ہندو راشٹر کے لیے نئی پارلیمنٹ کا سنگِ بنیاد ـ سمیع اللہ خان

ہندو احیا پرستی کے قدیم ویدک منتروں کے ساتھ برہمن پنڈتوں کی رہنمائی میں وزیراعظم نریندرمودی نے آج بھارت کے لیے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا شیلا نیاس کیا اور ہندو مذہب کےمطابق اس کا افتتاحی بھومی پوجن کیا، جس سے یہ واضح ہے کہ اگلی پارلیمنٹ کن پنڈتوں کے ہاتھوں میں ہوگی ـ وزیراعظم نریندرمودی نے نئی پارلیمانی عمارت کو مندر سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ پارلیمنٹ ہاؤس نئے بھارت کی علامت ہوگا ـ
نئی پارلیمانی عمارت کی تجویز نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا چیئرمین وینکیا نائیڈو نے لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا کے ساتھ ملکر ۵ اگست ۲۰۱۹ کو پیش کی تھی
اس عمارت کا ڈیزائن گجراتی کمپنی ” HCP Designs ” نے بنایاہے ـ نئی پارلیمانی عمارت میں لوک سبھا کے 888 ممبران کے لیے جگہ ہوگی جبکہ ابھی لوک سبھا میں 543 سیٹیں ہیں، راجیہ سبھا میں 384 کے لیے جگہ ہوگی جبکہ ابھی راجیہ سبھا میں 245 سیٹیں ہیں، اور اسی طرح متحدہ سیشن میں 1224 ممبران کے لیے جگہ ہوگی، لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اچانک اتنی زیادہ سیٹوں کا اضافہ کیوں ہونے جارہاہے اور یہ تقسیم کہاں اور کن بنیادوں پر ہونے والی ہے؟ پارلیمنٹ کے ممبران کے یہ متوقع اعداد چونکانے والے ہیں ـ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے لیے موجودہ پارلیمنٹ میں کوئی بحث کوئی مشترکہ مرحلہ مکمل نہیں کیاگیاـ
نئی پارلیمانی عمارت دراصل ” سینٹرل وِستا پروجیکٹ ” کا ایک حصہ ہے، اس پروجیکٹ کے تحت صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ بھارت کی کئی مرکزی عمارتوں کو منہدم کرکے ازسرنو تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، اس کے تحت ہندوستانی صدارتی عمارت سمیت نائب صدر کی رہائش گاہ کی بھی تعمیرنو شامل ہے، اس پروجیکٹ کے تحت پارلیمنٹ ہاؤس سے لیکر انڈیا گیٹ تک کے فاصلے میں کافی کچھ تبدیل کیا جائے گا، نئی پارلیمانی عمارت پر 971 کروڑ خرچ ہوں گے، اور یہ 2022 میں بن کر تیار ہوگی ـ
اسی بنا پر سپریم کورٹ میں سینٹرل وِستا پروجیکٹ کےخلاف مقدمہ بھی چل رہا ہے اور سپریم۔کورٹ نے مرکزی حکومت کو اسی وجہ سے یہ مشروط اجازت دی کہ جب تک اس پروجیکٹ کےخلاف چل رہے تمام مقدمات ختم نا ہوجائیں وہ صرف نئی پارلیمانی عمارت کا بھومی پوجن کرسکتےہیں کسی بھی تعمیری کام کے آغاز اور عمارت کو منہدم کرنے کی ابھی اجازت نہیں ہوگی ـ ویسے سچ میں سپریم کورٹ ہندوستانیوں کی اکثریت کو لگتا ہے کہ مودی بھکت جیسا غیر معقول سمجھ رہا ہے یعنی بھومی پوجن کی اجازت دے دی تو ظاہر بات ہے آگے مکمل تعمیرات کی بھی اجازت مل ہی جائے گی ابھی یہ جتلانے کی کیا ضرورت ہے کہ کورٹ نے صرف نئی عمارت کے شیلا نیاس کی اجازت دی ہے ـ
