ہیرٹا مولر کا اداسی اور بے بسی کا ’پاسپورٹ‘ ـ شکیل رشید

رومانیہ نژاد ،ادب کا نوبل ایوارڈ حاصل کرنے والی ،جرمن ادیبہ ہرٹا مولر کے فکشن کی قرأت آسان نہیں ہے ۔ یوں تو ہیرٹا مولر کی تحریروں کو مشکل نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے لکھے ہوئے جملےگنجلک نہیں، چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں ،بیانیہ طول طویل نہیں ہوتا ، مکالمے سیدھے اور سادے ہوتے ہیں اور تحریروں میں بظاہر کوئی پیچیدگی نظر نہیں آتی؛لیکن ان تحریروں کو پڑھنے کے لیے ارتکازاور توجہ لازمی ہے،انہیں سرسری طور پر نہیں لیا جا سکتا ۔ ہیرٹا مولر کی تحریروں کی قرأت کومشکل ،ان تحریروں میں پائی جانے والی ’اداسی‘ اور مولر کے کرداروں کی’ بے بسی‘ بنا دیتی ہے۔ قاری پڑھتے پڑھتے اس ’بےبسی‘ اور ’اداسی‘ کی گرفت میں آ جاتا ہے اور اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے، اُسے درمیان ہی میں ،کچھ دیر کے لیے ہی سہی ، پڑھنا چھوڑ دے ۔ ظاہر ہے یہ عمل قاری کی توجہ اور اس کے ارتکاز کو توڑے گا بھی اور اس کے سبب ناول کی قرأت سے جو تاثر اس کے ذہن پر مرتب ہواہوگا، وہ بھی مکمل طور پر برقرار نہیں رہ سکے گا ؛ لیکن اگر قاری پوری توجہ سے ہیرٹا مولر کے فکشن کو پڑھنے میں کامیاب رہا تو وہ اپنے اطراف میں پھیلی ہوئی ایک ایسی دنیا سے آشنا ہو گا ،جس کے وجود سے اب تک وہ غافل رہا ہے اور اس دنیا سے واقفیت اس کی سوچ اور دنیا کو دیکھنے کےاس کے نظریے میں ایک زبردست تبدیلی لے آئے گی یا تبدیلی لا سکتی ہے ۔ ہیرٹا مولر کے ناول ’’پاسپورٹ‘‘ کی مثال لے لیں ،جس کا اردو ترجمہ حال ہی میں ’اثبات‘ کے مالک و مدیر اشعر نجمی کے اشاعتی ادارے ’اثبات پبلی کیشنز،ممبئی‘ (موبائل نمبر:91 8169002417)نے شائع کیا ہے۔ اس ناول اور اس کے ترجمے پر جو پاکستان کے معروف ناول نگار و مترجم خالد فتح محمد نے کیا ہے،بات کرنے سے قبل کچھ بات ہیرٹا مولر کی مزید کر لی جائے۔
ہیرٹامولر رومانیہ کے ایک گاؤں نتچی ڈورف میں ایک جرمن زبان بولنے والے کسان کے گھر میں ،جس کا تعلق جرمن اقلیت سے تھا،پیدا ہوئیں ۔یہ وہ قصبہ تھا جہاں 1980تک جرمن زبان بولی جاتی رہی۔کمیونسٹ دور میں یہ خاندان ، دیگر جرمن اقلیتوں کی طرح ،شدید جبر اور ظلم کا شکار ہوا۔وہ لوگوں کی املاک اور جائیدادیں ضبط کیے جانے کا دور تھا ،لوگوں کو جبراًمخبر بنایا جاتا تھا اور انکار کرنے والے مصائب سے گزارے جاتے تھے ۔لاکھوں جرمن اقلیت کو سوویت یونین میں جبری مشقت کے کیمپوں میں بھیج دیا گیا تھا ، ان میں ہیرٹا مولر کی والدہ بھی شامل تھیں ۔پاکستان کے بہترین فکشن نگار اور مترجم نجم الدین احمد نے مصنفہ کا ایک مختصر ،مگر جامع تعارف تحریر کیا ہے ،جو اس کتاب میں شامل ہے۔ کامریڈ چاؤسسکی اس وقت آمر تھے ۔ اس ناول میں ایک جگہ چاؤسسکی اور ان کی بیوی ایلیناچاؤسسکی کا ذکر مصنفہ نے طنزاً یوں کیا ہے: ’’ اس گھر کا باپ ہمارا باپ ہے؛ اسی طرح کامریڈ نکولائی چاؤسسکی ہمارے ملک کے باپ ہیں۔جس طرح جس گھر میں ہم رہتے ہیں،اس گھر کی ماں ہماری ماں ہے؛ اسی طرح کامریڈ ایلیناچاؤسسکی تمام بچوں کی ماں ہیں ۔‘‘ہیرٹا مولر نے بھی اور لوگوں کی طرح سب کچھ دیکھا جھیلا اور سہا اور وہ سارے تجربے ، ساری اداسیاں اور ساری بے بسیاں اپنے دامن میں سمیٹ لیں اور جب موقع آیا تو فکشن کی شکل میں انہیں ساری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔ جرمن اقلیت اپنے وطن رومانیہ کو چھوڑنے پر مجبور کر دی گئی تھی اور اس کا ایک ہی واحد راستہ تھا ،پاسپورٹ کا حصول۔ مگر پاسپورٹ کا حصول اسی قدر مشکل بنا دیا گیا تھا، جس قدر کہ کسی جلتے صحرا میں پانی کا حصول۔ہیرٹا مولر کو ہجرت کی اجازت نہیں دی گئی ، یہ کئی بار ہوا اور جب دیوارِ برلن ٹوٹی تو وہ اپنے شوہر ،ناول نگار رچرٓ ڈ واگنر کے ساتھ برلن پہنچی،جو آج بھی ان کا مسکن ہے۔
مولر کا ناول ’’ پاسپورٹ‘‘ اس کے دوسرے کاموں کی طرح ،رومانیہ میں جرمن اقلیت کی، جسے وہاں سوابین کہا جاتا ہے، کہانی سناتا ہے ۔ نسلی تطہیر کی ، چاؤسسکی کے ریاستی مظالم کی، نسلوں کی شکست و ریخت کی،دم توڑتے ہوئے گاؤں کی،نقلِ مکانی کا خواب دیکھتے لوگوں کی ،اور ان عورتوں کی کہانیاں جنہیں غلاموں اور طوائفوں سے بس کچھ ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان باپوں کی کہانی ہے جو اپنی اولادوں ، بالخصوص بچیوں پر شک کرتے ہیں ، اور ان سرکاری افسروں اور پولیس اہلکاروں ، ان مذہبی علمبرداروں کی کہانی ہے جو سر تا پیر کرپشن کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جن کے لیئے وقت تھم یا جم گیا ہے کہ وہ ظلم اور جبر سہنے پر مجبورہیں مگر ہجرت کی ہمت نہیں رکھتے۔اس ناول کا موضوع ، تھیم اور پلاٹ سیدھا سادا ہے ؛ونڈسچ نامی ایک مِل مالک ،ریاستی جبر سے بچنے اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیئے ،اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کو، رومانیہ سے نکال کر مغربی جرمنی کے کسی شہر میں لے جانےکے لیئے ہاتھ پیر مار رہا ہے ،لیکن ملک ے باہر جانے کے لیئے ایک پاسپورٹ کی ضرورت ہے ،اور پاسپورٹ بغیر رشوت دیے نہیں مل سکتا۔مئیر کو رشوت میں آٹے کی بوریاں چاہیے ،پولیس رضاکار اور پادری کو ،جو بالترتیب نظم وضبط کی برقراری اور اخلاقی معیار پر عمل کی ،اعلیٰ ترین علامات اور اخلاقی طور پر بھٹکے ہوئے طبقے کے مضبوط ستون ہیں،ونڈسچ کی خوبصورت بیٹی ایملی چاہئے،تاکہ وہ ان کے بستروں میں سے پاسپورٹ اور بپتسمہ کے سرٹیفیکیٹ تلاش کر لے ۔