حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل امینی: جنہیں اب گردشِ افلاک پیدا کر نہیں سکتی ـ عبید انور شاہ قیصر

(دوسری قسط)
شروع مضمون میں میں نے لکھا ہے کہ جب پہلے دن مولانا کے یہاں جانا ہوا تو وہاں دو طالب علم پہلے سے موجود تھے، یہ دونوں تخصص فی الادب میں داخل تھےـ جب تک مولانا اس شعبے کے نگراں رہے تب تک اس میں دو ہی طالب علم ہوتے تھےـ مصروفیات کے ہجوم اور امراض کی بنا پر مولانا اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے، اس کے بعد طلبہ کی تعداد بڑھا کر پانچ کر دی گئی اور شعبے کے نگراں حضرت مولانا عارف جمیل صاحب قاسمی مقرر ہوئے، یہ تبدیلی ہمارے سامنے ہی ہوئی. یہ دو طالب علم ایک لحاظ سے چوبیس گھنٹے مولانا کے زیرِ تربیت رہتےـ اضافی کام کے طور پر الداعی کی پروف ریڈنگ یا اس نوعیت کا کوئی دوسرا کام مولانا ان سے لے لیتے تھے اور اغلاط سازی، اردو-عربی رموزِ اوقاف اور املا کے اصولوں کی پوری مشق کرا دیتے تھے. فارغ اوقات میں بازار کا کام بھی لے لیتے تھے اور خریداری کے اصول، اچھے سامان کی شناخت اور مول تول کے گُر، بنیادی چیزوں کی رہنمائی اور تعلیم دیتے تھے. یہ وہ تربیت تھی جو لاکھ روپے خرچ کرکے بھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی. ان میں سے ایک صاحب باطنًا تو جیسے رہے ہوں، شکلًا صوفی دکھتے تھے. مولانا نے ان کا نام "صوفی سن شائن ( Sun Shine) اور "صوفی چاکلیٹ” رکھ رکھا تھاـ پہلے دن کی ڈانٹ کے بعد ان دونوں سے مولانا کے اصول معلوم کئے کہ کس وقت پہنچنا ہے؟ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے؟ دوسرے دن مولانا کو لینے کے لیے گھنٹے سے تقریباً بیس منٹ قبل پہنچ گئے. سلام کرکے کھڑے رہے تو مولانا نے کہا بیٹھو، کب تک کھڑے رہو گے. برآمدہ میں تخت بچھا ہوا تھا، اسی پر مولانا پورے دن بیٹھے لکھتے رہتے تھے. سمٹ سمٹا کر ہم بھی بیٹھ گئے. تھوڑی دیر بعد ہی مولانا کے لیے کافی کا کپ آیا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے. کہنے لگے کہ بدن میں اب طاقت نہیں رہی، سبق سے پہلے کافی نہ پیوں تو پڑھانا دشوار ہو جائے. بعد میں پورے سال مولانا کا یہ معمول دیکھا کہ وہ کافی پی کر ہی گھر سے نکلتے تھے. سردی گرمی ہر موسم میں یہی معمول رہا، اس میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا. کافی Bru کمپنی کی پسند کرتے تھے، ایک دو بار یہ نہیں مل سکی تو مجبوراً اس کی جگہ دوسری کمپنی کی استعمال کی. کافی پی کر شیروانی پہننے کے لئے اندرونِ خانہ چلے گئے. تیار ہو کر آئے اور عطر کی شیشی نکال کر ہتھیلیوں کو عطر سے تقریباً لت پت کر لیا اور کپڑوں پر خوب عطر لگایا. یہ بھی مولانا کا تقریباً روز کا معمول تھا کہ عطر ضرور استعمال کرتے تھے، اور اچھی خاصی مقدار میں استعمال کرتے تھے. جوتوں کا پالش ہونا بھی ضروری تھا، گندے جوتے بالکل نہیں پہنتے تھے. البتہ پالش کا نمبر روز نہیں آتا تھا، ایک بار کی پالش تین روز چل جاتی، درمیان کے دو دن صرف برش سے جوتا صاف ہوتا. الحمد للہ دوسرے دن سے ہی یہ خدمت مولوی مجاہد اور میں نے اپنے ذمہ لے لی تھی. اسی طرح درسگاہ پہنچ کر جوتے اتارنے کی سعادت بھی ہمیں سال بھر حاصل ہوتی رہی، (بعض مرتبہ یہ خدمت درسگاہ کے دیگر ساتھیوں نے بھی انجام دی، کسی کا نام چھوٹ نہ جائے اس لیے یہاں ناموں کا ذکر ترک کر دیا ہے). گھر سے درسگاہ تک راستے میں مولانا کی زبان پر دعا و اوراد جاری رہتے اور ان کے ہونٹ خاموشی سے ہلتے رہتے. پہلے دن تو تاخیر کی وجہ سے تعارف کی نوبت ہی نہ آ سکی تھی. دوسرے دن مولانا نے نام، ولدیت، وطن وغیرہ پوری تفصیل معلوم کی. مولانا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے صاحبزادے کے ساتھ بارہویں کرنے والا مدرسہ میں داخلہ لے کر درجہ عربی ششم تک پہنچ چکا ہوگا. تعارف کے بعد بہت خوش ہوئے. گزشتہ سالوں کے نمبرات معلوم کئے، یہ جان کر کہ ہر سال نمایاں نمبرات اور پوزیشن حاصل ہوئی ہے، دل سے دعائیں دیں اور کہا کہ تم نے یہ بہت بڑا فیصلہ لیا ہے، بڑی قربانی دی ہے لیکن یہ بہترین فیصلہ ہے، علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان میں علمی سلسلہ جاری رہنا چاہیے. اس کے بعد سے مولانا کے رویہ میں میں نے غیر معمولی تبدیلی محسوس کی، ان کی جانب سے شفقت اور عنایت کی بارش ہوتی رہی، بالخصوص دو مواقع پر میں نے اسے خاص طور پر محسوس کیا، ان شاء اللہ آگے اس کی تفصیل لکھوں گا. چوتھا یا پانچواں معلوم نہیں کون سا دن تھا، حسبِ معمول مولانا کو لینے گھر پہنچے، مولوی مجاہد جوتے پالش کرنے لگے، میں خالی بیٹھا تھا کہ مولانا نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سارے صحن میں ریت اڑ رہی ہے، وہ سامنے پانی کا پائپ ہے اسے جا کر دیکھو. یہ کہہ کر مولانا اندر چلے گئے. مولانا کے یہاں کچھ تعمیری کام چل رہا تھا اور صحن میں ریت کا ڈھیر لگا ہوا تھا. ہوا سے ریت ادھر ادھر پھیل گئی تھی. میں پائپ کے پاس گیا اور اسے لے کر کھڑا رہا، سمجھ ہی نہیں آیا کہ کرنا کیا ہے؟ مولوی مجاہد سے کہا تو وہ بھی کچھ جواب نہ دے سکے. دو تین منٹ بعد مولانا اندر سے آئے تو میں اسی طرح پائپ لئے کھڑا تھا. مولانا نے دیکھا تو کہا کیا ہوا؟ میں نے کہا حضرت کیا کرنا ہے؟ تو کہنے لگے ارے بے وقوف! پانی کھول کر اس ریت کو تر کرو، کبھی پودوں کو پانی دیا ہے، اسی طرح چھڑکاؤ کرو تاکہ ریت نہ اڑے. تب بات سمجھ میں آئی اور حکم کی تعمیل ہوئی ـ