دوسری طرف ہندوستان کے 60 نوکر شاہی افسران نے خط لکھ کر وزیراعظم نریندرمودی سے اپیل بھی کی ہےکہ وہ ایسے پروجیکٹ سے باز رہیں ـ ان سینئر افسران نے مودی سے یہ بھی کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ بھارتی عوام کو صحت کے سیکٹر میں مضبوطی اور پیسوں کی ضرورت ہے تب کروڑوں کے خطیر بجٹ کے ساتھ ایسا پروجیکٹ شروع کرنا ” وزیراعظم کا غیر ذمہ دارانہ قدم ہے ” افسران نے ان کاموں کے لیے کمپنی کے انتخاب اور ان کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں ـ
نئی پارلیمانی عمارت کا شیلا نیاس یا بھومی پوجن ہونا ہی انتہائی غیرقانونی حرکت ہے، بھارت جب ایک جمہوری ملک ہے تو پارلیمنٹ کی تعمیر پارلیمانی اکثریت کے نشے میں کیوں ہورہی ہے؟ پارلیمنٹ کبھی بھی اپوزیشن کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی اگر نیا پارلیمنٹ ہاؤس واقعی ضروری اور تمام ممبران پارلیمنٹ کے اتفاق سے بن رہا ہے تو پھر اس کے افتتاحی پروگرام میں صرف سَنگھی کھٹمل، پنڈتوں کی فوج اور بھاجپائی وزرا ہی کیوں نظر آئے؟ جس دور میں ہندوستان بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اس وقت یہ ہزاروں کروڑ کا سینٹرل وِستا پروجیکٹ کیوں؟ وہ بھی ایسا کہ جو آزادی کے عہد سے اب تک کے بھارت کی نمائندگی کرتی تاریخ کو ہی بدل ڈالے گا؟ ایک جمہوری ملک کی پارلیمنٹ کی تعمیر کو وزیراعظم مندر کیوں بتا رہےہیں؟ ہندو احیا پرستی کے منتر کیوں پڑھے گئے؟ اس کی جگہ کانسٹی ٹیوشن کا Preamble آئین ہند کی تمہید پڑھی جانی چاہیے تھی، پارلیمنٹ میں اکثریت کٹر ہندوتوا کی ہے تو کیا اسے برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی یاد دلانے والے پارلیمنٹ سے کوئی الجھن ہورہی ہے؟ کیونکہ انگریز تو بھاجپا کے روحانی باپ گولوالکر اور ساورکر کے ہم مزاج رہےہیں اور اُس آزادی کی جنگ میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں رہا ہے یا موجودہ عمارت ہندو تعمیراتی زاویے کے خلاف گولائی میں ہے اس لیے چالاکی سے مثلث نما ہندو نظریے کے مطابق نئی تعمیر کی جارہی ہے؟ یہ دراصل ہندوراشٹر کے لیے مندر کی تعمیر ہورہی ہے ناکہ ہندوستانیوں کے لیے پارلیمنٹ کی، ہندو احیا پرستی کے علمبردار اب بھارت کو گزشتہ ستر سالہ تاریخ کے زاویے سے علیحدہ ایک نئے سامراج کا زاویہ دینا چاہتےہیں، اور پھر بھارت کے دلتوں اور مسلمانوں سمیت تمام عزت دار اور حریت پسند انسانوں کو اس مندر کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائےگا، اس مندر کی قیادت اور سائے تلے جینا پڑےگا اور اس کی مضبوطی کے لیے عہد کرنا ہوگا، یہ کوئی اب اندازے نہیں رہے بلکہ واضح حقیقت ہے، کیونکہ آپ کے آس پاس آپ کی نسلوں کو غلام بنانے کی بھرپور تیاریاں ہیں لیکن آپ جاگتے ہی نہیں تو پھر آگے اس سے بھی بُرا ہوگاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)