Home قومی خبریں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے زیر اہتمام "ہندوستان اور کویت : تاریخی،علمی اور ثقافتی رشتے” کا اجرا 

جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے زیر اہتمام "ہندوستان اور کویت : تاریخی،علمی اور ثقافتی رشتے” کا اجرا 

by قندیل

نئی دہلی: نیت نیک ہو تو منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتاہے، عبدالقادر شمس کی کوشش غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے،انہوں نے موضوع کے ساتھ انصاف کرتےہوئے ایک مضبوط نیوقائم کردی ہے اب محققین کی ذمہ داری ہے وہ اس کام کو آگے بڑھائیں،یہ کتاب حرف آخر نہیں ہے تاہم اپنی نوعیت کا یہ اولین کام ہے جس کی ترتیب و اشاعت کے لئے میں ڈاکٹر خالد اعظمی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار ناموراسلامک اسکالر، دانشور پدم شری پروفیسراختر الواسع چیئر مین خسرو فاؤنڈیشن دہلی نےکیا۔وہ آج’’ ہندوستا ن اور کویت،تاریخی ،علمی اور تقافتی رشتے‘‘نامی کتاب کی جامعہ نگر کے ابوالفضل انکلیومیں واقع ہوٹل ریورویو میں اجرا کی تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریب کے شاندار انعقاد پر جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار اور اس کے بانی ڈاکٹر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ ضرورت ہے کہ یہ کتاب کویت کے ہر کتب خانے اور علمی افراد کے ہاتھوں میں پہنچے ،اس کتاب کا اجرا جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے بینر تلے ہورہا ہے ،یہ اس بات کی علامت ہے کہ مولانا عبد القادر شمس اور مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے درمیان جو گہرا اور مضبوط رشتہ تھا وہ اب بھی باقی ہے۔اب دونوں کے صاحبزادوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ ان کے مشن کو آگے بڑھائیں اور اپنے اسلاف کا نام روشن کریں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر امام مہدی سلفی نےکہاکہ کام کرنے والوں کی قدر ہونی چاہیے ،جیسے‌مغفرت اور درجات کے بلندی کی دعا کرنا بہترین ہدیہ اور تحفہ ہے،اسی طرح ان کی خوبیوں کو اجاگر کرنا بھی ہے۔آج کی اس انجمن کی پہلی اینٹ عبد القادر شمس ہیں ،جنہوں نے اتنا بڑا کام کیا ۔پروفیسر اقتدار محمد خان صدر شعبہ اسلامک اسٹیڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ نےکہاکہ جب عبد القادر شمس یہ مقالہ تیار کررہے تھے تو بارہا ان سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال ہوا،وہ جس محبت وانکساری سے ملتے تھے اس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ نوکری کے لئے نہیں بلکہ ریسرچ کے لیے اس عنوان پر کام کررہے ہیں ،جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ کام پروفیسر اختر الواسع جیسی علمی اور فکری شخصیت کے زیر نگرانی ہو رہا تھا۔ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے کہاکہ اس طرح کی مجلسیں روز ہوتی ہیں ،لیکن آج کی یہ مجلس اس اعتبار سے خاص ہے کہ یہاں ہر میدان کے ماہرین کا اجتماع ہے اور ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ کتاب ہندوستان اور کویت کے ہمہ جہت تعلقات پر بھرپورروشنی ڈالتی ہے،ڈاکٹر خالد اعظمی نے بہت محنت سے اس کی تہذیب و تدوین کی ہے اور قیمتی اضافے کیے ہیں۔

