ہندو مسلم منافرت کا ذمہ دار کون؟ ـ مسعود جاوید

پوری دنیا بشمول ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کی ذمہ دار غیروں کی زیادتیوں سے زیادہ اپنوں کی مجرمانہ غفلت رہی ہے۔
آزادی کے بعد تقسیم ہند کے نتیجے کے طور پر انسانی ہجرت کا سب سے بڑا اور المناک واقعہ کی وجہ سے گرچہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے کدورت تھی مگر یہ کدورت دو بھائیوں کے درمیان موروثی مکان کی تقسیم کو لے کر غصہ اور رشتوں میں وقتی کڑواہٹ کی طرح تھی اور اکثریتی طبقہ کے شرفا اور انصاف پسند لوگ اس تقسیم سے نالاں تھے۔ اس ناگفتہ بہ کشیدہ حالات میں بھی ملک کا ماحول اس قدر بدتر نہیں تھا جیسا پچھلے تین عشروں بالخصوص ٢٠١٤ سے مخصوص نظریہ کے حامل عناصر بنانے کے درپے ہیں۔
تقسیم ہند کی کدورتوں کے بادل چھٹنے کے بعد ہمارے لئے موقع تھا کہ ہم خیر امت کا فریضۂ منصبی،اپنے اعمال سے اور حکمت سے دعوت کا کام کرکے، ادا کرتے مگر افسوس ہم اپنے دین کی خوبیوں سے لوگوں کو واقف کرانے کی بجائے مسلک کے احقاق و ابطال میں اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے میں مشغول رہے۔ تین دہائی قبل تک فرقہ پرستی کی بنیاد پر وقتی تصادم ہوتا تھا کچھ تو اتفاقی طور پر جس کا مختلف فرقوں کے درمیان ہونا فطری ہے۔ ان فرقہ وارانہ فسادات کے ذمے دار دونوں فرقے کے لوگ ہوتےتھے اور کچھ سیاسی روٹیاں سینک کر ووٹ بینک محفوظ کرنے کے لئے کانگریس پارٹی کا مجرب نسخہ تھا کہ ار ایس ایس- جن سنگھ – بی جے پی کا ڈر دکھا کر اقلیتوں کو قریب کرنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، انکوائری کمیشن کی تشکیل جس کی رپورٹ آنے میں دسیوں سال لگتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود ان دنوں مسئلہ اسلام اور کفر کا نہیں تھا۔ اس ملک کے لوگوں نے مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت کرنا نہیں سیکھا تھا۔ اس ملک کی اکثریت آر ایس ایس یا کسی مخصوص نظریہ کی پیروکار نہیں تھی۔ ہندوؤں کی اکثریت کا ظرف وسیع تھا وہ सर्वधर्म समभाव। یعنی ہر مذہب کے ساتھ یکساں سلوک پر عمل پیرا تھی۔ اپنے مذہب پر رہتے ہوۓ ہر مذہب کا احترام اور ہر مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری کا جذبہ صدیوں سے اس کے مزاج، لائف اسٹائل اور ریتی رواج کا حصہ تھا۔دوسری طرف مسلمانوں نے اسلام کے سماجی پہلو پیش کرنے میں قاصر رہے۔ متعصب عناصر کی جانب سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اور مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کی کوششوں کو اپنے اعمال اور اخلاق سے ہم نے ناکام نہیں بنایا۔ ہم نے کافر سے قرآن مجید میں کون لوگ مراد ہیں یہ عام نہیں کیا بلکہ اس کے بر عکس بعض فیس بُکی مولوی حضرات موقع بے موقع ” الكفر ملة واحدة” لکھ کر دو فرقوں کے درمیان کشیدگی کو اسلام اور کفر کے مابین تصادم کا رنگ دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ہم‌ نے قرآن کریم کی آیت "لكم دينكم ولي دين” "تمہارے لئے تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین "کا مفہوم عام نہیں کیا۔
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا”
whoever slays a person, unless it is for a murder or for spreading mischief in the land, it would be as if he slew all humans; and whoever saves a life, it would be as though he saved the lives of all humans”.