غلطیوں پر مولانا ڈانٹتے، بظاہر سخت الفاظ بھی استعمال کرتے لیکن اس ڈانٹ میں بھی محبت چھپی ہوتی تھی، جیسا کہ ایک شفیق باپ اپنی اولاد کو ڈانٹتا ہے. "ارے بے وقوف” مولانا کے ان الفاظ میں کس قدر شفقت تھی! آنکھ بند کرکے تصور کرتا ہوں تو آج بھی ان کی لذت محسوس ہوتی ہے.

وقت پر لگا کر اڑا، بڑی تیزی سے ششماہی امتحان آئے، پھر سالانہ امتحان کب سر پر آ پہنچے کوئی خبر نہ ہو سکی اور چٹکی بجاتے سال پورا ہو گیا. پورے سال سبق کے لیے مولانا کو لانے کے لیے جاتا رہا، نیز لا تعداد بار عصر بعد ان کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی. نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو لازمی بات ہے کہ روزانہ مولانا کی خدمت میں حاضری کا وہ سلسلہ نہیں رہا، صبح شام اور مغرب بعد کے اسباق اور عشا بعد تکرار و مطالعہ نے ایسا گھیرا کہ باقاعدہ وقت نکال کر مولانا کے یہاں جانا ہوتا یا پھر اس وقت جب مولانا خود فون کرکے بلاتے. اگر میں یہ کہوں کہ میں نے مولانا کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ان کے مزاج، افکار اور عادات کو اپنی بے بضاعتی کے باوجود سمجھنے کی کوشش کی ہے اور مولانا میں ان خوبیوں کا مشاہدہ کیا ہے جو شخص کو شخصیت اور سونے کو کندن بناتی ہیں، تو میری اس بات میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہوگا. اسی ذاتی مشاہدے اور تجزیے کی روشنی میں مولانا کی عادات و خصوصیات قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں، پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ پڑھتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ ایک ہیچ میرز، کم علم و شکستہ قلم کی تحریر ہے جس سے مولانا کی شخصیت اور کمالات کا حق تو ہرگز ادا نہیں ہو سکے گا، البتہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کی میری تمنا پوری ہو جائے گی.

