ہندو لاشوں کا کریا کرم کرنے والے مسلم رضاکار-سہیل انجم

اس وقت پوری دنیا شدید عذاب میں مبتلا ہے۔ موت سستی اور زندگی مہنگی ہو گئی ہے۔ موت کا ہرکارہ گلی گلی اور کوچہ کوچہ پھر رہا ہے۔ جو سامنے آجا رہا ہے اس کو اپنا شکار بنا لے رہا ہے۔ زندگی خود کو چھپاتی پھر رہی ہے۔ لیکن اسے کوئی جائے پناہ نہیں مل رہی۔ اس وقت اجل کے ہاتھ اتنے لمبے ہو گئے ہیں کہ ان سے کسی کا بچ پانا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نہ شمشانوں میں جگہ ہے نہ قبرستانوں میں۔ اسپتالوں میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اسپتال کے ذمہ داران مریضوں کو واپس کر رہے ہیں۔ آکسیجن کی قلت زندگی کی سانسیں کم کر رہی ہے۔ جانے کتنے لوگ آکسیجن کی کمی کے شکار ہو کر دوسری دنیا میں جا چکے ہیں۔ جو آکسیجن کی قلت کے شکار ہونے سے بچ رہے انھیں اسپتالوں میں لگنے والی آگ اپنی خوراک بنا رہی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں جانے کتنے اسپتالوں آگ کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔
لیکن اس پُر آشوب دور میں ایسے لوگ بھی ہیں جن پر انسانیت کو ناز ہے۔ جو بلا لحاظ مذہب و ملت اپنا کام کر رہے ہیں۔ اس دوران انسانیت نوازی کی ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جن کو دیکھ کر یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص ہندوستان کی مٹی میں رچی بسی فرقہ وارانہ محبت اور سماجی یگانگت کی خوشبو کو ختم نہیں کر سکتا۔ ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور اب بھی آرہے ہیں کہ خاص طور پر ہندو خاندانوں میں کرونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات انجام دینے سے خود ان کے اہل خانہ بچ رہے ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ وہ اگر لاش کو چھوئیں گے یا ان کا کریا کرم کرنے کی کوشش کریں گے تو انھیں بھی کرونا لگ جائے گا اور ان کی بھی شمع حیات گل ہو جائے گی۔ لیکن ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے وہ اتنے ہی دن جیئے گا، اس سے ایک لمحہ زیادہ نہ ایک لمحہ کم۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر بھی آجائیں تو جس کا وقت آگیا ہے اسے بچا نہیں سکتے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موت کے لیے کوئی بہانہ چاہیے۔ اگر کسی کی موت کرونا کے بہانے لکھی ہوئی ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ اسی عقیدے کے تحت مختلف شہروں میں مسلمانوں کی جانب سے ان میتوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں جن کو کوئی پوچھ نہیں رہا ہے اور جن کو خود ان کے گھر والوں نے لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ ایسے واقعات مسلم برادری میں نہیں ہو رہے بلکہ غیر مسلموں میں ہو رہے ہیں۔ اور یہ مسلمان ہی ہیں جو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ان لوگوں کی آخری رسومات کو انجام دے رہے ہیں۔
ایسے ہی لوگوں میں مہاراشٹر کے معین مستان او ر25 رضاکاروں پر مشتمل ان کی ٹیم ہے جو یومیہ چالیس پچاس میتوں کی آخری رسومات انجام دے رہے ہیں۔ مستان کا کہنا ہے کہ ہم نے اللہ کا نام لے کر یہ کام کو شروع کیا ہے۔ آخری رسومات کی ادائیگی سے قبل ہم اللہ سے خصوصی دعائیں کرتے ہیں۔ اگر اس خدمت کے عوض ہماری جان بھی چلی جائے تو ہمیں کوئی افسوس نہیں ہوگا کیونکہ انسانیت کی خدمت کرنے میں اگر جان جاتی ہے تو یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ مستان کی ٹیم عوامی تعاون سے یہ کام کر رہی ہے۔ ان لوگوں نے چھ ایمبولینس کو اس خدمت پر لگا رکھا ہے۔ وہ اسپتالوں میں جاتے ہیں یا جن کے گھر میت ہے وہاں جاتے ہیں اور ان کو شمشان یا قبرستان لا کر چتا جلاتے یا دفن کرتے ہیں۔ تدفین کا زیادہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں میں اپنی میتوں کو یوں لاوارث چھوڑ دینے کا رجحان نہیں ہے۔ البتہ ہندووں، سکھوں اور عیسائیوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کے اس گروپ میں ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین بھی ہیں جو اپنی جیب خاص سے یہ کام کر رہے ہیں۔ مستان کی ٹیم کے سامنے ایسے بھی مواقع آئے کہ جب شمشان گھاٹ پر ہی افطار کا وقت ہو گیا اور انھوں نے وہیں روزہ کھولا۔
