حکایتِ ہستی:ایک نابغۂ روزگار شخصیت کا زندگی نامہ-نایاب حسن

مولانا اعجاز احمد اعظمی(1951-2013)ہمارے عہد کے جید ،عمیق النظر،وسیع المطالعہ اور غیر معمولی تدریسی صلاحیتوں سے مالامال عالمِ دین تھے۔ان کی شخصیت بڑی بافیض تھی اور ان کے ذریعے خصوصاً مشرقی ہندوستان کے ہزاروں طلبا و علما نے استفادہ کیا۔ایسے لوگ کم ہوتے ہیں ،جو خود باصلاحیت ہونے کے ساتھ رجال سازی کے وصف سے بھی ہم کنار ہوں،مولانا اعجاز احمد اعظمی ایسے ہی گنے چنے افراد میں سے ایک تھے۔جن لوگوں نے ان سے شاگردی کا شرف حاصل کیا،وہ منھ بھربھر کر ان کی تعریفیں کرتے ہیں،ان کے طریقۂ تدریس،اندازِ تربیت کی انفرادیت کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ان کی قوتِ تفہیم بڑی شاندار تھی اور پیچیدہ سے پیچیدہ درسی کتابوں کو آسانی سے طلبہ کے ذہن میں اتار سکتے تھے۔ان کا اسلوبِ تحریر بھی خوب صورت اور ادبیت و سلاست سے معمور تھا۔اس حوالے سے ان کے سفرِ حج کی روداد’’بطوافِ کعبہ رفتم‘‘،ان کے خطوط کا مجموعہ ’’حدیثِ دوستاں‘‘اور مختلف شخصیات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ’’کھوئے ہووں کی جستجو‘‘خصوصاً قابلِ مطالعہ ہیں۔
ایک کتاب ان کی خودنوشت’’حکایتِ ہستی‘‘ بھی ہے۔یہ پہلی بار2011میں شائع ہوئی تھی اور میں نے اسی زمانے میں پڑھی تھی،تب میں دارالعلوم دیوبند میں طالب علم تھا،وہ کتاب پتا نہیں میرے پاس سے کون لے گیا۔ابھی پچھلے ماہ مولانا کے صاحبزادے ،ہمارے کرم فرما مولانا عرفات اعظمی نے واٹس ایپ پر میسج کیا کہ میں آپ کو والد صاحب کی خودنوشت بھیجنا چاہتاہوں،میں نے کہا:زہے نصیب!اور اس طرح دوبارہ مجھے اس کتاب کے مطالعے کی سعادت نصیب ہوئی ۔
یہ کتاب گرچہ بارہ ابواب اور لگ بھگ چار سو صفحات پر مشتمل ہے ،مگر یہ مولانا کی مکمل سوانح نہیں ہے۔اس میں ان کی طالب علمانہ زندگی کی تفصیل اوراس کے بعد کی پانچ چھ سالہ عملی زندگی کا احوال درج ہے۔البتہ حسبِ معمول اس کتاب میں بھی مولانا کا اسلوبِ بیان تمام تر رعنائیاں لیے ہوئے ہے۔ان کی زندگی چوں کہ مختلف قسم کے حالات و سانحات سے عبارت رہی،تو پوری حکایت میں ایک قسم کا سسپنس بھی پیدا ہوگیا ہے اور یہ قاری پر آخری صفحے تک اپنی مضبوط گرفت قائم رکھتی ہے۔مولانا نے شروع کے آٹھ ابواب میں ابتدا سے عربی پنجم تک کی تعلیم کا احوال لکھا ہے،البتہ پہلے باب میں اپنے مطالعے کی سرگذشت بیان کی ہے۔ان ابواب کے مطالعے سے نہ صرف مولانا کے اس دور کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے؛بلکہ ان کے ابتدائی اساتذہ اور جامعہ احیاء العلوم،مبارکپور کے اس زمانے کے کوائف سے بھی شناسائی حاصل ہوتی ہے،وہاں کے اپنے تقریباً سبھی اساتذہ کا مولانا نے بڑے خلوص سے تعارف کروایا ہے۔ان ابواب میں مولانا نے اپنے یا اپنے رفقاے درس سے جڑے بعض بہت دلچسپ واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ مولانا کا مطالعے کا ذوق بہت غیر معمولی تھا اور جہاں مکتبی تعلیم کے دوران ہی وہ اردو کی اہم کتابیں،رسالے اور ناول وغیرہ بھی پڑھ چکے تھے،وہیں عربی کے ابتدائی و ثانوی درجات میں ہی ان کے مطالعے میں اردو کے بڑے رسائل و اخبارات کے ساتھ عربی کے مجلات ’’الحج‘‘،’’الرائد‘‘،’’دعوۃ الحق‘‘وغیرہ آچکے تھے اور اپنے احباب کے ساتھ مل کر عربی بولنے کی بھی مشق کیا کرتے تھے۔