ہندو مہاسبھا نے ’گوڈسے ریسرچ سنٹر‘‘کا آغاز کیا

گوالیار:ہندو مہاسبھا نے مہاتماگاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے پر ایک مطالعہ مرکزکھولاہے ۔ہندومہاسبھا کی زبان میں یہ ایک مطالعہ مرکز یا علمی مرکز ہے۔ اسے گوالیار میں کھول دیا گیا ہے۔ اس مطالعاتی مرکز میں ہندو مہاسبھا لوگوں کو ناتھورام گوڈسے کی مبینہ حب الوطنی کی کہانیاں سنائے گا۔دولت گنج میں ہندو مہاسبھا کے دفتر میں ہندو مہاسبھا نے گوڈسے ورکشاپ کا آغازکیا ہے۔ پہلے دن یہاں ، ہندو مہاسبھا عہدیداروں نے ساورکر ، رانی لکشمی بائی اور سنگھ کے دیگر عہدیداروں سمیت گوڈسے کی تصویر کی پوجا کی اوراسے خراج عقیدت پیش کیا۔ہندو مہاسبھا آج بھی یہاں ہر سال گوڈسے کی برسی اور سالگرہ مناتی ہے۔ اب اس نے گوڈسے گیان شالہ کاآغازکیاہے۔ہندو مہا سبھا کے ڈاکٹر جیویر نے بتایاہے کہ نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام محب وطن قوم کو بچانے کے لیے کس طرح انھوں نے قربانی دی ہے۔ اس درمیان ہندو مہاسبھا گوڈسے کی سوانح حیات سے متعلق لوگوں کو بتائے گی۔ہندو مہاسبھا ملک کی تقسیم کی تاریخ بھی بتائے گی اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرے گی۔ ہندو مہاسبھاکے مطابق یہ لوگوں کوساورکر ، رانی لکشمی بائی اور رانا پرتاپ کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دے گی۔30 جنوری 1948کوناتھورام گوڈسے نے دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