معروف صحافی سہیل انجم نےبہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی بات رکھتےہوئے کہاکہ مرنے کے بعد جن تین صورتوں میں متوفی کو ثواب ملتا رہتا ہے ان میں ایک ذریعہ علم کا یا علمی کتاب کا چھوڑنا بھی ہے۔اس کتاب کا جب تک مطالعہ کیا جاتا رہےگا عبدالقادر شمس اور ڈاکٹر خالد اعظمی کو ثواب ملتا رہےگا۔ڈاکٹر وارث مظہری نےکہاکہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک اہم حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔بنیادی اور ثانوی مصادر کو سامنے رکھ کر لکھی گئی یہ تحقیقی کتاب امید ہےکہ ہندوستان اور کویت کے درمیان علمی و ثقافتی رشتوں کے استحکام میں اہم کردار اداکرے گی ۔ مفتی محمد انصار قاسمی نےکہاکہ جیسے ایک کنبہ کے چند افراد ہوتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ فرحت ومسرت کے موقع پر جمع ہوں،ادارہ کی بھی حیثیت ایک کنبہ کی ہے،مفتی محفوظ الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس طرح کی مجلسیں ہمیشہ منعقد کرتے تھے ،آج ان کے جانشین قاری ظفر اقبال مدنی مہتمم جامعۃ القاسم نے بھی یہی کام کیا ہے۔انہوں نے مولانا عبدالقادر شمس اور مفتی محفوظ الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے چاہنے اور محبت کرنے والوں کو ایک جگہ جمع کردیا۔ڈاکٹر اجمل قاسمی نے عبدالقادر شمس سے اپنے تعلقات کا ذکرکرتےہوئے کہاکہ مقالے کی تیاری میں انہوں نے بہت محنت کی تھی ،بلاشبہ یہ ان کی محنت اور خلوص کا ہی نتیجہ ہےکہ اتنی بڑی تعداد میں اہل علم یہاں موجود ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کررہےہیں۔ ڈاکٹر ابوالمفضل حسین نے اوقاف پر دلچسپ گفتگو کی اور کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اس موضوع پر مطالعہ کیا جائے بہت سارے لوگ ناواقفیت کی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ جدید معاشی نظام میں اس ادارے کا کوئی مثبت رول نہیں ہے جب کہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نےکی۔انہوں نےکہاکہ ڈاکٹر خالد اعظمی نے دو سال کی محنت شاقہ کے بعد اس کتاب کو شائع کیا ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ مو لانا عبدالقادر شمس کا خلوص اور محبت ہی نہیں بلکہ ان کی کرامت ہے، بہت ہی کم عرصے میں ان کی شخصیت پر تین کتابیں آچکی ہیں۔ڈاکٹر خالد مبشراسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نےبھی کتاب کے مشمولات پر روشنی ڈالی۔معروف صحافی سراج نقوی نےکہاکہ عبدالقادر شمس کی قلم پر مضبوط گرفت تھی یہی وجہ ہےکہ یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم تحقیق ہے۔ کتاب میں جس طرح سے دونوں ممالک کے تعلقات پر اور دیگر موضوعات کا احاطہ کیاگیا ہےوہ قابل قدر ہے۔ پرورگرام کا آغاز قاری نیاز الدین ندوی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔اس موقع پر مفتی امتیاز قاسمی فقہ اکیڈمی دہلی ،شمس تبریزقاسمی ملت ٹائمز،ڈاکٹر منظر امام،عمار جامی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ،جبکہ تقریب میں کثیر تعداد میں علما، اہل علم ،دانشور اور صحافی موجود تھے جن میں شاہ جہاں شاد سیکریٹری سمانچل ڈیولپمنٹ فرنٹ بہار، جاوید خان احساس پیس فاؤنڈیشن ،ڈاکٹر یامین انصاری،ریزیڈنٹ ایڈیٹر انقلاب ،شاہ عالم اصلاحی نیوز ایڈیٹر انقلاب، اے این شبلی چیف بیورو روزنامہ ہندوستان ایکسپریس، ڈاکٹر نعمان قیصر،اشرف علی بستوی ایشیا ٹائمز، یاوررحمن،نایاب حسن قاسمی، مولانا فیروز اختر قاسمی،مفتی راشد خان،مولانا ابو بکر قاسمی،الحاج بذل الرحمن،مولانا زکریا قمر قاسمی ممبئی،قاری عظیم الدین،توقیر راہی،انوارالوفا،سلام الدین خان،نوشاد عالم ندوی،مولانا نسیم مظاہری،انوار الحق ،مولانا ارشد عالم ندوی اورقاری اکبر علی عثمانی کے نام قابل ذکرہیں۔

You may also like

Leave a Comment