(ص:123،131)یہ ساٹھ ستر کی دہائی کی بات ہے،جبکہ آج کل بھی عام طورپر مدارس کے طلبہ میں عربی زبان کے تئیں مطلوبہ ذوق و شوق نہیں پایاجاتا۔ ایک جگہ دیوبند میں قیام کے دوران اپنے مطالعے کا احوال بیان کرتے ہوئےسرعتِ مطالعہ کی مشق کی دلچسپ روداد بیان کی ہے۔پہلے ایک نگاہ میں ایک سطر پڑھتے تھے،پھر دوسطریں پڑھنے لگے، حتی کہ ایک ہی نظر میں آدھے صفحے تک کا احاطہ کرنے پر قدرت حاصل کرلی ۔(ص:(244)
کتاب کے نویں باب میں دارالعلوم دیوبند میں داخلے کی تیاری،دیوبند کے سفر،وہاں پہنچنے کے بعد کے احساسات،داخلے کے مراحل،امتحان داخلہ کے مناظر اور اپنے داخلے کی تفصیلات بڑے دلچسپ انداز میں بیان کی ہیں۔آج کی طرح اس زمانے (1968)میں طلبہ کے لیے متعین درجہ بندی اور ہر درجے میں طے شدہ کتابیں نہیں تھیں،ان کی دلچسپی اور ذہنی و علمی مبلغ کے اعتبار سے کتابوں کا انتخاب ہوتا تھا ۔ مولانا کا داخلہ جلالین کے سال میں ہوا تھا،یعنی موجودہ زمانے کے عربی ششم میں ،مگر فقہ میں ہدایہ اخیرین انھیں پڑھنا تھا،ہدایہ اولین وہ پہلے پڑھ چکے تھے۔داخلے کے مراحل کے بعد انھوں نے کلاسوں کی شروعات اور اساتذہ کے اندازتدریس پر مختصر تبصرہ کیاہے،البتہ اس ضمن میں مولانا وحیدالزماں کیرانوی اور عربی زبان و ادب کی تدریس کے حوالے سے ان کے مجتہدانہ طوروطرز پر بڑی عمدہ اور قدرے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
ایک بات قابلِ ذکر یہ ہے کہ دارالعلوم میں داخلے سے قبل انھوں نے اس کے حوالے سے اپنے ذہن میں جو خاکہ بنایا تھا،وہاں پہنچنے اور دارالعلوم کے ماحول کو دیکھنے کے بعد انھیں خاصی مایوسی ہوئی اور انھیں لگا کہ دارالعلوم کے طلبہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ کھیل کود میں دلچسپی لیتے ہیں،مگر جب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بارہ بجے رات کو دارالعلوم کے ہاسٹل کا چکر لگانے نکلے اور ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک پتلے دبلے طالب علم(مولانا بدرالحسن قاسمی،مقیم کویت) کو دنیا و مافیہا سے بے خبر کتابوں کے مطالعے میں غرق دیکھا،توانھیں اطمینان ہوا کہ دیگر بڑے اداروں کی طرح دارالعلوم میں بھی ہر قسم کے طلبہ موجود ہیں،پڑھنے والے بھی اور کھیلنے والے بھی۔(ص:206)ہاں! ایک بات تو تھی کہ انھوں نے دارالعلوم کے بارے میں جو کچھ سنا تھا ،اسے حقیقت میں ویسا نہیں پایا اور یہ چیز ان کے دل میں کہیں نہ کہیں گھر کر گئی،لکھتے ہیں:
’’میں اپنے تصورات میں دارالعلوم کو اور دارالعلوم کے اساتذہ کو جیسا سمجھ رہا تھا ویسا نہیں پایا‘‘۔
البتہ اس کی توجیہ بھی خود ہی پیش کی ہے کہ:
