حضرت الاستاذ مولانا نورعالم خلیل الامینی:نقوشِ تاباں(3)-دبیر احمد قاسمی 

مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ

تہجد کی پابندی:

 

حضرت الاستاذ رح ایک خدا ترس عالم اور درویش صفت انسان تھے ، مزاج میں قناعت پسندی تھی ، اس لئے جمع مال کی کبھی فکر نہیں ہوئی ‍۔

البتہ جہاں تک مجھے علم ہے ، حضرت رح سلاسل اربعہ : نقشبندیہ ، چشتیہ ، سہروردیہ ، قادریہ میں سے کسی سلسلے میں اجازت یافتہ یا مجازِ بیعت نہیں تھے ، بلکہ غالباً کسی سے باضابطہ بیعت و ارشاد کا تعلق بھی نہیں تھا ، اِس کے باوجود ذکر و تسبیح اور تہجّد و تلاوت پر اتنی مداومت اور پابندی تھی کہ بہت سے صلحاء و اتقياء اور خانقاہوں سے وابستہ افراد و اشخاص کے یہاں بھی میں نے ایسی مداومت اور پابندی نہیں دیکھی ، اُن کی استقامت اور مداومت کو دیکھ کر ہی حضرات صوفیہ کے اِس قول کی معنویّت کا صحیح طریقے سے ادراک ہوپایا ”الإستقامة فوق الكرامة ” ۔

وہ صبح پونے تین بجے بیدار ہو جایا کرتے تھے ، غیر معمولی احوال میں ہی اس میں تخّلف ہوتا ہوگا ، ورنہ میں نے طویل ترین اسفار میں بھی حضرت کو متعین وقت پر بیدار ہوتے اور اپنے صبح کے معمولات کو پورے اہتمام کے ساتھ مکّمل کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے تھے کہ یہ نیند کا کام ہے کہ اپنے وقت پر آجایا کرے ، ورنہ میرے بیدار ہونے کا جو وقت طے ہے ، میں اس وقت بہرحال بیدار ہو جاتا ہوں ۔ حوائج بشری سے فارغ ہو کر پہلے تہجد پڑھتے ، اس کے بعد تقریباً پون گھنٹہ تک دعا کا معمول تھا ، اپنے رشتہ داروں عزیزوں ، شاگردوں ، اساتذہ ، محسنین ، اہم علمی اور دینی شخصیات ، اولیاء اللہ اور بزرگان دین کے لئے پوری پابندی سے دعا فرمایا کرتے تھے ، اکابر علماء میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح ، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ، حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ اور اپنے نہایت مخلص و کرم فرما اور حد درجہ مشفق ومحسن استاذ حضرت مولانا وحید الزماں کیرانویؒ کے لئے خاص طور پر دعا کا اہتمام کرتے تھے ، ہم لوگ زیادہ الحاح اور اصرار کے ساتھ دعا کی درخواست کرتے تو قدرے مزاح کے لہجے میں فرماتے تھے کہ میری دعا کی زد سے بچ پانا تمہارے لئے مشکل ہے (یہ دعا کی وسعت و جامعیت کی طرف اشارہ ہوتا تھا ) تمہارے والد کے لئے بہت دعا کرتا ہوں ، اُن سے زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی جن گہرے مراسم اور تعلقات کی بنا پڑی تھی ، اُس میں بحمد اللہ آج تک کسی قسم کا ضعف اور اضمحلال نہیں آیا ، وہ میرے محسنوں اور مخلصوں میں ہیں ۔

اجلاس صدسالہ کے موقع پر دارالعلوم کے مہمان خانے میں حضرت الاستاذ رح اور والد صاحب کی اچانک ملاقات ہوگئی ، دارالعلوم کے فارغین کی دستاربندی کا حسین و خوبصورت منظر دیکھ کر حضرت الاستاذ رح کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں ، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ ماضی میں پیش آئے حادثوں کو یاد کرکے زار و قطار رو رہے تھے ۔

