’ہندی ،اردو اور ہندوستانی‘ پریک روزہ سمینار کاانعقاد

نئی دہلی:سالویشن کے زیر اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،وزارت تعلیم ، حکومت ہند کے مالی تعاون اور بہ اشتراک مولاناآزاد ہیومن ٹیرین فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ’’ہندی -اردو اور ہندوستانی : موجودہ صورت حال کے تناظرمیں ‘‘ کے موضوع پر پبلک لائبریری ، جوگا بائی چوپال، جامعہ نگر، اوکھلا میں یک روزہ قومی سمینار منعقد ہوا۔سالویشن کے سکریٹری جناب انظار عالم صاحب نے اپنے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے سماج کے بیچ میں تعلیمی اور تجارتی بیداری پیداکرنے اور اس سے متعلق حکومت کی طرف سے ملنے والی مراعات سے استفادے اور نئی پیڑھی کو اس طرف آگے آنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نوکری کرنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیںتاکہ زیاد ہ سے زیادہ لوگ فیض یاب ہوں۔اس سمینار کا کلیدی خطبہ پروفیسر مولا بخش ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو ہندی پر معروضی گفتگو نہیں ہوتی اور نہ ہی اردو ہندی سے الگ ہے ۔ زبان سے محبت تہذیب سے محبت کے مترادف ہے ۔
سمینار کی صدارت ڈاکٹرمظہر محمود، سابق آئی بی پی ایس آفیسر، دور درشن نے کی ،انہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔زبان کی اصل حقیقت دوتہذیبوں کے درمیان کمیونیکیشن کی ہے۔سالویشن کے صدر جناب عبدالباقی صاحب نے تمام حاضرین کا شکریہ اداکیا۔اس سمینار میں ڈاکٹر جسیم احمد ، ڈاکٹر محمد اسجد ، ڈاکٹر علائو الدین خان، ڈاکٹر آدم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شاذیہ عمیر ،ڈاکٹر نوشادمنظر اورڈاکٹرمحمد مرتضیٰ نے’’ ہندی ، اردو اور ہندوستانی :موجودہ صورت حال کے تناظر میں ‘‘ اپنے مقالات پیش کیے۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد آدم نے بحسن خوبی انجام دئے۔