’’کوئی بھی ادارہ جب پرانا ہوجاتا ہے اور اس پر بڑھاپا آجاتا ہے تو بڑھاپے کی کمزوریاں، اس کے عوارض و امراض اسے لاحق ہوجاتے ہیں،دارالعلوم دیوبند کو بھی میں نے بڑھاپے کی کمزوریوں کا شکار پایا۔ ہم لوگ سنتے تھے کہ ایک دور ایسا تھا کہ دارالعلوم کے شیخ الحدیث سے لے کر دربان تک صاحبِ نسبت ہوا کرتے تھے،اب حال ایسا تھا کہ ابتدائی دینداری بھی نچلی سطح کے ملازمین میں مشکل سےملتی تھی،حضراتِ اساتذہ کے احوال بھی بکثرت قابلِ اعتراض تھے‘‘۔(ص:220)
جو لوگ حساس ہوتے ہیں اور ہر چیز ،فرد یا ادارے کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم کرنے کےعادی نہیں ہوتے،انھیں اس قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ مولانا بھی ایسے ہی تھے اور ان کے ذہن میں کئی قسم کے سوالات سر اٹھاتے رہتے،امتحان کا زمانہ آیا تو انھوں نے دیکھا کہ طلبہ اس کی تیاری کی بجاے کرکٹ اور فٹ بال کے ٹورنامنٹس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس سے بھی وہ کڑھتے اور اپنے ساتھیوں کے درمیان اس کڑھن کا اظہار بھی کرتے۔
پھر انھیں معلوم ہوا کہ کوئی مدراسی مولانا درسی کتابوں کا مذاکرہ کروانے یا امتحان کی تیاری کروانے کے لیے دیوبند آگئے ہیں۔ ان کا نام کیا تھا، اس کی صراحت مولانا نے نہیں کی ہے۔ یہ صاحب مختلف جماعتوں کے طلبہ کو الگ الگ کتابوں کا مذاکرہ کرواتے اور دورانِ مذاکرہ ان کتابوں کے اساتذہ پر پھبتیاں بھی کستے،آوازے اچھالتے ، ان کا خاکہ اڑاتے اور طلبہ اپنی بے شعوری کی وجہ سے اپنے ہی استاذ کی توہین و تحقیر کرکے مزے لیتے۔ انھوں نے دیوبند میں باقاعدہ ایک مکان کرایے پر لے رکھا تھا اور ہر امتحان سے پہلے آکر اسی طرح دارالعلوم کے طلبہ کو تیاری کرواتے اور اس بہانے اچھی خاصی کمائی کرلیتے۔ دارالعلوم کی انتظامیہ ان صاحب سے شاکی تھی ہی،اُس سال ایسا ہوا کہ انتظامیہ یا بعض طلبہ کے دباؤ کی وجہ سے مکان مالک نے ان سے کمرہ خالی کروالیا۔ مولانا کے بیان کے مطابق بس اسی وجہ سے وہ مشہورِ زمانہ اسٹرائک ہوا،جس کے حوالے سے مولانا اعجاز احمد اعظمی،مولانا طاہر گیاوی،مفتی عزیز الرحمن فتحپوری(موجودہ مفتی اعظم مہاراشٹر) اور دوسرے کئی لوگوں کا دارالعلوم سے اخراج ہوا؛بلکہ کچھ دنوں تک تمام تر تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔
اس سارے سانحے کے ذکر کے ساتھ مولانا نے دارالعلوم سے اخراج کے بعد اپنی اور اپنےاحباب، خصوصاً مولانا طاہر گیاوی و مفتی عزیز الرحمن فتحپوری کی دربدری کا احوال بھی بیان کیا ہے۔ وہاں سے نکل کر کچھ دن مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں بھی رہے، واپس دیوبند گئے اور وہاں ان کا تعارف قاری شبیر احمد دربھنگوی(موجودہ ناظم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ) سے ہوا،جن کے علمی و ادبی ذوق اور غیر معمولی ذہانت سے مولانا کافی متاثر ہوئے؛لکھا ہےکہ:
’’ان کی گفتگو کی زبان اتنی شستہ اور فصیح ہوتی جیسے مولانا آزاد کا قلم چل رہا ہو،مولانا آزاد کی تحریر اور قاری صاحب کی تقریر،ہوبہو باہم دگر مشابہ ہوتی‘‘۔(ص:237)
