ہندو بھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ترقیاتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں:اندریش کمار

نئی دہلی:رانی جھانسی روڈپر واقع کٹرا آتما رام کے اناج منڈی میں واقع پراچین شیو مندر کے تعمیری کام کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی ،جس میں مہمان خصوصی کے طور پرآر ایس ایس لیڈر ڈاکٹر اندریش کمار نے شر کت کی ۔بتادیں کہ قریش نگربلاک کے اقلیتی مورچہ کے صدر معاذ گلفام قریشی نے ہی مندر میں تمام طرح کے ترقیاتی کام کرائے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر اندریش کمار نے اپنی گفتگو میں کہاکہ یہ بیحد خوشی کی بات ہے کہ مندر کی تعمیری کام میں مسلمان حصہ لے رہے ہیں ،جو لوگ ہندوؤں اورمسلمانوں میں نفرت پھیلا نے کاکام کررہے ہیں ،ایسے لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے ۔اندریش کمار نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ بھی مسجدوں کی تعمیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو مکمل طریقے سے تحفظ فراہم کریں اوراس اہم ذمہ داری کو بخوبی انجام دیکر قومی اتحاد ، بقائے باہم آہم ہنگی اور انسانیت کا ثبوت پیش کریں ۔ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ یقینی طور پر آج حالات کافی خراب ہیں ، لیکن ایسا قطعی نہیں ہے کہ حالات کو درست نہیںکیا جا سکتا ہے ،البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروںوتقاریب میں شریک ہوں، تبھی دلوں میںپیدا کی گئی دوریوںکاخاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔اس موقع پر معاذ گلفام قریشی نے بتایاہے کہ مجھے فخر حاصل ہے کہ مندر جو کہ ہندوؤں کی عبادتگاہ ہے ،اسکی ترقیاتی کاموں میں حصہ لینے کا موقع ملا ، میں یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی میری سے خدمت ہوگی ،میں اس کو مکمل طور سے انجام دینے کی کوشش کروں گا۔معاذ قریشی نے مزید کہاکہ مذہب اسلام میں کسی بھی دھرم کو بُرا یا ان کو غلط کہنے کی کسی بھی طرح سے تعلیمات نہیںدیتا ہے اور سبھی مذاہب کے عقیدت کا احترام کا حکم دیتا ہے ،ساتھ ہی عبادتگاہوںکا تحفظ کی بھی تاکیدکرتا ہے ،نیز یہ انسانیت بھی ہے، لہذاایسے میںموجودہ وقت کا بھی تقاضا ہے کہ ہم سبھی مذاہب کے لوگ پیار ومحبت کے ساتھ ہنسی خوشی رہیں ،کیو نکہ ہماری ہزاروں سال پرانی گنگا جمنی تہذیب بھی ہے ،جس کو بچائے رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔اس سے قبل مندر کے پُجاری پنڈت جی نے سبھی مہمانوں کاپھولوں کے ہار سے استقبا ل کیا ۔اہم شرکا میں مسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ حافظ محمد صابرین، ڈاکٹر عمران چودھری ،شیراز قریشی،خورشید راجاکہ ، دیپک اٹھوال ، رام شرن چوہان ، رتن دیپ سمیت دیگر قابل ذکر ہیں۔