حضرت والد گرامی مد ظلہ العالی نے اس واقعے کا تذکرہ مجھ سے ان الفاظ میں کیا : میں نے مولانا رح کو زار و قطار روتے ہوئے دیکھا تو صبر و تسلی کے چند کلمات کے ساتھ ایک بات یہ کہی کہ آپ اس قدر رنجیدہ اور ملولِ خاطر نہ ہوں ، آدمی کی محنت اور صلاحیت کبھی رائیگاں نہیں جاتی ہے ، آپ خدا کی ذات پر بھروسہ رکھئے ، آپ کی محنتوں کا صلہ انشاء الله آپ کو جلد ہی ملے گا ، اِسے حسن اتفاق کہئے کہ اس واقعے کے کچھ عرصے کے بعد ہی وہ ماہنامہ ,,الداعی،، کے مدیر اور ادب عربی کے ,,استاذ،، کی حیثیت سے دارالعلوم بلا لئے گئے ، حضرت الاستاذ رح نے اپنے جلیل القدر استاذ حضرت مولانا کیرانوی رح کی سوانح عمری ,,وہ کوہ کن کی بات،، کا پہلا ایڈیشن جب حضرت والد صاحب کو بھیجا تو اس کے پہلے صفحے پر ایک تحریر اپنے قلم سے لکھی ، اس تحریر میں حضرت والد صاحب کی طرف سے مولانا رح کے لئے حوصلہ افزا کلمات اور اُن کی دلجوئی اور اشک شوئی کا احسان مندانہ انداز میں ذکر تھا ، میں چونکہ مذکورہ بالا واقعے سے واقف نہیں تھا ، اس لئے کسی خاص واقعے کی طرف ذہن نہیں گیا ، پھر میرے قیامِ دیوبند کے ابتدائی زمانے میں جب حضرت والد صاحب دیوبند تشریف لائے تو حضرت الاستاذ رح نے شب میں کھانے کی دعوت میں اسی قصے کو دہرایا ، تب میں اُس تحریر کے اشارات کو مکمل طور پر سمجھ سکا ۔

حضرت والد صاحب نے فرمایا کہ میں نے آپ کی صلاحیتوں کو مائل بہ عروج و ترقی دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ہلال بہت جلد بدرکامل بن جائے گا اور اس کی ضیاء پاشیوں سے ایک عالم فیضیاب ہو گا ، اُس گفتگو میں حوالے کے طور پر حضرت نانوتوی رح کی تقریر دلپذیر کے بعض مقامات کا بھی ذکر آیا تھا مگر سولہ سترہ سال کے بعد وہ باتیں من و عن کہاں یاد رہ سکتی تھیں ۔

 

قرآن کریم سے عشق:

 

فجر کے بعد روزانہ پابندی سے تلاوت قرآن کا معمول تھا ، ایک آدھ پارہ قرآن کا اِس طرح بھی پڑھتے تھے کہ ہر سطر پر انگلی پھیرتے جاتے تھے اور بہت غور وتوجہ اور نہایت عظمت کے احساس کے ساتھ نگاہیں قرآنی آیات پر مرکوز کئے رہتے تھے ، قرآن کے ادبی اعجاز اور اس کے ساحرانہ طرز بیان کا ذکر بھی آپ کی مجالس میں بارہا سنا ، آپ قرآن مجید کے ادبی اور لسانی اعجاز اور اس کے ادبی نکات کی تشریح بڑے دلنشیں پیرائے میں کرتے تھے ، فنّ بلاغت کی فلسفیانہ موشگافیوں سے حضرت الاستاذ رح کو بالکل مناسبت نہیں تھی ، وہ ادب کے سلسلے میں موزوں طبیعت اور عمدہ و پاکیزہ ذوق کو ہی راہ نما سمجھتے تھے ، اس لئے بلاغت کی بعض نہایت پیچیدہ اور فلسفیانہ انداز میں لکھی ہوئی کتابوں پر خوب نقد و جرح کرتے تھے ، تاہم قرآن کے ادبی اور معنوی اعجاز اور اس کے طرف بیان و ادا کا جب ذکر آتا تو فن بلاغت کی قابل ذکر تالیفات کے مطالعے کا طلبہ کو مشورہ دیتے تھے ، خاص طور پر اس فن کی مشہور کتاب ,,دلائل الاعجاز،، کا خصوصیت سے تذکرہ کرتے تھے اور طلبہ کو اس کے مطالعے کی ترغیب دیتے تھے ۔

قرآن کریم کی سحر انگیزی اور معجز طرازی کی جھلک مولانا رح کے اسلوب نگارش میں بھی مختلف جگہوں پر نظر آئے گی ۔ خاص طور پر ’اشراقہ‘ اگر غور سے پڑھا جائے تو صاف طور پر محسوس ہوگا کہ مصنف کے فکراور اسلوب پر قرآن کی سحر طرازی اور جادو بیانی کا کتنا گہرا اثر ہے ۔

فرمایا کرتے تھے کہ میری تحریروں کو غور اور توجہ سے پڑھو تو اندازہ ہوگا کہ میں قرآن کے اسلوب سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہوں اور کس طرح قرآنی تعبیرات ،تراکیب اور جملوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی تحریر میں خوبصورتی سے اُس کو برتنے کی کوشش کرتا ہوں ۔

 

وقت کی قدر و قیمت کا احساس:

 