یہ واقعہ ہے کہ قاری شبیر صاحب ہمارے دیار کے گنے چنے اصحابِ علم و فضل میں سے ہیں،نابینا ہیں،مگر ہمیشہ اپنے ساتھ کسی معاون کو رکھتے ہیں اور کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتے ہیں،مولانا اعجاز صاحب سے ان کا تعارف اسی تعاون کی نسبت سے ہوا تھا۔ روایتی علما کے برخلاف ان کے علم و مطالعے کا دائرہ محدود نہیں،ہمہ جہت ہے،مخاطب جس موضوع اور فن سے انسیت رکھتا ہو،وہ اس پربڑی علم ریز اور خردافروز گفتگو کرتے ہیں۔ جدید عالمی و قومی مسائل اور فکری موضوعات پر نئی نئی کتابوں کی جستجو میں رہتے ہیں اور اسی حوالے سے راقم کو بھی وقتا فوقتا یاد فرماتے رہتے ہیں۔
مولانا اور ان کے احباب کا داخلہ دیوبند میں مشکل تھا،سو انھوں نے دارالعلوم حسینیہ محلہ چلہ امروہہ میں داخلہ لیا،وہاں اس وقت مولانا افضال الحق جوہر قاسمیؒ شیخ الحدیث تھے۔ وہاں سے فراغت کے بعد جماعت میں چلہ لگایا،کچھ دن مدرسہ قرآنیہ جونپور میں تدریسی خدمات انجام دیں،گھر پر رہ کر بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا،مدرسہ حسینیہ امروہہ میں بھی پڑھایا،میسور میں ایک مسجد کی امامت و خطابت کی،جامعہ اسلامیہ بنارس میں تدریسی خدمت انجام دی،مدرسہ دینیہ غازی پورمیں بھی پڑھایا،ان تمام احوال کو مولانا نے بالتفصیل بیان کیا ہے اور اس ضمن میں بہت سے دلچسپ اور معلومات افزا واقعات زیر قلم آئے ہیں۔
ویسے اس کتاب میں دسیوں ایسے واقعات ہیں جو اپنی کسی نہ کسی انفرادیت کی وجہ سے ذہن میں بس جاتے ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن فتحپوری کی غیر معمولی شعری صلاحیت کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ دیوبند کی طالب علمی کے زمانے میں ہی جب انھوں نے کہیں یہ پڑھا کہ فراق گورکھپوری ایک نشست میں دو سواشعار کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،تو وہ نودرے(دارالعلوم دیوبند کے دارالحدیث کا پچھلا حصہ،جہاں طلبہ مطالعہ و مذاکرہ میں مصروف رہتے ہیں) میں بیٹھ کر اپنی قوتِ شعرگوئی کو آزمانے لگے کہ ایک مجلس میں کتنے اشعار کہہ سکتے ہیں۔ جب مولانا اعجاز صاحب رات کے دوبجے ادھر سے گزرے اور انھیں دیکھا تو پوچھا:کیا ہورہا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ رات دس بجے سے بیٹھا ہوں اور اب تک ڈھائی سو اشعار کہہ چکا ہوں۔(ص:246)
مجموعی طورپر اس کتاب کے مطالعے سے مولانا اعظمی کی طالبِ علمانہ زندگی سے آگاہی کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے ایک اہم گوشے سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بھی اس کتاب میں درس و موعظت کے انیک پہلو ہیں۔اپنے عہد کے نابغہ مدرس،مصنف اور مربی کی یہ خودنوشت ہر ذی علم،طالب علم اور شائقِ علم انسان کو پڑھنا چاہیے۔ کتاب کا دوسرا ایڈیشن 2015 میں آیا ہے اور اس کے بالکل شروع میں مولانا اعجاز احمد اعظمی کے پیش لفظ کے علاوہ ان کے خاص شاگرد مولانا ضیاءالحق خیر آبادی کا لکھا ہوا مقدمہ،تمہید اورمولانا کی مختصر سوانح بھی شامل ہیں،ایک تعارفی تحریر دارالعلوم الاسلامیہ بستی کے صدرمولانا نثار احمد قاسمی کی بھی ہے۔ کتاب مکتبہ ضیاء الکتب، خیر آباد کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ دہلی میں فرید بکڈپو ،دیوبند میں کتب خانہ نعیمیہ وغیرہ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*