مولانا کی بعض عادات و خصوصیات

(1) نفاست پسندی
مولانا نور عالم صاحب رحمہ اللہ ہر چیز میں نفاست پسند تھے. لباس ہو، نشست گاہ ہو، جوتے ہوں یا عصا، چائے کے برتن ہوں، یا ماکولات و مشروبات اور دیگر اشیاء، ہر چیز میں ایک قسم کی نفاست تھی. گھر کا لباس تو کرتا اور لنگی ہوتا تھا (ایک دو بار وقت سے پہلے گھر پہنچے تو مولانا کو لنگی بنیان پہنے بھی دیکھا) مگر گھر سے باہر ہمیشہ شیروانی زیب تن ہوتی. سخت گرمی میں بھی شیروانی بدن سے جدا نہیں ہوتی تھی. شیروانی میں کرتا تو چھپا رہتا تھا، پائجامے پر کبھی سلوٹ نہیں دیکھی. سفید براق بے شکن ہوتا. جوتے صاف ستھرے چمکتے ہوئے. جس تخت پر مولانا بیٹھے رہتے تھے اس پر کتابیں، کئی طرح کے قلم، کاغذ اور اخبارات منتشر سے نظر آتے تھے لیکن یہ مجبوری کے درجہ کی چیز تھی، مولانا ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن کی کتابیں سلیقے سے الماریوں میں سجی رہتی ہیں اور جو مطالعہ کے بجائے واردین و صادرین کو مرعوب کرنے کے کام آتی ہیں. حوالہ جات کی تلاش و تنقیح، مواد کی فراہمی اور معلومات کی جستجو میں وہ دن بھر کتابیں الٹتے پلٹتے رہتے تھے اور اس لیے کتابیں دائیں جانب ایک کے اوپر ایک حسبِ سہولت رکھی رہتی تھیں. مجبوری والی اس جگہ کے استثناء کے علاوہ وہ تخت پر بچھی چادر پر ایک شکن بھی پسند نہیں کرتے تھے. کسی کے بیٹھنے سے شکن پڑ جاتی تو اس کے اٹھتے ہی چادر ٹھیک کرواتے. متعدد بار مولانا کے خوانِ نعمت پر ناشتے کا لطف اٹھایا جو چیز بھی سامنے آئی اس میں بھی نفاست جھلکتی محسوس ہوئی، صاف ستھری ٹرے، سلیقے سے سجی چائے کی پیالی، عمدہ قسم کے بسکٹ، نمکین، مٹھائی وغیرہ. مولانا کا خط بھی بڑا نفیس اور پاکیزہ تھا. حروف نہ زیادہ چھوٹے ہوتے، نہ بہت بڑے، رموزِ اوقاف کی مکمل رعایت کرتے ہوئے کاغذ پر گویا گل بوٹے کھلا دیتے تھے.

