Home خاص کالم ہندو ہو؟ بچ گئے!

ہندو ہو؟ بچ گئے!

by قندیل

شیونرائن راج پروہت

(زیر نظر تحریر دراصل انڈین ایکسپریس کے صحافی شونرائن راج پروہت کی اس انگریزی رپورٹ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہوں نے دہلی کے جمناپارمیں فساد زدہ علاقوں میں پیش آنے والی اپنی سرگزشت بیان کی ہے۔انڈین ایکسپریس نے آج کی اشاعت میں اس فساد کے مختلف پہلوؤں پراپنے نصف درجن رپورٹروں کی شاندار اور تفصیلی رپورٹیں بھی شائع کی ہیں۔ہم پر واجب ہے کہ انگریزی صحافیوں اور خاص طورپرانڈین ایکسپریس کے صحافیوں کی ستائش میں دو بول ضرور بولیں۔ ایم ودود ساجد)

”یہ کوئی دن کے ایک بجے کا عمل تھا۔میں کراول نگر کی ایک بیکری کے سامنے بیکری کے مالک کا موبائل نمبر نوٹ کرنے کے لئے رکا۔اس بیکری کے سارے بنے ہوئے مال اور فرنیچر کو آگ کے حوالہ کرکے بیچ سڑک پر ڈال دیا گیا تھا۔40سال کی عمر کا ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا: کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟۔میں نے خود کو ایک صحافی کے طورپر متعارف کرایا۔اس نے مجھ سے میری نوٹ بک چھین کر اس پر نظر دوڑائی۔اسے کچھ موبائل نمبروں اور صورتحال پر میرے کچھ نوٹس کے علاوہ کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم یہاں سے رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔اس نے میری نوٹ بک کو بھی اسی آگ کے حوالہ کردیاجس میں بیکری کا سامان جل رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے مجھے کوئی پچاس لوگوں نے گھیرلیا۔ان کا شک بڑھتا گیا کہ میں نے اپنے موبائل میں تشدد کی تصاویر کھینچی ہیں۔انہیں میرے موبائل میں ایسا کوئی ویڈیویا فوٹو نہیں ملا۔لیکن انہیں اس پر تشفی نہیں ہوئی اورانہوں نے میرے موبائل میں موجود ہر ویڈیو اور ہر فوٹو کو ڈلیٹ کردیا۔

انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟کیا تم جے این یو سے ہو؟انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو یہاں سے فوراً بھاگ جاؤ۔جو کچھ مجھے مزید پیش آنے والا تھا یہ اس کی طرف اشارہ تھا۔میری موٹر سائکل ایک گلی میں کوئی دوسو میٹر دور کھڑی تھی۔میں موٹر سائکل کی طرف جانے لگا۔جیسے ہی میں اس گلی میں مڑا مجھے ایک اور ہجوم نے گھیر لیا۔اس کے ہاتھ میں لاٹھی‘ڈنڈا اور لوہے کی چھڑیں تھیں۔انہوں نے بھی مجھ پر تشدد کی فوٹوز کھینچنے کا الزام دوہرایا۔ایک نقاب پوش نوجوان نے مجھ سے فون دینے کو کہا۔میں فون دینے کو تیار نہیں تھا۔میں نے کہا کہ تمام فوٹوز اور ویڈیوز ڈلیٹ کردی گئی ہیں۔وہ زور سے چیخا: فون دے۔وہ پھر میری پشت پر آگیا۔اس نے میرے کولہے پر لوہے کی چھڑ سے دوبار ضرب لگائی۔ میں کچھ دیر کے لئے بے جان سا ہوگیا۔مجھ پربھدی گالیوں کی بوچھار ہونے لگی۔ اب کچھ سمجھدار قسم کی آوازیں آنے لگیں: تمہیں اپنی جان زیادہ پیاری ہے یا فون؟میں نے اس نوجوان کو اپنا فون دیدیا۔انہوں نے نعرے لگائے اور وہ نوجوان میرا فون لے کر بھیڑ میں گم ہوگیا۔

مجھے لگا کہ میں چھوٹ گیا ہوں۔لیکن یہ وقتی تھا۔جلد ہی پیچھا کرکے مجھے ایک دوسری بھیڑ نے گھیرلیا۔ایک پچاس سالہ شخص نے میری آنکھوں پر لگا چشمہ اتارکر نیچے پھینکا اور پھر اس کے اوپر چڑھ گیا۔پھر اس نے ’ہندوؤں کے غلبہ والے علاقے سے رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں‘مجھے دو تھپڑ مارے۔انہوں نے میرا پریس کارڈ چیک کیا:۔۔۔۔ شونرائن راج پروہت‘ ہونہہ‘ ہندو ہو؟بچ گئے!۔۔۔۔لیکن وہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوئے۔۔انہوں نے مجھ سے ’اصلی ہندو‘ہونے کا مزید ثبوت مانگا:۔۔۔ بولو جے شری رام۔۔میں خاموش رہا۔—انہوں نے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ اگر جان بچانا چاہتا ہے تو فوراً بھاگ جا۔ان میں سے ایک نے کہا: ایک اور بھیڑ آرہی ہے آپ کے لئے۔۔۔میں اپنی موٹر سائکل کی طرف بھاگا۔میں نے بائک کی چابی کے لئے اپنا تھیلا(Bag) چھان مارا۔ایک ایک منٹ قیمتی تھا۔بھیڑ میں سے ایک اور بولا: جلدی کرو وہ لوگ چھوڑیں گے نہیں۔۔۔میں بائک اسٹارٹ کرکے اندھوں کی طرح بھاگا۔مجھے یاد نہیں کہ میں کس گلی میں جارہا ہوں۔بس اپنی جان بچانی تھی‘سومیں انجان گلی میں گھس گیا۔۔۔۔۔“

You may also like

Leave a Comment