ونڈسچ یہ نہیں چاہتا ،اسی لیے جب اس کی بیوی کہتی پے:’’ایملی کو پیشی کے لیئے اتوار کی صبح کو جانا چاہیئے ۔‘‘تو اس کے منھ سے نکلتا ہے:’’ناقابلِ یقین‘‘پھر وہ کہتا ہے:’’ میری بیٹی کو گدّا بننا ہوگا۔‘‘وہ زمین پر تھوکتا ہے۔’’یہ نفرت انگیز ،باعث شرم ہے۔‘‘یہ جو عزتوں کی پامالی ہے ،گاوؤں کا ،قصبے کا ،کوئی گھر اس سے محفوظ نہیں ہے ۔ ہیرٹامولر گاوں کی روز مرہ کی بے رحمانہ عکاسی کرتی ہے ، ایسی عکاسی جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے ۔ حالانکہ اس بےرحمانہ عکاسی کے لیئے مولر پر سخت تنقید بھی ہوئی ہے لیکن دیہی زندگی کی یہ بے رحمانہ عکاسی ہی ہے جو اس کے ناول کوایک حقیقی پس منظر عطا کرتی ہے ،اور ان یوروپی روایات کے باوجود ، مثلاً اُلّوکا موت کا پیامبر بن کر گاؤں کے گھروں پر منڈرانا،سیب کے درخت کا اپنا منھ کھول کر اپنے ہی سیبوں کو کھا جانا،تتلی کا درزی کے گال میں سے گزر جاناوغیرہ،جن کا اس ناول میں مختصر جملوں اور مکالموں میں ذکر کیا گیا ہے ، یہ ناول فنتاسی میں تبدیل نہیں ہوتا ۔ اس ناول کے کئی مناظر کپکپا دیتے ہیں ۔ ایک منظر ہے جب ایملی کی ماں اسے پولس رضاکاراور پادری کے پاس جانے کے لیئے تیار کرتی ہے :’’ ایملی اپنا ہینڈ بیگ کھولتی ہے۔وہ انگلیوں کے کونوں سے آنکھوں میں مسکارا لگاتی ہے ۔’’زیادہ نہیں۔‘‘ ونڈسچ کی بیوی کہتی ہے۔’’ورنہ لوگ باتیں بنائیں گے ۔‘‘اسی جگہ وہ منظر آتا ہے جو باپ کی بے بسی کو اجاگر کرتا ہے ، وہ اپنی بیٹی کو پاسپورٹ کے حصول کے لیئے پولس رضاکار اور پادری کے پاس بن سنور کر جاتے ہوئے ادسی سے دیکھتا رہتا ہے:’’ونڈسچ ہاتھ سے اپنا ماتھا دباتا ہے ۔وہ کمرے سے نکل جاتا ہے۔کمرہ اندھیرا ہے۔ وہ دیوار میں ایک سایہ دار سوراخ ہے۔‘‘
نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے ہیرٹا مولر کی نثر کو شاعری کہا ہے ، ایسی نثری شاعری جو پورے ارتکاز کے ساتھ محروم افراد کی زندگیوں کو سامنے لاتی اور انہیں زبان عطا کرتی ہیں ۔انگریزی میں مولر کے اس ناول کا ترجمہ نثر میں شاعری ہی ہے ؛لیکن خالد فتح محمد اس ترجمے میں ہیرٹا مولر کی نثر میں کی گئی شاعری کو برقرار رکھنے میں بہت زیادہ کامیاب نہیں ہیں ،اس وجہ سےیہ ترجمہ کہیں کہیں سے اکھڑا اکھڑالگتا ہے اور وہ اداسی اور بے بسی پوری طرح سے ہم پڑھنے والوں پر حاوی نہیں ہو پاتی ،جو اس ناول کو پڑھتےہوئے لازمی طور پر حاوی ہونا چاہیے ؛لیکن اس کے باوجود انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ ترجمہ رواں اور اصل کے قریب ہو ،اس میں وہ تقریباًکامیاب ہیں۔ہیرٹا مولر کا یہ ’اداسی ‘اور ’بے بسی ‘ کا’ پاسپورٹ ‘ہر اس مہاجر اور ’اقلیتی طبقات‘ کے ہر اس شخص کی کہانی ہے، جو ریاستی جبر کے سایے میں زندگی گزار رہا ہے ،یہ ہم ہندوستانی اقلیتوں کی بھی کہانی ہے۔