(2) اعلیٰ معیار کی پابندی
ادنیٰ یا کام چلاو پر قناعت کے مولانا قائل نہیں تھے. ان کی یہ عادت تمام شعبہ ہائے زندگی کو محیط تھی. تحریر، تصنیف، کتابوں کے سرِ ورق، کاغذ، طباعت، کتابوں کا نام رکھنے، ہر چیز میں وہ اعلیٰ معیار کی پابندی کرتے تھے. غیر معیاری لکھنے، محض مضامین کی تعداد بڑھانے اور اپنے نام کے ساتھ مصنف کا لاحقہ لگانے کے لئے ایری غیری ہر قسم کی کتاب چھاپنے کا جو چلن ہو گیا ہے اس سے مولانا کو سخت نفرت تھی. درسگاہ میں ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ ” ہمیشہ اعلیٰ اور بہتر کی جستجو کرو. کم پر مطمئن ہو جانا، اور گھٹیا پر قناعت کر لینا صحیح نہیں. میں نے زمانۂ طالب علمی میں سوچ لیا تھا کہ کام کرنا ہے تو معیاری کرنا ہے، نمایاں اور ممتاز کرنا ہے، ورنہ کرنا ہی نہیں ہے، اور آج تک اس اصول کی پابندی کر رہا ہوں”. مولانا کی جو کتابیں شائع ہوئی ہیں وہ معیارِ طباعت کے لحاظ سے ممتاز ہیں. سبھی کا ٹائٹل معنی خیز اور خوبصورت ہے. نام بھی بڑے دلچسپ اور دلفریب ہیں.” وہ کوہ کن کی بات "،” پسِ مرگ زندہ "، ” حرفِ شیریں” سے لے کر ان کی حیات میں طبع ہونے والی آخری دو کتابوں "من وحي الخاطر”، "رفتگانِ نا رفتہ” سب چنیدہ و یکتا نام ہیں. کھانے پینے کی اشیاء میں بھی معیار کا خیال رکھتے تھے. سستے کے چکر میں صحت کا سودا نہیں کرتے تھے. کون سا سامان کس دوکان سے آئے گا یہ بھی مولانا کے یہاں تقریباً طے تھا. اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بارہا تجربوں کے بعد ان دکانداروں کے معاملات اور ان کا سامان مولانا کو ٹھیک لگتا تھا. میرے سامنے کی بات ہے کہ ایک بار مولانا نے ایک طالب علم کو سیب لانے کے لیے بھیجا، دوکان کی نشاندہی بھی کر دی کہ فلاں جگہ سے لانا. وہ صاحب تھوڑی دیر بعد سیب لے کر حاضر ہو گئے. انہیں دیکھتے ہی مولانا نے کہا کہ جہاں سے میں نے لانے کو کہا تھا وہاں سے لے کر نہیں آئے؟ یہ سنتے ہی ان کی سٹی گم ہو گئی کہ مولانا کو پتا کیسے چلا؟ لیکن کچھ نہ کچھ جواب تو دینا تھا تو کہنے لگے کہ مولانا وہیں جا رہا تھا مگر راستے میں ایک جگہ بہت عمدہ سیب مل رہے تھے، اس لیے وہاں سے لے آیا. مولانا نے ڈانتتے ہوئے کہا کہ مجھے پٹی مت پڑھاؤ. یہ نئے لڑکے پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں، میری زندگی گزر گئی ہے یہاں کے دکانداروں کو دیکھتے ہوئے. اب پیر کی تکلیف کی وجہ سے بازار نہیں جاتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے بازار کی خبر نہیں ہے. لاؤ دکھاؤ کیسے سیب لائے ہو. یہ کہہ کر پنی اپنے ہاتھ میں لے لی اور سیب نکال کر دیکھنے لگے. خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان میں دو تین سیب خراب ہی تھے، بیچارے طالب علم نے تو چھانٹ ہی کر لئے ہوں گے لیکن دوکاندار نظر بچا کر اپنی مرضی کا سامان اس طرح تولتے ہیں کہ سامنے والے کو خبر نہیں ہوتی. اب تو خوب ڈانٹ پڑی. آخر میں کہا کہ تمہارے دروازے میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میری بتائی ہوئی دوکان پر نہیں گئے، اس لیے کہ مجھے کئی سال ہو گئے ہیں وہاں سے پھل منگواتے ہوئے، وہ گھٹیا قسم کی پنّی (Plastic bag) بھی اپنی دوکان پر نہیں رکھتا. تم جس پنی میں لے کر آئے ہو یہ پنی اس کی دوکان کی نہیں ہے.

ایک واقعہ خود میرے ساتھ پیش آیا، مولانا سے ملاقات کو کافی دن ہو گئے تھے، ایک دن ملاقات کی غرض سے حاضر خدمت ہوا، مولانا کو چونکہ عطر بہت پسند تھا اس لیے عطر کی شیشی ہدیہ کے طور پر ساتھ لایا. مولانا کے مزاج اور پسند کا بخوبی علم تھا اس لیے اپنے لیے جس قیمت کا عطر عام طور پر استعمال کرتا تھا اس سے دو ڈھائی گنا زائد قیمت کا عطر خریدا. عطر خدمت میں پیش کیا، مولانا نے ڈھکن کھول کر عطر لگایا. میں سوالیہ اور امید بھری نظروں سے انہیں کی طرف دیکھ رہا کہ عطر کیسا لگا؟ دل پُر امید تھا کہ پسند آیا ہوگا. مولانا نے میری نظروں کے سوال کو پڑھ لیا اور بولے: "ہاں زیادہ برا نہیں ہے”. اپنائیت اور مزاح سے بھرے اس تبصرے کو سن کر جو خوشی ہوئی وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا. جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں ہونٹوں پر خود بہ خود مسکراہٹ آ جاتی ہے.

