وشو ہندو پریشد لیڈر ملند پرانڈے کا نوجوانوں کو مشورہ،ہندو نوجوان شادی کے بعد 2 سے 3 بچے پیدا کریں

لکھنو:کھنڈوا میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی جانب سے مشترکہ طور پر ہندو یوا سمیلن کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، یہاں وشو ہندو پریشد کے مرکزی جنرل سکریٹری ملند پراندے نے ہندو نوجوانوں سے 3 بچے پیدا کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہندوؤں کی آبادی کم ہوئی تو ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لیے نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے تحفظ کے لیے بھی ہر ہندو خاندان میں 2-3 بچے ہونے چاہئیں، پہلے ان کی نصیحتیں سنیں اور پھر آگے بتائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندو سماج اپنی تاریخ سے تحریک لیتا ہے اس لیے ہندوؤں کا تاریخ سے تعلق توڑ دیا گیا تاکہ ہندو سماج کو تحریک نہ ملے، اس لیے انہوں نے ہمارے تعلیمی نظام کو خراب کیا۔ اس میں ترشول کی شروعات بھی کی گئی اور لو جہاد،تبدیلی مذہب ،گئوکشی کو روکنے کی قرارداد پیش کی گئی۔