اس مختصر سی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور انعام کی وجہ سے بہت سے صلحاء و اتقياء ، اہل فکر و نظر اور اصحاب علم و قلم کی صحبتوں میں بیٹھنے اور ان کی دید و زیارت سے مشرّف ہونے کا موقعہ ملا ، مگر پورے یقین اور وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وقت کی جیسی قدردانی اور حفاظت حضرت مولانا رح کے یہاں دیکھی ، اس کی جھلک کہیں اور نہیں نظر آئی ‍۔ ,,ہروقت کے لئے ایک کام اور ہر کام کے لئے ایک وقت،، کے اصول پر وہ پوری زندگی عمل کرتے رہے ، اس سلسلے کی تفصیلات وجزئیات کو اگر لکھنے کا کوئی موقعہ آیا تو قارئین کو پڑھ کر تحیّر اور استعجاب ہوگا کہ کوئی شخص اپنے وقت کا اتنا پابند کیوں کر ہو سکتا ہے ، مثلاً شوگر کے مرض کی وجہ سے پیروں میں جو زخم سالہاسال سے آپ کے لئے اذیت و تکلیف کا باعث تھا ، اس کی مرہم پٹی وہ شام کی چُھٹی کے بعد اور نماز عصر سے پہلے کسی شاگرد کی مدد سے کرتے تھے ، بالعموم سات آٹھ یا دس منٹ میں وہ اس کام کو کر لیا کرتے تھے ، روزانہ اس کام کے لئے یہی وقت متعین تھا ۔

وقت کی اتنی قدردانی اور اِس درجہ احتیاط کے ساتھ وقت خرچ کرنے کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کے کاموں میں بڑی برکت ہوتی تھی ، وہ مختلف قسم کے امراض اور عوارض میں گھرے رہنے کے باوجود ایک مشین کی طرح اپنے سارے کام انجام دیتے تھے ، عبادتوں کے اوقات کی پوری پابندی ، گھرکی روزمرہ کی ضرورتوں کا انتظام ، تخصص فی الادب کے طلبہ کی تعلیم و تدریس ، ماہنامہ ,,الداعی،، کے لئے کئی کئی مضامین خود اپنے قلم سے لکھنا ، سلسلہ وار چھپنے والے مختلف عربی تراجم کی تیّاری ، دیگر مضامین اور مقالات کی ترتیب و تقسیم ، آخری مرحلے کی پروف ریڈنگ تاکہ پرچے میں کہیں کسی قسم کی غلطی نہ رہ جائے ، خوبصورت اور دلکش ٹائٹل اور میگزین کے اندرونی صفحات کے ڈیزائن کا انتخاب ، اردو اور عربی کے اخبارات کا مطالعہ اور اس کے منتخب حصوں کو تراشے کی صورت میں جمع کرانا ، ظہر کے بعد کے گھنٹوں کی بلاناغہ حاضری ، دیگر علمی اور تصنیفی مشاغل اور ایسے بیسیوں دوسرے کام ۔

غرض ایک آدمی بلامبالغہ ایک پوری جماعت کا کام اِس قدر حسن اور خوبی کے ساتھ انجام دے رہا تھا کہ اس کی بشری کمزوریوں کے ساتھ اس میں کم سے کم غلطی اور خامی کا امکان رہ جاتا تھا ۔

 

خوش طبعی اور بذلہ سنجی:

اس قدر ہجوم کار اور کثرت مشاغل کے باوجود ان کی طبیعت میں چرچڑاپن نہیں تھا ، وہ اپنے سارے کاموں کو اِس خوش اسلوبی اور طبیعت کی آمادگی کے ساتھ انجام دیتے تھے کہ ماتھے پر شکن نہیں پڑتی تھی اور لہجے میں تلخی نہیں آتی تھی ، حضرت رح سے جنہیں بہت قریب رہنے کا موقعہ ملا ہے وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ وہ گھر کی چہار دیواری کے باہر جتنے پُروقار اور پُرہیبت نظر آتے تھے ، وہ نجی مجلسوں ، شاگردوں اور عزیزوں کے درمیان اور گھر کی چہاردیواری میں اتنے ہی بے تکلف رہتے تھے ، وہ اتنے سُبک روح اور خوش مزاج تھے کہ کوئی ان کی مجلس میں مغموم اور افسردہ نہیں رہ سکتا تھا ، ان کی دو مخصوص اصطلاحیں تھیں ، ثقیل الظلّ اور خفیف الرّوح ، وہ اس کو پسند نہیں کرتے تھے کہ آدمی ہر وقت بلاوجہ ایسا پُرشکوہ اور پُرہیبت بنارہے کہ لوگ اس سے بات کرتے ہوئے بھی ڈریں ، یا ہمہ وقت اتنا مغموم اور افسردہ رہے کہ اس کی افسردگی کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی افسردہ ہو جائیں

 

افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را:

وہ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو سبک روح اور خوش مزاج ہونا چاہئے ۔ مولانا خود بھی اسی طبیعت و مزاج کے حامل تھے ، اپنے گھر کے بچوں سے چھیڑ چھاڑ ، ہم عصروں سے دل لگی اور عزیزوں اور شاگردوں سے ایک مخصوص دائرے میں مذاق و مزاح اُن کی عادت تھی ، اسی مزاح کا ایک حصہ یہ تھا کہ وہ بعض بچوں کا نام لیتے وقت بالقصد اُس میں کچھ تصرف کردیتے تھے ، مثلاً ابھی شعبان کے دوسرے ہفتے میں ، میں نے اُن کو فون کیا تو اُنہوں نے تھوڑا استعجاب ظاہر کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ یہ تمہارے نام میں DABAR کیوں لکھا ہوا آرہا ہے ، مجھ کو بے اختیار ہنسی آگئی ، میں نے کہا کہ حضرت A کی جگہ I ہونا چاہئے ، حضرت رح مجھے ایک عرصے تک دبیر عالم کہہ کر پکارتے تھے ، چونکہ حضرت کے نام کا بھی ایک جز ’’عالم‘‘ تھا ۔اِس پر سوائے اشک بہانے کے اور کیا کر سکتا ہوں

آں قدح بہ شکست و آں ساقی نماند

 

اہل و عیال سے محبت و تعلق:

 

ہمارے زمانے میں اولادوں سے بے تعلقی اور ان کے مسائل و معاملات سے عدم دلچسپی کو بعض لوگ کمالِ تقوی اور بزرگی کی دلیل سمجھتے ہیں ، اُس فقر اور استغنا کی خوب ستائش اور تعریف کی جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں کسی دینی اور علمی شخصیّت کے گزر جانے کے بعد اُن کی اولادیں احتیاج اور تنگدستی میں مبتلا ہو جائیں ، چنانچہ پیش رو بزرگ کے گزر جانے کے بعد بالعموم اس طرح کے فقرے سننے میں آتے ہیں کہ فلاں بزرگ اِس پائے اور مرتبے کے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اولادوں کے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں کی ، مکمل طور پر متوکل علی اللہ رہے ، افسوس ہے کہ ان کے گزرجانے کے بعد اولادیں مجبور و تنگدست ہو گئیں ، حالانکہ احادیث نبویہ علی صاحبہا ألف ألف تحية اور آثارِ صحابہ سے اس طرز فکر کی بالکل تائید نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا پاک ارشاد ہے کہ جو مال اہل و عیال پر خرچ کیا جائے وہ بہترین صدقہ ہے ، نیز آپ ص کا فرمان ہے : ,,منْ قُتِل دُونَ أهْلِهِ فهُو شهيدٌ. (رواه أبوداؤد والترمذي وقال حديث حسن صحيح)

جو شخص بیوی کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے ، وہ شہید ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ لقمہ جو شوہر بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے ، وہ بھی صدقہ ہے ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس صرف ایک بیٹی تھی ، اس لئے اپنا سارا مال راہ خدا میں دے دینا چاہتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے سختی سے روک دیا اور بہت اصرار کے بعد ایک تہائی مال صدقہ کرنے کی اجازت دی ، آپ ص نے فرمایا ’’إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ‘‘. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

تم اپنی اولادوں کو مالدار چھوڑ کر دنیا سے جاؤ ، یہ بہتر ہے اِس سے کہ تم ان کو اس طرح محتاج اور تنگدست چھوڑ کر مروکہ انہیں اپنی ضرورتوں کے لئے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے ۔

 

حضرت الاستاذ کا طریقۂ کار اس سلسلے میں نبوی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کے بالکل مطابق تھا ، آپ اہل و عیال کی خدمت کو عبادت تصور کرتے تھے ، چنانچہ جب تک زندہ رہے ، اپنی تمامتر بے بضاعتی اور کم مائیگی کے باوجود اُن کو مطمئن رکھنے اور آرام پہنچانے کی تابحدّ امکان سعی و کوشش کرتے رہے ، بعض ناعاقبت اندیش اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے ناواقف لوگ اِس سے اُلجھن محسوس کرتے ہیں ، مگر حضرت الاستاذ اِس سے بیحد مسرور اور خوش ہوتے تھے ، حضرت کو اپنی اولادوں سے جو بے پناہ تعلق اور اُنس تھا ، اُس کا اندازہ آپ کی اُس نظم سے ہوگا جو آپ نے وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنے چھوٹے فرزند مولوی ثمامہ سلمہ کو مخاطب کرکے کہی تھی ، اس نظم میں استعارات اور تشبیہات کے پردے میں انہوں نے طبیعت کی بے قراری ، دل کے اضطراب و بے چینی اور اپنے خدشات اور اندیشوں کو جس سوز اور درد کے ساتھ بیان کیا ہے ، اُس سے بے اختیار دل تڑپ اٹھتا ہے اور طبیعت پر اضطراب اور بے قراری کی کیفیت چھا جاتی ہے ۔