"إشراقة” کے عنوان کے تحت الداعی میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے پر کام چل رہا تھا، مولانا کی خواہش تھی کہ اس کا اردو ترجمہ بھی ساتھ ہی شائع ہو جائے. اس کے لیے مولانا کی نظر میں حقانی القاسمی سب سے موزوں آدمی تھے. حقانی صاحب اپنے ادبی ذوق، تنقیدی شعور اور البیلی اردو نثر کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، وہ اگر یہ کام کرتے تو بڑے معرکہ کی چیز سامنے آتی مگر ان کی مصروفیت، بیماری اور ناتوانی کی بنا پر یہ کام نہیں ہو سکا. اس انتخاب سے بھی مولانا کے معیار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے.

(3) وقت کی قدر شناسی

وقت کی قدر دانی مولانا کی زندگی کی اساس، ان کی کامیابیوں کا راز اور شاہ کلید تھی. شکر کے پرانے مرض – جس کی شدت پہلے دن ہی سے زیادہ تھی اور دن بہ دن بڑھتی جاتی تھی- اور دیگر بہت سے عوارض، عوائق اور مسائل کے باوجود انہوں نے تصنیف و تالیف، مضامین و مقالات کا جو گنجِ گراں مایہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے اس کی وجہ یہی انضباطِ وقت تھا. تاریخ کے کامیاب افراد کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ چیز قدرِ مشترک نظر آئے گی کہ وہ سب وقت کے قدر دان تھے، ایک ایک لمحہ کا حساب رکھنے والے اور وقت کی عظیم دولت کی حفاظت کرنے والے تھے. جو لوگ وقت کی اہمیت اور قدر پہچان لیتے ہیں، اس کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ دیر سویر کامیابی کی بلندیوں تک ضرور پہنچتے ہیں. مولانا کے یہاں چونکہ مطالعہ، لکھنا اور لکھتے رہنا ہی وظیفۂ حیات تھا اس لیے اس کا کوئی "خاص وقت” نہیں تھا بلکہ سارا وقت اسی کام کے لیے تھا. دیگر امور کے لیے الگ سے وقت نکالا جاتا تھا، عصر بعد کا وقت ملاقات کے لیے فارغ کر رکھا تھا جس میں اساتذہ، مہمان اور طلبہ آتے تھے. بشری ضروریات اور واجب کے بقدر آرام کے علاوہ باقی سارا وقت لکھنے اور مطالعہ کے لئے وقف تھا. لکھنے کے "ماہانہ نصاب” کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ "الداعی” کے ہر شمارے میں تین عناوین – کلمة المحرر "،
” كلمة العدد”، ” إشراقة” – کے تحت فصیح و بلیغ زبان میں بڑے علمی و فکر انگیز تین مضمون ہوتے تھے. پھر تقریباً ہر ماہ ہی کسی نہ کسی شخصیت کے انتقال پر الداعی کے وفیات والے کالم "إلى رحمة الله” کے تحت گراں قدر تفصیلی مضمون ہوتا اور کبھی دو یا تین مضمون ہوتے. متعدد شماروں میں وفیات پر مولانا کے تین سے چار مضمون موجود ہیں، ذی قعدی/ ذی الحجہ 1429 ھ مطابق نومبر / دسمبر 2008ء کے شمارے میں اٹھارہ افراد پر وفیات ہیں، مولانا کی عام عادت کے برخلاف اگرچہ یہ مضامین قدرے مختصر ہیں لیکن معلومات میں کوئی کمی نہیں ہے. ان اٹھارہ لوگوں میں مشہور فلسطینی شاعر محمود درویش، خطِ نفیسی کے موجد سید انور حسین نفیسی الحسینی، جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کے سابق شیخ الحدیث مولانا محمد اکرام علی بھاگلپوری وغیرہ پر مضامین شامل ہیں. یہ وہ مضامین ہیں جو مولانا نے مختلف اوقات میں لکھے تھے لیکن الداعی کے صفحات کی تنگ دامنی کی بنا پر بر وقت طبع نہ ہو سکے.