جس نے کسی کا قتل کیا (الا یہ کہ وہ قاتل ہو یا زمین پر فساد کرنے والا ہو) گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا اور جس نے کسی کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”ـ کیا اسلام کی اس وارننگ کو ہم نے عام کیا؟
کیا اللہ کے اس حکم ” کہ تم ان لوگوں کو جو اللہ کے علاوہ کسی اور کی پوجا کرتے ہیں ان کے معبودوں کو برا مت کہو” کیا اسلام کی رواداری کی اس تربیت سے یہاں کے ٨٠ فیصد لوگوں کو ہم نے باخبر کیا ؟ بحیثیت مسلمان اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتعل ہونا فطری ہے مگر اسی کے ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے ساتھ کس طرح سلوک کرنے کا حکم ہمیں دیتا ہے تاکہ ان کے انصاف پسند لوگ اس سے آگاہ ہوں اور اسلام دشمنی میں اندھوں کو اپنے کرتوتوں پر شرم آئے۔
کیا ہم نےباسلام کا یہ اصول عام کیا کہ کسی مسلمان کے لئے جنگ کے دوران بھی جائز نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ کی بے حرمتی یا توڑ پھوڑ کرے ، کسی مذہبی پیشوا پر حملہ کرے، بوڑھوں بچوں اور عورتوں پر حملہ کرے، فصلوں کو برباد کرے درختوں کو اجاڑے۔
کیا ہم نے بلا تفریق مذہب پڑوسیوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق، ذات پات کی تفریق کے بغیر مساوات، وراثت (ترکہ باپ کی جائیداد) میں بیٹوں کی طرح بیٹیوں کے بھی حقوق، ناداروں اور مسکینوں کے ساتھ غم خواری، ضرورت مندوں کی مدد اور جانوروں کے حقوق کی تعلیمات عام کی ؟
پیام انسانیت اور اصلاح معاشرہ کے جلسوں میں وہ جوش خروش کیوں نہیں جو تین طلاق اور شاہ بانو جیسے کیس میں دیکھنے کو ملتا ہے ؟ اس لئے کہ ہماری ترجیحات میں پیام انسانیت اور اصلاح معاشرہ نہیں ہیں ہماری ترجیحات میں ہیجان انگیز تقریریں اور سیاسی نعرہ بازی کا درجہ سب سے اوپر ہے۔
١٩٤٧ کے بعد جب دو فرقوں کے مابین نفرت اور کدورت کے بادل چھٹنے لگے تو ہمارے لئے موقع تھا کہ ہم اپنے اعمال واخلاق سے اسلام کا انسانی پہلو پیش کریں۔ لیکن افسوس اس موقع کو ہم نے گنوا دیا۔ ہماری سیاسی قیادت کا ایجنڈا رہا: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار کی بحالی، اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ، سرکاری دفاتر میں ملازمت۔ یہ مسائل اپنی جگہ اہم تھے اس میں دو رائے نہیں لیکن کیا مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کا سارا دارومدار انہی چند مسائل پر تھا؟ سرسید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ کا خواب ایک یونیورسٹی نہیں تھا بلکہ عام مسلمانوں کو عصری تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا اس کے لئے ہماری قیادت نے وقف املاک کے نظم کا مطالبہ کر کے اس کی آمدنی سے پورے ملک میں معیاری انگلش میڈیم اسلامیات کے ایک لازمی سبجیکٹ کے ساتھ سرسید ماڈل اسکول کا جال پورے ملک میں کیوں نہیں بچھایا؟
سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں ملازمت کے لائق بنانے کے لئے وقف املاک کی آمدنی کو بروئے کار لاتے ہوئے کوچنگ سینٹرز کیوں نہیں قائم کیے گئے؟
اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے لیے اردو کے گہوارہ اتر پردیش سے آئے مرکز میں صدر نائب صدر اور مرکزی وزرا اور ریاست میں وزرا اور ممبران اسمبلی نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیوں نہیں کیا یہ سب کانگریس کے پسندیدہ شو کیس میں سجانے کے لئے چہرے تھے اور کانگریس مسلمانوں کی دی ون اینڈ اونلی خیرخواہ پارٹی !
رہی بات ملی اور دینی قیادت کی تو پیام انسانیت کو عام کرنے کی بجائے ان کی ساری توانائیاں دیوبندی بریلوی جماعت اسلامی اور اہل حدیث کو صحیح یا غلط ثابت کرنے میں صرف ہوتی رہیں۔ ملت کے افراد نے انہی مناظروں تقریروں، تحریروں، کتابچوں، لٹریچر اور جلسے جلوس کو عین اسلام سمجھا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*