روکنے کے لئے لاگو بند کے درمیان ان میں سے آدھے خاندان کم کھانا کھا رہے ہیں۔اس سروے کا نام ’کووڈ 19 انڈیوسڈ لاک ڈاؤن-ہاؤ ازہنٹرلینڈ کوپنگ‘ یعنی کووڈ19 کی وجہ سے لاگو بند میں دور دراز علاقے کس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔یہ سروے 47 اضلاع میں کیا گیا ہے۔لاک ڈائون نافذ ہونے کے بعد دیہی علاقوں میں 50 فیصد ایسے خاندان ہیں جو پہلے جتنی بار کھاناکھاتے تھے اس میں کمی کر دی ہے تاکہ جتنی بھی چیزیں دستیاب ہیں، اسی میں کسی طرح سے کام چلایا جا سکے۔وہیں 68 فیصد خاندان ایسے ہیں جن کے کھانے کی اقسام میں کمی واقع ہوئی ہے یعنی ان کی پلیٹ میں پہلے کے مقابلے کم قسم کے کھانے ہوتے ہیں۔مطالعہ کے مطابق ان میں سے 84 فیصد ایسے خاندان ہیں جنہوں نے عوامی ترسیل نظام کے ذریعے کھانے کی اشیاء حاصل کی اور 37 فیصد ایسے خاندان ہیں جنہیں راشن ملا۔وہیں 24 فیصد ایسے ہیں جنہوں نے گاؤں میں اناج ادھارلیا اور 12 فیصد لوگوں کو مفت میں کھانے کی اشیاء ملی۔بدھ کوویبینار میں یہ سروے جاری کیا گیا۔مطالعہ سے یہ انکشاف ہوا کہ یہ خاندان موسم ربیع کے مقابلے میں موسم خریف میں ذخائر پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، لیکن یہ ذخائر بھی اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔مطالعہ میں کہا گیا کہ یہ خاندان اب کم کھانا کھا رہے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں کم بار کھانا کھا رہے ہیں اور ان انحصار پی ڈی ایس کے ذریعے حاصل کئے گئے اناج پر بڑھ گیا ہے۔سروے سے یہ نکل کر سامنے آیا ہے کہ خریف فصل 2020 کے لئے تیاری اچھی نہیں ہے اور بیج اور نقد رقم کے لئے مدد کی ضرورت ہے۔مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ بند اور افواہ کی وجہ سے دودھ اور چکن پر برعکس اثر پڑا ہے،لوگ اپنے کھانے کی عادتوں میں تبدیلی کر رہے ہیں اور اخراجات کم کررہے ہیں۔اس کا مطالعہ آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، جھارکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، راجستھان، اترپردیش، مغربی بنگال میں کیا گیا ہے۔