اس کے علاوہ اردو کے مضامین بھی مسلسل لکھتے رہتے تھے، اکابر کی کتابوں کے ترجمے کا کام بھی چلتا رہتاـ اگر وقت بچتا تو تقاریظ اور مقدموں کی جانب متوجہ ہوتے. والد محترم کی کتاب "جانے پہچانے لوگ” پر مولانا نے نہایت عمدہ مقدمہ ارقام فرمایا. یوں تو مولانا کی ہر تحریر بیش قیمت موتی کے مانند ہے لیکن یہ مقدمہ ان چند تحریروں میں سے ہے جو درِ شاہوار کی حیثیت رکھتی ہیں. اس تحریر کے حصول میں والد صاحب کو کم و بیش چھ ماہ لگے، وجہ یہی تھی کہ مولانا کے پاس معمولات سے زائد وقت ہی نہیں ہوتا تھا. اسی مقدمے میں مولانا نے لکھا ہے: ” جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں بیماری کے عوارض کے ساتھ ساتھ بے پناہ مشغول آدمی ہوں. وقت کی پابندی اور فرائضِ حیات کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کی خواہش اور جتن پریشان کئے رہتے ہیں؛ اس لیے مستحبات کے لیے بہ مشکل ہی وقت مل پاتا ہے”. جس سال میں نے متنبی پڑھی اسی سال دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم مولانا غلام رسول خاموش رحمہ اللہ کا انتقال ہوا، اور اسی کے قریب دو تین اور بڑے لوگ انتقال کر گئے. مولانا سبق کے لیے درسگاہ آ رہے تھے، راستے میں کہنے لگے: "مولویوں کا کوئی کام سلیقہ کا نہیں ہے. بتاؤ ایک ساتھ تین چار لوگ انتقال کر گئے. ادارے کا اور ان کے متعلقین کا اصرار ہے کہ سب پر مضمون لکھوں، اب وقت کہاں سے لاؤں. یہ لوگ ترتیب سے نہیں مر سکتے”.

مولانا کے یہاں تنظیمِ اوقات کا کس قدر لحاظ تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب کبھی دوپہر میں انہیں لینے کے لئے جانا ہوا تو وہ لکھتے ہوئے نظر آئے. ان کی نشست گاہ کے بارے میں بتا چکا کہ برآمدہ میں تخت بچھا ہوا تھا، وہیں بیٹھے لکھتے رہتے تھے. سردی ہو کہ گرمی یا برسات مولانا اسی جگہ ہوتے. دیوبند میں موسمِ سرما اور موسمِ گرما دونوں پُر شباب ہوتے ہیں. صبح کے بالمقابل دوپہر میں سردی کی شدت میں کچھ نہ کچھ کمی آ ہی جاتی ہے لیکن پھر بھی اچھی خاصی خنکی ہوتی ہے. ایسے ہی موسم میں مولانا سے عرض کیا کہ حضرت سردی ہو رہی ہے، یہاں بیٹھنے میں دشواری نہیں ہوتی؟ فرمایا کہ باہر اس لیے بیٹھتا ہوں کہ روشنی مناسب ہوتی ہے اور دھوپ نکل آئے تو اس کا بھی لطف اٹھا لیتا ہوں. گرمی کے موسم میں سخت دھوپ کے زمانے میں اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، عرض کیا کہ حضرت اندر بیٹھ جائیں تو لو سے حفاظت رہے گی، دھوپ بڑی سخت ہے. مسکرا کر کہنے لگے کہ دھوپ سے تو پرانی دوستی ہے اور اب تو بجلی ہے، پنکھا ہے، اب کیسی گرمی.

وقت کی قدر شناسی کا ہی نتیجہ ہے کہ مولانا نے تدریسی مشغولیت، خانگی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور جملہ اعذار کے باوجود تحریری طور پر کیفیت و کمیت ہر دو لحاظ سے ایسا عظیم سرمایہ چھوڑا ہے جو بظاہر ایک شخص کے بس کی بات نہیں ہے. یہ بات کس قدر لائقِ تحسین ہے کہ اس کثرت سے لکھنے کے باوجود ہلکی تحریر ان کے قلم سے کبھی نہیں نکلی، جو لکھتے تھے معیاری لکھتے تھے اور جس موضوع پر قلم اٹھاتے اس کا حق ادا کر دیتے تھےـ