بھوپال کے دانش صدیقی اور صدام قریشی بھی انھی خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جو لاوارث ہندو میتوں کی آخری رسومات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دونوں میونسپل کارپوریشن کے فائر فائٹنگ ونگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ وہ لوگ روزہ رکھ کر یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے ہندو گھروں سے فون آتے ہیں اور وہ کہتے ہیںکہ ہمارے یہاں ایک لاش پڑی ہے اس کا کریا کرم کر دیجیے۔ بعض خاندان ویڈیو کالنگ کرکے کریا کرم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بھی چاہتے ہیں۔ انھوں نے اب تک ساٹھ سے زائد ہندو لاشوں کا کریا کرم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانیت مذہب سے اوپر ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انھیں خود مریضوں کو اسپتال لے جا کر ایڈمٹ کرنا پڑتا ہے اور اگر ان کی موت ہو جائے تو ان کا کریا کرم بھی انھی کے ذمے ہوتا ہے۔
مہاراشٹرا کے یوتمال ضلع کے چار مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ اب تک 800 سے زائد ہندو لاشوں کی آخری رسومات ادا کر چکا ہے۔ لکھنو ¿ کے مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ پی پی ای کٹ پہن کر لاشوں کی آخری رسومات انجام دے رہا ہے۔ مقبرہ گولہ گنج علاقے کے 33 سالہ امداد امام اپنے 22 رضاکاروں کے ساتھ اب تک ایک درجن سے زائد ہندو لاشوں کا کریا کرم کر چکے ہیں۔ امداد امام نے بتایا کہ ان میں سے کئی لاشیں لاوارث تھیں اور کئی کے اہل خانہ خود بیمار تھے۔ ان کی ٹیم اب تک 30 مسلمانوں کی بھی تدفین کر چکی ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے گزشتہ سال ”کووڈ۔19 تدفین کمیٹی“ قائم کی تھی۔ اسی کے تحت وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ الہ آباد میں ایک مسلمان نے اپنے ہندو دوست کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے 400 کلومیٹر کا سفر کیا۔ شیراز نامی شخص نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا دوست ہیم راج الہ آباد ہائی کورٹ میں جوائنٹ رجسٹرار تھا۔ اسے کرونا ہو گیا۔ اس نے شیراز کو فون کیا کہ وہ اسے اسپتال میں داخل کرا دے۔ اسپتال میں اس کی موت ہو گئی۔ شیراز کے مطابق ہیم راج کے رشتے داروں نے کرونا کے خوف سے ا س کی چتا جلانے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا شیراز نے اس کی چتا کو آگ لگائی۔
بہا رکے گیا ضلع میں مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ بھی یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ امام گنج کے ایک نوجوان محمد شارق بتاتے ہیں کہ 58 سالہ پربھاوتی دیوی بیمار ہو گئیں۔ انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان کا ٹیسٹ کیا گیا جو کہ نگیٹیو آیا۔ لیکن اسی دوران ان کی موت ہو گئی۔ لیکن ان کے اہل خانہ کو شبہ تھا کہ وہ کرونا سے مری ہیں لہٰذا انھوں نے ان کی لاش چھونے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی لاش ایک گاڑی میں رکھ دی لیکن نہ تو ان کے شوہر نے ہاتھ لگایا نہ ہی ان کے دو بیٹوں نے۔ لاش دوپہر بارہ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک وہیں پڑی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ جب انھیں اس کی خبر ملی تو وہ لوگ اسپتال گئے اور خاتون کے اہل خانہ کو کریا کرم کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تیار نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے بانس لا کر ارتھی بنائی اور اس پر لاش رکھ کر شمشان بھومی لے گئے۔ اس پر ان کے گھر والوں کو کچھ غیرت آئی اور انھوں نے اسے کندھا دیا۔ مذکورہ خاتون کے ایک بیٹے نے میڈیا کو بتایا کہ محمد رفیق، محمد شارق، محمد کلام، محمد باقی، محمد لڈن اور دوسرے نوجوانوں نے ان کی ماں کا کریا کرم کیا۔ انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی زبردست مثال پیش کی ہے ہم لوگ ان کے شکر گزار ہیں۔
اسی طرح ناگپور کے ایک بزنس مین پیارے خان نے 85 لاکھ روپے خرچ کرکے 400 میٹرک ٹن آکسیجن اسپتالوں کو سپلائی کی۔ ان کی اس کوشش کے نتیجے میں کئی لوگوں کی جان بچ گئی۔ جب انتظامیہ نے انھیں اس کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ نہیں وہ اس کی قیمت نہیں لیں گے۔ انھوں نے زکوة کے پیسے سے یہ خدمت انجام دی ہے۔ پیارے خان نے ناگپور ریلوے اسٹیشن کے سامنے سنترے فروخت کرکے اپنے بزنس کا آغازکیا تھا۔ آج وہ 400 کروڑ روپے کی کمپنی کے مالک ہیں۔ یہ تو چند مثالیں تھیں جو پیش کر دی گئیں ورنہ میڈیا او ربالخصوص سوشل میڈیا میں مسلمانوں کی ان خدمات سے متعلق خبریں بھری پڑی ہیں۔ اس وقت جبکہ پورے ملک میں رقص مرگ جاری ہے مسلم نوجوانوں نے انسانی خدمات کی جو مثال پیش کی ہے اس نے پوری مسلم برادری کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