(4) معلومات کی جستجو اور فراہمی کا نادر ذوق
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت کی بنا پر اب معلومات کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے. ہر طرح کی معلومات چٹکی بجاتے حاصل ہو جاتی ہیں. ذرا انٹرنیٹ کے بغیر معلومات جمع کرنے کا تصور کریں، اردو کی کتابوں میں عموماً جس چیز پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے وہ ضروری اعداد و شمار اور حوالہ جات ہیں، تاریخ کی کتابوں اور سوانح عمریوں میں سب سے زیادہ ضرورت اور اہمیت انہیں کی ہوتی ہے مگر بسا اوقات سنین ولادت و وفات تک غائب ہوتے ہیں یا پھر درست نہیں ہوتے. چار پانچ سال قبل حضرت شیخ الہند کے بارے میں کچھ تفصیلات کی تلاش تھی، حضرت کی حیات و خدمات پر چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ سب سے پہلے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت و افسوس کی انتہا نہ رہی کہ پورے شمارے میں ان کی تاریخ ولادت کا کہیں ذکر نہیں ہے. اس طرح کا تجربہ کئی لوگوں کو ہوا ہوگا. اس واقعی صورتحال کے بعد مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی جد و جہد اور جاں فشانی کا اندازہ لگائیں کہ انہوں نے اپنے مضامین کو اعداد و شمار اور حوالوں سے کس قدر مزین کیا ہے. خالص دینی و سیاسی مسئلے پر لکھی گئی کتاب ہو جیسے ” فلسطين في انتظار صلاح الدين” جس کا اردو ترجمہ بھی "فلسطین صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے یا شخصیات پر لکھے گئے مضامین یا دوسری تحریریں مولانا نے ہر بات باحوالہ لکھی ہے، اعداد و شمار کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے لکھی ہے. فلسطین پر لکھی گئی کتاب (اس وقت میرے سامنے اردو کی کتاب ہے) میں مولانا نے چوبیس صفحات پر مشتمل وقیع مقدمہ تحریر کیا ہے. اس مقدمے میں متعدد علماء و سیاسی قائدین مثلاً علامہ ابن تیمیہ، امام مسلم، ابن جریر طبری، امام نووی، علامہ مجیر الدین حنبلی، مفسر مقاتل بن سلیمان، صلاح الدین ایوبی، خلیفہ عبد الحمید ثانی، امیرِ مکہ شریف حسین، محمد انور سادات کے نام آئے ہیں، مولانا نے عربی طرز پر ہر ایک کا پورا نام ولدیت و جَدّیت، قومی و خاندانی نسبت وغیرہ کے ساتھ لکھا ہے، ہر ایک کی ولادت و وفات کی عیسوی و قمری تاریخ رقم کی ہے. اس کے علاوہ جو واقعات، اشارات لکھے ہیں ان کا بھی حوالہ موجود ہے، آیتِ قرآنی اور حدیث کی تخریج کا اہتمام کیا ہے. یہ طرز ان کی ہر کتاب میں ہے. یہ ایسی خوبی ہے جس کا اہتمام عربی کتابوں میں تو ملتا ہے لیکن اردو کے کسی بھی مصنف کے یہاں یہ چیز نہیں ملے گی، اور اردو میں کوئی اس کا اہتمام کرنا چاہے تو اسے کس درجہ دشواری کا سامنا ہوگا اور کس قدر محنت اور تحقیق کرنی ہوگی، اس کو میں ذکر کر چکا. شخصیات پر جو مضامین لکھے ہیں حق یہ ہے کہ ایسی باحوالہ اور ہر لحاظ سے مکمل تحریریں اردو میں مولانا کے علاوہ کسی بڑے سے بڑے ادیب اور محقق کے یہاں نہیں ملتیں. "پسِ مرگ زندہ” میں شامل ہر مضمون کے آخر میں انہوں نے "مختصر سوانحی خاکہ” کے عنوان سے جو معلومات درج کی ہیں وہ بیش قیمت ہیں. ان معلومات کو جس مخصوص انداز میں مرتب کرکے پیش کیا ہے وہ بھی قابلِ تعریف ہے. میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ جتنی معلومات مولانا نے جمع کر دی ہیں وفات پانے والوں کے اہل خانہ اور ان کے اخص تلامذہ کو بھی اس قدر تفصیل شاید ہی معلوم ہوگی. اردو میں گزشتہ سالوں میں ببلیوگرافی (Bibliography) کا چلن ہوا ہے، حسبِ سابق یہ صنف بھی اردو میں انگریزی سے آئی ہےـ ببلیوگرافی گرافی عموماً سو سے ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ہوتی ہے. مولانا کے لکھے ہوئے یہ شخصی مضامین حجم میں کم ہونے کے باوجود ببلیوگرافی کی ضرورت اور مقصد کی بھر پور تکمیل کرتے ہیں. سوال یہ ہے کہ مولانا یہ سب کرتے کیسے تھے؟ کمپیوٹر کا تو انہوں نے آخری وقت تک استعمال نہیں کیا، یہ معلومات فراہم کہاں سے ہوتی تھیں؟ اعداد و شمار تک رسائی کی کیا شکل تھی؟ تو میں پہلے عرض کر چکا کہ مولانا پورے دن کتابوں ہی میں گھسے رہتے تھے، جہاں اپنے مطلب کی کوئی ضروری بات دیکھی اسے ڈائری میں نوٹ کر لیتے تھے. اس طرح کی کئی ڈائریاں بھری ہوئی تھیں ـ اس مسلسل تگ و دو، محنت، مطالعہ اور ضروری باتیں ضبطِ تحریر میں لانے کی وجہ سے کسی موضوع پر لکھتے وقت ان کے پاس پہلے سے اچھے خاصے حوالے اور اعداد ہوتے تھے. شخصیات پر لکھتے وقت بھی بنیادی معلومات ان کے پاس پہلے سے جمع ہوتیں اور باقی کے لیے وہ متوفَّی کی اولاد اور ان کے شاگردوں سے رابطہ کرکے ضروری معلومات حاصل کرتےـ

حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد انہوں نے فوری طور پر مفتی صاحب کے صاحب زادگان سے رابطہ کیا اور ایک درجن سے زائد سوالات پر مشتمل استفسار نامہ انہیں بھیجا تاکہ درست معلومات مل سکیں. اس سلسلے کی ایک چیز اور دیکھی، مولانا کو لینے کے لیے جب جانا ہوتا تھا تو ابتداءً تو اس جانب توجہ نہیں ہوئی لیکن دو تین ہفتے بعد اس چیز نے اپنے طرف توجہ مبذول کی کہ ماہنامہ الداعی کے دفتر میں ملازم ایک صاحب اخبارات کا ایک پلندہ لے کر مولانا کے گھر آتے، ایک کنارے رکھ دیتے اور تین چار روز بعد انہیں اٹھا کر لے جاتے. جب اس کی تحقیق میں لگا تو معلوم ہوا کہ یہ وہ اخبارات ہیں جو ملک و بیرون ملک سے الداعی کے دفتر میں آتے ہیں. مولانا کے پاس ان سب کو پڑھنے کا وقت کہاں تھا. تین چار روز کے اخبارات جب جمع ہو جاتے تو مولانا انہیں گھر پر منگوا لیتے پھر برق رفتاری سے ان پر نظر ڈالتے، جو بھی خبر مولانا کو ضروری لگتی اسے لال قلم سے نشان زد کرتے چلے جاتے (یہ کام مولانا کو میں نے خود کرتے دیکھا ہے). دفتر کے ان ملازم کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان خبروں کو کاٹ کر تاریخ وغیرہ کے اندراج کے ساتھ سلیقے سے رجسٹر میں چپکاتے رہیں ـ جب رجسٹر بھر جاتا تو وہ مولانا کے یہاں جمع ہو جاتا اور اگلے رجسٹر میں یہ کارروائی شروع ہوتی ـ ان رجسٹروں کو سال کے اعتبار سے مرتب کیا گیا تھا. سیاسیات، سماجیات، وفیات مختلف موضوعات پر ملکی، غیر ملکی و عالمی خبروں کا یہ انتخاب مضامین و مقالات لکھتے وقت خوب کام آتاـ اگر صرف اتنا معلوم ہوتا کہ یہ واقعہ فلاں سن میں پیش آیا ہے تو اس سال کے رجسٹر میں اس سے متعلق کچھ نہ کچھ اہم چیز مل جاتی. کسی سیاسی واقعہ پر کس ملک کا کیا ردِ عمل رہا، کس قائد نے کیا بیان دیا، تجزیہ نگاروں کی نظر میں واقعہ کی حقیقت، تفصیلات اور اثرات کیا ہیں، یہ باتیں احاطۂ علم میں آ جاتیں. یقینی بات ہے کہ صرف اخبارات کے تراشوں سے پوری معلومات حاصل نہیں ہو سکتیں لیکن اس سے کسی موضوع پر لکھنے کے لیے تاریخیں، بعض مفید باتیں اور نکات ضرور مل جاتے. اخبارات کے تراشوں کا معمول کب شروع کیا ہوگا و اللہ اعلم، اس کی مدت جو بھی ہو یہ محدود سالوں کے لیے کام دے سکتے تھے. اصل تو وہی معلومات تھیں جو مولانا نے از خود مطالعہ کے بعد اکٹھی کی تھیں، مولانا کی اپنی لکھی ہوئی ڈائریوں میں معلومات کا کافی ذخیرہ تھاـ مطالعہ کی روشنی میں تازہ معلومات بھی فوری طور پر تلاش کر لیتے تھےـ
(جاری)